X
تبلیغات
شریعتکده

شریعتکده
معرفي و احياء میراث علمی و فرهنگي شیعیان شبه قاره هند 
قالب وبلاگ

ماه رجب ماه میلاد معصومین علیهم السلام است. بهمین مناسبت بزم رافت انجمن شعر و ادب اردو زبان یک نشست شعر خوانی با جمعی از شعراء اردو زبان برگزار کرد که در این محفل نورانی استاد الشعراء ادیب عصر جناب دکتر افتخار عارف مهمان ویژه بودند. ایشان رئیس فرهنگستان اردو در پاکستان و فعلا بعنوان مدیر امور فرهنگی در سازمان اکو در تهران تشریف دارند.جهت زیارت حضرت امام هشتم علی ابن موسی الرضا علیه السلام تشریف آورده بودند. این انجمن در اعزاز این شخصیت بزرگوار این نشست تخصصی را برگزار کرد. در این نشست از شعراء اردو زبان مقیم مشهد هم استفاده شد که من جمله از آنها جناب آقای سید سبط حیدر زیدی مدیر انجمن و سید تحریر علی نقوی، آقای الفت حسین جویا، آقای محمد حسین بهشتی قابل ذکر اند.

جناب دکتر افتخار عارف در ضمن صحبت از عزادای شهر لکهنو هند را متذکر شدند و فرمودند من در تمام جهان گشتم اما عزاداری که در شهر لکهنو هند دیدم هیچ جا نه دیدم آنجا خلوص و اخلاص مردم بویژه زن ها گریه و بکا یک حال خاصی به آدم می دهد یاد کربلا را زنده و تازه می نماید.

رئیس فرهنگستان اردو در پاکستان فرمودند مهم ترین نکته در سرودن شعر خلوص هست که اگر با خلوص مدح اهل بیت انجام شود و مورد قبول آنها قرار بگیرد برای دنیا و آخرت کافی است.

لازم بذکر است که جناب دکتر افتخار عارف اصالتا سنی مذهب هستند ولی در مدح اهل بیت منقب و مرثیه های فراوانی سروده اند. امید دارند که همین اشعاری که مدح اهل بیت علیهم السلام سروده باعث بخشش و نجات ایشان گردد.

[ شنبه بیست و هشتم اردیبهشت 1392 ] [ 10:57 ] [ دفتر شریعتکده ]
[ پنجشنبه دوازدهم بهمن 1391 ] [ 10:36 ] [ دفتر شریعتکده ]
allama syed sibte haider zaidi in bara imambara
[ چهارشنبه یازدهم بهمن 1391 ] [ 13:47 ] [ دفتر شریعتکده ]
[ چهارشنبه یازدهم بهمن 1391 ] [ 13:40 ] [ دفتر شریعتکده ]
[ چهارشنبه یازدهم بهمن 1391 ] [ 13:32 ] [ دفتر شریعتکده ]
استاد سید سبط حیدر زیدی در حال گرفتن جائزہ و لوح تقدیر از دست دکتر حداد عادل


موضوعات مرتبط: مدیریت شريعتكده، شخصیت هاي از شيعيان هند
[ پنجشنبه هفتم دی 1391 ] [ 15:23 ] [ دفتر شریعتکده ]
100 تاریخی کھانیاں

 

100 تاریخی کھانیاں

[ پنجشنبه هفتم اردیبهشت 1391 ] [ 9:48 ] [ دفتر شریعتکده ]
مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

 

مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامیمدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

[ پنجشنبه سی و یکم فروردین 1391 ] [ 9:45 ] [ دفتر شریعتکده ]
مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

[ پنجشنبه سی و یکم فروردین 1391 ] [ 9:35 ] [ دفتر شریعتکده ]
مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

مدیریت محترم شریعتکده در محضر مبارک مقام معظم رهبری با جوانان بیداری اسلامی

[ پنجشنبه سی و یکم فروردین 1391 ] [ 9:29 ] [ دفتر شریعتکده ]

 

 

 

 

 

 

 

[ سه شنبه بیست و دوم فروردین 1391 ] [ 16:53 ] [ دفتر شریعتکده ]
<P1190753.JPG
[ سه شنبه بیست و دوم فروردین 1391 ] [ 16:31 ] [ دفتر شریعتکده ]
P119075211.JPG
[ سه شنبه بیست و دوم فروردین 1391 ] [ 16:12 ] [ دفتر شریعتکده ]

حضرت امام علی رضا علیه السلام

 اهل سنت کی روایات میں

مولف: محسن طبسی

مترجم : سید سبط حیدر زیدی

[ سه شنبه پانزدهم فروردین 1391 ] [ 10:27 ] [ دفتر شریعتکده ]
[ یکشنبه ششم فروردین 1391 ] [ 6:25 ] [ دفتر شریعتکده ]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشرہ زینبیہ ۱۴۳۱ھ ق کویت

از بیانات مدیرت محترم شریعتکدہ

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۱)                 آنلائن ۱

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۲)                 آنلائن ۲

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۳)                 آنلائن ۳

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۴)                 آنلائن ۴

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۵)                 آنلائن ۵

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۶)                 آنلائن ۶

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۷)                آنلائن ۷

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۸)                آنلائن ۸

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۹)                  آنلائن۹

شرح و تفسیر زیارت اربعین(۱۰)               آنلائن ۱۰

 


موضوعات مرتبط: سخنرانی هاي مديريت محترم شريعتكده
[ چهارشنبه بیست و هشتم دی 1390 ] [ 15:23 ] [ دفتر شریعتکده ]
Allama Sibte Haider Zaidi 
[ پنجشنبه بیست و دوم دی 1390 ] [ 17:18 ] [ دفتر شریعتکده ]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت علی اکبر علیہ السلام

اسم مبارک: علی ، حضرت امام حسین کی اولاد میں سے آپ منجھلے علی ہیں کہ جن کو علی اوسط کہا جاتا تھا اس طرح کہ علی اکبر امام زین العابدین علیہ السلام اور علی اصغر ششماہے شیر خوار کا نام گرامی تھا۔ لیکن یوم عاشورا کے بعد سے یہ نام اپنی خصوصیت سے تبدیل ہوگئےچونکہ تین میں سے دو علی یوم طف شہید ہوگئے اس لیے ان ہی میں سے بڑے کو علی اکبر کا خطاب مل گیا وہ علی اوسط سے آج علی اکبر مشہور ہوئے ۔(چمنستان محمد پر خزاں)

تاریخ و مقام ولادت : اگر چہ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے لیکن کسی حد تک معتبر روایات کے مطابق آپ  11/ شعبان المعظم 42ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے  ۔

والدہ ماجدہ : آپ کی مادر گرامی ام لیلی بنت ابوقرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی تھیں (ارشاد شیخ مفید) جناب ام لیلی کے والد قبیلہ بنی ثقیف کی ایک بزرگ آدمی تھے ۔

القاب : صدیق ، مظلوم، نجم العالمین، زکی ، سید ، ولی اللہ ، شہید، شبیہ رسول۔

کنیت: ابو الحسن، ابن رسول۔

پرورش : شاہزادہ کی تربیت ان حضرات کے زیر سایہ ہوئی جو دین اسلام کے سچے فدائی تھے ، حقانیت و معرفت کے پتلے ، ایمان کے مجسمےاور مواسات و ہمدردی کے مرقع تھے ۔عدل و انصاف کے قالب ، شجاعت و دلیری کے محور، علم وحکمت کے خزانے اور خلوص و صداقت کے مرکز تھے ۔ ایسی ہستیوں  کے زیرسایہ پرورش پانے والا بچہ جن کمالات و علوم اور فضائل و اخلاق کا حامل ہوسکتاہے ، وہ ظاہر ہے ۔

حضرت امام حسین علی اکبر سے بہت محبت کرتے تھے ، صاحب ناسخ التواریخ نے لکھا ہے کہ طاقت نسان و لطف بیان ،صباحت رخسارو ملاحت دیدار،نیکوئی خلق اور شمائل میں حضرت علی اکبر علیہ السلام سے زیادہ زمین پر کوئی بھی ہمشبیہ رسول نہ تھا ۔

اخلاق و عادات : حضرت علی اکبر علیہ السلام اخلاق میں ظل رسول تھے ۔ آپ کی زندگی کا ہر شعبہ رسالت کے ایام کو یاد دلاتا تھا ، اس لیے امام حسین علیہ السلام نے جناب علی اکبر کو متعلق ارشاد فرمایا: اللھم اشھد علی ھولاء القوم فقد برزالیھم اشبہ الناس خلقا و منطقا برسولک، کنا اذا اشفقنا الی نبیک نظرنا الی وجھہ۔ میرے معبود شاہد رہنا اس قوم پر کہ ان کی طرف وہ جوان لڑنے جارہا ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت و سیرت و رفتار و گفتار میں تیرے رسول سے مشابہ ہے ، اور جب ہم تیرے رسول کی زیارت کے متمنی ہوتے تو اسی کا چہرہ دیکھتے تھے ۔

اس کلام سے ثابت ہورہا ہے کہ جیسی صورت و سیرت رسول خدا کی تھی وہی علی اکبر کی تھی ۔

علامہ ابن شہر آشوب حضرت علی اکبر علیہ السلام کے ذکر میں فرماتے ہیں : آپ اپنے پدر بزرگوار کے مطیع و فرمانبردار صاحبزادے تھے ،احکام شریعت سے کما حقہ واقف تھے ،آپ انتہائی شجاع و متقی اور خداپر توکل رکھنے والے تھے ۔

مہمان نوازی: عرب میں یہ رواج تھا کہ جس گھر میں آگ روشن دیکھتے اس کے یہاں مہمان ہوتے تھے ۔ جناب علی اکبر علیہ السلام بھی ایک بلند مقام پر آگ روشن کرتے تھے تاکہ فقراء و مساکین آئیں اور آپ کے مہمان ہوں ۔

دشمن کی نگاہ میں خصوصیات : ایک مرتبہ معاویہ نے اپنے خلوت کے دربار میں اپنے اہل بزم سے کہا کہ  تمہاری نظر میں آج مسند خلافت رسول کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ سب خوشامد خوروں نے دست بستہ عرض کی کہ ہرلحاظ سے ہم تو تجھ ہی کو مستحق خلافت جانتے ہیں ۔معاویہ نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے انصاف سے دیکھو تو تمام عرب میں علی بن الحسین سے زائد ہرگز اس مسند کے لیے کوئی اور مستحق نہیں کیونکہ ان کے جد رسول خدا ہیں ، بنی ہاشم کی شجاعت اور بنی ثقیف کا حسن ان کی ذات میں جمع ہیں اور سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر رسول کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے ۔

جس وقت جناب علی اکبر علیہ السلام میدان جنگ میں تشریف لے گئے تو عمر سعد نے عسکر بن سعد کو حکم دیا کہ اے عسکر بن سعد اس کا مقابلہ کرو تو عسکر نے کہا: کہ میں اس سے مقابلہ نہیں کرونگا  اس لیے کہ یہ شبیہ رسول ہیں ۔

سفر کربلا: حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کا سفر اختیار کیا اور آپ کا قافلہ مقام زبالہ پر پہنچا تو آپ کو غنودگی طاری ہوگئی اس وقت آپ نے کسی کی آواز سنی کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارہے ہو اور موت آپ کا تعاقب کررہی ہے کہ آپ کو فردوس بریں لے جائے ،جب آپ بیدار ہوئے تو زبان پر کلمہ انا للہ و انا الیہ راجعون جاری فرمایا کڑیل جوان بیٹا فورا سامنے آتا ہے اور دست بستہ عرض کرتا ہے بابا اس وقت اس کلمہ کے زبان پر جاری کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ امام حسین نے ارشاد فرمایا اے لخت جگر میں نے ابھی خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارہے ہو اور موت آپ کا تعاقب کررہی ہے کہ آپ کو فردوس بریں لے جائے۔

جناب علی اکبر عرض کرتے ہیں: اے بابا اللہ آپ کو تمام مصائب سے محفوظ رکھے کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ بیٹے کا یہ کلام سن کر امام فرماتے ہیں قسم بخدا ہم حق پر ہیں ۔ شاہزادہ علی اکبر اس جواب کو سن کر خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ اے بابا اب ہمیں کوئی پروہ نہیں کہ موت ہم پر آپڑے یا ہم موت پر جاپڑیں۔ (وقعات کربلا)

صبح عاشور: صابر و شاکر امام نے رفقائے باوفا اور اعزائے نامدار سمیت عبادت خدامیں رات گذاری یہاں تک روز عاشور کی سپیدی نمودار ہونے لگی انجم فلک اس منظر کی تاب نہ لاکر غروب ہونے لگے امام مع جانثاروں کے مصلوں سے تجدید تیمم کے لیے اٹھے ایک بار آپ نے اپنی قلیل سی فوج پر نظر ڈالی کڑیل جوان بیٹے پر نظر امامت جمی حکم دیا بیٹا اذان کہو ہمشکل پیغمبر گلدستہ اذان پر تشریف لے گئے شبیہ پیغمبر نے لحن رسول اللہ میں اللہ اکبر کہا ادھر سیدانیاں ہمہ تن گوش ہوگئیں، عالم امکان محو ہوگیا ، وحوش وطیور جھومنے لگے ، میراخیال ہے علی اکبر سے اذان کہلواکر دشمنوں پر اتمام حجت کرنا مقصود ہو اس لیے کل کو یہ کہہ سکیں کہ پہچانا نہیں دن بھر کا موقع ہے دنیا دیکھ کر ضرور کہے گی کہ اس جوان رعنا نے صبح کو رسول کی آواز یاد دلائی تھی ادھر اذان ختم ہوئی بیبیاں خیموں میں اور مرد امام کے پیچھے نماز صبح میں مشغول ہوگئے۔

اول قتیل : نماز صبح اور اس کی تعقیات سے فارغ ہوکر امام نے اپنی قلیل سی فوج کی طرف دیکھا اور دشمن کی فوج کی طرف سے تیروں کی بارش ہونی شروع ہوگئی امام نے اپنے لشکر کو مرتب کیا اس طرح کہ میمنہ کا سردار زہیر قین کو اور میسرہ کا سردار اپنے بچپن کے دوست حبیب ابن مظاہر کو اور علمدار لشکر حضرت ابوالفضل العباس کو قراردیا اور قلب لشکر میں جناب علی اکبر کوکھڑا کیا ۔ جنگ شروع ہوئی اور ایک ایک کرکے اصحاب امام شہید ہوتے رہے ۔یہاں تک کہ ظہر عاشورہ  آگئي اور اب اقرباء  کی باری آئی ۔

علامہ ابوالفرج اصفہانی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی اسناد سے لکھا ہے کہ شہید اول حضرت علی اکبر ہیں اور زیارت ناحیہ میں بھی امام آخر الزمان نے اول قتیل کہہ کر سلام کیا ہے : السلام علیک یا اول قتیل من نسل خیر سلیل من سلالۃ ابراہیم الخلیل، میرا سلام ہو اس شہید پر جو نسل ابراہیمی میں سب سے پہلے شہید ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ مظلوم کربلا نے سب سے پہلے اپنے ہی لخت جگر کو قربان کیا تاکہ دوسروں کے لیے حجت قرارپائے ۔ اگر چہ بیشتر کتابوں میں یہ ہے کہ حضرت عباس کی شہادت کے بعد جناب علی اکبر شہید ہو‏ئے ۔

مزار شریف: حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر شریف کے کنارے پائین پا آپ کی قبر مطہر ہے ۔


موضوعات مرتبط: تالیفات مديريت محترم شريعتكده
[ چهارشنبه بیست و سوم آذر 1390 ] [ 12:22 ] [ دفتر شریعتکده ]
تعزيه داري
[ چهارشنبه نهم آذر 1390 ] [ 11:7 ] [ دفتر شریعتکده ]

در چهارمين جشنواره انتخاب كتاب سال رضويچهارمين جشنواره انتخاب كتاب سال رضوي

كتاب استاد سید سبط حیدر زیدی كتاب سال90 شد

كتاب استاد سید سبط حیدر زیدی در چهارمين جشنواره كتاب سال رضوي بعنوان كتاب برترسال 90 در بخش ترجمه انتخاب و معرفي شد .
خبرنگار رضوی:
 در چهارمين جشنواره انتخاب كتاب سال رضوي، 188 نفر شركت كننده با 262 اثر داخلي و خارجي با موضوع امام رضا(ع) و خاندان آن حضرت شركت داشتند .
وي كتابهاي پذيرفته شده در جشنواره انتخاب كتاب سال رضوي را كتابهاي چاپ شده درسال 90 اعلام كرد و گفت : در جشنواره امسال شركت كننده هايي از كشورهاي تونس، لبنان، كويت، عربستان، تاجيكستان، ارمنستان، افغانستان، پاكستان و هند شركت داشتند.




کتاب اصلی: زیارت امام رضا از دیدگاه اهل سنت

مولف: شیخ محمد محسن طبسی

ترجمه: حضرت امام رضا علیه السلام اهل سنت کی نظر مین

مترجم: سید سبط حیدر زیدی

ناشر: بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی


موضوعات مرتبط: تالیفات مديريت محترم شريعتكده
[ سه شنبه نوزدهم مهر 1390 ] [ 11:14 ] [ دفتر شریعتکده ]
ولادت با سعادت حضرت امام علی رضاعلیه السلام مباکباد

بمناسبت ولادت با سعادت حضرت امام علی رضاعلیه السلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت اورعلماء اہل سنت

سید سبط حیدر زیدی

مقدمہ

زیارت ایک ایسی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جس کے اثبات کے لیے کسی بھی دلایل و شواہد کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ یہ ایک فطری امر ہے اور فطری امور کے اثبات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ بدیھی طور پر ثابت ہوتے ہیں اور چونکہ دین مبین اسلام بھی دین فطرت ہے لہذا فطری امور میں اسلام کھبی بھی فطرت کےخلاف بات نہیں کرسکتا پس اگر زیارت فطری عمل ہے تو یقینا اسلام کی نظر میں اگر زیارت واجب نہ سہی تو مستحب ضرور ہے لہذا اس کا شرک و بدعت سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے، لیکن ہاں اس کی کیفیت و کمیت میں ممکن ہے کچھ قیل و قال پائی جاتی ہو۔ لیکن مطلق زیارت عین فطرت انسانی ہے کہ جو عین توحید ہے اوراس کو ہرمذہب و فرقہ  کے لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر انجام دیتے ہیں ۔

عربی زبان میں ایک مقولہ ہے" ادل الدلیل وجوہ " کسی بھی شئی کے وجود اور ثبوت پر سب سے بڑی دلیل اس شئی کا موجود ہونا ہے زیارت کے سلسلے میں بھی کچھ یہی کیفیت ہے اور اس کے اثبات میں عقلی و نقلی دلائل کے بجائے خود عظیم و بزرگ علماء اسلام کا عمل، حجج الہی کی زیارت اور ان کے قبور مطہرہ کی زیارت سے مشرف ہونا خود اس بات کے حد اقل استحباب پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔

لہذا ہم زیارت کے اثبات کے سلسلے میں کسی دلیل کو پیش کیے بغیر علماء اہل سنت کے بزرگ علماء کی سیرت کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں تاکہ اگر کسی کے ذہن میں کو‏ئی خطور آئے اپنے بزرگوں کی سیرت کے پیش نظر رکھتے ہوئے ذہن سے ہر طرح کے خیالات کو دور کردے۔

البتہ چونکہ یہ شمارہ زمان و مکان کے اعتبار سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے وابستہ سے مکانی لحاظ یہ ہے کہ یہ آنحضرت کے روضہ مبارکہ کے بین الاقوامی ادارہ سے مربوط ہے اور زمانی لحاظ یہ ہے کہ اس کا افتتاح بھی 11/ذیقعدہ یعنی آپ ہی کی ولادت با سعادت کے مبارک روز ہوگا لہذا مناسب یہ سمجھا کہ صرف حضرت ہی کی قبر مطہر کی زیارت سے مشرف ہونے والے علماء اسلام کا تذکرہ کردیا جائے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزندارجمند اور مذہب حقہ شیعہ اثنا عشری کے آٹھویں امام ہیں آپ ایک ایسی نورانی شخصیت ہیں کہ آپ کے علم ودانش اور معنویت کا نور درخشاں فقط مذہب شیعہ ہی کو منور کیے ہوئے نہیں ہے بلکہ آپ کے نور کی شعائیں تمام اسلامی مذاہب و فرق اہل سنت کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہیں ، اس طرح کہ وہ بھی اپ کی مدح و ستائش پر مجبورہیں حضرت امام علی رضا کے روضہ مبارکہ کی زیارت، اوراس کے متعلق پیغمبراکرمۖ و اہل بیت  کی روایات میں تاکید ، خصوصااہل سنت کی کتابوں میں آپ کی قبر پاک کی زیارت کے سلسلے میں معصومین  کی سفارشات ، آنحضرت کی بلندی مقام کی نشاندہی اور آپ  کے پاک مرقد کی زیارت کے سنت ہونے کو روزروشن کی طرح واضح کرتی ہیں کہ جن میں سے بطور نمونہ چند روایات پیش خدمت ہیں۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت،معصومین کی نظر میںمنابع اہل سنت سے

پیغمبراکرمۖ  کی روایات

ـ حاکم نیشاپوری شافعی اپنی سند کے ساتھ حضرت امام رضا  سے روایت نقل کرتے ہیں : 

 '' روی عن الامام علیٍّ الرضا عن آبائہ عن النبیّ ۖ انہ قال : ستُدفن بضعة منّی بخراسان ، مازارَھا مکروب ِالّانَفَّسَ اللّہُ کُربتَہ ولا مُذنِب اِلّا غفرَ اللہُ ذنوبَہ ''(١)

حضرت امام رضا  سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمۖ نے فرمایا : عنقریب میرے بدن کا ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا ، جوکوئی مشکلوں میں گرفتار شخص اس کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کی مشکلوں کو برطرف فرمائے گا اور جو کوئی گنہگار اس کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا ۔

ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق  سے ،انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے، انہوںنے امیر المؤمنین  سے اور آپ نے پیغمبر اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور انورۖ نے ارشاد فرمایا:

  ''ستُدفنُ بضعة منّی بخراسان ، لایزورُھا مؤمن اِلّا اوجبَ اللّہُ لہ الجنّةَ و حرَّم جسدَہ علی النّارِ''۔(٢)

عنقریب میرے بدن کا ایک ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا جومؤمن بھی اس کی زیارت کو جائے گا خداوندعالم اس پر جنت کو واجب کردے گا اور اس کے بدن پر آتش دوزخ کو حرام کردے گا۔

ـ عایشہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ۖنے فرمایا:

'' من زارَولَدی بطوس فَاِنّما حجّ مَرّة ، قالت مرة ؟  فقال مرّتَین ، قالت : مرّتَین؟ فقال : ثلاثَ مرّاتٍ۔ فسَکتَتْ عایشةُ ، فقا ل: ولو لَم تسکُتی لَبَلَغتُ  اِلی سبعین''۔(٣)

جو شخص میرے بیٹے کی طوس میں زیارت کرے گا گویا اس نے ایک حج انجام دیا ، عایشہ نے کہا:  ایک حج؟  پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا : دو حج ، عایشہ نے کہا دو حج؟ آپ ۖ نے فرمایا : تین حج ۔ عایشہ خاموش ہوگئیں ، رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا : اگر خاموش نہ ہوتیں تو میں ستر حج تک بیان کردیتا ۔

اس روایت میں اگر غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عایشہ کے لیے حضرت امام رضا  کی شخصیت اور طوس کا علاقہ اتنا مانوس اورمشخص و واضح تھا کہ کلمہ ''ولدی'' و'' طوس'' کے معنی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا بلکہ آپ  کی زیارت کے ثواب کے بارے میں تعجب کیا ۔(٤)

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

ـ حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام موسی کاظم  کو فرماتے ہوے سنا :

'' من زار قبرَ ولَدی علیّ کان لہ عند اللہ سبعین حجّة ، ثم قال وَرُبّ حجّةٍ لاتُقبَل ۔ من زارَہ اَو باتَ عندَہ لیلة کان کمن زارَ اَھلَ السموات و اذا کان یومُ القیامةِ ، وجدَ معنا زوّار آئمّتِنا اھلَ البیتِ واَعلاھم درجة و اَقرَبَھم حیوة زوّارُ ولدِی علیٍّ ''۔(٥)

جو شخص بھی میرے بیٹے علی کی قبر کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کو ستر حج کا ثواب عطا کرے گا، پھر فرمایااور نہ معلوم کتنے حج ہیں کہ جو قبول حق بھی نہیں ہوتے ۔ جو شخص ان کی قبر کی زیارت کرے یا ایک رات ان کی قبر کے قریب گزارے وہ ایسے ہے گویا تمام اہل آسمان کی زیارت کی ہے اور جب قیامت کا دن برپا ہوگا ہم آئمہ اہل بیت  کے زائرین کو دیکھیں گے کہ وہ ہمارے اطراف میںہیں لیکن میرے بیٹے علی کے زائر کا مرتبہ بلند تراور حیات معنوی کے لحا ظ سے نزدیک تر ہوگا ۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام محمد تقی  نے فرمایا: 

 ''من زارَقبرَ اَبی غَفرَ اللّہُ لہ ما تقدَّ مَ مِن ذنبِہِ و ما تأخَّرَ ، و اذا کان یومُ القیامةِ یُنصَبُ لہ منبر بحِذائِ منبرِ رسولِ اللہِ ۖ حتّی یَفرُغُ اللّہُ مِن حسابِ عبادِہِ''۔(٦)

جو شخص بھی میرے والد گرامی کی قبر اطہر کی زیارت کرے خداوندعالم اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دے گا اور جب قیامت کا دن طلوع ہوگا تو اس کا مقام رسول خدا ۖکے منبر کے سامنے ہوگا یہاںتک کہ خداوندعالم تمام اہل عالم کے حساب سے فارغ ہوجائے ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام

ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنے اسناد کے ساتھ صقر بن دلف سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام علی نقی  سے سنا کہ آپ نے فرمایا :

 '' مَن کانَت لہ اِلی اللّہِ حاجَة فلیزُرْ قبرَ جدِّی الرِّضا بِطوس ، و ھو علَی غُسلٍ ولیُصلِّ عندَ رأسِہِ رکعتینِ و یسألِ اللہَ تعالی حاجتَہُ فی قُنُوتِہِ ، فاِنَّہ یُستَجابُ لہ ما لم یسألہ فی مأثمٍ اوقطیعةِرحمٍ، و اِنّ موضعَ قبرِہ لَبُقعةمن بُقاعِ الجنّةِ، لا یزورُھامؤمن اِلّااعتقَہُ اللّہُ من النّارِ و اَدخلَہُ الدّارِ''۔(٧)

جس شخص کو کوئی حاجت پیش آئے وہ طوس میں میرے جدبزرگوار حضرت امام رضا  کی قبر کی زیارت کرے ، اس حال میں کہ غسل کئے ہوئے ہو ، آپ کے سرہانے دورکعت نماز بجالائے اور نماز کے قنوت میں پروردگار سے اپنی حاجت طلب کرے ۔وہ دعاؤں کے مستجاب ہونے کا مقام ہے بشرطیکہ اس کی دعا قطع رحم یا گناہ کے سلسلے میں نہ ہو،جس مکان میں امام رضا مدفون ہیں وہ جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے ۔اس مقام کی جو مؤمن بھی زیارت کرے گا خداوندعا لم اس کو جہنم سے آزاد کرے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام

۔  جوینی شافعی اپنی اسناد کے ساتھ فضا ل سے روایت نقل کرتے ہیں : 

''سمعتُ علیَّ بن موسی الرضا علیہ التحیة والثناء ۔ و جائَہ رجل فقال لہ : یا بنَ رسولِ اللّہ رأیتُ رسولَ اللّہ فی المنامِ کاَنَّہ یقول لی : کیفَ اَنتم اذا دُفِنَ فی اَرضِکُم بَضعَتی و استَحفَظتُم ودِیعَتی و غُیِّبَ فی ثَراکُم لَحمی ۔ فقال لہ الرضا: اَنا المدفونُ فی اَرضِکُم واَنا بَضعَةُ نبِیِّکُم واَنا الوَدِیعَةُ و اللّحمُ ، مَن زارَنی وھو یعرِفُ ما اوجبَ اللّہُ مِن حقِّی و طاعَتِی ، فَاَنا وآبائی شفعاؤُہ یومَ القیامةِ ومَن کنَّا شفعائَہ نجا، ولوکانَ علیہ مثلُ وِزر الثَقلَین الجنِّ والِانسِ''۔(٨)

حضرت علی بن موسی الرضا علیہ التحیة و الثناء سے سنا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام سے عرض کی: اے فرزند رسول میں نے حالت خواب میں پیغمبراکرم ۖ  کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں : تمہاری حالت کیا ہوگی جب میرے بدن کا ٹکڑا تمہاری سرزمین میں دفن ہوگا،میری امانت تمہارے سپردکی جائے گی اور تمہاری مٹی میںمیرے گوشت کاٹکڑاغائب ہوگا؟۔ امام رضا  نے جواب دیا : میںوہی شخص ہوں کہ جو تمہاری سرزمین میں دفن ہوگا اور میں تمہارے رسول ۖ کے بدن کا ٹکڑا اور میں ہی وہ امانت ہوںکہ جو شخص بھی خدا کی طرف سے واجب کردہ میری اطاعت اور میرے حق کی معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا تو میں اور میرے آباء و اجداد روز قیامت اس شخص کی شفاعت کریں گے اور جس شخص کی ہم شفاعت کریں وہ یقینا نجات پائے گا چاہے اس کے گناہ جن انس کے گناہوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

حضرت امام رضا  مذکورہ واقعہ کی تائید میں حضرت پیغمبراکرمۖ سے روایت نقل فرماتے ہیں :

''و لقَد حدَّثَنی اَبی ، عن جدِّی ، عن اَبِیہ ، عن آبائہ  اَنَّ رسولَ اللہِ ۖ قال: من رآنی فی منامہ  فقد  رآنی ، فَاِنّ الشیطانَ لا یتَمثَّلُ فی صورتی ولا فی صورةِ واحدٍ من اَوصیائی ، اَن الرُّؤیا الصادِقةُ  جزئ من سبعین جزأ مِنَ النَّبُوَّةِ ''۔(٩)

حضرت امام رضا  نے اپنے اجداد طاہرین سے اور انہوں نے حضرت رسول اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ آپۖ فرماتے ہیں : جو کوئی بھی مجھے خواب میں دیکھے اس نے واقعاً مجھے خواب میں دیکھاہے چونکہ شیطان میری صورت میںاور میرے اوصیاء کی صورت میں نہیں آسکتا ، سچاخواب ،نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔

اس روایت کی بنیاد پر تمام وہ خواب کہ جو اس قسم کے ہوں یعنی رسول اکرمۖ یا آپۖ کے کسی جانشین کو دیکھا ہو وہ حجیت رکھتے ہیں ۔

ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے حضرت امام علی بن موسی الرضا  نے فرمایا :

'' اِنِّی مقتُول مسمُوم مدفُون باَرضِ غربَةٍ ، اَعلم ذالک بعھدٍ عَھِدَہُ ِالیَّ اَبی عن اَبیہِ عن آبائہِ عن علیِّ ابنِ اَبی طالبٍ عن رسولِ اللہِ ۖ، اَلافَمَن زارَنی فی غُربَتی کنتُ اَناوآبائی شفعاؤَہ یومَ القیامةِ،ومَن کنّا شفعاؤَہ  نَجا و لوکانَ علَیہ مثلُ وِزرِ الثَقلَینِ''۔(١٠)

میں زہر سے مقتول اور سرزمین غربت کا مدفون ہوں ، میںاس عہد سے واقف ہوںکہ یہ مجھ سے میرے باپ نے اور ان سے ان کے آباء واجدادنے، ان سے علی  ابن ابی طالب  نے اور آپ سے رسول اکرمۖ نے عہد کیا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ جو شخص بھی عالم غربت میں میری زیارت کرے گا میں اور میرے آبائواجداد اس کے شفیع ہوں گے اور جس کے ہم شفیع ہوں اس کی نجات یقینی ہے ، چاہے اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کی برابر ہوں ۔

جوینی نے اس روایت کو بہت زیادہ تعجب کے ساتھ اس طرح یاد کیا ہے :  ''کرامة یا لَھا من کرامةٍ باھرةٍ! و بشارة لشفاعةِ الذُنوبِ ماحیةٍ غافرةٍ ''۔(١١)

واہ ! کیا کرامت ہے ،نورانی کرامت اور بشارت ہے گناہوں کی بخشش کے لیے ۔

ـ حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ نقل کرتے ہیںکہ حضرت امام رضا  نے فرمایا :

''من زارَنی علَی بُعد داری أتیتُہ یومَ القیامةِ فی ثلاثةِ مواطِنَ حتّی اُخَلِّصَہُ مِن اَھوالِھا : اذا تطایرَتِ الکُتُبُ یمیناً و شمالاً ، و عندَ الصراطِ و عندَ المیزانِ ''۔(١٢)

جو شخص عالم غربت میںمیری زیارت کے لیے آئے گا میں روزقیامت تین مقامات پر اس کی فریادرسی کو پہنچوں گا : اس وقت کہ جب نامہ اعمال داہنے و بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے ، پل صراط سے گذرتے وقت اور جب اعمال تولے جائیں گے۔

ـ اسی طرح حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت امام رضا  کے خاد م یاسر سے روایت نقل کی ہے، امام رضا  نے فرمایا :

'' لاتَشُدُّ الرِّحالُ اِلی شیئٍ من القُبورِ اِلّا اِلَی قُبورِنا، ألا واَنّی مقتول بالسمِّ ظلماً و مدفون فی موضعِ غُربةٍ ، فَمَن شَدَّ رحلَہ اِلی زیارتی استُجِیبَ دعائَہ و غُفِرَذُنوبُہ ''۔(١٣)

ہم اہل بیت کی قبروں کی زیارت کے علاوہ کسی کی بھی قبر کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھنا صحیح نہیں ہے ، آگاہ ہوجاؤ کہ میں زہر سے قتل کیا جاؤں گا اور عالم غربت میں دفن کیا جاؤں گا ، پس جو بھی میری زیارت کے لیے رخت سفر باندھے گا اس کی دعا مستجاب ہوگی اور اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔

ـ محمد خواجہ پارسای بخاری حنفی کہتے ہیںکہ جس وقت مامون عباسی نے دھمکی کے ساتھ امام رضا کو ولایت عہد ی کے قبول کرنے پر مجبور کیا تب امام رضا  نے مامون سے مخاطب ہو کر فرمایا :'' واللّہِ ! لقد حدَّثَنی اَبی عن آبائہِ عن رسولِ اللہِ ۖ : اَنّی اُخرَجُ مِنَ الدنیا قبلَکَ مظلوماً ، تَبکی علیَّ ملائکةُ السمائِ والاَرضِ، و اُدفَنُ فی اَرضِ الغُربةِ ''۔(١٤)

خدا کی قسم ! میرے والد بزرگوار نے اپنے آباء و اجداد سے انہوں نے رسول خدا ۖسے نقل فرمایا ہے کہ میں تجھ سے پہلے اس دنیا سے مظلومیت کے عالم میں رخصت ہوجاؤں گا ، آسمان وزمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کناں ہوںگے اور سرزمین غربت میں دفن کیا جاؤں گا ۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت اورعلماء اہل سنت

حضرت امام علی رضا  اپنی با برکت زندگی میں بہت زیادہ فضائل و کرامات رکھتے تھے لیکن یہ کرامات و برکات فقط آپ کی نورانی زندگی ہی سے مخصوص نہ تھیں بلکہ شہادت کے بعد بھی علماء اہل سنت کی تصریح کے مطابق حضرت امام رضا  کی قبر مبارک اسی تیسری ، چوتھی صدی سے آج تک علماء اہل سنت کے توسل و زیارت کا مقام رہا ہے اورتمام لوگ اس روضہ مبارکہ سے شفا حاصل کرتے ہیں ، انہیں کے بیانات کے مطابق لوگوں کی زیارت و توسلات میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

لہذا یہاں پر آپ کی شہادت سے لیکر آج تک کے علماء اسلام کا آپ کی قبر مطہر کی زیارت کرنے کو بطور اختصار بیان کیا جارہا ہے ۔

چوتھی صدی ھجری قمری

 ابوبکر بن خزیمة شافعی(٣١١ھ)اور ابوعلی ثقفی شافعی(٣٢٨ھ)

حاکم نیشاپور ی شافعی کا بیان ہے :

''سمعتُ محمّد بن المؤمّل بن حسن بن عیسی یقول : خرجنا مع اِمامِ اَھلِ الحدیثِ اَبی بکرِ بنِ خزیمة و عدیلِہ اَبی علی الثقفی مع جماعةٍ من مشایِخنا ، وھم اِذذاک متوافِرون اِلی زیارةِ قبرِ علیِّ بنِ موسی الرضا بطوسَ ، قال : فرأیتُ من تعظِیمِہ (ابن خزیمة ) لِتلک البُقعةِ و تواضعِہ لھا و تَضرُّعِہ عندَھا ما تَحیَّرنا ''۔(١٥)

حاکم کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن مؤمل سے سنا وہ کہتا ہے کہ ہم ایک روز اہل حدیث کے امام و رہبر ابوبکر بن خزیمہ و ابوعلی ثقفی اور دیگر اپنے اساتید و بزرگوں کے ہمراہ حضرت امام علی رضا  کے مرقد مبارک پر زیارت کے لیے گئے ، وہ لوگ شہر طوس میں آپ  کی زیارت کے لیے بہت زیادہ جاتے تھے ،محمد بن مؤمل کا بیان ہے کہ ابن خزیمہ کا حضرت رضا  کی قبر مبارک پر گریہ و زاری اور توسل و احترام و تواضع اس قدر زیادہ تھا کہ ہم سب لوگ تعجب و حیرت میں پڑے ہوئے تھے۔

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز راوی کا یہ جملہ ہے کہ جو مذکورہ روایت کا تسلسل ہے لیکن افسوس کہ بہت سے مؤرخین و محدثین نے اس کو نقل نہیں کیا ، راوی کا بیان ہے :

''ذاک بمشھدٍ من عدَّةٍ من آلِ السلطانِ و آل شاذان ابنِ نعیم و آل الشنقشین وبحضرةِ جماعةٍ من العلویّةِ من اَھلِ نیسابور و ھراة و طوس و سرخس ، فدوَّنوا شمائلَ اَبی بکر محمّد بن اسحاق عند الزیارةِ و فرِحوا و تصدَّقوا شکراً للّہِ علی ما ظھرَ من اِمامِ العلمائِ عندَ ذالک الِامام و المشھدِ وقالواباَجمعِھم : لو لم یعلَم ھذا الِامامُ اَنَّہ سنة و فضیلة لما فعلَ ھذا ۔''(١٦)

راوی کہتا ہے کہ حضرت امام علی رضا  کے مرقد مطہرپر ابن خزیمہ کا یہ گریہ و زاری اور احترام و تواضع اور تعظیم، سلطان کے خاندان کے حضور اور خاندان شاذان و خاندان شنقشین نیز نیشاپور ، ہرات و سرخس کے شیعوں و علویوں کے سامنے انجام پایا اور سب نے ابن خزیمہ کی یہ حرکات و سکنات کو جو انہوںنے حضرت امام رضا کے روضہ مبارکہ پر انجام دیں ،دیکھااور ثبت و ضبط کیا ۔ ابن خزیمہ کی اس روش اوراآنحضرت  کی قبرمطہرکی زیارت سے تمام افراد بہت خوش ہوئے نیز امام العلماء کی اس روش پر خوشی اور شکر خدا میں صدقات دیئے اور سب نے بیک زبان یہ کہا کہ اگر یہ کام (اہل بیت  کی قبروں کے سامنے گریہ و زاری، احترام و تواضع اور تعظیم) سنت نہ ہوتا اور فضیلت نہ رکھتا تو کبھی بھی ابن خزیمہ اس طرح انجام نہ دیتے۔

ابن حبان بستی شافعی(٣٥٤ھ)۔:

''علیّ بن موسی الرضا اَبو الحسن من سادات اَھلِ البیتِ و عقلائِھم و جُلَّةِ الھاشمیینَ و نُبلائِھم ، یجبُ اَن یُعتبرَ حدیثُہ اذا رُوِیَ عنہ ۔ ۔ ۔قد زرتُہ (قبرہ) مراراً  کثیرة وما حَلَّت بی شدَّة فی وقتِ مَقامی بطوسَ فزرتُ قبرَ علیّ بن موسی الرضا ،صلوات اللّہ علی جدِّہ و علیہ ، و دعوتُ اللّہ اِزالتَھا عنِّی اِلّا استُجِیبَ لی ، زالَت عنِّی تلکَ الشدَّةُ و ھذا شی ٔ جرَّبتُہ مراراً  فوجدتُہ کذالک ، اَماتَنا اللہُ علی محبَّةِ المصطفی و اَھلِ بیتِہ''۔(١٧)

حضرت ابوالحسن علی بن مو سی الرضا ، اہل بیت کے بزرگان وعقلاء اور ہاشمی خاندان کے بزرگوں اور شرفاء میں سے ہیں ، جب ان سے کوئی روایت نقل ہوتو اس پر اعتبار کرنا واجب ہے ۔ ۔ ۔ میںنے کئی مرتبہ ان کی قبر مطہر کی زیارت کی ہے ۔ اور شہر طوس میں میرے قیام کے دوران جب کبھی بھی مجھ پر کوئی مشکل پڑی تو میں نے حضرت علی بن موسی رضا  ـ آپ اور آپ کے جد بزرگوار پر خدا کا درودو سلام ہو ـ کی قبر پاک کی زیارت کی اور خدا وندعالم کی بارگاہ میں اپنی مشکل کے حل کے لیے دعا مانگی تو میری دعا مستجاب ہوگئی اور وہ مشکل حل ہوگئی ،یہ تجربہ میں نے وہاں پر کئی مرتبہ کیا اور ہرمرتبہ ایسا ہی ہوا ۔ خداوندعالم ہمیں محبت رسولۖ وآل رسول ۖپر موت عطا کرے ۔

پانچویں صدی ھجری قمری

-محمد بن علی بن سہل شافعی(٤٠٥ھ)

حاکم رقمطراز ہیں :''سمعتُ اَبا الحسن محمّد بن علیّ بن سھل الفقیہ یقول: ما عرَضَ لی مُھِمّ من اَمرِ الدین والدنیا ، فقَصَدتُ قبرَ الرضا لتلکَ الحاجةِ ، ودعوتُ عندَ القبرِ اِلّا قُضِیَت لی تلکَ الحاجةُ ، وفرَّجَ اللہُ عنِّی ذالک المُھِمَّ ۔ ۔ ۔ وقد صارَت اِلیَّ ھذہِ العادةُ اَن اَخرُجَ اِلی ذالک المشہدِ فی جمیعِ ما یَعرُضُ لی ، فاِنَّہ عندی مُجرّب ''۔(١٨)

میں نے ابوالحسن محمد بن علی بن سہل فقیہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو جب کبھی بھی کوئی دینی یا دنیوی مشکل پیش آئی میں نے اس حاجت کی طلب کے لیے حضرت علی رضا کی قبر مطہرکا ارادہ کیا اور آپ  کی قبر کے قریب جاکر دعا کی وہ حاجت برآئی اورخداوندعالم نے میری وہ مشکل آسان کردی ۔۔ ۔یہ میری عادت بن چکی تھی کہ میں ہر مشکل مسئلہ میں آپ کی زیارت کے لیے جاتا اور حاجت طلب کرتا اور یہ چیز میرے نزدیک تجربہ شدہ ہے ۔

-حاکم نیشاپوری شافعی(٤٠٥ھ)

''وقد عرَّفَنی اللّہُ من کراماتِ التُربةِ خیرَ کرامةٍ ، منھا : اَنّی کنتُ متقرساً لا اَتحرّکُ اِلّابجُھدٍ فخرجتُ وزرتُ و انصرفتُ اِلی نوقان بخُفَّین من کرابیسَ ، فاَصبحتُ من الغدِ بنَوقان و قد ذھبَ ذالک الوجعُ و انصرفتُ سالماً اِلی نیسابورَ''۔(١٩)

خداوندعالم نے مجھے اس تربت اقدس اور قبر مطہرکی کئی کرامات دکھائیںجن میں سے ایک یہ ہے کہ جب میں جوڑوں کی خشکی و درد میں مبتلا ہوا اور بڑی مشکل سے چلتا پھرتا تھا تو گھر سے باہر آیا اور حضرت کی قبرپاک کی زیارت کی اور ٹاٹ کی جوتیاں پہن کر پاپیادہ نوقان پہنچارات وہیں گذاری صبح نمودار ہوئی تو میرا تمام درد ختم ہوچکا تھا اور میں صحیح و تندرست نیشاپور واپس آیا ۔

حاکم نیشاپوری شافعی اپنے مذکوہ کلام کے ساتھ اہل سنت کے بزرگوں کے آنحضرت  کے دربارمیں شفا پانے کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں اور ان کے اعترافات کا ذکر کرتے ہیںکہ جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کریں گے ۔

 -ایک مصری مسافر بنام حمزہ :

حاکم نیشاپوری نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے :

''کنتُ بمَر وِ الرُّود ، فلیقتُ بھا رجلا ًمن اَھلِ مصرَ مُجتازاً اِسمُہ حمزةُ ، وقد ذکرَ اَنَّہ خرجَ من مصرَ زائر اً لمشھدِ الرضا  بطوسَ ، و(ذکر ) اَنَّہ لمَّا دخلَ المشھدَ کان قُربَ غُروبِ الشمسِ فزارَ (الامام) وصلّی ولم یکن (فی) ذالک الیومِ زائر غیرُہ ، فلمّا صلّی العَتَمةَ اَرادَ خادمُ القبرِ اَن یُخرِجَہ (أ) و یُغلِقَ علیہ البابَ ، فسألَہ اَن یُغلِقَ علیہ البابَ و یدَعَہ فی المسجدِ لیُصلِّی فیہ ، فاِنّہ جائَ من بلَدٍ شاسِعٍ ، ولا یُخرِجَہ ، فاِنّہ لا حاجةَ لہ فی الخروجِ، فترکَہ وغَلَقَ علیہ البابَ ، فاِنَّہ کان یُصلِّی وحدَہُ اِلی اَن اَعیا، فجلسَ و وضعَ رأسَہُ علی رکبَتیہِ لیستریحَ ساعةً ، فلمّا رفعَ رأسَہ رأی فی الجدارِ مواجہَ وجھِہ رُقعَةً علیھا ھذانِ البیتان:

من سرَّہُ اَن یَری قبراً برؤیتِہ           یُفرِّجُ اللّہُ عَمَّن زارَ(ہ) کُربَہ

فَلیأتِ ذاالقبرِ اِنّ اللّہَ اَسکَنَہ          سُلالَةً من رسولِ اللّہِ مُنتَجَبَہ

قال: فقُمتُ و اَخذتُ فی الصلاةِ اِلی وَقتِ السحَرِ ، ثمَّ جَلَستُ کَجَلسَتی الاوُلی وَ وَضعتُ رأسی علی رکبَتیّ ، فلمّا رفعتُ رأسی لم أرَ علی الجدارِ شیأ  ۔

و کان الذی رآ ہُ مکتوباً رَطباً ، کاَنَّہ کُتِبَ فی تلکَ الساعةِ ۔ قال فانفَلَقَ الصبحُ و فُتِحَ البابُ و خرجَ من ھناکَ ''۔(٢٠)

میں مرو رود میں تھا کہ حمزہ نامی ایک مصری مسافر سے ملاقا ت ہوئی اس نے کہا کہ وہ مصر سے حضرت امام رضا  کی بارگاہ کی زیارت کے ارادے سے طوس میں آیا ہے اور کہا کہ جیسے ہی اس روضے میں وارد ہوا غروب آفتاب کا وقت قریب تھا ، حضرت کی قبر مطہر کی زیارت کی اور نماز پڑھی ، اس روز اس کے علاوہ کوئی اور زائر نہ تھا ، جب نماز عشاء سے فارغ ہوا تو خادم قبر نے چاہا کہ اس کو روضے سے باہر نکال دے اور دروازہ بند کردے اس نے خادم سے چاہا کہ اس کو روضے کے اندر ہی بند کردے اس کو باہر نہ نکالے چونکہ وہ دور سے آیا ہے اور اس کو باہرکوئی کام بھی نہیں ہے ، پس خادم نے اس کو وہیںچھوڑدیا اور روضے کو بند کرکے چلا گیا وہ تنہا مشغول نماز رہا یہاں تک کہ تھک گیا اور اپنے سر کو اپنے گھٹنوںپر رکھ کرآارم کرنے لگا ،جب سر کو اٹھا یا تو اپنے سامنے کی دیوار پر  دیکھا جس پر مندرجہ ذیل دو شعر لکھے ہوئے تھے :

   من سرّہُ اَن یری قبراً برؤیتِہ           یُفرِّجُ اللہ عمَّن زارَ(ہ) کُربَہ

   فلیأتِ ذاالقبرِ اِنّ اللّہَ اسکَنہ          سُلالةً من رسولِ اللّہِ مُنتَجَبہ

(جو شخص اس قبر کی زیات کرنے سے خوشحال ہوتاہے خداوندعالم اس کی تمام پریشانیوں کو دور کردیتا ہے پس اس صاحب قبر کے پا س آئوکہ اس کو خداوندمتعال نے یہاں سکونت عطا کی ہے اور یہ اللہ کے رسول کا منتخب و سلالہ پاک ہے )۔

حمزہ مصری کا بیان ہے کہ میں کھڑا ہوا اور نماز میں مشغول ہوگیا یہاں تک کہ سحر ہوگئی اور میں پھر تھک گیا اپنے سر کو اپنے گھٹنوںپر رکھا اور بیٹھ گیا پھر جب میں نے اپنے سر کواٹھایا تو دیکھا کہ وہ تحریر شدہ اشعار دیوار پر نہیں ہیں۔جبکہ وہ تحریر تازہ روشنائی سے لکھی ہوئی تھی گویا کہ اسی وقت کسی نے تحریر کی ہے ۔ اس کا کہنا کہ صبح ہوئی دروازہ کھلا اور وہ باہر نکلا ۔

ـ محمد بن قاسم شافعی :

جوینی شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن قاسم نیشاپور ی سے نقل کیا ہے:

''سمعتُ الشیخَ اَبا الحسنِ محمّد بن القاسم الفارسی بنیسابور قال: کنتُ (أنکِرُ ) علی من قصدَالمشھدَ بطوسَ للزیارةِ !واَصرَرتُ علی ھذا الاِنکارِ، فاتَّفقَ اَنِّی رأیتُ لیلةً ،فیمایَری النائمُ کاَنِّی بطوسَ فی المشھدِ (و) رأیتُ رسولَ اللّہَ قائماً ورا َٔصندوقِ القبرِ یصلِّی فسمعتُ ھاتفاً من فوق و (ھو) یُنشِدُ و یقول:

   من سرّہُ اَن یری قبراً برؤیتِہ           یُفرِّجُ اللہ عمَّن زارَ(ہ) کُربَہ

   فلیأتِ ذاالقبرِ اِنّ اللّہَ اسکَنہ          سُلالةً من رسولِ اللّہِ مُنتَجَبہ

وکان یشیرُ فی الخطابِ اِلی رسولِ اللّہِ قال : فاستیقَظتُ من نومی کاَنِّی غَریق فی العَرَقِ فنادیتُ غلامی یُسِرجُ دابَّتی فی الحالِ فَرکِبتُھا و قَصدتُ الزیارة و تَعَّودتُ فی کلِّ سنةٍ مرتینِ ، قلت: اَروی ھذہ الرؤیا و جمیعَ مرویّاتِ السلّارِ اَبی الحسن مکّی بن منصور بن علان الکرجی ، عن الشیخ محی الدین عبد المحی بن اَبی البرکات الحربی اِجازةً بروایتِہ عن الِامام مجد الدین یحی بن الربیع بن سلیمان بن حراز الواسطی اِجازةً عن اَبی زرعة طاھر بن محمّد بن طاھر بن علیّ المقدسی ، عنہ اِجازةً  '' ۔(٢١)

محمد بن قاسم کاکہنا ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا کہ جو حضرت امام رضا کی زیارت کے قائل نہ تھے اور لوگوں کو آپ کی زیارت سے منع کرتا تھا ، ایک شب خواب دیکھا کہ میں مشہدمیں ہوںاور حضرت امام رضا کی قبر مطہر کے پاس حضرت پیغمبراکرمۖنماز میں مشغول ہیں اسی وقت اچانک ایک آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے :

  جوشخص چاہتاہے کہ کسی قبر کو دیکھے اور اس کی زیارت کرے کہ خداوندعالم اس کی مشکلات کو برطرف کردے تو اس صاحب قبر کے پاس آے ، خداوندعالم نے اس کو یہ مقام عطا فرمایا ہے کہ یہ رسول خداۖکے سلالہ و ذریت اور منتخب افراد میں سے ہے۔ اس وقت پیغمبراکرم ۖکی طرف اشارہ تھا ۔

محمد بن قاسم کا یبان ہے کہ میں خواب سے اٹھا تو پسینے میں شرابور تھا میں نے اسی وقت اپنے غلام کو آواز دی اور کہا ابھی میری سواری کو آمادہ کرو ،میں سوار ہوا اور زیارت کو نکل پڑا ، اس کے بعد میں ہرسال دو مرتبہ حضرت  کی زیارت کو آتا ہوں۔

میں نے اس خواب اور تمام مرسلا ت سلار ابی الحسن مکی بن منصور بن علان کرجی کو شیخ محی الدین عبد المحی بن ابی البرکات حربی کے ذریعے کہ جن کو اجازہ روایت حاصل ہے امام مجد الدین یحی بن ربیع بن سلیمان بن حزار واسطی سے اور خود ان کواجازہ حاصل ہے ابوزرعہ طاہر بن محمد بن طاہر بن علی مقدسی سے ، نقل کیا ہے۔

-فخر الدین ادیب جندی شافعی

جوینی شافعی کہتے ہیں :

''لقد اَنشدَنا الِامامُ الفاضلُ الحسَنُ الاَخلاقِ والشمائلِ فخرُالدین ھبةُ اللّہِ بن محمّد بن محمود الاَدیب الجندی رحمَہُ اللہُ تعالی ، لنفسہِ بالمَشھدِالمقدّسِ الرضوی علی مشرِّفہِ السلام فی زیارتِنا الاُولی لھا، جعلَھا اللّہُ مبرورةً  وفی صحائفِ الَاعمال المقبولَةِ مسطورةً :

اَیا من مُناہ رضی ربَّہ       تھیّأ وَ اِن مُنکِرُ الحُسنِ لامِ

فزُر مشھداً للامامِ الرضا     علیّ بن موسی علیہ السلامِ''۔(٢٢)

ہمارے لیے فاضل ارجمند رہبر خوش اخلاق و خوب صورت و خوب سیرت فخر الدین ہبةاللہ بن محمد بن محمود ادیب جندی نے ـخداان پر رحمت نازل فرمائےـ  ہماری مشہد مقدس رضوی ـاس صاحب قبر پردرود و سلام ہو- کی پہلی زیارت میںکہ خداوند اس کو نیک قرار دے اور اعمال مقبولہ میں سے شمار فرمائے ۔ اسطر ح شعرلکھے :

اے وہ شخص کہ جس کی آرزو خداوندعالم کی رضایت و خوشنودی ہے، آمادہ رہ، یہ واضح رہے کہ اچھائیوں کے منکر کی ملامت ہوتی ہے لہذا حضرت امام علی بن موسی الرضاکے روضہ مبارکہ کی زیارت کر۔

-ابونضر موذن نیشابوری شافعی :

جوینی شافعی نے ابونضر موذن نیشابورسے نقل کیا ہے :

''اَصابَتنی علّة شدیدة ثَقُلَ فیھا لسانی فلم اَقدِر منھا علی الکلامِ ،فَخطَرَ بِبالی زیارةَ الرضاعلیہ السلام و الدعا عندَہ و التوسّلَ بہِ اِلی اللّہِ تعالی ، لیُعافِینی ، فخَرجتُ زائراً وزرتُ الرضا و قُمتُ عندَ رأسہِ و صلَّیتُ رکعتینِ ، و کنتُ فی الدعا و التَّضرُّعِ مُستَشفِعاً صاحبَ القبرِ اِلی اللّہ عزّو جلّ ، اَن یُعافِینَی من علَّتی و یَحُلَّ عُقدَةَ لسانی اِذ ذھبَ بی النومُ فی سجودِی ، فرأیتُ فی منامی کاَنّ القبرَ قد انفرَجَ فخرجَ منہ رجل آدِمُ کَھل شدیدُ الاُدمَةِ فدنا منِّی فقال : یا اَباالنضر! قل ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' قال : فأومأتُ اِلیہ کیفَ اَقول ذالک و لسانی مُنغَلِق؟ فصاحَ علیّ صیحةً و قال : تُنکِرُ ِللہِ القدرةَ ؟ قل : ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' قال: فانطلَق لسانی فقلتُ: ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' و رجَعتُ اِلی منزِلی راجلاً  و کنتُ اَقول : ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' ولم یَنغَلِق لسانی بعدَ ذالکَ ''۔(٢٣)

میں ایک بہت سخت بیماری میں مبتلا ہوا کہ جس کے اثر سے میری زبان بند ہوگئی اور گفتگو کرنے پر قادر نہ رہا ، میرے ذہن میں خیال آیا کہ حضرت امام رضا کی زیارت کو جاؤں اور آپ کی قبر کے پاس نماز پڑھ کر دعا کروں۔

 حضرت  کو وسیلہ قرار دوں کہ خداوندعالم مجھے اس بیماری سے نجات دے ، میں زیارت کی نیت سے نکلا اورحضرت کی زیارت سے مشرف ہوا آپ کے سرہانے کھڑے ہوکردو رکعت نماز پڑھی ، اسی دوران خداوندعالم سے گریہ زاری کی حالت میں صاحب قبر کا واسطہ دے کر دعا مانگتا رہا اور شفا طلب کرتا رہا کہ پروردگار مجھے اس بیماری سے شفا عطافرمائے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے کہ اچانک مجھے حالت سجدے میں نیند آگئی، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا چاند شق ہوا، اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت بزرگ برآمد ہوئے اور میرے قریب آکر کہا اے ابونضر کہو:  ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں یہ کلمہ کیسے کہہ سکتاہوں میں گونگا ہوں بول نہیں سکتا وہ بزرگ سخت لہجے میںبولے کہ تم قدرت خدا سے انکار کر رہے ہو کہو ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''اچانک میری زبان کھل گئی اور میں نے کہا''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''تب میں خداوندعالم کے شکرانے کے طور پر مشہد سے اپنے گھر نیشاپور تک پیدل آیا اور تمام راستے میری زبان پر یہی کلمہ تھا''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''ور اس کے بعدکبھی بھی میری زبان بند نہ ہوئی ۔

ـ  ایک نامعلوم شخص

حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ نقل کرتے ہیں :

''سمعتُ رجلا ًذھبَ عنی اسمُہ عندَ قبرِ الرضا (یقول : کنتُ) اُفکِّرُ فی شَرَفِ القبرِ و شَرَفِ من تَواری فیہ فتَخالَجَ فی قلبی الِانکارُ علی بعضِ من بھا فضرَبتُ بیدی الی المُصحفِ مُتفأِّلا ًا ، فخرجَت ھذہ الآیة(و یَستَنبِؤُنَکَ اَحق ھُوَ قُل ای وَ ربّی اِنَّہ لَحَق)(سورہ یونس(١٠)آیت ٥٣)حتّی ضرَبتُ ثلاثَ مرّاتٍ فخرجَ فی کلِّھا ھذہ الآیةُ''۔(٢٤ )

ایک مرد سے کہ جس کا نام میرے ذہن سے نکل گیا ہے سنا کہ جو قبر امام رضا کے نزدیک کھڑا ہوا کہہ رہا تھا کہ میں اس قبر اور صاحب قبرکی عظمت و شرافت و بزرگی کے بارے میں سوچتا تھا کہ میرے دل میں صاحب قبر کے متعلق کچھ چیزوں کے بارے میں شک و شبہ ہوا اور ان کا انکار کربیٹھا لہذا میں نے قرآن کریم سے تفأل و استخارہ کیا تو یہ آیت آئی کہ'' تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے تو کہدے کہ ہاں خدا کی قسم وہ حق ہے'' ۔

یہاں تک کہ میںنے تین مرتبہ قرآن سے فأل و استخارہ کیا ہر مرتبہ یہی آیت آئی ۔

ـ  زید فارسی :

حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ زید فارسی سے نقل کرتے ہیں:

''کنتُ بمروِ الرُّودِ منقرساً مدّةَ سنتینِ لا اَقدِرُ اَن اقوَم قائماً و لا اَن اُصلِّی قائماً ، فأُریتُ فی المنامِ:ألا تَمرَّ بقبرِ الرضاوتَمسحَ رجلیکَ بہ و تدعواللّہَ تعالی عندَ القبرِحتّی یذھبَ ما بکَ ؟(قال)فأکتَریتُ(دابَّةً)و جئتُ اِلی طوسَ و مسحتُ رجلیَّ بالقبرِودعوتُ اللہَ عزّوجلّ فذھبَ عنِّی ذالکَ النقرسَ و الوجعَ فأنا ھاھنا منذُ سنتین و ما نقرستُ''۔(٢٥)

میں مرورود میں تھا کہ مرض نقرس (جوڑوں کے درد)میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ مجھ سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا اور کھڑے ہوکر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا کہ ایک شب مجھے خواب میں بشارت ہوئی کہ قبر امام رضا  پر کیوں نہیں جاتا اور ان کی قبر سے اپنے آپ کو کیوں مس نہیں کرتا اور خدا سے آپ  کی قبر مبارک کے پاس اور ان کو واسطہ قرار دے کرکیوں دعا نہیں کرتا تاکہ یہ مشکل حل اور مرض دور ہوجائے، پس میں نے ایک جانور سواری کے لیے کرائے پر لیا اور طوس پہنچا اپنے آپ کو حضرت کی قبر مطہر سے مس کیا اور خداوندعالم سے دعا مانگی تو مجھ سے وہ مرض نقرس (جوڑوں کا درد) ختم ہوگیا اور میں دو سال سے یہاں پر ہوں بالکل درد نہیں ہے۔

ـ  حمویہ بن علی :

اسی طرح حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ حمویہ بن علی سے نقل کرتے ہیں:

''کنتُ مع حَموَیہِ ببلخ فرکِبَ یوماً و اَنا معہ فبینا نحنُ فی سوقِ بلخ اِذ رأی حَموَیہ رجلا ً فوکّلَ بہِ و قال : احملُوہ اِلی البابِ ثمَ عندَ انصرافِہ اَمر باحضارِ حمارةٍ فارةٍ و سُفرَةٍ و جبنةٍ ومأ تی درھم ، فلمّا اُحضِرَ قال: ھاتوا الرجلَ، فجیَٔ بہ ، فلمّا وقفَ بین یدِیہ ، قال: قد صَفَعتَنی صَفعَةً واَنا اَقتصُّھا منکَ الیومَ ! (أ) تذکرُ الیومَ الذی زُرنا جمیعاً قبرَ الرضا فدعوتَ انتَ و قلت : اللھمّ! ارزقنی حماراً و ماتی درھم  سُفرةً فیھا جِنبة و خُبزة ، وقلتُ اَنا اللھمّ! ارزقنی قیادةَ خراسانَ ، فصَفَعتَنی وقلت: لاتسأل ما لا یکونُ، فالآن قد بَلغنی اللّہُ عزّو جلّ ، مأمُولی و بلغَک مأمولکَ و الصَفعةُ لی علیکَ''۔(٢٦)

میں حمویہ کے ساتھ شہر بلخ میں تھا ، ایک روز ہم دونوں سوار ہوے اور بازار بلخ میں پہنچے ، حمویہ نے ایک شخص کو دیکھا اورحکم دیا کہ اس کو پکڑ لو اور دربار میں لے چلو، پھر دربار سے پلٹتے وقت حکم دیا کہ ایک اچھا گدھا، ایک روٹی اور پنیر کے ساتھ دسترخوان اور دوسو درھم لے کر آو ، جب یہ چیزیں مھیا ہوگئیں تو دستور دیا کہ اس شخص کو حاضر کرو ، جب اس شخص کو لایا گیا اور وہ سامنے کھڑا ہوا تو حمویہ نے اس سے کہا کہ تو نے ایک روز میرے ایک طمانچہ مارا تھا اور آج میں تجھ سے اس کا بدلا لوں گا ۔ کیا تجھے یاد ہے کہ ہم سب ایک ساتھ حضرت امام رضا کی زیارت کو گئے ہوئے تھے جب ہم نے زیارت کی تو تو نے خدا سے دعا کی کہ پروردگارا!  مجھے  ایک گدھا، دوسو درھم اورروٹی و پنیر کے ساتھ دسترخوان عطا فرما ، اور میں نے دعا کی ،پروردگارا ! مجھے خراسان کی حکومت نصیب فرما ۔ تونے میرے طمانچہ مارا اور کہا کہ جوکام نہیں ہوسکتا اس کی دعا نہ کرو، جبکہ اب خداوندعالم نے مجھے اس مقام پر پہنچادیا ہے اور تیرے لیے بھی تیری خواہش کو پورا کردیا ہے ،اب میرا ایک طمانچہ تیرے اوپر باقی ہے ۔

ـ  ابو حسین بن ابی بکر شافعی :

حاکم نیشاپوری شافعی کہتے ہیں :

''سمعتُ اَبا الحسین بن اَبی بکرِ الفقیہ یقول: قد اَجابَ اللّہُ لی فی کلِّ دعوةٍ دعوتُہ بھا عند مشھدِ الرضا ، حتّی اِنِّی دعوتُ اللّہَ (ان یرزقَنی ولداً)فَرُزِقتُ ولداً بعدَ الاِیاسِ منہ ''۔(٢٧ )

ابوالحسین بن ابی بکر فقیہ سے میں نے سنا اس نے کہا ؛ میں نے خداوندعالم سے حضرت امام رضا کے جوار میں جو بھی دعا مانگی وہ مستجاب ہوئی یہاں تک کہ میں نے کافی مایوسی کے بعد خداوندعالم سے بیٹے کی دعا کی تو خداوندعالم نے وہ بھی مستجاب فرمائی اور مجھ کو نعمت فرزند سے سرفراز فرمایا ۔

آٹھوی صدی ہجری

ـ  ذھبی شافعی (٧٤٨ھ)

وہ سلفی مذہب(وہابیت) پر اعتقاد رکھنے کے باوجود بھی حضرت اما م رضا کے روضہ مبارکہ کے زائرین کے بارے میں رقمطراز ہیں :

''و لعلیّ بن موسی مشھد بطوسَ یقصدونَہ بالزیارةِ''۔(٢٨)

حضرت امام علی بن موسی الرضا کی شہر طوس میں بارگاہ ہے کہ لوگ وہاں زیارت کے لیے جاتے ہیں ۔

''ولہ مشھد کبیر بطوسَ یزارُ''۔(٢٩)

شہر طوس میں آپ  کی بہت بڑی آرامگاہ ہے کہ جس کی زیارت کی جاتی ہے ۔

حضرت امام موسی کاظم  کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے جب امام رضا  پر پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں :

''و لولدِہ علیّ بن موسی مشھد عظیم بطوسَ ''۔(٣٠)

اور آپ کے فرزند گرامی علی  بن موسی  کی شہر طوس میں عظیم بارگاہ ہے ۔

ـ  صفدی شافعی (٧٦٤ھ):

وہ بھی مختصر اً لیکن جامع انداز میں یوں کہتے ہیں :

''۔ ۔ ۔  و دُفِنَ بطوس و قبرُہ مقصود بالزیارةِ ''۔(٣١)

اور آپ کوشہر طوس میں دفن کردیا گیااور آپ کی قبر کی زیارت کی جاتی ہے ۔

ـ  محمد بن عبد اللہ ابن بطوطہ مراکشی (٧٧٩ھ) :

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا  ہے کہ ان کا بیان بھی یہی ہے کہ حضرت امام رضا کی قبر مطہر عامہ و خاصہ کے لیے زیارت گاہ ہے ۔(٣٢)

نویں صدی ہجری

ـ  عطاء اللہ بن فضل اللہ شیرازی (٨٠٣ھ):

وہ حضرت امام رضا کی بارگاہ کو تمام زائرین کا ملجأ و مأوی جانتے ہیں چاہے وہ زائرین کسی بھی طبقہ و قوم وقبیلہ کے ہوں لہذا کہتے ہیں :

علی بن موسی الرضا لوگوں سے خود انہی کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے او رآپ گفتگو کرنے میں بہترین سخنور اور عقلمندترین فرد تھے اور سب کی زبانوں کو خود اہل زبان سے بہتر جانتے تھے ۔ ۔ ۔ مشہد مقدس اور آپ کا مرقد منور تمام طبقات اور پوری دنیا کے زائرین کا مرکز وملجأومأوی ہے ۔(٣٣)

دسویں صدی ہجری

ـ  میرمحمد بن سید برہان الدین خواوند شاہ معروف بہ میر خواند شافعی (٩٠٣ھ) :

وہ بھی تعجب خیز عبارات میں تحریر کرتا ہے کہ حضرت امام رضا  کی قبر پاک کے زائرین نہ فقط ایران بلکہ روم و ہندوستان اور دنیا کے گوشے گوشے سے آتے ہیں ۔ لہذا رقمطراز ہے :

ذکر احوال علی بن موسی الرضا رضی اللہ عنھما ۔ مشہد مقدس اور حضرت امام رضا (کہ جو بطور مطلق بغیر کسی قید کے امام ہیں )کا مرقد ،ایران کا مرکزاور  اہل طریقت کے ہر چھوٹے وبڑے کی منزل مقصود ہے ، امت اسلامی کے تمام فرقے اور بنی آدم کے تمام طبقات پوری دنیا میں دور دراز سے جیسے روم ، ہندوستان اور ہر طرف سے ہر سال اپنے وطن سے ہجرت کرکے،دوستوں و عزیز واقارب کو چھوڑ کر آتے ہیں اور اپنی آبرومند پیشانی کو آپ کی چوکھٹ پر رکھتے ہیں اور زیارت کے مراسم و قبر کا طواف انجام دیتے ہیں ، اس عظیم نعمت الہی کو دنیا و آخرت کا سرمایہ جانتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن علی بن موسی الرضا کے مناقب و مآثر اور فضائل اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ بشری علم ان کا احاطہ کرسکے ، اس مقام پر چند سطروں میں ارباب سعادت کے عظیم رہبر کے خوارق العادة و عجیب و غریب واقعات میں سے کچھ کی طرف اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں ۔

پھر آپ کے مناقب و کرامات کو ذکر کرتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں کہ امام رضا  سے بہت زیادہ واقعات منقول ہیں کہ جو آپ کی عظمت اور کرامات و مناقب کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں ۔(٣٤)

ـ  فضل اللہ بن روزبہان خنجی اصفہانی حنفی (٩٢٧ھ):

وہ بھی عظیم عبارات اور بہت زیادہ احترام کے ساتھ حضرت امام رضا  کے مرقد مطہر کی توصیف کرتے ہیں اور اس کے قیامت تک کے لیے '' کعبۂ آمال و تمام جاجتمندوں کے لیے ملجاء و مأوی''ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔لہذا کہتے ہیں :

زیارت قبرمکرم و مرقد معظم حضرت امام آئمة الھدی ، سلطان الانس و الجن ، امام علی بن موسی الرضا الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین الشہید بن علی المرتضی ـ صلواتُ اللّہ و سلامُہ علی سیدِنا محمّدٍ و آلہ الکرام ، سیما الآیة النظام ستّة آبائہ کلّھم افضلُ من یشربُ صوبَ الغمامِـ (درود و سلام ہو ہمارے سید و سردار حضرت محمد اور آپ کی آل پاک پر خصوصا ًامام رضا کے چھ آباء و اجداد پرجو کہ نظام کائنات کی نشانی ہیں اوروہ کائنا ت کی ہر شے سے افضل ہیں )

(آپ کی زیارت) آپ کے دوستوں کے لیے اکسیر اعظم اور دل وجان کی زندگی کی باعث ہے تمام عالم کی آپ کی بارگاہ میں رفت و آمد باعث برکت بلکہ صدق دل سے یوں کہا جائے کہ اشرف منازل ہے ، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ہر وقت تلاوت قرآن مجید ہوتی رہتی ہے لہذا کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کی عظیم ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے ، وہ عظیم مرقد کسی وقت بھی نیازمندوں کی عبادت و اطاعت سے خالی نہیں ہوتا اور اس طرح کیوں نہ ہو کہ وہ اس امام بر حق کی آرامگاہ ہے کہ جو علوم نبوی کا مظہر، مصطفوی صفات کا وارث ،امام برحق و راہنما ئے مطلق اور صاحب زمان امامت ، وارث نبوت اورمحکم و استوار حق و حقیقت ہے۔

ہزار دفتر اگر در مناقبش گویند

 ھنوز رہ بہ کمال علی نشاید برد

(اگر آپ کے مناقب و فضائل میں ہزار دیوان بھی بھر جائیں تو بھی آپ کے کمال تک رسائی کے لیے کافی راہ باقی ہے )۔

میرا پہلے حضرت امام رضا کی زیارت کا قصد تھا تب یہ قصیدہ لکھا تھا کہ جس کے درج کرنے کے لیے یہ مقام مناسب ہے ۔

لہذا اس عبارت کے تسلسل میں ایک قصیدہ بعنوان '' قصیدہ در منقبت امام ثامن ، ولی ضامن ، امام ابوالحسن علی بن موسی الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ '' آپ کی مدح و ثناء میں تحریر کرتے ہیں ۔۔۔ ۔(٣٥)

دوسری جگہ پر کہتے ہیں :

''اللّھمَّ و صلِّ و سلِّم علی الِاما مِ الثامنِ ، السیدِ الحسنانِ ، السنَدِ البرھا نِ ، حجة اللّہِ علی الِانسِ و الجانِّ الذی ھو لجُندِ الَاولیائِ سلطان ، صاحبِ المروةِ و الجودِ والِاحسانِ ، المتلالئی فیہ اَنوارُ النّبی عندَ عینِ العَیانِ ، رافعِ معالمِ التوحیدِ و ناصبِ ألوُیةِ الِایمانِ ، الراقیِ علی درجاتِ العلمِ و العرفانِ ، صاحبِ منقَبَةِ قولہ صلّی اللہُ علیہِ وآلہِ وسلِمَ ستُدفَنُ بضعة منّی بارضِ خراسانَ ، المستَخرِجِ بالجَفرِ والجامعِ مایکونُ و ما کانَ المقُولِ فی شرفِ آبائہِ ستّة آبائہ کلّھِم افضلُ من شرِبَ صوبَ الغَمامِ ، المُقتدی برسولِ اللّہِ فی کلِّ حالٍ و فی کلِّ شأنٍ اَبی الحسنِ علیّ بن موسی الرضا ، الِامام القائمِ الثامنِ الشھیدِبِالسمِّ فی الغمِّ و البؤُسِ المدفونِ بمشھدِ طوس''۔ (٣٦)

پروردگارا ! درود و سلام بھیج آٹھویں امام پر کہ آنحضرت  اہل نیک سیرت و نیک خصلت کے سید و سردار ہیں ، محکم دلیل وتمام جن و انس پراللہ کی حجت ہیں یہ اولیاالہٰی کے لشکر کے سلطان و بادشاہ ہیں ، صاحب جود و سخا ومروت و احسان ہیں، آپ کے وجود مبارک میں پیغمبراکرم ۖ کے انواربزرگوں کی آنکھوں کے حضور درخشندہ ہیں ، آپ پرچم توحید کو سربلند کرنے والے اور ایمان کے علم کو نصب کرنے والے ہیں ، آپ علم و عرفان کے بالاترین درجات میں سیر کرنے والے ہیں ، آپ حضرت رسول اکرم ۖ کی اس فرمائش کے مصداق ہیں : '' میرے بدن کا ٹکڑا خراسان کی سرزمین میں مدفون ہوگا ''آپ علم جفر و جامع کو ایجاد کرنے والے اور علم ماکان ومایکون(ماضی،حال و مستقبل کا علم) رکھنے والے ہیں ، آپ وہ ہیں کہ جن کے آباء و اجدا د کا شرف یہ ہے کہ آپ کے چھ آباء وہ ہیں کہ جو ہر اس چیزسے کہ جس نے آسمانی پانی نوش فرمایا،افضل ہیں (گویا نبیوں سے افضل ہیں)، آپ ہر حال ہر کام اور ہر امر میں رسول خدا ۖکی اقتداء کرنے والے ہیں آپ ابوالحسن علی بن موسی الرضا ، امام قائم ثامن ہیں، آپ کو زہردغا سے عالم غربت میں شہید کیا گیا اور شہر طوس میں دفن کیا گیا ۔

''اللھمَّ ارزقنا بلُطفِکَ و فَضلِکَ و کرمِکَ و امتِنانِکَ ، زیارةَ قبرہِ المقدسِ ومَرقدِہ المُؤنِس و اغفرلنا ذنوبَنا و اقض جمیعَ حاجاتِنا ببرکتِہ ۔ اللھمّ صلّی علی سیّدِنا محمّدٍ وآلِ سیّد نا محمّدٍ سیما الِامامِ المُجتَبی اَبی الحسنِ علیِّ بن موسی الرضا و سلّم تسلیما''۔ (٣٧)

پروردگارا ! اپنے لطف و کرم اور فضل واحسان کے ذریعے مجھے حضرت کے روضہ مبارک و مرقد منور کی زیارت کی توفیق عنایت فرما ،  اور حضرت کی برکت کے صدقہ میں ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری تمام حاجات کو پورا فرما۔

پروردگارا! درود و سلام بھیج ہمارے سید و سردار محمد اور آپ کی آل پاک پر خصوصاً امام منتخب ابو الحسن علی بن موسی الرضا پر ۔

وہ حضرت امام رضا  کی نورانی بارگاہ کے متعلق عجیب و غریب باتیں تحریر کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض کو ہم اشارة ً بیان کرتے ہیں ۔

۔ ۔ ۔ اور آنحضرت  کو اس روضہ مقدسہ و مرقدمنورہ مشہد معطر میں دفن کردیا گیا اور وہ روضۂ بہشت ، کعبہ ٔ  آمال اورروز قیامت تک تمام حاجتمندوں کا ملجاء و مأوی ہوگیا ۔ خداکا درود و سلام اور تحیت و رضوان ہو اس روضہ ٔ  مقدسہ پر ، خداوندعالم نے ہمیں اس کی زیارت کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی عمارت کو انوار الہٰیہ اور انفاس قدسیہ سے منور فرمائے ۔ اس کمترین بندے فضل اللہ روزبہان امین کی یہی آرزو ہے ۔ الطاف الہٰی پر یقین ہے کہ اس فقیر حقیر کو آنحضرت کے مرقد مطہر و مشہد مقدس کی زیارت کی توفیق نصیب ہوگی اور اس کتاب '' وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم '' کی قرائت آنحضرت کے روضہ میں آپ کے محبوں و دوستوں کے حضور ہوگی ۔ اس حقیر و فقیر کا سینہ حضرت کی ولایت وتولا اور محبت و اخلاص اور استمداد سے سرشار ہے ، جب کبھی بھی کوئی واقعہ اس حقیر کو پیش آتا تو آنحضرت  سے مدد طلب کرتا ،اور قلبی طور پر آنحضرت  ہی سے نجات طلب کرتا اور ہر مصیبت و حادثہ میں آپ ہی کی روح مقدس سے ملتجی ہوتاہوں ۔

انہوںنے حضرت امام رضاعلیہ السلام  کی مدح میں شعر بھی کہے ہیں :

سلام   علی   روضة  للامام                    علی بن موسی علیہ السلام

سلام  من  العاشق  المنتظر                    سلام    من  الوالہ  المستہام

بر آن پیشوای کریم  الشیم                     بر آن مقتدای  رفیع  المقام

از شھد شھادت حلاوت مذاق           ز زھر عدودر جھان تلخ کام

زخلد برین مشھد ش روضہ ای         خراسان از اوگوشہ دارالسلام

ازآن خوانمش جنت ہشتمین           کہ  شد  منزل  پاک  ہشتم  امام

محبان ز انگور پر زھر او                   فکندند می ھای خونین بہ  جام

مرا چھرہ بنمود یک شب بہ خواب    شد از شوق اوخواب بر من حرام

علی  وار بر شیر مردی سوار

امین  در رکابش کمینہ غلام(٣٨)

١٩ـ  غیاث الدین بن ھمام الدین شافعی معروف بہ خواند میر (٩٤٢ھ) :

وہ حضرت اما م موسی کاظم  کی اولاد کی تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

حضرت امام موسی کاظم  کی اولاد میں سے سب سے افضل بلکہ اپنے زمانے میں سب سے اشرف وافضل علی بن موسی الرضا تھے ۔(٣٩)

عنوان '' ذکر امام ہشتم علی بن موسی الرضاسلام اللہ علیھما '' کے ذیل میں آنحضرت کے بارے میں ایک فصل بیان کرتے ہیں اور امام کے متعلق اس طرح تحریر کرتے ہیں: ''امام واجب الاحترام علی بن موسی الرضا ۔ ۔ ۔امام عالی مقام '' (٤٠)

اور اسی طرح مشہد الرضا کے متعلق کہتے ہیں :

اور اب آنحضرت کا روضہ منورہ اعیان و اشراف کا محل طواف ، تمام ممالک و شہروں، ہر زمانے کے چھوٹے بڑے، عام وخاص افراد کی آرزو ں کا قبلہ اور نصیبوں کا کعبہ بن چکا ہے۔

   ''سلام علی آلِ طاھا و یاسینَ            سلام علی آلِ خیرِ النبیین

    سلام علی روضةٍ حلَّ فیھا               امام یباھی بہِ الملکُ والدین

و صلّی اللّہُ علی خیرِ خلقہِ محمّدٍ سیّدِ المرسلینَ و آلہِ الطیبینَ الطاھرین سیما الآئمّةِ المعصومینَ الھادین''۔ (

سلام ہو آل طاہا ویسین پر ، سلام ہو بہترین رسول کی آل پاک پر، سلام ہو اس باغ پر کہ جس میں وہ امام آرام فرما رہا ہے کہ جس پر دین و دنیا دونوں  فخرکرتے ہیں ۔

خدایا درود و سلام بھیج اپنی مخلوق میں سے سب سے بہترین مخلوق تمام پیغمبروں کے سردارحضرت محمد اور ان کی آل پاک و پاکیزہ پر خصوصا ًہدایت کرنے والے آئمہ معصومین پر۔

عنوان '' گفتار دربیان فضائل و کمالات آن امام عالی مقام ، علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام '' کے ذیل میں ایک فصل بیان کی ہے کہ جس میں حضرت امام رضا  کے متعلق تحریر کرتے ہیں :

سرزمین خراسان ، امام شہید ،طیب و طاہر علی بن موسی بن جعفر بن محمد باقر کا بیت الشرف ہے ۔ ۔ ۔آنحضرت کی جود و سخا ،بلند و بالا مقام اور عظمت و احترام کا مغرب سے مشرق تک اپنے پرائے سب کو اعتراف تھا اور ہے ۔

ہر چھوٹے بڑے بلکہ نوع انسانی کے تمام افراد نے آپ کے مناقب و کمالات اور اوصاف حمیدہ پر صحائف و کتب تحریر کی ہیں اور لکھ رہے ہیں لیکن جو کچھ بھی لکھاجائے اور تصور کیا جائے آپ اس سے کہیں بلند و بالا ہیں اور آپ کی امامت آپ کے آباء و اجداد کی نص کے مطابق معین و مقرر ہے۔

ازآن زمان کہ فلک شد بہ نور مھر منور

ندید دیدہ کس چون علی موسی جعفر

سپھر عز وجلالت محیط علم و فضیلت

امام   مشرق   و  مغرب  ملاذ  آل  پیمبر

حریم تربت او سجدہ گاہ خسرو انجم

غبار  مقدم     او    توتیای    دیدۂ    اختر

وفور علم و علو مکان اوست بہ حدی

کہ شرح آن نتواند نمود کلک سخنور

قلم اگر ھمگی وصف ذات او بنویسد

حدیث  او  نشود  در  ھزار سال  مکرر(٤١)

(وہ امام کہ جس کے نور سے آسمان منور و روشن ہوا، کسی نے بھی حضرت علی  ابن موسی  ابن جعفر  جیسی عظیم شخصیت نہیں دیکھی،وہ عزت و جلالت کے آسمان ہیں اور علم و فضیلت ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے ،وہ آل رسولۖمیں سے ایک رکن ہیں اور مشرق و مغرب کے امام،ان کے حرم مطہر کی خاک چاند کی سجدہ گاہ ہے ، ان کے مبارک قدموںسے اٹھنے والی گرد و غبار ستاورں کی آنکھوں کا سرما ہے ، ان کے علم کی کثرت اورشأن و منزلت کی بلندی اس حد تک ہے کہ کوئی بھی سخنور آپ کی توصیف ا ور مدح و ثناء نہیں کرسکتا ، قلم اگر وہ تمام صفات لکھنے پر آئے تو ہزاروں سال اگر بار بار آتے رہیں پھر بھی تمام نہیں ہوسکتی ہیں) ۔

پھر آپ کے فضائل و کرامات بیان کیے ہیں ، اور اس کے بعد کہتے ہیں :

مخفی نہ رہے کہ کرامات و معجزات حضرت امام رضا بہت زیادہ ہیں اور آپ کے مشہد منور کی برکات اور آپ کے مرقد معطر کی فیوض و برکات اس قدر ہیں کہ اس حقیر کی زبان قاصر کے بس کی بات نہیں ہے کہ ان کی تفصیل بیان کی جائے لہذا مجبوراً اختصار سے کام لیا ہے ۔(٤٢)

گیارہویں صدی ہجری

ـ  ابن عماد دمشقی حنبلی (١٠٨٩ھ)

''و لہ مشھد کبیر بطوس یُزارُ ''۔(٤٣)

آپ کی عظیم بارگاہ شہر طوس میں ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے ۔

چودھویں صدی ہجری

ـ  قاضی بہجت آفندی شافعی (١٣٥٠ھ):

وہ بھی حضرت اما م رضا کی بارگاہ کو دنیائے اسلام کی عظیم ترین زیارتگاہ مانتے ہیں لہذا کہتے ہیں :

آنحضرت کا روضہ معلی شہر مشہد مقدس میں اسلام کی عظیم و بزرگ ترین زیارت گاہ  ہے، سنہرا گنبد ہے کہ جس کی پوری دینا میں مثال و نظیر نہیں ہے ۔خدا وندعالم ان کی عزت وشرف کو اور زیادہ کرے ۔(٤٤)

 

منابع و مدارک

(١) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٠، ح ٤٦٧بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔ قندوزی حنفی : ینابیع المودة لذوی القربی ، ج٢، ص٣٤١۔

(٢) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٨٨، ح ٤٦٤بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٣) قندوزی حنفی : ینابیع المودة لذوی القربی ، ج٢، ص٣٤١۔

(٤) ممکن ہے کہ رسول اکرمۖ سے سوال کیا ہو لیکن روایت کا اگلا حصہ حذف ہوگیا ہے یا راوی نے ذکر نہیں کیاہے۔

(٥) (٦) (٧) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٤، ح ٤٧١۔ و ص ١٩٥، ح ٤٧٣۔ و ص ١٩٣، ح ٤٧٠ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔

 (٨) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩١، ح ٤٦٨بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔ اور دیکھیےـ: خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨٦۔ خنجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم  ، ص ٢٢٣۔

(٩) (١٠) (١١) (١٢) (١٣)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩١، ح ٤٦٨ ۔وص ١٩٢، ح ٤٦٩ ۔وص ١٩٥، ح ٤٧٢ ۔وص٢١٨، ح ٤٩٢ ۔

(١٤)  قندوزی حنفی: ینابیع المودة لذوی القربی ، ج٣، ص١٦٧ بنقل از فصل الخطاب لوصل الاحباب ، خواجہ پارسای بخاری حنفی۔

(١٥)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٨، ح ٤٧٧بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(١٦)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٨، ح ٤٧٧ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(١٧)  ابن حبان بستی شافعی : کتاب الثقات ،ج ٨، ص٤٥٧۔

(١٨)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٦ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(١٩)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٦ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٢٠)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٦، ح ٤٧٤ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٢١)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٧، ح ٤٧٥ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٢٢)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٨، ح ٤٧٦ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٢٣)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢١٧، ح ٤٩١ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٢٤)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢١٨، ح ٤٩٣ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی

(٢٥)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢١٩، ح ٤٩٤بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔

(٢٦)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٥بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔

(٢٧)  جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٨بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی۔

(٢٨)  ذہبی شافعی : سیر اعلام النبلاء ، ج ٩ ، ص٣٩٣۔

(٢٩) ذہبی شافعی : العبرفی خبر من غبر،ج١، ص٢٦٦۔

(٣٠)  ذہبی شافعی : سیر اعلام النبلاء ، ج ٩ ، ص٣٩٣۔

(٣١)  صفدی شافعی : الوافی بالوفیات ، ج٢٢، ص٢٤٩۔

(٣٢)  ابن بطوطہ مراکشی : تحفة النظار فی غرائب الامصار ، معروف بہ رحلة ابن بطوطہ ، ص٤٠١۔

(٣٣)عطاء اللہ بن فضل اللہ شیرازی: روضة الاحباب ،ج٤، ص٤٣۔ دیکھیے ـ: امیر احمد حسین بہادر خان ہندی حنفی : تاریخ الاحمدی ، ٣٦۔

(٣٤) خواند امیر شافعی : تاریخ روضة الصفا،ج٣، ص٤٦و٥٢۔

(٣٥)  خنجی اصفہانی حنفی : مہمانامہ بخارا ، ص٣٣٦۔

(٣٦)   خنجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص٢٢٣۔

(٣٧)  خنجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص٢٢٣۔

(٣٨) نجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص٢٤٣۔

(٣٩)  خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨١۔

(٤٠)  خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨٢۔

 (٤١)  خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨٣۔

(٤٢) خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٩١۔

(٤٣)  ابن عماد جنبلی : شذرات الذھب فی اخبار من ذھب ، ج٣، ص١٤۔

(٤٤)  قاضی بہجت آفندی شافعی : تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمد، ص ١٥٨ـ١٥٩۔

[ یکشنبه دهم مهر 1390 ] [ 17:11 ] [ دفتر شریعتکده ]

ممدوح و مذموم شعرا

باسم رب الشعرا

(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )  سورہ شعراء کی آخری آیات

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدہی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

ان آیات میں قرآن کریم نے شعراء کے متعلق نظریہ الٰھی کو بیان فرمایا ہے لہذا شعراء کی دو قسمیں ہیں ایک شعراء مذموم ، دوسرے شعراء ممدوح ۔یعنی خداوندعالم کی نظر میں شعر وشاعری نہ بری شٔ ہے اور نہ اچھی شٔ بلکہ یہ ایک فن ہے کہ اس سے اگر اچھا استفادہ کیا جائے تو اچھی شٔ ہے اور اگر برے کام میں لایا جائے تو بری شٔ ہوگی۔لہذا دونوں طرح کے شعراء اور ان کی صفات بیان فرمائی ہیں۔

 مذموم شعرا

قرآن کریم نے ان مذکورہ آیات میں مذموم شعراء کی چند علامتیں اور صفات بیان کیے ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں :

٭  جھوٹ اور گناہ

(ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین۔ تنزل الشیاطین علی کل افاک اثیم) یہ آیات اسی سورہ شعراء کی مذکورہ بالا آیات سے پہلی آیتیں ہیں کہ جن میں خداوندعالم کفار و مشرکین عرب کے عقیدے کو بیان فرمارہا ہے کہ وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر شاعرپر شیطان سوار رہتاہے اور وہ اس پر اشعار القاء کرتا ہے لہذا ارشاد ہوا کہ ہم بتائیں کہ کن پر شیطان نازل ہوتا ہے شیاطین ہر جھوٹے اور گناہگار پر نازل ہوتے ہیں یعنی وہ شعراء کہ جو گناہگار ہیں شیاطین ان کی راہنمائی کرتے ہیںاور ایسے ہی شعراء شیاطین کے بہکاوے و گمراہی میں آتے ہیں ۔

٭٭گمرا ہ و گمراہ پروری

(والشعراء یتبعھم الغاوون) شعراء ایسے افرادہیں کہ جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل خیالات کوبھڑکاتی ہیں، اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے۔ یہی تصورات و تخیلات اگر شیطان کی جانب سے ہوںتو اور بھی زیادہ شہوت انگیز ہونگے،لہذا ایسے شعراء خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کے بھی گمراہ ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

٭٭٭بے ہدف سرگردانی

(الم تر انھم فی کل واد یھیمون) مذموم شعراء کی تیسری علامت وصفت یہ ہے کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں ہیں یہاں وادی خود اصطلاح شاعری ہے یعنی ہر میدان میں ہرزمین میں شعر کہنا کبھی اس کی ہجو تو کبھی اس کی تعریف و تمجید،گویا ہرجائی پن گمراہ شعراء کی صفت ہے ۔

٭٭٭٭قول وعمل میں فرق

 (وانھم یقولون مالا یفعلون) مذموم شعراء کی ایک اور صفت یہ ہے کہ ان کے اقوال ہمیشہ ان کے اعمال و افعال کے خلاف ہوتے ہیں یعنی وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں زبان پر نہیں لاتے ۔

ممدوح شعرا

قرآن کریم نے اس نظریہ کی رد میں کہ قرآن شعرنہیں ہے اور نہ ہی رسول اکرمۖ شاعر ہیں بہت زیادہ اصرار کیا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ قرآن کریم فن شاعری کا مخالف ہے اگرچہ قرآن کریم کے اصرار کی وجہ خود کفار و مشرکین ہیں کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رسولۖ شاعر اور قرآن کلام شاعر ہے لہذا قرآن اس مطلب کی رد و انکار میں مصر ہے جبکہ فن شاعری کا مخالف نہیں ہے بلکہ جہاںسورہ شعراء کی  مذکورہ آیات میں شعراء کی مذمت فرمائی ہے وہیں ممدوح و مطلوب شعراء کی مدح بھی کی ہے اور پھر ان کے مجبوب ہونے کی وجہ بھی موجود ہے  لہذا قرآن کریم نے کبھی شعرو شاعری کے کمالات کاانکار نہیں کیا  لیکن ہاں یہ کمالات اگر راہ حق کے لیے ہوں تو صحیح معنی میں کمالات ہیں ورنہ وسوسہ شیطانی کے علاوہ کچھ بھی ہیں ۔لہذا خداوندعالم کی جانب سے ممدوح شعراء کی صفات بیان ہوئی ہیں، لیکن مذموم شعراء کے اوصاف کی نفی کے ساتھ ساتھ چونکہ( تعرف الاشیاء باضدادھا)، لہذا ممدوح شعراء میں مذموم شعراء کی صفات جھوٹ و گنا ہ ، گمراہ و گمراہ پروری،قول وعمل میں فرق اور بے ہدف سرگردانی نہ ہوں ان کے علاوہ یہ صفات ہوں کہ جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ۔

٭ایمان

(الا الذین آمنوا) گمراہ اور مذموم شعراء کے اوصاف بیان کرنے کے بعد پھر فرماتا ہے سوائے ان شعراء کے کہ جوایمان لائے یعنی ایمان ممدوح شعراء کی پہلی صفت و علامت ہے اور واضح ہے کہ شاعر اگر ایماندار و مومن ہوا تو یقینا حق کہے گا اور کبھی زبان پر ناحق جاری نہیں کرسکتا ۔

٭٭عمل صالح

(و عملواالصالحات)مجبوب شعراء کی دوسری صفت یہ ہے کہ عمل صالح انجام دیتے ہیں اور ظاہر ہے یہ صفت خود اسم بامسمی کی حیثیت رکھتی ہے چونکہ اگر شاعراپنے کسی بھی شعر کے ذریعہ خلاف حق کام انجام دیے گا تو وہ عمل صالح نہیں کہلائے گا اور اس صفت کے حامل ہونے کے لیے ہمیشہ حق گوئی کو ساتھ رکھنا ہوگا ۔

٭٭٭کثرت سے ذکر الٰھی (ذاکرالٰھی ہونا )

(و ذکرو ا اللہ کثیرا )شاعر ہمیشہ ذکر الٰھی میں مشغول رہے، ممدوح شعراء کی دوسری صفت عمل صالح کے بعد اس صفت کا ذکر کرنا خود ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ ہے چونکہ ذکر الٰھی خود اعمال صالحہ میں سے ہے لیکن شاعر کے لیے ذکر الٰہی کے کثرت سے انجام دینے کو جداگانہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کی زبان کہ جو بہت عظیم آلہ ہے اس طرح کہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرکو مجاہد کی شمشیر سے تشبیہ دی گئی ہے اور علم معرفت کے میدان میں کہا گیا ہے کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔  شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھینچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔لہذا خداوندعالم نے اعمال صالحہ کے بعد خصوصا شائستہ شاعر کی علامت وصفت یہ قرار دی کہ ہمیشہ ذکرالٰھی میں مشغول رہے گویا ممدوح شاعر کی صفت یہ ہے کہ مدح و ثناء نعت ومنقبت اس کی طینت و طبیعت بن جائے ۔

٭٭٭٭مظلوم کی مدد

(وانتصروا من بعد ما ظلموا )اچھے شاعر کی چوتھی صفت یہ ہے کہ مظلوم کا مددگار ہو،اور ظاہر ہے کہ شاعر سے ایسی توقع کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شعر سے مظلوم کی مدد کرے چونکہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرمجاہد کی شمشیر کا مرتبہ رکھتے ہیں گویا نظرالٰہی میں مظلوم کے لیے نوحہ مرثیہ اور سوز و سلام کہنا ایک عظیم کمال و مقام کا حامل ہے۔

بہر حال یہ وہ صفا ت ہیں کہ جو خداوندعالم نے اپنے قرآن کریم میں ممدوح شعراء کے لیے بیان فرمائی ہیں کہ جن میں سے دو صفتیں شاعر کی ذاتی ہیں ایک ایمان اور دوسری عمل صالح لیکن باقی دوصفات یعنی کثرت سے ذکر الٰھی اور مظلوم کی مدد ،ان کا تعلق معاشرے سے ہے چو نکہ ایمان اور عمل صالح خاموشی سے بھی انجام دیے جاسکتے ہیں لیکن کثر ت سے ذکر الٰہی اور مظلوم کی مدد ،وہ بھی شاعر ی کے ذریعہ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم چاہتا ہے کہ شاعر معاشرے کے درمیان پرچمدار الٰہی کی حیثیت سے سامنے آئے

 اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کبھی ہچکچائے نہیں ۔اور پھر شاعرکا یہی کلام کہ جو حق کی حمایت میں ہوگا انسانی ہدایت کے لیے صحیفہ قرار پائے گا۔نیز یہ دوصفات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ حمد و ثناء ، نعت ومنقبت اور سوز و سلام ، نوحہ و مرثیہ ممدوح الٰہی ہیں اور یہ ممدوح شعراء کی علامت ہیں ۔یا پھر یوں کہا جائے کہ اس صنف شاعر کی تائید میں مذکورہ آیات نازل ہوئی ہیںلہٰذا انہیںاس صنف کے اثبات میں استدلال کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے ۔

اس بات کی تائید کے طور پر مذکورہ سورہ کی آخری آیت آخری حصہ(و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون) ملاحظہ فرمائیں،  یہ وہ ٹکڑاہے کہ دنیا ہر حظیب و ذاکر جب کبھی بھی اپنے بیان کو مصائب مظلوم کربلا بیان کرکے ختم کرتا ہے تو اس آیت کے اس حصے کی تلاوت کرتا ہے گویا اس آیت میں ظالمین کربلا سے انتقام کا تذکرہ ہے تو واضح ہے کہ جب یہاں ظالمین کربلا سے انتقام کا ذکر ہے تو اس سے ماقبل مظلوم کربلا کی حمایت کا ذکر ہوگا  لہذا یہ آیات ان ممدوح شعراء کی شان میں ہیں کہ جو اہل بیت علیہم السلام  کی ثناء و رثاء میں مصروف ہیں ۔

 

والسلام

 

سید سبط حیدر زیدی


موضوعات مرتبط: تالیفات مديريت محترم شريعتكده
[ شنبه ششم فروردین 1390 ] [ 14:46 ] [ دفتر شریعتکده ]

باسم القدیر

"" عید غدیر خم میری امت کی بافضیلت ترین عیدہے "" {پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم}

عرب کے تپتے ہوئے بیابان میں غدیر خم کے مقام پر شمس رسالت کے چمکتے ہوئے ہاتھوں پرقمر ولایت کی مقدس ضیاء پاشیاں آج بھی لحظہ بہ لحظہ اہل ولاء کے پاکیزہ دلوں کو گرما رہی ہیں،اسی تاریخ سازنقطہ عطف کے نجات بخش زاویوں اوردرس آموز دریچوں سے کسب فیض  کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشأن سمینارتنویر غدیر کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں مندرجہ ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔اردو زبان  اہل قلم ، محققین، ادباء اور شعراء حضرات سےاستدعا ہے کہ اپنی قلمی کاوش سے مومنین کو بہرہ مند فرمائیں ۔

سمینار میں مقالہ نویسی کے لیے موضو عات

               علمی

١ )  غدیر کی اہمیت و عظمت                                      

٢ )  غدیر ، اکمال دین اور اتمام نعمت                    

٣ )  خطبہ غدیر کی گہرائیاں                

٤)  ولایت و امامت قرآن کریم کی نظر میں          

٥)  ولایت و امامت اہل بیت علیہم السلام کی نظرمیں       

٦ ) ولایت و امامت صحابہ کی نظر میں                      

٧)  ولایت و امامت اہل سنت کی نظر میں

٨)  اعلان ولایتـ بقاء رسالت                                       

٩)  عشیر سے غدیر تک                        

١٠)   کربلا سے غدیر تک                                  

١١)  خطبہ غدیر اور خلافت بلافصل حضرت امیرعلیہ السلام

١٢) فراموشی غدیر کی سازشیں اور نتائج       

١٣) کتاب مستطاب ''الغدیر'' پر ایک طائرنہ نگاہ   

١٤) کتاب مستطاب '' عبقات الانوار '' کے حصہ حدیث غدیر کاایک طائرنہ جائزہ

www.urdublogfa.com 

alhaq110@yahoo.co.in

     Tell: 0098-511-2563085      Mob:  09359750753

         ادبی

١٥)  شعراء غدیر کا تعارف

١٦)  غدیر شعراء عرب کے کلام میں

١٧)  غدیر شعراء فارس کے کلام میں

١٨)  غدیر شعراء اردوکے کلام میں

١٩ )  نظم غدیریہ

٢٠)  غدیر خم کے عنوان پر اپنا منظوم کلام

٭٭٭٭٭

ممتاز مقالات پر نفیس انعامات سے نوازا جائے گا

شرائط مقالہ : مقالہ نویسی کے عمومی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ھے  مثلا: مقالہ علمی تحقیقی ہو اور منابع ذکرکیے جائیں،ٹائپ شدہ یا  خطی قابل خوانا ہو اور A4کے حد اقل 12 صفحات پر مشتمل ہو وغیرہ۔

مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ :اول ذی الحجہ ١٤٣١ھ

مقام تحویل مقالہ : مشہد مقدس   ،چہارراہ شہداء،  شیرازی ١٧     

نمائندگی جامعة المصطفی ۖ العالمیہ، اتحادیہ انجمن ھا ی فرہنگی طلاب       

بزم رأفت

(انجمن شعر و ادب اردو زبان)

[ دوشنبه بیست و پنجم مرداد 1389 ] [ 14:52 ] [ دفتر شریعتکده ]

مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم

بسم الله الرحمن الرحيم

امام حسين عليه السلام : ان الحياة عقيدة و جهاد.

در ايام بهار وخوش رنگ طبيعت مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم با حضور علماء فضلاء و دانشمندان و طلاب عزيز

برگزار مي گردد.

زمان: دو شنبه ۲۳/۱/۱۳۸۹ مصادف با ۲۷/ ربيع الثاني ۱۴۳۱هق.و ۱۲/۴/۲۰۱۰ م

ساعت : ۱۰ الي ۱۲ صبح

مكان : مشهد مقدس خيابان شيرازي ۱۷ . نمائندگی جامعۃ المصطفیۖ العالمیہ

از تمام علاقه مندان به ويژه حضراتي كه در مقاله نويسي با ما همكاري نموده اند دعوت بعمل مي آيد.

[ پنجشنبه نوزدهم فروردین 1389 ] [ 10:7 ] [ دفتر شریعتکده ]

مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم

بسم الله الرحمن الرحيم

امام حسين عليه السلام : ان الحياة عقيدة و جهاد.

در ايام بهار وخوش رنگ طبيعت مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم با حضور علماء فضلاء و دانشمندان و طلاب عزيز

برگزار مي گردد.

زمان: دو شنبه ۲۳/۱/۱۳۸۹ مصادف با ۲۷/ ربيع الثاني ۱۴۳۱هق.و ۱۲/۴/۲۰۱۰ م

ساعت : ۱۰ الي ۱۲ صبح

مكان : مشهد مقدس خيابان شيرازي ۱۷ . نمائندگی جامعۃ المصطفیۖ العالمیہ

از تمام علاقه مندان به ويژه حضراتي كه در مقاله نويسي با ما همكاري نموده اند دعوت بعمل مي آيد.

[ پنجشنبه نوزدهم فروردین 1389 ] [ 10:7 ] [ دفتر شریعتکده ]

ھمارا مقصد اصلاح امت اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر ھے۔ جیسا کہ ھم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں

لیکن یہ کام عصر حاضر میں چند طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ھے

طریقہ اول: یہ کہ سختی کی جائے اور جس کو بھی دیکھیں کہ خلاف شرع یا خلاف عرف کا کام انجام دے رھا ھے اس کو کھیں یہ حرام ھے شرک ھے آپ کافر ھو مشرک ھو وغیرہ۔

اس طریقہ میں چند خرابیاں ھیں

۱- یہ طریقہ قرآنی نھیں ہے اس لیے قرآن کا فرمان ہے {جادلھم بالتی ھی احسن} و { لست علیھم بمسیطر} وغیرہ۔

۲- معصومین(ع) کی سیرت کے خلاف ھے اس لیے کہ وہ بھت نرم طریقہ سے لوگوں کی ھدایت فرماتے تھے ۔

۳- اس طریقہ سے ممکن ھے وہ ضد پر اتر آئے اور اصلا کھنا نہ مانے ۔

۴- اس کے ساتھ اور بھی افراد ھوجائیں اور ایک نیا گروہ بن جائے۔

۵- دشمنوں کو موقعہ مل جائے اور وہ اختلاف و فرقہ سازی میں اپنا حربہ و کردار ادا کریں

۶- استعمار و سامراج اس کو غنیمت سمجھتے ھوئےان لوگوں کی پشت پناھی کرنے لگے اور نتیجہ میں شعیت اور کمزور ھوجائے ۔

7-  ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر آج اس فعل کو بطور مطلق حرام کہہ کرتبلغ کی جائے تو مخالفین کہیں گے کہ بات ان کے آج سمجھ میں آئی ہے جب کہ ہم چودہ سو سال سے کہہ رہے ہیں کہ یہ فعل حرام ہے !

جبکہ بمارا آج نظریہ ہے وہی چودہ سوسال پہلے بھی تھا اس لیے کہ مذہب شیعہ، دین محمدی و صراط علوی ہے

 

دوسرا طریقہ :

نرمی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ جو کام آپ کر رھے ھیں یہ کیا ھے اس کی نوعیت کیا ھے اس کیفیت کیا ھے۔

یھی قرآنی روش ھے اور معصومین(ع) کی سیرت بھی یھی ھے

اسی میں اصلاح کے امکان بھی ھیں

تیسرا طریقہ :

ان ھی کے ساتھ ھوا جائے اور جو بھی جو کام انجام دے اس کی تائید کرتے ھوئے ھوا کے رخ کے ساتھ چلا جائے اور کسی کو کچھ نہ کھیں یا ھر شخص کی تائید کرتے رھیں۔

یہ سب سے خطرناک طریقہ ہے اور اس طرح کے لوگوں پر روایات میں لعنت آئی ھے کہ جو بدعت و حرام فعل پر راضی ھوں ۔

لھذا بھترین طریقہ دوسرا طریقہ ہے خیرالامور اوسطھا۔

مثلا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنا

یھاں پر سمجھایا جائے کہ یہ کیا ہے سجدے کی نوعیت و کیفیت کیا نہ کہ مؤمنین کو مشرک و کافر جیسے الفاظ سے نوازا جائے اس مذکورہ بالا خرابیاں پیدا ھوسکتی ھیں۔

لہذا نہ ان کے ساتھ وہ  برتاؤ کیا جائے کہ جو وبابی حضرات کرتے ہیں ۔

یعنی جب کسی شیعہ کو کسی معصوم کے روضے کی چوکھٹ پر سجدے کرتے دیکھیں تو

اولا ؛ حسن ظن رکھیں کہ یہ انشائ اللہ سجدہ شکر کرہا ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی شیعہ کسی بھی معصوم کو خدا نہیں مانتا لہذا یہ سجدہ عبادت و پرستش کے طور پر تو یقینا نہیں ہے تو پھر یا سجدہ شکر ہے کہ انشاء اللہ یہی ہے یا پھر سجدہ تعظیمی ہے کہ جو ہمارے مذہب میں کسی کے لیے بھی ہو حرام ہے ۔

ثانیا ؛ چونکہ واضح ہوگیا کہ سجدہ عبادت و پرستش کے لیے نہیں ہے تو یقینا سجدہ کرنے والا شخص نہ کافر ہے اور نہ مشرک بلکہ مسلمان ہے پس اگر یہ سجدہ شکر کا تھا تو ماجور ہے اس لیے کہ ایک مستحب کام انجام دیا ہے۔  اور اگر سجدہ تعظیمی تھا تو اس کو سمجھایا جائے اس لیے کہ وہ ایک فعل ناجائز کا مرتکب ہوا ہے ۔ لیکن کافر یا مشرک نہیں ہوا ۔

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا بھی یہی نظریہ ہے

اس لیے کہ کافر و مشرک کے مسلمان سے احکام جدا ہیں

گناہ انجام دینے اور کافر ومشرک ہونے میں بہت فرق ہے

گناہ ہر مسلمان سے ممکن ہے انجام پاجائے لیکن کفر و شرک کا مسئلہ طہارت و نجاست سے لیکر آخرت تک سے مربوط ہے اس لیے کہ گناہ گار مسلمان کی توبہ کے ساتھ بخشش ممکن ہے

[ یکشنبه پانزدهم فروردین 1389 ] [ 18:6 ] [ دفتر شریعتکده ]

عبادت یا تعظیم

سجدہ تعظیمی کے سلسلے میں ہم دو عظیم اور مایہ افتخار شخصیتوں کے نظریہ کو پیش کرچکے ہیں اور اسلام میں کسی بھی چیز کے اثبات کے لیے دو شاہد عادل کافی ہیں اگرچہ اور بھی اگر ضرورت ہوئی تو انشاء اللہ ديکر حضرات کے نظریے بھی پیش کریں گے ۔ اب گفتگو کو اختتام کی طرف لے جاتے ہوئے حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی عظیم کتاب کشف الاسرار سے اپنے نظریے کی تائید میں آپ کے نظریہ کو پیش کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نظریہ امام خمینی ہی والا نظریہ ہے ۔

کشف الاسرار صفحہ 23 عنوان

 {{ فرق میان عبادت و تواضع}}

فرق میان عبادت و تواضع: اینکہ روشن شد کہ مبارزہ قرآن و اسلام با چہ عقاید و پندارھائ باطلی بودہ با قائلین بخدایان و بت پرستیھا و ستارہ پرستیھا و صدھا پندارھای ناھنجار از این قبیل بودہ چنانچہ در یک سورہ کوچک جملہ مطلب را بکفار گوشزد کردہ در سورہ کافرون کہ می فرماید: قل یا ایھا الکافروں لا اعبد ماتعبدون ولا انتم عببدون ما اعبد تا اینکہ می فرماید لکم دینکم ولی دین بکفار مکہ بگو اے کافران من عبادت نمی کنم آنچہ کہ شما عبادت میں کنید و شما ھم کہ عبادت نمی کنید آنچہ را کہ من عبادت می کنم یعنی نہ من حاضرم بت پرستی را اختیار کنم و نہ شما خدا پرست می شوید پس شما بادین خود و من بادین خود ھستم تا خداي عالم جزائ ھر یک را بدھد۔

باید ما در اینجا فرق میان عبادت و تواضع را روشن کنیم تا معلوم شود یکی از این دو کفر و شرک است وقرآن و اسلام بآن جنگیدہ و دیگری از ایمان و خوبیھا است و قرآن و اسلام بآن امر کردہ۔

خوانندگان گرامى همه پارسى زبان و بسیارى از آنان با لغت عربى نیز آشنائى دارند، عبادت از عبودیت است یعنى اظهار بندگى کردن و آن به پارسى پرستش است و پرستش در پارسى و عبادت در عربى عبارت از آن است که کسى را به عنوان اینکه او خداست ستایش کنند، چه به عنوان خدائى بزرگ یا خدائى کوچک، چنانچه مشرکین چنین بودند.... و تواضع که در فارسى فروتنى است غیر آن است. ... شما و همه عقلاى عالم در شب و روز کم و بیش با چند تن از دوستان و بزرگان و محترمین در خیابانها و برزنها برخورد مى کنید و نسبت به آنها احترامات لایقه و اظهار کوچکى و تواضع و فروتنى در خور هر کس را بجا مى آورید، نه شما عابد او شدید و پرستش او کردید و نه او معبود و پرستیده شما شد، تواضع و فروتنى را عقلاء و دانشمندان هر ملت و مملکت یکى از بزرگترین کمالات انسانى مى دانند که هر کس بیشتر به آن متصف باشد مورد ستایش بیشتر آنهاست، در عین حال که عبادت غیر خدا را و پرستش دیگر موجودات را نکوهش مى کنند در تمام ملل دنیا براى پیشوایان دین و دنیا مراسم احترامات معموله برقرار است وتمام عائلہ بشری کم و بیش باحترام و تواضع و فروتنی از بزرگی دینی یا دنیائی قائلند پس باید گفت ھمہ بشر کافرند و مشرک و تا لغت تواضع و احترام را از قاموس عالم محو نکنند و تا ھمہ مردم در موقع ملاقات یا یک دیگر مثل حیوانات بی اعتنائی نکنند از شرک خارج نمی شوند و بتوحید نمی رسند آیا وھابیھا و پیروان آنھا کہ در ایران معدودی  بی ارج ھستند خود دو وقت برخورد باھمکیشان خود چطور سکوک می کنند ھیچ تواضع و احترام نمی کنند و چون حیوانات ملاقات یک دیگر را برگزار می کنند یا احترامات لائقہ و مرسومات انسانی را معمول می دارند در این صورت آیا عبادت از بشری مثل خود کردند و پرستش غیر خدا نمودند و مشرک شدند یا نہ اگر بناچاری بگویند عبادت غیر از فروتنی و توضع است فرق را بیان کنند تا رسوائی و خیانت واضح شود۔

 

اردو ترجمہ

{{عبادت اور تواضع میں فرق}}

عبادت اور تواضع میں فرق: یہ واضح ہو چکا ہے کہ قرآن اور اسلام کا مقابلہ کن باطل افکار وعقائد سے تھا کہ جو متعدد خدا کو مانتے اور بت پرست و ستارہ پرست اور اسی طرح کے سیکڑوں نا مناسب افکار تھے لہذا ایک چھوٹے سے سورہ میں خداوندعالم نے کفار سے صاف صاف مطلب بیان کردیا ، سورہ کافرون میں ارشاد فرمایا << قل یا ایھا الکافروں لا اعبد ماتعبدون ولا انتم عببدون ما اعبد تا اینکہ می فرماید لکم دینکم ولی دین>> اے رسول کافروں سے کہدیجیے کہ میں اس کی عبادت نہیں کرتا کہ جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرتے ہو کہ جس کی میں عبادت کرتا ہوں ، یعینی نہ میں حاضر ہوں کہ بت پرستی کروں اور تم خدا پرست ہوسکتے، پس تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر ہوں تا کہ خدا ہر ایک کو اس کی حزا دے سکے۔

ہم یہاں پر عبادت اور تواضع میں فرق کو واضح کریں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دومیں سے ایک کفر وشرک ہے اور قرآن و سلام نے اس سے چنگ کی ہے اور دوسرا ایمان اور اچھائیوں میں سے ہے اور قرآن و اسلام نے اس لیے حکم دیا ہے۔

قارئین محترم سب فارسی زبان اور ان میں سے اکثر و بیشتر عربی زبان سے آشنا ہیں ، عبادت ،عبودیت سے ہے، یعینی اظہار بندگی کرنا اور فارسی میں پرستش ہے (ہندی میں پوجنا) اور فارسی میں پرستش و عربی میں عبادت اس چیز کا نام ہے کہ کسی کو خدا مانتے ہوئے اس کی حمد و ثنا کرنا چاہے بڑا خدا یا چھوٹا خدا کہ جیسے مشرکین معتقد تھے ۔ اور تواضع کہ جو فارسی میں فروتنی ہے وہ اس کے علاوہ ہے {تواضع و فروتنی یعنی کسی کے سامنے اپنے آپ کو حقیر و چھوٹا سمجھنا انکساری وغیرہ}۔۔۔۔ آپ اور تمام دنیا کے عقلا ہر روز وشب کم سے کم کچھ نہ کچھ دوستوں بزرگوں اور محترم شخصیتوں سے سڑکوں و کوچوں میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کےساتھ لائق و رائج احترامات کے ساتھ ملتے اور تواضع و فروتنی اور ان کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا پیش کرتے ہیں ، تو اس کا م سے نہ آپ عابد ہوئے اور نہ وہ آپ کا معبود ۔ تواضع و فروتنی کو ہر قوم و ملک کے عقلا ء و اہل علم سب کے سب انسانی کمالات میں ایک عظیم کمال شمار کرتے ہیں ، اور جس کسی میں یہ کمال جتنا زیادہ پایا جاتا ہے وہ اتنا ہی محترم سمجھا جاتا ہے ،جب کہ خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کو برا سمجھا جاتاہے ، دنیا کی تمام قوموں میں اپنے دینی و دنیوی بزرگوں کے لیے احترام کا طریقہ مخصوص ہے ، اور تمام انسان تواضع و فروتنی کو دینی یا دنیوی بزرگی مانتے ہیں ، پس تمام انسانوں کو کافر و مشرک کہا جائے  اور جب دنیا کی ڈکشنری سے تواضع وفروتنی کا لفظ نکال نہ دیا جاۓ اور تمام انسان آپس میں ملاقات کے دوران حیوانوں کی طرح نہ ملنے لگیں شرک سے خارج نہیں ہوسکتے اور توحید تک نہیں پہنچ سکتے۔کیا وھابی اور ان کے ماننے والے کہ جو ایران میں بہت تھوڑے ہیں وہ آپس میں ملتے ہوئے کیسے ملاقات کرتے ہیں کیا کوئی احترام و تواضع نہیں کرتے اور کیا جانوروں کی طرح ملتے ہیں یا لائق و رائج احترامات سے ملاقات کرتے ہیں توکیا اس صورت میں اپنے جیسے انسان کی عبادت کے مرتکب ہوتے ہیں  اور غیر خدا کی عبادت کرتے ہیں اورمشرک ہوجاتے ہیں یا نہیں مگر یہ کہ مجبورا کہیں کہ عبادت ، تواضع وفروتنی سے جدا ہے اور ان دونوں میں فرق ہے تاکہ ان کی رسوائی و خیانت واضح ہوجائے۔

گواہ از قرآن دربارہ این سخن:

بزرگترین مظابر تواضع و بالاترین مراسم خضوع سجدہ است کہ ما برائ غیر خدا جائز نمی دانیم بواسطہ نھی الھی در شریعت اسلام ھمین سجدہ کہ از ھر احترامی برتر و بالا تراست اگربعنوان عبادت و پرستش نشد شرک نیست بلکہ گاھی اطاعت امر خدا است و واحب است در قرآن کریم مکرر در مکرر سجدہ ملائک را بآدم

گوشزدفرمودہ کہ یک نمونہ از آن یاد می کنیم۔

سورہ بقرہ آیت 34۔ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

چون گفتیم بہ ملائکہ کہ سجدہ کنید برائ آدم ھمہ سجدہ کردند جز ابلیس کہ ابا کرد وسرکشی نمود و او از کافران بود۔ اینان کہ می گویند تواضع برائ غیر خدا شرک است باید در این قضیہ طرفدار ابلیس شوند و ھمہ ملائکہ را کافر و مشرک بدانند جز ابلیس را ، وخدا را در این امر بخطا دانند و نکوھش کنند کہ چرا ملائکہ را بشرک دعوت کردہ و از ابلیس کہ موحد ومتقی بود نکوھش نمودہ،  شاید گفتہ شود سجدہ ملائکہ از آدم بامر خدا بود و شرک نبود و احترامات شما بامر خدا نیست و شرک است۔

پاسخ این گفتار آن است کہ اولا اگر سجدہ ملائکہ بعنوان خدائی و پرستش آدم بود شرک بودہ اگرچہ خدا بآن امر کند ۔ وخدا نیز ممکن نیست چنین امر کند زیرا کہ این دعوت بشرک است و مخالف عقل است و اگر بعنوان پرستش نباشد شرک نیست اگر چہ خدا نفرمودہ باشد ۔

و ثانیا تواضع و احترام از دانشمندان و بزرگان محتاج بامر کردن نیست بلکہ خود عقل کہ راھنمائ انسان است باین طور چیز ھا پی می برد، از این جھت ھیچ کس از عقلا دیندار دنیا برائ  احترامات مرسومہ منتظر بامر خدا نشدند۔ آری اگر خدا از این طور تواضعی نھی کرد باید اطاعت کرد گرچہ شرک نباشد چنانچہ ما سجدہ بغیر خدا را بعنوان احترام نیز جائز ندانیم و اگر کسی برائ بزرگی سجدہ کرد بعنوان احترام او را گنھکار شماریم و از اطاعت خدا بیرون دانیم گرچہ او را کافر و مشرک ندانیم۔

و ثالثا ما کہ از مومنین و پیغمبران و امامان کہ مثل آعلای ایمان و کمال انسانیتند احترام و تواضع می کنیم بامر خدا است چنانچہ در سورہ مائدہ آیت 54 وارد است

يا ايها الذين امنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتي الله بقوم يحبهم ويحبونه اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين

ذلت کہ بالا ترین مراتب تواضع و فروتنی است اوصاف کسانی است کہ خدا آنھا را دوست می دارد و آنھا خدا را دوست میں دارند، آنھا کسانی ھستند کہ برائ مومنین و ھم کیشان خود در نھایت فروتن و متواضعند و با اجانب و کفار با کمال عزت نفس و بزرگواری رفتار کنند۔

اس  بیان کے متعلق قرآن کریم سے گواہ

تواضع وخضوع کا سب سے بڑا نمونہ اور سب سے بلند رسم سجدہ ہے ، ہم غیر خدا کے لیے جائز نہیں جانتے چونکہ شریعت اسلام میں نہی وارد وہئی ہے ، لیکن یہی سجدہ کہ جو ھر احترام سے بالا وبرتر ہے اگربعنوان عبادت و پرستش نہ ہو تو شرک نہیں ہے ، بلکہ کبھی کبھی واجب اور اطاعت امر خدا ہے جیسے کہ قرآن کریم میں باربار آدم کے لیے ملائکہ کے سجدے کا ذکر آیا ہے کہ جس میں سے ایک نمونہ یہ ہے ۔

سورہ بقرہ آیت 34۔ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

جیسے ہی ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو فورا سجدے میں چلے گئے سوائے ابلیس کے کہ اس نے منع کیا اور تبکر کیا اور وہ کافروں میںسے تھا ۔

یہ کہ جو کہتے ہیں کہ غیر خدا کے لیے تعظیم و تواضع شرک ہے تو ان کو چاہیے کہ اس قضیہ میں ابلیس کے طرف دار ہوں اور تمام ملائکہ کو کافر و مشرک سمجھیں، اور خدا کو اس امر میں خطاوارسمجھیں کہ کیوں اس نے ملائکہ کو شرک کی دعوت دی ۔ شاید یہ کہا جائے کہ آدم کو ملائکہ کا سجدہ خدا کے حکم سے تھا لہذا شرک نہیں تھا اور آپ کے احترامات خدا کے حکم سے نہیں ہیں لہذا شرک ہیں ۔

اس گفتگو کا جواب یہ ہے کہ اولا اگر آدم کو ملائکہ کا سجدہ بعنوان خدائي اور پرستش عبادت کے لیے تھا تو شرک تھا چاہے خدا ہی نے اس کا حکم دیا ہو۔ اور خدا بھی ممکن نہیں ہے کہ اس طرح کا حکم دے چونکہ یہ شرک کی طرف دعوت ہے اور عقل کے خلاف ہے اور اگر پرستش و عبادت کی نیت سے نہ ہو تو شرک نہیں ہے چاہے خدا نے اس کا حکم بھی نہ دیا ہو۔

و ثانیا بزرگ و محترم حضرات کا احترام کرنا خداوندعالم کے حکم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود عقل کہ جو انسان کی راہنما ہے اس طرح کی چیزوں کو درک کرتی ہے اسی وجہ سے کوئی کبھی دنیا کا عاقل و دیندار رائج مرسومات و احترامات کے لیے خدا کے حکم کے انتظار میں نہیں بیٹھتا ۔ ہاں اگر نے اس طرح کے کاموں کو خدا نے منع کیا ہو تو اطاعت ضروری ہے ۔ چاہے شرک نہ بھی ہو لہذا ہم غیر خدا کے لیے احترام کی نیت سے بھی جائز نہیں جانتے۔ اور اگر کسی سجدہ تعظیمی کرتا ہے تو وہ گنہگار ہے لیکن وہ کافر یا مشرک نہیں ہے ۔

اور ثالثا لیکن ہم کہ جو مومنین و انبیاء اورآئمہ کہ جو انسانیت کے کمال اور ایمان کے بلند درجہ پر ہیں ان کا احترام و تعظیم کرتے ہیں یہ حکم خدا سے ہے۔ جیسا کہ سورہ مائدہ 54 میں وارد ہے: يا ايها الذين امنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتي الله بقوم يحبهم ويحبونه اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين>> ذلت کہ جو تواضع و فروتنی کے عظیم مرتبے میں سے ہے وہ ان لوگوں کی صفت ہے کہ خدا ان کو دوست رکھتا ہے اور وہ خدا کودوست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ مومنین کے ساتھ انتہائی تواضع وتعظیم کے ساتھ ملتے ہیں اور کافروں سے ملاقات کے وقت بہت ہی عزت نفس و بزرگواری سے ملتے ہیں ۔

گواہ دیگر از گفتہ خدا

اکنوں آیہء آز قرآن کریم و گفتہ خدائ عالم نشان میدھم کہ راہ سخن بکلی بستہ شود و راہ پس و پیش برائ یاوہ سرایان نباشد۔

«و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»: يوسف - 100،

این آیت دربارہ ملاقات یعقوب و اولادش از یوسف وارد شدہ می گوید و بلابرد پدر و مادر خود را بروی تخت ، وافتادند بروی زمین و سجدہ کردند برائ یوسف ، و او گفت: اے پدر این تعبیر خوابی است کہ پیش از این دیدم خدا او را درست قرار داد۔

اکنوں یا باید یعقوب پیغمبر و اولادش را مشرک بدانیم و خدا را کہ مشرکی را بپیغمبری برگزید بر خطا دانیم و نکوھش کنیم یا سجدہ کردن را احترام متعارف در آن زمان بدانیم کہ خدا از آن نھی نکردہ بودہ تا پاکان را پلیدی وناپاکی یاد نکردہ باشیم۔

خداوندعالم کے کلام سے دوسرا گواہ

اب قرآن کریم اورکلام الھی کی وہ آیت پیش کروں کہ جس سے اصلا بات ختم ہوجائے اور ان جھوٹے لوگوں کے لیے کوئی راہ فرار نہ رہے ۔

«و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»: يوسف - 100،

یہ آیت یعقوب اور اولاد یعقوب کی یوسف سے ملاقات کو بیان کررہی ہے << اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے تخت پر بلایا وہ لوگ یوسف کے سامنے سجدہ میں گرپڑے تب یوسف نے کہا بابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے کہ جو پہلے دیکھا تھا خداونداعالم نے اس کو سچ کردکھایا ۔

اب یا یعقوب نبی اور ان کی اولاد کو مشرک جانیں اور خداکہ جس نے مشرک کو پیغمبری عطا کی، غلطی پر مانیں ، یا تعظیمی سجدہ کرنا اس زمانے کا رائج احترام فرض کریں کہ خدا نے اس سے منع نہیں کیا تھا تاکہ نیک و پاک حضرات کو برائی سے یاد نہ کریں۔  

یک حکمیت از خوانندگان۔

اکنون حکمیت و داوری را از خوانندگان محترم تقاضا داریم کہ کدام یک را اختیار کنیم، خطا کاری خدا را کہ دعوت بسجدہ آدم کردہ و مشرکان را کہ ملائکہ اند مطیع خواندہ و ابلیس را کہ از زیر بار سجود کہ شرک است شانہ تھی کردہ ، توبیخ و تکفیر کردہ و از قرب خود دور کردہ و یعقوب مشرک را بپیغمبری برگزیدہ و مشرکان را کہ از مومنین تواضع کنند دوست خود شمردہ ثابت بدانیم، و نیز قائل بشرک ملائکہ و پیغمبران و تمام عقلاء عالم شویم و فقط در بین جمیع موجودات ابلیس را موحد بدانیم کہ فقط بخدا سجدہ کردہ و سراغ نداریم از کسی دیگر تواضع و احترام کردہ باشد،

قارئین محترم سے ایک فیصلہ

اب قارئین محترم سے ایک قضاوت و فیصلہ کے خواہاں ہیں کہ ہم کس راستہ کو اختیار کریں ، خداوندعالم کی خطاکاری کہ جس نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور ملائکہ کہ جو مشرک ہیں ان کو اپنا مطیع کہا اور ابلیس کہ جس نے اصلا شرک نہیں کیا اس کو خدا نے تنبیہ و تکفیر کی اور اپنی بارگاہ  سے دور کردیا ، یعقوب مشرک کو پیغمبری عطا کی اور وہ مشرک کہ جو مومنین کے ساتھ توا ضع وتعظیم کرتے ہیں ان کواپنا دوست کہا اس کو صحیح سمجھیں اور ملائکہ تمام پیغمبراور تمام عقلا عالم کو مشرک سمجھیں اور تمام مخلوقات میں صرف ابلیس کو موحد جانیں کہ جو صرف خدا کے سجدہ کا قائل ہے اور ہم کو نہیں معلوم کہ شیطان نے کسی کی تعظیم و تواضع کی ہو ۔  

[ چهارشنبه یازدهم فروردین 1389 ] [ 16:40 ] [ دفتر شریعتکده ]

سجدہ تعظیمی کے سلسلے میں دوسرا مدرک یہ ہے

تفیسر مجمع البیان مذہب شیعہ کی وہ عظیم تفسیر ہے کہ جس کو تمام مفسرین کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں اس کی عظمت کے قائل ہیں مرحوم طبرسی اپنی تفسیر مجمع البیان میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 34

{ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ } کے ذیل میں فرماتے ہیں:

واختلف في سجود الملائكة لآدم على أي وجه كان: فالمروي عن أئمتنا عليهم السلام، أنه على وجه التكرمة لآدم، والتعظيم لشأنه، وتقديمه عليهم، وهو قول قتادة، وجماعة من أهل العلم، واختاره علي بن عيسى الرماني. ولهذا جعل أصحابنا، رضي الله عنهم، هذه الآية دلالة على أن الأنبياء أفضل من الملائكة، من حيث إنه أمرهم بالسجود لآدم، وذلك يقتضي تعظيمه وتفضيله عليهم. وإذا كان المفضول لا يجوز تقديمه على الفاضل علمنا أنه أفضل من الملائكة. وقال الجبائي، وأبو القاسم البلخي، وجماعة: إنه جعله قبلة لهم، فأمرهم بالسجود إلى قبلتهم، وفيه ضرب من التعظيم. وهذا غير صحيح، لأنه لو كان على هذا الوجه، لما امتنع إبليس من ذلك، ولما استعظمته الملائكة، وقد نطق القرآن بأن امتناع إبليس عن السجود إنما هو لاعتقاده تفضيله به، وتكرمته، مثل قوله (أرأيتك هذا الذي كرمت علي لئن أخرتن)، وقوله: (أنا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين). ولو لم يكن الأمر على هذا الوجه، لوجب أن يعلمه الله تعالى بأنه لم يأمره بالسجود على جهة تعظيمه وتفضيله عليه، وإنما أمره على الوجه الآخر الذي لا تفضيل فيه، ولم يجز إغفال ذلك، فإنه سبب معصية إبليس وضلالته. فلما لم يقع ذلك، علمنا أن الأمر بالسجود له لم يكن إلا على وجه التعظيم والتفضيل، والإكرام والتبجيل.

ترجمہ

ملائکہ کا حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے سلسلے میں اختلاف ہے کہ اس سجدہ کی وجہ کیا ہے اور کس بنیاد پر تھا ؟

پس ہمارے آئمہ طاہرین علیہم السلام سے مروی یہ ہے کہ یہ سجدہ حضرت آدم کے اکرام اور ان کی شان کی تعظیم اور ان کی افضلیت کے لیے تھا ۔ {فالمروي عن أئمتنا عليهم السلام، أنه على وجه التكرمة لآدم، والتعظيم لشأنه، وتقديمه عليهم،}

یہی قول قتادہ اور اہل علم کی ایک جماعت اور اسی قول کو علی بن عیسی رمانی نے بھی قبول کیا ہے ۔ اسی وجہ سے ہمارے علماء انبیاء کو ملائکہ پر افضلیت کے قائل ہیں اور اسی آیت کو دلیل بناتے ہیں کہ ملائکہ کو آدم کے لیے سجدہ کرنے کا حکم ملا کہ جو اس بات کا مقتضی ہے کہ وہ ملائکہ سے افضل بھی ہیں اور قابل تعظیم بھی ۔اور اگر افضل نہ ہوتے تو فاضل پر مفضول کو مقدم رکھنا جائز نہیں ہے لہذا واضح ہو کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں ۔

دوسرا نظریہ کہ جو جبائی اور ابو القاسم بلخی اور ایک جماعت نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ آدم کو ملائکہ کے لیے صرف قبلہ قرار دیا گیا تھا اور ملائکہ کو اپنے قبلہ کی طرف سجدہ کا حکم تھا ۔ اگرچہ یہ بھی ایک تعظیم ہی کی قسم ہے لیکن یہ نظریہ صحیح نہیں اس لیے کہ اگر یہ وجہ صحیح ہو تو ابلیس کے سجدہ کرنے سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے {وهذا غير صحيح، لأنه لو كان على هذا الوجه، لما امتنع إبليس من ذلك،}

جبکہ اس کے جواب سے بھی یہی ظاہر ہے کہ وہ خود آدم کو سجدہ کرنے کا مخالف تھا لہذا اس نے کہا کہ پروردگار تونے اس کو مٹی سے پیدا کیا جب کہ مجھکو آگ سے پیدا کیا ہے اور آگ مٹی سے بہتر ہے نیز آیت کا سیاق و سباق بھی یہی کہتا ہے کہ سجدہ آدم ہی کو تھا ان کی تعظیم و تکریم کے لیے نہ کہ وہ قبلہ ملائکہ تھے۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ابلیس کے منع کرنے پر خدا کوسمجھانا چاہیے تھا کہ میں آدم کو سجدہ نہیں کرارہا بلکہ ان کو صرف قبلہ قرار دیا ہے۔ ابلیس کو دھوکے میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا چونکہ یہی سجدہ نہ کرنا اس کی معصیت اور گمراہی کا سبب بنا ہے۔ تو جب خدا نے ابلیس کو نہیں سجھایا بلکہ اس کے سجدہ نہ کرنے پر اپنی بارگاہ سے نکال دیا تو معلوم ہوا کہ یہ سجدہ آدم کو ہی تھا ان کی تعظیم و تکریم اور افضلیت کے طور پر ۔

علمنا أن الأمر بالسجود له لم يكن إلا على وجه التعظيم والتفضيل، والإكرام والتبجيل.

گویا مرحوم طبرسی سجدہ تعظیمی کے معتقد ہیں اور قبلہ والے نظریے کے منکر بھی.

لیکن آج سجدہ تعظیمی کا کیا حکم ہے؟ اس کو ہم بیان بھی کرچکے ہیں اور تفصیلا آئندہ بھی بیان کریں گے انشاء اللہ

 

[ چهارشنبه نوزدهم اسفند 1388 ] [ 11:33 ] [ دفتر شریعتکده ]
سوال اول

سجدہ تعظیمی کا وجود کھاں ہے؟

جواب :

یہ ایک عقلی مسئلہ ہے کہ کائنات میں غیر خدا کے سامنے جتنے بھی سر جھکتے اور سجدے ہوتے ہیں سب تعظیمی ہیں اس لیے خداوندعالم کے حضور سجدہ تعبدی و عبادت و پرستش کا سجدہ ہے اور اس کے علاوہ کسی کے سامنے بھی تعبدی و عبادت و پرستش کا سجدہ شرک ہے ۔ لہذا اس کے علاوہ جو بھی سجدہ ہے وہ تعظیمی ہے ہاں اس کا جائز ہونا یا نہ ہونا الگ مسئلہ ہے ۔ اسی تقسیم کو علماء اعلام نے بھی ذکر کیا ہے۔ مثلا:

علامہ محمد حسین طباطبائی نے اپنی عظیم تفسیر المیزان میں تحریر فرمایا ہے ؛

المیزان ج۱ آیہ ۳۴ سورہ بقرہ کے ذیل میں

{وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ }

و قوله تعالى: اسجدوا لآدم، يستفاد منه جواز السجود لغير الله في الجملة إذا كان تحية و تكرمة للغير و فيه خضوع لله تعالى بموافقة أمره، و نظيره قوله تعالى في قصة يوسف (عليه السلام) «و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»: يوسف - 100، و ملخص القول في ذلك أنك قد عرفت في سورة الفاتحة أن العبادة هي نصب العبد نفسه في مقام العبودية و إتيان ما يثبت و يستثبت به ذلك فالفعل العبادي يجب أن يكون فيه صلاحية إظهار مولوية المولى أو، عبدية العبد كالسجود و الركوع و القيام أمامه حينما يقعد، و المشي خلفه حينما يمشي و غير ذلك، و كلما زادت الصلاحية المزبورة ازدادت العبادة تعينا للعبودية، و أوضح الأفعال في الدلالة على عز المولوية و ذل العبودية السجدة، لما فيها من الخرور على الأرض، و وضع الجبهة عليها، و أما ما ربما ظنه بعض: من أن السجدة عبادة ذاتية، فليس بشيء، فإن الذاتي لا يختلف. و لا يتخلف و هذا الفعل يمكن أن يصدر بعينه من فاعله بداع غير داع التعظيم و العبادة كالسخرية و الاستهزاء فلا يكون عبادة مع اشتماله على جميع ما يشتمل عليه و هو عبادة نعم معنى العبادة أوضح في السجدة من غيرها، و إذا لم يكن عبادة ذاتية لم يكن لذاته مختصا بالله سبحانه، بناء على أن المعبود منحصر فيه تعالى، فلو كان هناك مانع لكان من جهة النهي الشرعي أو العقلي و الممنوع شرعا أو عقلا ليس إلا إعطاء الربوبية لغيره تعالى، و أما تحية الغير أو تكرمته من غير إعطاء الربوبية، بل لمجرد التعارف و التحية فحسب، فلا دليل على المنع من ذلك، لكن الذوق الديني المتخذ من الاستيناس بظواهره يقضي باختصاص هذا الفعل به تعالى، و المنع عن استعماله في غير مورده تعالى، و إن لم يقصد به إلا التحية و التكرمة فقط، و أما المنع عن كل ما فيه إظهار الإخلاص لله، بإبراز المحبة لصالحي عباده أو لقبور أوليائه أو آثارهم فمما لم يقم عليه دليل عقلي أو نقلي أصلا۔

ترجمہ:

اور خداوندعالم کا ارشاد گرامی {اسجدوا لآدم، } آدم کے لیے سجدہ کرو اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ سجدہ کسی حد تک غیر خدا کے لیے بھی کرنا جائز ہے جبکہ وہ اس غیر خدا کی تعظیم و تکریم کے لیے ہو اور اس میں خدا وندعالم کے امر کی موافقت کی وجہ سے اس کے حضور خصوع و حشوع ہے ۔ اسی کی مثال خداوندعالم کے کلام میں قصہ یوسف میں ہے کہ ارشاد ہوا «و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»:سورہ يوسف -آیت  100،

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے سورہ حمد کی تفسیر میں ملاحظہ فرمالیا ہوگا کہ بیشک عبادت اس چیز کا نام ہے کہ انسان اپنے آپ کو مقام عبادت میں پیش کرے اور عملا اپنی بندگی کو ثابت کرے اور یہی حالت ہمیشہ رکھے کہ وہ خداوندعالم کا بندہ ہے ۔

لہذا یہ  فعل عبادى ایسا ہونا چاہیے کہ جو  اظهار مولويت مولى، و يا عبديت عبد کی صلاحيت رکھتا ہو  مانند سجده و ركوع یا مولا کے حضور کھڑا ہونا یا اس کے پیچھے پیچھے چلنا وغیرہ، اور جس چیز میں بھی جتنی زیادہ صلاحیت ہوگی اتنی ہی زیادہ عبادت کھلائے گی، تمام اعمال میں سب سے زیادہ  عزت مولويت، و ذلت عبوديت، سجده میں ہے اس لیے انسان سجدہ کی حالت میں خاک میں اپنے آپ کو گرا دیتا ہے اور پیشانی کو خاک پر رکھتا ہے .

نیز بعض حضرات کا گمان یہ ہے کہ سجدہ بذاتہ عبادت ہے ایسا نہیں ہے اس لیے کہ کوئی شی اگر کسی کی ذاتی ہو تو اس سے بدلتی نہیں اور نہ اختلاف کرتی ہےجبکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سجدہ نہ یہ کہ عبادت کے لیے نہیں بلکہ تعظیم کے لیے بھی نہیں ہوتا بلکہ کسی کی مذاق اڑانے کے لیے  ہوتا ہے ۔ حالانکہ اس میں سجدہ کی تمام کیفیت موجود ہے پھر بھی عبادت نہیں ہے چونکہ معنی عبادت سجدے سے بالاتر ہیں ۔ اور جبکہ سجدہ بذاتہ عبادت نہیں ہے تو پھر خداوندعالم سے بھی مخصوص نہیں ہے اس لیے کہ اس سے صرف عبادت مخصوص ہے ۔ پس اگر سجدہ کرنے میں کوئی ممانعت پوتی تو یا شریعت کی طرف سے ہوتی یا عقل کی طرف سے اور شرعی یا عقلی ممانعت جبھی ہوتی ہے کہ جب کسی غیر خدا کو رب و معبود مانا جائے ۔ لیکن صرف کسی کے احترام و تعظیم میں، بغیر اس کے کہ اس کو رب و معبود تسلیم کریں تو کوئی حرج و ممانعت نہیں ہے اور کسی کو تعظیما سجدہ کرنے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔

ہاں ذوق دینی متدین مومنین میں یہ ہے کہ جو ظاہر عبارات دینی سے اتخاذ ہوتا ہے کہ اس طرح کے افعال کہ جو کسی حد تک عبادت سے مخصوص ہیں کسی غیر خدا کے لیے انجام نہ دیے جائیں بلکہ صرف خدا ہی کے لیے منحصر رہیں ۔ چاہے ان سے صرف تعظیم و احترام ہی کیوں نہ مقصود ہو ۔

لیکن ہر اس چیز کو انجام دینے سے منع کرنا کہ جو خدا وندعالم کے لیے مخصوص ہو کہ اس کا استعمال اللہ کے صالح بندوں کے لیے یا اولیاء الہی کی قبور و آثار کے مقابل احترام و تعظیم اور محبت میں نہ کیا جائے تو یہ وہ بات ہے کہ جس پر کوئی دلیل عقلی یا نقلی موجود نہیں ہے۔

یہ علامہ محمد حسین طباطبائی کا نظریہ ہے کہ معصومین علیہم السلام کے حرم مطہر میں سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے پر کوئی دلیل عقلی یہ نقلی موجود نہیں ہے ۔

جب کہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ قوم کو سمجھایا جائے کہ وہ کیا کررہے ہیں نہ ہی تبلیغ و ترویج ہو اور نہ ہی منع کیا جائے

 کیوں ؟  اس کا جواب آئندہ انشاء اللہ

[ دوشنبه هفدهم اسفند 1388 ] [ 16:43 ] [ دفتر شریعتکده ]
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنے والے شیعہ بھائیوں کے لیے ھمارے پیغام کا خلاصہ یہ تھا :

برادران ایمانی ان مقدس چوکھٹوں پر سجدہ کریں لیکن  اس معرفت کے ساتھ کہ یہ فعل کس لیے اور کیوں کررہے ہیں؟ سجدہ کی ماھیت و نوعیت کیا ہے ؟

اس لیے کہ سجدہ کی چند صورتیں پیش کی جاسکتی ہیں

۱- سجدہ تعبدی کہ جو کسی کی عبادت کے طور پر ہوتا ہے اور جس کے حضور سجدہ ہو اس کو اپنا معبود مان کر انجام دیا جاتا ہے یہ سجدہ ہمارے مذھب میں صرف خدا وندعالم کے لیے ہے اس کے علاوہ کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے  اگر غیر خدا کے لیے سجدہ تعبدی انجام دیا جائے تو شرک ہے۔

۲- سجدہ شکر ہے کہ جو کسی نعمت کے ملنے پر انجام دیا جاتا ہے اگر چہ یہ بھی در اصل خدا ہی کے لیے ہے لیکن کسی شی و نعمت کے ملنے پر انجام دیا جاتا ہے۔ یہ ایک اچھا فعل ہے اور اس کی بہت تاکید ہے کہ اس کو انجام دیا جائے ۔

۳- سجدہ تعظیمی یعنی کسی کے احترام و تعظیم اور اس کے سامنے توضع و انکساری میں سجدہ کیا جائے ۔ ظاہرا یہ سجدہ گذشتہ امتوں و شریعتوں میں تھا لیکن اسلام میں جائز نہیں ہے گذشتہ شریعتوں میں جیسے حضرت آدم کے لیے فرشتوں نے سجدہ کیا اور شاید حضرت یعقوب و آل یعقوب کا حضرت یوسف کے دربار میں بھی اگر سجدہ شکر نہ ہو تو سجدہ تعظیم ہے ۔

لہذا ہمارے دینی بھائی  حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرتے ہوئے اس معرفت کے ساتھ یہ فعل انجام دیں کہ خداوندا تیرا شکر ہے کہ تو نے یہ عظیم نعمت (زیارت) مجھ کو عطا فرمائی ۔

کہ جس کو مفاتیح الجنان میں شیخ عباس قمی نے آداب زیارت میں تحریر کیا ہے اور ہم نے بہت سے علماء و مراجع کو بھی یہ فعل انجام دیتے دیکھا ہے نیز امام خمینی نے اپنی کتاب کشف الاسرار میں وھابیوں کے اعتراضات کے جواب دیتے ھوئے مفصل گفتگو کی ہے ۔

لھذا خلاصہ یہ ہوا کہ اسلام میں کسی کے لیے بھی نہ سجدہ تعبدی جائز ہے اور نہ سجدہ تعظیمی بلکہ کسی احترام میں اتنا جھکنا کہ انسان رکوع کی حد تک چلا جائے یہ بھی جائز نہیں چہ جائے کہ سجدہ ۔ لھذا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ ، سجدہ شکر ہے

اب یہاں پر مؤمنین کے اذھان میں چند سوال پیدا ہو ئے

۱- سجدہ تعظیمی کا وجود کھاں ہے؟

۲- مفاتیح الجنان کے علاوہ کیا کسی اور کتاب میں بھی اس سجدہ شکر کا ذکر ہے؟

۳- امام خمینی کی کتاب کشف الاسرار میں کیا لکھا ہے ہمیں دکھائیں؟

ان باتوں کے مفصل جواب کے لیے ہم حاضر ہیں لیکن گذارش یہ ہے کہ ایک مرتبہ بھی ھماری مجالس کو غور سے سن لیا جائے تاکہ کوئی اور بھی سوال اگر ہو تو ہم اس کا بھی جواب دیں سکیں۔

اب یہاں پر مؤمنین کے ذھن میں چند

[ دوشنبه سوم اسفند 1388 ] [ 16:18 ] [ دفتر شریعتکده ]
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 ھمارا مقصد اصلاح امت اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر ھے۔

لیکن یہ کام عصر حاضر میں چند طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ھے

طریقہ اول: یہ کہ سختی کی جائے اور جس کو بھی دیکھیں کہ خلاف شرع یا خلاف عرف کا کام انجام دے رھا ھے اس کو کھیں یہ حرام ھے شرک ھے آپ کافر ھو مشرک ھو وغیرہ۔

اس طریقہ میں چند خرابیاں ھیں

۱- یہ طریقہ قرآنی نھیں ہے اس لیے قرآن کا فرمان ہے {جادلھم بالتی ھی احسن} و { لست علیھم بمسیطر} وغیرہ۔

۲- معصومین(ع) کی سیرت کے خلاف ھے اس لیے کہ وہ بھت نرم طریقہ سے لوگوں کی ھدایت فرماتے تھے ۔

۳- اس طریقہ سے ممکن ھے وہ ضد پر اتر آئے اور اصلا کھنا نہ مانے ۔

۴- اس کے ساتھ اور بھی افراد ھوجائیں اور ایک نیا گروہ بن جائے۔

۵- دشمنوں کو موقعہ مل جائے اور وہ اختلاف و فرقہ سازی میں اپنا حربہ و کردار ادا کریں

۶- استعمار و سامراج اس کو غنیمت سمجھتے ھوئےان لوگوں کی پشت پناھی کرنے لگے اور نتیجہ میں شعیت اور کمزور ھوجائے ۔

دوسرا طریقہ :

نرمی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ جو کام آپ کر رھے ھیں یہ کیا ھے اس کی نوعیت کیا ھے اس کیفیت کیا ھے۔

یھی قرآنی روش ھے اور معصومین(ع) کی سیرت بھی یھی ھے

اسی میں اصلاح کے امکان بھی ھیں

تیسرا طریقہ :

ان ھی کے ساتھ ھوا جائے اور جو بھی جو کام انجام دے اس کی تائید کرتے ھوئے ھوا کے رخ کے ساتھ چلا جائے اور کسی کو کچھ نہ کھیں یا ھر شخص کی تائید کرتے رھیں۔

یہ سب سے خطرناک طریقہ ہے اور اس طرح کے لوگوں پر روایات میں لعنت آئی ھے کہ جو بدعت و حرام فعل پر راضی ھوں ۔

لھذا بھترین طریقہ دوسرا طریقہ ہے خیرالامور اوسطھا۔

مثلا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنا

یھاں پر سمجھایا جائے کہ یہ کیا ہے سجدے کی نوعیت و کیفیت کیا نہ کہ مؤمنین کو مشرک و کافر جیسے الفاظ سے نوازا جائے اس مذکورہ بالا خرابیاں پیدا ھوسکتی ھیں۔

 

[ دوشنبه سوم اسفند 1388 ] [ 16:10 ] [ دفتر شریعتکده ]

انسجام اسلامي از ديدگاه رهبريت شيعه

چكيده : انسجام اسلامي يكي از دغدغه هاي مهم قرآني و آرزوي ديرينه شيعي است.كه در اين مقاله از ديدگاه رهبريت شيعي نگاشته شده است رهبريت شيعي برطبق حديث ثقلين بر دو ثقل تشكيل داده شده است يكي ثقل اكبر كه قرآن كريم است و دوم ثقل اصغر كه معصومين عليهم السلام مي باشند و در غيبت كبري آنها، نايبين آنها كه مراجع عظام تقليد هستند كه در اين سطور نگاهي به قرآن كريم و به فرمايشات معصومين عليهم السلام از زاويه انسجام اسلامي و درخاتمه نگاهي به بعضي ازمراجع عظامي كه پرچمدار انسجام اسلامي بوده اند انداخته شده است.

واژها ي كليدي : انسجام، رهبريت و شيعه

مقدمه : جاى هیچگونه تردیدى نیست که از جمله مهم ترین موضوعاتى که امروزه جهان اسلام با آن دست به گریبان است وحدت اسلامى است. اگر ادعا کنیم حساس‌ترین مسئله‌اى که امامان شیعه در طول زندگانى، براى تحقق آن در عالم خارج براساس قرآن کریم و سنت نبوى اهتمام داشته اند، وحدت و یکپارچگى امت اسلامى در چارچوب کلى جهان اسلام است سخنى به گزاف نگفته‌ایم. هدف آن بزرگواران محافظت از عظمت و شکوه این موجودیت در برابر دشمنان و در کمین نشستگان اسلام بود. نیز در اندیشه تحقق بخشیدن به مصلحت برتر اسلام در ساختن امت و شکوفایى مثال زدنى آن در حرکتى شتابنده و روشن به سوى خداوند متعال بودند. سعي ما هم در اين سطور همين است كه استفاده از فرمايشات آن بزرگوارن و نايبين آنها نموده ونمونه عملي از انسجام  اسلامي ارائه نماييم. و جون هدف اصلي ما انسجام اسلامي در عقيده مكتب شيعي است و فرد خاصي از بزرگان در نظر نه بود لذا از كلمه رهبريت شيعه استفاده كرديم.

كليات :

  انسجام اسلامي در لغت و اصطلاح

انسجام : در لغت از ماده سجم از باب انفعال ‌‌انسجام بمعناي روان شدن و جاري شدن اشك است و در نزد اهل بلاغت نوعي از انواع بديع است كه اثر منظوم يا منثور خالي از تعقيد لفظي و معنوي است به طوريكه الفاظ داراي معاني جليل و بلند باشند كه هيچ تكلف و تعقيد وجود نداشته باشد.(1)

اما كلمه انسجام با تركيب كلمه اسلامي يعني انسجام اسلامي معنايي برخاسته از معناي لغوي و اصطلاحي آن است. يعني امور و مسائل بين مسلمانان مانند آب روان حركت كنند و مانند كلام  بليغ و فصيح و خالي از تعقيد و تكلف باشد. البته روان تر از اين در اصطلاح عرف بمعناي هبستگي و اتحاد استفاده مي شود. و مراد ما هم همين معنا است.

كلمه رهبريت مركب از( راه، بر، يت) است، راه بركلمه فارسي است بمعني راهنما و (يت) مصدري است كه در زبان عربي كلمات جامده را در معناي مصدري در مي آورد مانند انسانيت از انسان ، حجريت از حجرو امثال آن.يعني رهبر شدن و رهبر بودن كه اينجا معني فاعلي مي دهد يعني رهبران شيعه ولي چون در اين سطورهدف فرد خاص نبوده لذا از كلمه رهبريت شيعه استفاده كرديم.

شيعه: بمعناي اتباع كننده و پيرو مي آيد اما برپيروي كنندگان ازامام علي عليه السلام ايقدر شايع و رايج شد كه حالا نه در اصطلاح بلكه در لغت هم بهمين معني استفاده مي شود.

 


ادامه مطلب
[ پنجشنبه بیست و چهارم دی 1388 ] [ 10:33 ] [ دفتر شریعتکده ]

آداب ماه رمضان در کشور هند

مسلمانان هند ماه مبارک رمضان را مقدس مي شمرند و به این ماه بسيار احترام می گذارند. از کارهای حرام دوری می کنند و غیر مسلمانان نیز برای احترام به مسلمانان حرمت این ماه را نگه می دارند. ماه رمضان در کشور هند آداب و رسوم خاصی دارد در دهه سوم ماه شعبان مسلمانان با غبار روبی و تمیز کردن مساجد خود را برای استقبال از ماه مبارک رمضان آماده می کنند.

ماه رمضان نزد مسلمانان هند با جمعیتی بیش از 200 میلیون نفر از اهمیت خاصی برخوردار است بطوریکه در آستاه فرا رسیدن ماه مهمانی خدا گروههای مردمی و مراکز دست اندرکار امور مساجد اقدام به تعمیر، شست شو و غبارروبی مساجد می کنند.

همچنین مسلمانان با رنگ آمیزی و استفاده از انواع خشبوکننده ها و پارچه های متنوع با تزیین اماکن و مساجد زمینه جذب و حضور بیشتر مردم به این اماکن در این ماه را فراهم می کنند.

مسلمانان روزه دار در این ماه سعی می کنند تا كارهای روزانه خود را تعطيل كنند و به مساجد بروند و کلاس های قرآن تشکیل دهند. همچنین به دلیل اختلاف در سنت به طور معمول اذان مغرب با کمی تاخیر پخش می شود و هنگام نماز صبح نیز اذان کمی زودتر پخش می شود.

مسلمانان در هند به طور معمول ده روز آخر ماه مبارک رمضان را به اعتکاف می گذرانند و توجه خاصی به شبهای قدر دارند به همین خاطر در شب قدر بهترین لباس ها را می پوشند. مسلمانان این کشور در شب بیست و هفتم ماه مبارک رمضان به زیارت قبور مي روند و بر سر مزار آنان قرآن تلاوت می کنند.

در کشور هند، جمعه آخر ماه مبارک رمضان "جمعه وداع" نامیده می شوند


موضوعات مرتبط: هند را بهتر بشناسیم
[ شنبه یازدهم مهر 1388 ] [ 11:19 ] [ دفتر شریعتکده ]

گزارش

از

نشست علمي شعراء اددو زبان و نقد و بررسي شعر

بمناسبت ولادت باسعادت حضرت فاطمه زهراسلام الله عليها و فرزند ارجمندحضرت امام خميني رحمة الله عليه

ازطرف:

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان)

با هماهنگي به

اداره امور فرهنگي جامعة المصطفي العالميه واحد مشهد مقدس

مقدمه

با عرض ادب و تهنيت و با قبولي طاعات و عبادات، گزارشي ازنشست علمي شعراء اددو زبان و نقد و بررسي شعر بمناسبت ولادت باسعادت حضرت فاطمه زهراسلام الله عليها و فرزند ارجمندحضرت امام خميني رحمة الله عليه.

ازطرف:بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان)با هماهنگي به اداره امور فرهنگي جامعة المصطفي العالميه واحد مشهد مقدس ذيلا تقديم مي گردد.

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) به طبق اساسنامه خود به هر مناسبتي از مناسبت هاي اسلامي برنامه اي ازقبيل برسي آثار شعري و ادبي طلاب اعضاء يا برگذاري نشست اصلاحي آثار شعري و ادبي يا انعقاد محافل و مجالس شعري ادبي و استفاده از شاعران و اديبان يا انعقاد مسابقات شعري و ادبي بر گذار مي نمايد. با در نظر گرفتن اهميت، افاديت، و تأثير گذاري، سحر آفريني شعر در تبليغ و ترويج دين مبين اسلام اين انجمن با تلاش اعضاء انجمن و همكاري اداره امور فرهنگي جامعة المصطفي العالميه واحد مشهد نشست علمي شعراء اددو زبان و نقد و بررسي شعر

بمناسبت ولادت باسعادت حضرت فاطمه زهراسلام الله عليها و فرزند ارجمندحضرت امام خميني رحمة الله عليه تا به قريحه شعري و ادبي طلاب اردو زبان ارتقاء بخشد و در نهايت بتوان از طريق اين ابزار مهم و مؤثر تبليغ استفاده مطلوب نمود.

مجري برنامه جناب آقاي نير عباس رضوي نشست علمي را با قرائت اشعاري در مدح مولودآغاز نمودند.

تلاوت قرآن كريم بتوسط قاري ارجمند جناب آقاي نجمي انجام شد

سپس بتوسط مدير بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) جناب آقاي سيد سبط حيدر زيدي سخنزاني و معرفي از انجمن پرداختند .

بعد ار سخنراني، يك نفر عرب زبان به زبان عربي و فارسي شعر خواند سپس برنامه شعر خواني شروع شد تمام شعراء اردو زبان به مداحي اهل بيت پرداختند.

آخرين سخنران همايش مهمان خصوصي حضرت حجة الاسلام والمسلمين سيد قمر مهدي رضوي بود.

سپس در اختتام برنامه از حاضرين محترم باصرف شام پزيرائي گرديد.

و آخر دعونا الحمد لله رب العالمين

25/3/1388

 

[ چهارشنبه هفدهم تیر 1388 ] [ 11:2 ] [ دفتر شریعتکده ]

۱- سید سبط حیدر زیدی، فرزند

 ۲- انعام حیدر، فرزند

 ۳- غلام امیر، فرزند

 ۴- خورشید حسن، فرزند

 ۵- جیون علی، فرزند

 ۶- باسط علی، فرزند

 ۷- اشرف علی، فرزند

 ۸- ظفر علی، فرزند

 ۹- هلاهر علی، فرزند

 ۱۰- قاسم علی، فرزند

 ۱۱- هاشم علی، فرزند

 ۱۲- محمد زمان، فرزند

 ۱۳- عبد الحق، فرزند

 ۱۴- جلال الدین، فرزند

 ۱۵- کمال الدین، فرزند

 ۱۶- شهاب الدین، فرزند

 ۱۷- دیوان سید حسین، فرزند

 ۱۸- حیات علی حیاتی، فرزند

 ۱۹- سید سلطان، فرزند

 ۲۰- سید بای زید، فرزند

 ۲۱- سید میزان، فرزند

 ۲۲- فخرالدین، فرزند

 ۲۳- سید علی، فرزند

 ۲۴- سید مسعود، فرزند

 ۲۵- سید حسین، فرزند

 ۲۶- سید فرح الثانی، فرزند

 ۲۷- ابوالفراس، فرزند

 ۲۸- سید عبد الله الحسین الملقب بالسید ابوالفراح الواسطی، فرزند

 ۲۹- السید ابوداؤد، فرزند

 ۳۰- السید حسین، فرزند

 ۳۱- یحی، فرزند

 ۳۲- زیدالثالث، فرزند

 ۳۳- عمر، فرزند

 ۳۴- زیدالثانی، فرزند

 ۳۵- السید علی، فرزند

 ۳۶- ابو محمد السید حسن زید، فرزند

 ۳۷- علی العراقی، فرزند

 ۳۸- السید حسین، فرزند

 ۳۹- السید علی،فرزند

۴۰- السید محمد بالکوفه، فرزند

 ۴۱- عیسی مؤتم الاشبال، فرزند

 ۴۲- زید الشهید، فرزند

 ۴۳- الامام زین العابدین علی، فرزند

 ۴۴- الحسین الشهید، فرزند

 ۴۵- علی، فرزند

ابی طالب
                                                      و فرزند

 فاطمة الزهرا فرزند

 محمد المصطفی
صلوات الله و سلامه علیهم

سید سبط حیدر زیدی، ابن انعام حیدر، ابن غلام امیر، ابن خورشید حسن، ابن جیون علی، ابن باسط علی، ابن اشرف علی، ابن ظفر علی، ابن هلاهر علی، ابن قاسم علی، ابن هاشم علی، ابن محمد زمان، ابن عبد الحق، ابن جلال الدین، ابن کمال الدین، ابن شهاب الدین، ابن دیوان سید حسین، ابن حیات علی حیاتی، ابن سید سلطان، ابن سید بای زید، ابن سید میزان، ابن فخرالدین، ابن سید علی، ابن سید مسعود، ابن سید حسین، ابن سید فرح الثانی، ابن ابوالفراس، ابن سید عبد الله الحسین الملقب بالسید ابوالفراح الواسطی، ابن السید ابوداؤد، ابن السید حسین، ابن یحی، ابن زیدالثالث، ابن عمر، ابن زیدالثانی، ابن السید علی، ابن ابو محمد السید حسن زید، ابن علی العراقی، ابن السید حسین، ابن السید علی، ابن السید محمد بالکوفه، ابن عیسی مؤتم الاشبال، ابن زید الشهید، ابن الامام زین العابدین علی، ابن الحسین الشهید، ابن علی، ابن ابی طالب
                                                      و ابن فاطمة الزهرا بنت محمد المصطفی
صلوات الله و سلامه علیهم

[ چهارشنبه بیست و سوم اردیبهشت 1388 ] [ 13:15 ] [ دفتر شریعتکده ]

باسمه تعالي

گزارش

از

جشنواره بين المللي و همايش ادبي المصطفي(ص)

بمناسبت ولادت باسعادت پيامبر گرامي اسلام ختمي مرتبت

حضرت محمد مصطفي صلي الله عليه و آله وسلم

و فرزند گرامي ايشان رئيس مذهب حقه جعفريه حضرت امام جعفر صادق عليه السلام

ازطرف:

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان)

با هماهنگي به

اداره امور فرهنگي جامعة المصطفي العالميه واحد مشهد مقد

مقدمه

با عرض ادب و تهنيت و با قبولي طاعات و عبادات،گزارشي از جشنواره بين المللي و همايش ادبي المصطفي(ص)بمناسبت ولادت باسعادت پيامبر گرامي اسلام ختمي مرتبت حضرت محمد مصطفي صلي الله عليه و آله وسلم و فرزند گرامي ايشان رئيس مذهب حقه جعفريه حضرت امام جعفر صادق عليه السلام ازطرف بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان)ذيلا تقديم مي گردد.


ادامه مطلب
[ چهارشنبه بیست و هشتم اسفند 1387 ] [ 13:19 ] [ دفتر شریعتکده ]

هو الجمیل

جشنواره بین المللی و همايش ادبي المصطفي(ص)

پنجشنبه ۲۲/۱۲/۱۳۸۷ ساعت ۹ صبح در سالن اجتماعات جامعة المصطفی(ص) العالمیه برگذار می گردد. 

بمناسبت ميلاد مسعود پيامبر گرامي اسلام حضرت محمد مصطفي(ص) و رئيس مذهب شيعه حضرت امام جعفر صادق(ع) بزم رافت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) بناء دارد يك نشست علمي و ادبي بنام جشنواره و همايش ادبي المصطفي با فراخوان مقاله بعناوين زير برگذار نمايد

عناوين همایش:

1-     فلسفه نفي شاعري از سيد الفصحاء(ص)

2-     نقش شعر و ادب در ترويج و تبليغ دين

۳-     مقام و منزلت شعراء

مکان : مشهد مقدس خیابان امام خمینی(ره) - ۱۴  جنب مسجد حمزه

جامعة المصطفی(ص) العالمیه واحد مشهد

[ دوشنبه نوزدهم اسفند 1387 ] [ 12:59 ] [ دفتر شریعتکده ]

باسمه تعالي

              از طرف انجمن شعر و ادب اردو زبان (بزم رافت) مجله اي بصورت گاهنامه بنام پيام رافت به مناسبت ولادت با سعادت امام رئوف حضرت علي بن موسي الرضا عليه التحية و الثناء منتشر گرديد

اين نشريه به زبان اردو مي باشد

بزم ر‏افت انجمن شعر و ادب اردو زبان کی جانب سے ایک مجلہ بنام پیام رافت مناسبت ولادت با سعادت امام رئوف حضرت علي بن موسي الرضا عليه التحية و الثناء منتشر ھوچکا ھے

اس نشریہ میں حسب ذیل مطالب موجود ھیں

               اثر                                                         صاحب اثر

اقبال بلند ستاره مشرق                                    رہبر معظم سید علی خامنہ ای

حضرت فاطمہ زھرا اقبال کی نظر میں                   زھرا زیدی سلمھا

سمٹ کے رفعت افلاک رھ گئیں اس دم                 جناب نایاب بلیاوی صاحب  

کچھ نھیں پاک مگر دولت ایمان تو ھے                   جناب نفیس ھلوری صاحب

در علی سے جو انسان دور ھوتا ھے                    جناب ساون ھلوری صاحب

 مفتی یہ کس کے کفر کا اعلان ھوگیا                جناب امیر حسن عامر رضوی صاحب

مسدس (حضرت فاطمہ زھرا علیھت السلام)        جناب نیر جلالپوری صاحب

شاہ مشھد مجھے رسوا نھیں ھونے دیتے          جناب نایاب ھلوری صاحب

مسدس (کربلا)                                               جناب بلال کاظمی صاحب

وصال احمد محبوب کبریا                                   جناب الفت حسین جویا صاحب

فرمان ھے خدا کا حدیث رسول ھے                    جناب تحریر علی نقوی صاحب

زھرا سبب معرفت کردگار ھے                            جناب سبط حیدر زیدی صاحب

آجا تیرے بغیر یہ جینا حرام ھے                          جناب حسن عسکری نقوی صاحب

جو پردہ میں ھے پردہ دار اللہ اللہ                        جناب سبط محمد رضوی صاحب

[ چهارشنبه بیست و نهم آبان 1387 ] [ 12:23 ] [ دفتر شریعتکده ]
بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان)با در نظر گرفتن اهميت، افاديت، و تأثير گذاري، سحر آفريني شعر در تبليغ و ترويج دين مبين اسلام  انجمن شعر و ادب اردو زبان بنام " بزم رأفت" با تلاش و همكاري چندتن از طلاب شاعر و اديب اردو زبان تأسيس شده است تا به قريحه شعري و ادبي طلاب اردو زبان ارتقاء بخشد و در نهايت بتوان از طريق اين ابزار مهم و مؤثر تبليغ استفاده مطلوب نمود

http://urdu.blogfa.com

 

[ پنجشنبه هفتم شهریور 1387 ] [ 13:28 ] [ دفتر شریعتکده ]
[ پنجشنبه سی و یکم مرداد 1387 ] [ 13:6 ] [ دفتر شریعتکده ]
بسمه تعالی

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) در نظر دارد بمناسبت ولادت با سعادت مولی الموحدین امام المتقین امیر المؤمنين حضرت علي بن ابي طالب عليه السلام

 نشستي با عنوان " نقش شعر و ادب در ترويج دين" برگزار نمايد.
از علاقه مندان و بالاخص شعراي گرام دعوت به عمل مي آيد تا گرمي بخش محفل ما باشند.

زمان : سه شنبه، ۲۵/۴/۸۷ مطابق به ۱۲ رجب المرجب ۱۴۲۹ه

ساعت : ۱۰ صبح تا ۳۰/۱۲

مكان : مشهد مقدس، چهار راه شهداء سالن اجتماعات نمايندگي جامعة المصطفي العالميه

[ دوشنبه بیست و چهارم تیر 1387 ] [ 8:22 ] [ دفتر شریعتکده ]
درباره دین هندوئیزم

آيين هندو در قديم دين برهمايى خوانده مى‌شد كه به برهما، خداى هندوان اشاره مى‌كرد. هندوئيسم شكل تكامل يافته آنيميسم است و به همين دليل بنيانگذار آن شناخته‌شده نيست. اين آيين گونه‌اى فرهنگ، و آداب و سنن اجتماعى است كه با تهذيب نفس و رياضت همراه شده و در تمدن و حيات فردى و جمعى مردم هندوستان نقش بزرگى داشته است.

مردم هند پيش از هجوم آريايي‌ها


پيش از مهاجرت آريايي‌ها به ايران و هند، مردم اين سرزمين‌ها قومى كوتاه قامت و سياه چرده بودند كه فرهنگ و دين و مراسم مخصوص خود را داشتند و تمدن آنان در سطح تمدن بين‌النهرين بود. اين قوم در ايران تقريبا به طور كامل از ميان رفتند، ولى در هندوستان به طرف جنوب آن كشور رانده شدند و اكنون به نام قوم دراويدى (Dravidians   ) شناخته مى‌شوند و گروه بزرگى از اينها به نام نجس‌ها(Untouchables) معروفند كه درباره ايشان سخن خواهيم گفت. حفاري‌هاى باستان‌شناسان در منطقه‌اى به نام موهنجودارو (Daro-Mohenjo) در كرانه رود سند (پاكستان)، آثار عظيمى از تمدن آنان را نشان داده است. از اين كشفيات برمى‌آيد كه برخى از خدايان آيين هندو قبل از ورود آرياييان در هندوستان وجود داشته‌اند.

اصول دين هندو


اصول دين هندو عبارت است از: اعتقاد و احترام به كتاب‌هاى باستانى و سنت‌هاى دينى برهمنان و پرستش خدايانى كه به ظهور آنها در دوره‌هاى قديم عقيده دارند. اعتقاد به تناسخ و رعايت مقررات طبقات اجتماعى در معاشرت و ازدواج، همچنين احترام به موجودات زنده، مخصوصا گاو از اصول آن دين است.
لفظ ام (Om) به معناى آمين براى هندوان بسيار تقدس دارد و از سويى اسم اعظم الهى به شمار مى‌رود و از اين نظر به اسم اعظم يهوه در دين يهود شباهت دارد.



 

خدايان ودايي


هندوان به عده بى‌شمارى از خدايان آسمانى و زمينى با اسما و صفات عجيب و غريب معتقدند و به آنها كرنش مى‌كنند و براى هر يك بتخانه‌هاى باشكوهى مى‌سازند. اين خدايان با هم خويشاوندى سببى و نسبى دارند و ويژگي‌هاى جسمى و روحى هر يك به تفصيل و با ذكر جزئيات در كتاب‌های مقدس و فرهنگ دينى هندوان آمده است. اعتقاد به جلوه‌گرى خدايان به شكل انسان و حيوان در ادوار مختلف، نيز بسيار جلب نظر مى‌كند. دسته‌بندى خدايان در ارتباط با طبقات اجتماعى نيز معهود است. برخى از معروف‌ترين خدايان هندو عبارتند از:


اگنى (Agni) يعنى آتش
وارونا (Varuna) یعنى آسمان
ايشوار (Isvara) یعنى قادر متعال
رودرا (Rurdra) یعنى وحشتناك
راما (Rama) يعنى دلپذير
كريشنا (Krishna) یعنى آبى پر رنگ
ياما (Yama) يعنى ارابه ران (معادل جم در آيين زرتشت) كه خداى حاكم بر ارواح مردگان است .
اشوين (Asvin) يعنى اسب‌سوار، عنوان دو تن از فرشتگان آيين هندوست. هندوان معتقدند كه اين پزشكان آسمانى براى انسان تندرستى، نيكبختى و دارايى به ارمغان مى‌آورند.


پرستندگان بت مؤنث زشت و بدتركيب كالى (Kali) به معناى سياه معتقدند هداياى ويژه اين بت را بايد از طريق راهزنى به دست آورد و تقديم بتخانه كرد. البته بايد توجه داشت كه معمولا بتان را بسيار زيبا مى‌سازند تا آنجا كه بت در شعر فارسى كنايه از محبوب زيباست.


 


كتاب‌هاي مقدس


ادعيه و آيين‌هاى هندوان در مجموعه‌اى به نام وداها(Vedas) به معناى دانش، به زبان سانسكريت گرد آمده است و به آن شروتى (Sruti) يعنى وحى و الهام و علوم مقدس موروثى لقب مى‌دهند. پژوهشگران تاريخ تصنيف وداها را بين ۱۴۰۰ تا ۱۰۰۰ ق.م. مى‌دانند، و بر اين اساس سال‌هاى ۱۵۰۰-۸۰۰ ق.م. را دوره ودايى مى‌خوانند.


چهار ودا وجود دارد، به اين شرح:


1. ريگ ودا(veda-Rig) یعنى وداى ستايش
2. يجور ودا(veda-Yajur) يعنى وداى قربانى
3. سام ودا(veda-Sama) يعنى وداى سرودها
4. اتهرو ودا(veda-Atharva) يعنى وداى اتهروان (نام نويسنده اين ودا).


در زمان‌هاى بعد برهمنان شرح و تفسيرهايى بر بوداها نوشتند؛ از اين رو هر يك از وداها داراى دو بخش است:


نخست: منتزها (Mantaras)كه عبارت است از متن اورادى در ستايش آتش، خورشيد و ساير مظاهر طبيعت و دعاهايى براى فراخى‌ روزى، بارورى، بخشايش گناهان و غيره.


دوم: براهمناها (Brahmanas)كه مناسبت‌هاى آن اوراد را تعيين مى‌كند. پژوهشگران سال‌هاى ۸۰۰ ق.م. تا ۵۰۰ ق.م. را دوره برهمنى مى‌نامند.


كتاب‌هاى دينى، فلسفى، عرفانى و ادبى بى‌شمارى در ميراث فرهنگى هندوستان وجود دارد كه به زبان‌هاى مختلف ترجمه شده و از جمله آنها کتاب معروف كليله و دمنه است كه در سانسكريت پنچاتنتر(tantra -Panca) يعنى پنج بخش خوانده مى‌شود.


كتاب‌هاى مهابهاراتا (bharata -Maha) و رامايانا(Ramayana) با محتواى اساطيرى رزمى و بزمى از احترام ويژه‌اى برخوردارند. كتاب‌های دينى و ادبى ياد شده به همه زبان‌هاى زنده جهان (و از جمله فارسى) ترجمه شده‌اند.
كتاب بسيار معروف و جذاب بهگودگيتا (gita -Bhagavad) يعنى سرود خداى مجيد در بخشى از مهابهاراتاست كه مستقلا مورد توجه قرار گرفته است. اين كتاب گاهى به تخفيف گيتا ناميده مى‌شود، در باب اخلاص (Bhakti) سخن مى‌گويد و در اهميت كتاب ياد شده همين بس كه به طور مكرر به هر يك از زبان‌هاى زنده جهان ترجمه شده و دست كم شش ترجمه فارسى از آن موجود است.
اين رساله مكالمات كريشنا با شاهزاده‌اى به نام آرجونا (Arjuna) يعنى روشن را در بر دارد. رساله ياد شده ظاهرا در قرن اول ميلادى در روزنامه بزرگ مهابهاراتا گنجانيده شده است و نزد هندوان از هر كتاب دينى و عقلى ديگر محبوب‌تر و محترم‌تر به شمار مى‌رود. نظم آن كتاب يك دست نيست، ولى نيروى ذوق و شوقى كه طى كلمات آن نوشته اعجاب‌انگيز وجود دارد، هزاران تن را دلباخته و فريفته خود ساخته است.


راز موفقيت گيتا در اين است كه مى‌كوشد اثبات كند راه حقيقى نجات و رستگارى در طريقه اخلاص قرار دارد و براى بيان اين امر از داستانى كمك مى‌گيرد. آرجونا سوار بر ارابه سلطنتى براى جنگيدن با عموزادگان خود به سوى ميدان مى‌رود و راننده ارابه كه خداى پهلوانى يعنى كريشناست و در كنار او نشسته است، وى را به رزم و نبرد تشويق مى‌كند. شاهزاده دل به جنگ با خويشاوندان خود نمى‌دهد. در حالى كه سرداران سپاه خصم يعنى عموزادگان او در شيپور جنگ مى‌دمند، به راننده فرمان مى‌دهد كه ارابه او را در وسط رزمگاه در محلى قرار دهد كه بتواند كوشش و رزم‌آورى هر دو سپاه را بدرستى مشاهده كند، ولى همين كه خويشان و عموزادگان و بزرگان قوم را در حال پيكار و خونريزى مى‌بيند، دل او از پشيمانى و اندوه لبريز مى‌شود.
وى درد و رنج خود را با كريشنا، راننده ارابه در ميان مى‌گذارد و از گرانى اندوه، تير و كمان را از دست بر زمين مى‌افكند.
كريشنا او را بر اين كم دلى سرزنش مى‌كند و دوباره وى را بر جنگ و نبرد برمى‌انگيزاند. در اين هنگام بين آن دو يك سلسله مكالمات رد و بدل مى‌شود. در مرحله اول كريشنا او را به انجام وظايفى كه در برابر صنف و طبقه خود دارد، متوجه مى‌سازد و به او خاطر نشان مى‌كند كه انجام فرایض اجتماعى بر هر كارى مقدم است و نتايج و عواقب آن هر چه باشد، بايد آنها را به عمل آورد و نبايد پاداش و سزايى توقع داشت. ارجونا وظيفه خود را به ياد مى‌آورد كه بايد به عنوان يك شاهزاده از افراد طبقه كشاتريا جنگجويى و رزم‌آورى پيشه كند. آنگاه وى پاى به ميدان نبرد مى‌گذارد و اعتراف مى‌كند كه تهاون و سستى در انجام اين واجب صنفى و فريضه مذهبى گناهى بزرگ است. از سوى ديگر اگر به جنگ بپردازد و كشته شود، روان او رستگارى يافته، به آسمان صعود خواهد كرد، و اگر پيروز شود، بر تخت پادشاهى خواهد نشست. علاوه بر اين، ميدان جنگ جاى تاسف و غم خوردن براى كشتگان و قربانيان نبرد نيست، زيرا اگر چه جسم آنان هلاك مى‌شود، روحشان جاويدان، باقى و برقرار است.
در يكى از قطعات گيتا سخنان زير آمده كه تعاليم اوپانيشادها را در مسئله وحدت الوهيت بيان مى‌كند و از اين نظر قابل توجه است. كريشنا مى‌گويد:


من برهما هستم، همان خداى واحد ازلى ...
قربانى منم، دعا و نماز منم.
طعام خيرات مردگان منم.
اين جهان بى‌پايان منم.
پدر و مادر و نياكان و نگاهبانان و متن‌هاى معرفت همه منم.
آنچه در زلالى آب و روشنايى آفتاب تصفيه مى‌شود، آن كلمه ام منم.
و منم كتاب‌هاى ريگ ودا، سام ودا، يجور ودا، طريقت، شريعت، مربى، خداوندگار و قاضى، شاهد، صومعه و پناهگاه، دوست و دشمن، سرچشمه حيات و درياى زندگانى.
هر آنچه برمى‌آيد و هر آنچه فرو مى‌رود، بذر و برزگر و فصول و درو همه منم.
مرگ منم و زندگانى منم.
اى ارجونا، حيات اين جهان كه مى‌بينى، و حيات آن جهان كه نمى‌بينى، همه منم و بس...


فرهنگ و تربيت ودايي


حدود قرن ۶ ق.م. در اوج اقتدار روحانيان هندو، كه برهمن (Brahmana) ناميده مى‌شوند، نظام طبقاتى شديدى پذيرفته شد كه مدت ۲۵۰۰ سال سايه سهمگين خود را بر كشور پهناور هندوستان افكنده بود و هنوز هم بقاياى آن وجود دارد. پژوهشگران طبقات اجتماعى را كاست (Caste) مى‌خوانند كه واژه‌اى پرتغالى و به معناى نژاد است. در اين نظام چهار كاست اصلى وجود داشت:


1. برهمان (Brahmanas) طبقه روحانيان
2. كشاترياها (Kshatrias) طبقه شاهان، شاهزادگان و جنگاوران
3. ويشياها (Vaisyas) طبقه بازرگان و دهقانان
4. شودراها (Sudras) طبقه كارگران.


معاشرت افراد يك طبقه ديگر شرعا و عرفا ممنوع بود، بخصوص طبقه اخير كه هر گونه تماس، حتى نگاه كردن افراد طبقات بالا به اين گروه، گناه كبيره شمرده مى‌شد.
فروتر از اين چهار طبقه، گروهى از بوميان غيرآريايى هندوستان بودند كه نجس‌ها (Untouchables) ناميده مى‌شدند. افراد اين طبقه به هيچ وجه حق نداشتند در محله‌هاى آن طبقات چهارگانه تردد كنند و هر گاه از باب ضرورت براى حمل زباله به اماكن آنان مى‌رفتند، موظف بودند با صداى بلند حضور خود را اعلام كنند كه مبادا نگاه افراد طبقات بالا به اين گروه بيفتد. در اين صورت، بيننده بايد با غسل خود را طاهر كند. داد و ستد نيز از راه دور، با گذاشتن پول در مكانى و تقاضاى متاع با فرياد و اختفاى كامل انجام مى‌گرفت.
گوش دادن به تلاوت كتاب‌هاى مقدس نيز بر آنان حرام بود و اگر فردى از ايشان در اين مورد استراق سمع مى‌كرد، براى مجازات، سرب مذاب در گوش او مى‌ريختند.
عجيب‌تر اينكه افراد طبقه نجس‌ها به اين وضع خو گرفته، آن را حق مى‌پنداشتند و باور داشتند كه اين تيره‌بختى زاييده بدكردارى آنان در زندگانى پيشين است كه از طريق تناسخ آن را دريافت كرده‌اند. هر گونه اقدامى براى كم كردن فاصله طبقات چهارگانه (و حدود ۲۰۰۰ طبقه فرعى كه بتدريج در ضمن آن چهار طبقه پديد آمد) و دفاع از نجس‌ها، خلاف شرع و غيرمقبول بود. البته اين سنت اجتماعى در سال ۱۹۵۵ رسما لغو شد و تنها جلوه‌هايى از آن باقى است.
رود خروشان و پر بركت گنگ به معناى تندرو كه در بخش بزرگى از هندوستان جريان دارد، از تقدس بالايى برخوردار است و غسل كردن در آن، بخصوص در شهر بنارس (Benares)، عبادتى مهم شمرده مى‌شود. نيلوفر (Padma) نيز بسيار مقدس است.
قربانى و بويژه قربانى اسب (medha - Asva) كه قبلا به عنوان يك عمل عبادى ميان آنان معمول بود، بعدا به منظور برآورده شدن حاجات انجام مى‌گرفت.
اهيمسا (hinsa - A) به معناى پرهيز از آزار جانداران اصل مهمى است كه در زمان‌هاى بعد، تحت تعاليم مهاويرا مورد توجه قرار گرفت و تاكنون بشدت رعايت مى‌شود. اين آموزه خوردن گوشت حيوانات را عملى غيراخلاقى مى‌داند و اين مسئله اثر عجيبى بر شيوه زندگى هندوان باقى گذاشته است.


هندوان جسد مردگان خود را مى‌سوزانند و خاكستر آن را بر روى گنگ بر باد مى‌دهند. قبلا سنت مذهبى اين بود كه هنگام سوزاندن جسد مرد متوفی، همسر وى نيز به نشانه وفادارى ميان توده‌هاى هيزم مى‌خوابيد و همراه شوهر مى‌سوخت و براى تشويق زنان به اين امر به وى لقب ستى (Sati) به معناى بانوى وفادار و بافضيلت عطا مى‌شد (اين واژه سانسكريت در فارسى و عربى براى تجليل از بانوان بسيار برجسته به كار مى‌رود). اگر احيانا زنى تاب و تحمل اين فداكارى را در خود نمى‌يافت، پس از مرگ شوهر موى سر خود را مى‌تراشيد و جلاى وطن مى‌كرد. زنده سوزاندن زوجه را انگليسي‌ها پس از استعمار هندوستان در سال ۱۸۲۹ م. ممنوع كردند و از اين منع كمتر تخلف شده است. صائب تبريزى در اشاره به اين سنت مى‌گويد:


چون زن هندو كسى در عاشقى مردانه نيست
سوختن بر شمع خفته كار هر پروانه نيست



فلسفه اوپانيشادها


در دوره برهمنى (سال‌هاى ۸۰۰ ق.م. تا ۵۰۰ ق.م.) آيين قربانى به افراط گراييد و با توسعه آن مسائل عميق دينى به فراموشى سپرده شد. قربانى اسب و چيزهاى ديگر آسيب شديدى به اقتصاد كشور وارد آورد و خزانه پادشاه را تهى كرد. از اين رو، برهمنان چاره كار را در اصلاح دين ديدند و بدين منظور براهمناها را پديد آوردند كه مشتمل بر دو بخش است:


الف) آرنياكاها (Aranyakas) يعنى جنگل نامه، مشتمل بر مسائل مورد نياز اهل رياضت
ب) اوپانيشادها (Upanishads) به معناى نزديك نشستن، كنايه از آموختن اسرار دين.


اوپانيشادها شهرت زيادى پيدا كرد. اين كتاب را براى نخستين بار شاهزاده دانشمند، هنرمند و عارف، داراشكوه عرفان اسلامى و هندويى، در ۱۰۶۷ ه.ق. به زبان فارسى ترجمه كرد و آن را سر اكبر ناميد. (نخستين آشنايى غريبان با اوپانيشاد از طريق همين ترجمه بود.)
اوپانيشاد به نام ودانتا (Vedanta) به معناى پايان وداها نيز خوانده مى‌شود. اين كتاب بطون وداها را مى‌شكافد و توجه مردم را از آداب و رسوم ظاهرى به اسرار درونى و مفاهيم باطنى جلب مى‌كند. كتاب ياد شده شهرت جهانى دارد، تا آنجا كه برخى مطالب توحيدى آن در الميزان نوشته علامه طباطبايى آمده است .(1)

خدايان سه گانه
آرياييان هندوستان مانند ساير مشركان به خداى حقيقى جهان نيز معتقد بودند و او را برهما (Brahman) به معناى قائم بالذات و ازلى و ابدى مى‌ناميدند. آنان در آغاز بت و بتخانه نداشتند و مراسم عبادى خويش را در فضاى باز مى‌دادند و به خدايانى مذكر كه معمولا نماد اجرام آسمانى بودند، عقيده داشتند. در دوران‌هاى بعد بت‌هايى بى‌شمار و بتخانه‌هايى باشكوه و گوناگون ساختند و خدايانى مانند الهه مادر، الهه زمين، مار كبرا و غيره را به مجموعه خدايان خود مى‌افزودند.
خدايان تثليث هندو (Trimurti Hindu) عبارتند از:


1. برهما (Brahman)، خداى ايجاد كننده (كه قبلا اشاره شد)
2. شيوا (Siva) خداى فانى كننده كه مجسمه چهار دست و در حال رقص او فراوان است. رقص شيوا نقش او را در ايجاد و انهدام نشان مى‌دهد
3. ويشنو (Vishnu) خداى حفظ كننده. جلوه‌هاى دهگانه اين خدا براى مردم در طول تاريخ عبارت است از: ماهى، لاك پشت، گراز، موجود نيمه آدم و نيمه شير، كوتوله، راما (Rama)تبر به دست، راما، كريشنا(Krishna)، بودا (Buddha) و كلكى (Kalki).


(2) آيين هندو فرقه‌هاى بى‌شمارى دارد كه با يكديگر در صلح و صفا به سر مى‌برند. پيروان هر يك از اين فرقه‌ها بر جنبه خاصى از دين تاكيد مى‌كنند و معمولا به يكى از خدايان روى مى‌آورند. طرفداران هر يك از شيوا و ويشنو جمعيت بزرگى را تشكيل مى‌دهند.
شيواپرستان عورت شيوا را نيز مى‌پرستند و آن را لينگا (Linga) مى‌نامند. مجسمه‌هاى لينگا و معابد آن نيز فراوان است.
از جمله ۱۲ بتخانه بزرگ و باشكوه كه به افتخار لينگا و براى پرستش آن بنا كرده بودند، معبد سومنات(Somanatba) است. ثروت هنگفت و خيال‌انگيز آن بتخانه كه چهارده گنبد طلا داشت، سلطان محمود غزنوى را تحريك كرد تا به سال ۴۱۶ هجرى قمرى به سوى آن لشكر كشد و خزائن انباشته از زر و سيم و گوهرهاى گرانبهاى آن را كه طى قرن‌ها گرد آمده بود، تاراج كند. هندوان حمله‌هاى سابق وى به بتخانه‌هاى ديگر را به علت خشم گرفتن بت معبد سومنات به آن معبد توجيه مى‌كردند. سلطان محمود با سپاهى انبوه به عنوان بت‌شكنى به سومنات حمله كرد و پس از كشتن گروهى بى‌شمار از هندوان، گرزگران خود را بر فرق مجسمه لينگا كوبيد. وى براى نشان دادن فتح نمايان خود قطعه‌اى از آن را به مكه معظمه و بغداد و بلاد اسلامى ديگر فرستاد.(3)
افرادى از شيواپرستان، به نام لينگاوات (vat - Linga) يعنى حاملان لينگا كه مسلكشان در قرن دوازدهم ميلادى پايه‌گذارى شده است، پيوسته مجسمه‌اى از لينگا را كه داخل كيف كوچكى است به گردن آويخته دارند. چيزهاي شگفت‌آورى مانند قربانى انسان و نوشيدن شراب در كاسه سر مردگان به برخى از فرقه‌هاى شيوايى نسبت داده مى‌شود. فرقه‌هاى شكتى (Sakti) به معناى نيرو، معتقدند قوه الهى در جنس لطيف قرار دارد. از اينجاست كه در معابد شكتى زنانى جوان مى‌رقصند. برخى از اين فرقه‌ها رقص‌هاى وحشيانه، آوازهاى گوش خراش و حركات جنون‌آميز را براى تكامل روحى لازم مى‌دانند.



نظريه تناسخ و تصور كارما


بر اساس قانون كارما (Karman) به معناى كردار، آدمى نتيجه اعمال خود را در دوره‌هاى بازگشت مجدد خود در اين جهان مى‌بيند. كسانى كه كار نيك انجام داده‌اند، در مرحله بعد زندگى مرفه و خوشى دارند و آنان كه كار بد مى‌كنند، در بازگشت با بينوايى و بدبختى دست به گريبان خواهند بود و چه بسا به شكل حيوان بازگشت كنند. به عقيده برخى تناسخيان، بازگشت انسان‌ها ممكن است به يكى از چهار صورت زير باشد كه تصادفا به ترتيب الفبا از جمادات تا انسان‌ها را شامل مى‌شود:


1. رسخ، يعنى حلول شخص متوفى در جمادات
2. فسخ، يعنى حلول شخص متوفى در نباتات
3. مسخ، يعنى حلول شخص متوفى در حيوانات
4. نسخ، يعنى حلول شخص متوفى در انسان‌ها (تناسخ).


سمسارا (Samsara) به معناى تناسخ در بسيارى از اديان و مذاهب جهان (حتى نزد برخى فرقه‌هاى انحرافى جهان اسلام) با عناوين گوناگون وجود داشته و دارد، (4) اما اين عقيده در آيين هندو از اهميت بيشترى برخوردار است. هندوان معتقدند آدمى همواره در گردونه تناسخ و تولدهاى مكرر در جهان پر رنج گرفتار است.
تنها راه رهايى انسان از گردونه تناسخ و تولدهاى مكرر در جهان پر درد و بلا پيوستن به نيروانا (Nirvana) است. اين كلمه در لغت به خاموشى و آرامش و در اصطلاح به فناى فى‌الله دلالت مى‌كند. نيروانا مورد توجه بوداييان واقع شده است.

فلسفه وحدت وجود


حكيمان و دانشمندان هندو مى‌گويند خدايان بى‌شمار آن دين همه مظاهر يك خداى واحد و بزرگند و تمام موجودات بخش‌هايى از كالبد عظيم الوهيت به شمار مى‌روند. از ديدگاه آنان اين جهان و همه اجزاى آن در حقيقت خيالى بيش نيست. اين خيال را مايا (Maya) يعنى فريب و وهم مى‌نامند. به عقيده آنان تمام اين صورت‌هاى وهمى سرانجام نابود مى‌شوند و تنها برهما كه ثابت و پايدار است، باقى مى‌ماند.
در قرون اخير عرفان هندويى غربيان را مسحور كرده است، همان طور كه عرفان اسلامى نيز در جلب غربيان به اسلام سهم زيادى دارد.
قوانين اخلاقى، تصوف و انديشه‌هاى لطيف آيين هندو از روزگار كهن جذابيت داشته است و تاثير تفكرات هندو بر اهل تصوف در مسيحيت و اسلام ديده مى‌شود.
اصول ايمان هندوان چهار چيز است:


1. الوهيت روح
2. وحدت موجودات
3. وحدت خدايان
4. وحدت مذاهب و اديان.


آيين هندو با خودمحورى ميانه‌اى ندارد و يك هندو مى‌تواند علاوه بر آيين خود به هر يك از اديان جهان بگرود. با اين وصف، شديدترين تعصب‌ها را مى‌توان ميان هندوان يافت. كافى است به ياد بياوريم كه مهاتما گاندى به سبب اعتقاد به برابرى هندوان و مسلمانان، مورد دشمنى گروهى از هندوان قرار گرفت و يكى از ايشان او را با گلوله كشت. ملى‌گرايى هندويى در دوره‌هاى اخير بسيار شدت يافته است و يكى از تازه‌ترين و خشن‌ترين مظاهر آن تخريب مسجد بابرى و كشته شدن تعداد بى‌شمارى از مسلمانان و هندوان در اين حادثه بود. مستمسك آنان در ارتكاب اين عمل اين بود كه مكان مسجد بابرى زادگاه بت راما بوده است. آنان با اين سخن ادعا مى‌كنند كه ويشنو (يكى از خدايان تثليث هندو) در آنجا به شكل بت راما جلوه كرده و به همين دليل، هندوان در آن مكان بتخانه‌اى ساخته بودند كه به مسجد تبديل شده است. آنان به همين بهانه بت‌هاى خود را بر ويرانه‌هاى مسجد نصب كردند و آنها را پرستيدند. هندوان تصميم دارند ساختمان بتخانه را در فرصت مناسب آغاز كنند.



فلسفه يوگي يا روش جوكيان


به عقيده هندوان، دستيابى به حقيقت يا اتحاد با خداى توانا از طريق يوگا (Yoga) يعنى يوغ نهادن حاصل مى‌شود. يوگا به رياضت‌هاى سخت و طاقت‌فرسا دلالت مى‌كند و معمولا با نشستن آرام و پيوسته به شكل چهار زانو و همراه با تامل انجام مى‌گيرد، اما شيوه‌هايى ديگر نيز معمول است، مانند ايستادن، وارونه ايستادن، خم شدن و آويختن دست‌ها و زيستن روى تختى كه سراسر آن ميخ‌هاى تيزى سر بر آورده است. اين عمليات چه بسا براى ده‌ها سال ادامه يابد و با مشقت‌هايى ديگر مانند پيش رو نهادن آب و تشنه به سر بردن همراه باشد.(5)
با آنكه هدف از رياضت وصول به حقيقت است، گاهى كشف و كراماتى را پديد مى‌آورد. يوگى (Yogin) معمولا آن امور را مانع كمال خود مى‌داند و بسيار مى‌شود كه به آن خوارق عادت ابدا توجهى نكند و از اظهار آن روى بگرداند.


حبس دم به گونه‌اى است كه بر اثر تمرين‌هاى سخت تنفس كاهش مى‌يابد و يوگى در طول سال به چند نفس بسنده مى‌كند. همچنين ضربان نبض و ساير كارهاى بدن را مى‌توان با يوگا در اختيار گرفت. در همه اين حالات بدن شيوه‌هاى نویى را برمى‌گزيند و زنده مى‌ماند. چه بسا يك يوگى را به مدت شش ماه دفن كنند و پس از اين مدت قبر او را بشكافند و او را بيرون آورند و وى با يك بار تنفس زندگى را از سر گيرد. توانايي‌هاى ديگرى نيز براى برخى از آنان ميسر مى‌شود، مانند رهايى از جاذبه زمين، متوقف كردن قطار، به جوش آوردن آب با يك نگاه و غيره. (6)
دانشمندان مغرب زمين به تكرار، آزمايش‌هاى علمى گوناگونى روى يوگيان انجام داده و واقعى بودن اين حالات را به اثبات رسانده‌اند. از جمله يك هيئت علمى فرانسوى به رهبرى دكتر بروس در ۱۹۳۶ تحقيقات و آزمايش‌هايى در باب يوگيان انجام داد و دستاوردهاى خود را منتشر كرد.(7)
 

حسين توفيقي. سایت گفتگوی تمدن ها


پي‌نوشت‌ها:
1- الميزان، ج ۱۰، صص ۳۰۲ - ۳۰۱.
2- كلكى موعود آخرالزمان است كه براى اصلاح جهان، شمشير به دست و سوار بر اسب سفيد، ظاهر خواهد شد.
3- معبد سومنات بارها ويران شده و شالوده بناى كنونى آن در سال ۱۹۵۱ نهاده شده است.
4- شاعرى از روى طنز، چارپايى را مخاطب قرار داده و اين رباعى را گفته است:
اى رفته و باز آمده بل هم گشته
نامت زميان مردمان گم گشته
ناخن همه جمع آمده و سم گشته
ريشت ز عقب در آمده دم گشته
5- آداب و شرايط يوگا در كتاب پاتانجالى آمده است و دانشمند بزرگ مسلمان، ابوريحان بيرونى آن را به عربى ترجمه كرده است.
6- لازم است تاكيد شود كه در امثال اين امور، شايعات بى‌اساس و داستان‌هاى بى‌پايه بمراتب بيشتر از واقع است.
7- مجله Medicale Presse، ش ۸۳، ۱۴ اكتبر ۱۹۳۶.

با تشکر از وبلاگ انجمن علمي اديان و عرفان تطبيقي دانشگاه فردوسي مشهد
[ سه شنبه بیست و یکم خرداد 1387 ] [ 15:56 ] [ دفتر شریعتکده ]

در میان مذاهب اسلامى تنها مذهب برخاسته از قرآن و سنّت راستین رسول اکرم ( ص ) مذهب شیعه است .
این مذهب ، در مقایسه با دیگر مذاهب مورد تأیید حکومت‏ها ، بهترین و غنى‏ترین برنامه‏ها را در زمینه‏هاى فقهى ، فرهنگى ، سیاسى و اقتصادى ارائه کرده است .
شیعه ، در هیچ زمان و شرایطى ، با ظلم و استبداد ، سازش ننموده و تسلیم حکومت‏ها و حاکمان جور نشده است ، و بدین جهت همواره مورد تهاجم دشمنان بوده وحکومت‏هاى استبدادى از هر گونه مبارزه و مخدوش کردن چهره نورانى‏اش دریغ نورزیده‏اند در سالهاى اخیر ، شاهد تهاجم شدیدى از طرف مخالفین بویژه وهّابیّت ، به فرهنگ نورانى شیعه بوده‏ایم و با توجّه به اعلام سفارت جمهورى اسلامى ایران در پاکستان ، فقط در ظرف یک سال ، 60 عنوان کتاب با شمارگان 30 میلیونى ، بر ضدّ شیعه ، چاپ و منتشر شده است‏ و ده میلیون و 685 هزار جلد کتاب به 20 زبان زنده دنیا ، ( غالباً بر ضدّ شیعه ) توسّط دولت سعودى در میان زائران خانه خدا ، توزیع شده است‏ .
در برخى از مؤسّسات پژوهشى ، کتاب‏هایى که در طول 14 قرن بر ضدّ شیعه چاپ و منتشر شده ، تهیّه و یا شناسایى شده ، و آمار آن‏ها از مرز 5000 عنوان تجاوز کرده است .
از این مجموعه ، 3000 عنوان به زبان اردو ، 1500 عنوان به زبان عربى و 500 عنوان به زبان‏هاى مختلف دیگر است.
محتویات این کتب مورد مطالعه قرار گرفته و تاکنون هزاران شبهه در صدها عنوان ، استخراج و گرد آورى شده است .
با این‏که این شبهات ، غالباً از افترا و دروغ و یا جهل ونادانى سرچشمه گرفته است ، ولى از مسؤولیّت اساتید ودانش‏پژوهان در پاسخ‏گویى به آن‏ها کاسته نمى‏شود.

بنابر این موسسه احیاء میراث علمی و فرهنگی شیعیان شبه قاره  هند در نظر دارد شبهات علیه شیعه اعم از انتقادات و اتهامات را جمع آوری نموده و پاسخ های آن که بتوسط بزرگان دانشمندان و محققان و مراجع داده شده یا پاسخ جدید اخذ نماید و در دست جوانان قرار بدهد تا نو نهالان شیعه از این تهاجم در ایمن باشند

با توجه به سنگینی کار از لحاظ علم، امنیت و اقتصاد. از تمام پیروان مکتب شیعه خواستار تعاون هستیم. پیش از پیش از هر گونه کمک تشکر می نماییم

[ سه شنبه هفدهم اردیبهشت 1387 ] [ 8:23 ] [ دفتر شریعتکده ]

انتقادات و اتهامات عليه شيعه

هر حرفي كه از طرف مخالفين عليه شيعه زده مي شود دو صورت دارد يا انتقاد هست يعني اينكه آن حرف واقعيت دارد ولي مخالف آن را درك نكرده است يا اتهام هست يعني اينكه از طرف مخالف دروغي عليه شيعه بسته شده كه اصلا واقعيت ندارد.

اما قبل از اينكه انتقادات و اتهامات عليه شيعه را مطرح كنيم معرفي مهمترين و معروفترين شخصيت ها و همراه با انتقادات و اتهامات عليه شيعه آن را متذكر مي شويم تا در راه جواب دهي مبناء و منبع در دسترس باشد.

معروف ترين شخصيت هاي سني كه به شيعه تهمت زده اند :

-                    ابن تيميه (‌ كتاب منهاج السنة )

-                    شاه عبد العزيز دهلوي ( كتاب تحفه اثنا عشرية )

-                    قفاري ( اصول مذهب شيعة )

 

ابن تيميه ( از عربستان )

1.       شيعيان در نمازها از قبله منحرف مي شوند : تزول عن قبلة شيئا

2.       سر و شانه هاي خود را در نماز تكان مي دهند : تنود في الصلاة

3.    برخي شيعيان نماز نمي خوانند به خاطر انتظار ظهور امام زمان و مي گويند اگر مشغول نماز شويم شايد در اين بين امام ظهور كند و ما از ايشان جا بمانيم

4.       زنان شيعه مهريه ندارند

5.       زنان شيعه عده نگه نمي دارند

6.       شيعيان اموال غير شيعه را براي خود مباح مي دانند

7.       شيعيان قرآن را تحريف لفظي كرده اند

8.       دشمن جبرئيل هستند و معتقدند كه جبرئيل خيانت كرده و وحي را بجاي اينكه براي حضرت علي ببرد براي محمد برده

9.       با عدد 10 مخالفند و ان را به زبان نمي آورند و هيچ كاري با محور ده انجام نمي دهند حتي ساختمان ده پايه اي نمي سازند .

10.    چون عايشه را دشمن دارند بزغاله را مي گيرند و نامش را عايشه مي گذارند و شكنجه اش مي كنند و آن را شكنجه عايشه مي دانند

11.    دو الاغ آسيا مي گيرند و نام دو خليفه اول را بر آن مي گذارند

12.    اسبي مي آورند در كنار سرداب سامراءو منتظر ظهور امام مهدي مي مانند و او را صدا ميزنند و مي گويند مهدي بيا و قيام كن .

 تمام اين مطالب را ابن تيميه ( كسي كه بعدها  وهابيت از روي تفكرات او شكل گرفت ) به شيعه در كتاب منهاج السنة نسبت داده است .

 

شاه عبد العزيز دهلوي ( از هند و پاكستان )

الف ) تهمتهاي فقهي

1-                    شيعه غائط ( مدفوع ) را نجس نمي دانند

2-                    برطرف كردن خود نجس را يك راه پاك شدن مي دانند

3-                    برخي از شيعه نماز خواندن به طرف قبور أئمه را جايز مي دانند

4-        برخي از شيعه چهار نماز ظهر و عصر و مغرب و عشاء را مستحب مي دانند كه پشت سر هم بخوانند به خاطر انتظار فرج

5-                    خوردن پوست حيوان ( مثل مرغ ) را مبطل روزه نمي دانند

6-                    لواط را مبطل روزه نمي دانند

ب ) تهمتهاي اعتقادي :

1- حضرت آدم و عيسي را معصوم نمي دانند

2- پيامبر را با حضرت علي مساوي ميدانند

3- تمام امت پيامبر را امت ملعونه ميدانند

4- اگر كسي دوست دار علي باشد او را بهشتي مي دانند هر چند يهودي و نصراني و هندو باشد

5 صحابه و خلفا را تكفير مي كنند

6- لعن خلفا را بعد از نمازهاي واجب واجب مي دانند

اين هم تهمتهايي كه اين عالم هند و پاكستان به شيعه در كتابش تحفه اثنا عشرية زده است .

 

قفاري (‌از عربستان )

1-                    اول كساني كه در امت اسلام قول به جسمانيت خدا را مطرح كردند شيعه بودند

2-                    در شفا گرفتن از خاك كربلا شفا را از خاك مي دانند نه از خدا

3-                    بعد از انقلاب در ايران اذان را تغيير داده اند و بعد از تكبير مي گويند خميني رهبر

 

بعد از ذكر مطالب فوق، وارد انتقادات و اتهامات عليه شيعه مي شويم منتهي انتقادات و اتهامات ذكر شده را تكرار نمي كنيم.

 

انتقادات

1.       عدل الهي

2.       مسئله امامت

3.       (اين دو مسئله فوق به چه دليل جزء اصول دين اند)

4.       اولويت آئمه بر تمام مخلوق حتي بر انبياء

5.       قدرت و اختيارات آئمه

6.       حضور آئمه همه جا

7.       علم غيب آئمه

8.       عصمت آئمه

9.       توسّل

10.    طلب شفاء از آئمه

11.    طلب شفاعت از آئمه

12.    پيدائش شيعه

13.    اگر شيعه عين اسلام ناب است پس چرا شيعه خودش را جدا از اسلام و مسلمين معرفي مي نمايد

14.    نوشتن نام بر روي سنگ قبور

15.    گريه بر مردگان و شهدا

16.    زيارت

17.    سلام و لعن در زيارتنامه ها

18.    تبرّك

19.    طواف دور قبور

20.    سجده بر مّهر

21.    روضه خواني و يادبود

22.    سينه زني

23.    جشن ها

24.    بوسيدن ضريح

25.    بوسيدن و احترام خاص نسبت به پرچم و شبيه ذوالجناح و تابوت

26.    احترام بقيع

27.    ذكر يا عليّ و يا حسين

28.    يا علي مدد (خواستن كمك از آئمه)

29.    گنبد و بارگاه ساختن

 

اتهامات

اگرچه مهمترين اتهامات قبلا ذكر شد ولي غير از آن ديگر هم وجود دارد كه در بعضي از مناطق معروف است ولي قائل آن مشخص نيست مثلا:

1-     شيعيان هر وقت به كسي غذا مي دهند اول در آن غذا تف مي كنند.!

2-     مرده را كه غسل ميت مي دهند در مقعد او چوب وارد مي كنند.

3-   سينه زني جايگاه و مقام شامخ پيامبر اسلام در قلوب و سينه هاي مسلمين است لذا باين عقيده سينه زني مي كنند كه كتك و هتك حرمت به پيامبر كرده باشند.

4-     تحريف قرآن

5-      شيعيان دشمن جبرئيل اند . قضيه خان الامين

6-     سب صحابه و دشمني از آنان

7-     مذهب شيعه بتوسط ابن سبا بوجود آمد.

8-     مراسم مذهب شيعه در زمان شاهان صفوي ايجاد شده اند.

9-   در مذهب شيعه خيلي از اعتقادات و مراسم ازدين هنود برگرفته شده است و با آنان شباهت زيادي دارند مثلا 1-هندو ها بت پرست اند شيعيان هم قبر پرستي مي كنند 2- هندو ها گاو را احترم مي گذارند شيعيان اسپ را بنام ذوالجناح احترم خاصي معتقد اند 3- هندو ها غذاء باقي مانده از گاو را تبرك مي گيرند شيعيان غذاء باقي مانده از ذوالجناح را تبرك مي گيرند4- هندو ها هم ده روز مراسم (رام ليلا‍‍( مي گيرند و در آن جنگ بين رام و راون نشان مي دهند و در آخر طرف مخالف كه راون باشد شبيه آن را درست مي كنند و مي سوزانند همين طور شيعيان ده روز مراسمي دارند كه در آن واقعه كربلا را بصورت تعزيه خواني نشان مي دهند 5- هندو ها در آن ايام لباس زرد رنگ مي پوشند و شيعيان لباس سياه مي پوشند.

دوست عزیز اگر بنظر شما هم انتقاد یا تهمتی علیه شیعه وجود داشته باشد برای ما بنویسید

[ سه شنبه سوم اردیبهشت 1387 ] [ 15:45 ] [ دفتر شریعتکده ]

بنام خدای مهربان

هفته اعیاد مبارک باد

از عید زهرا(س) تا عید پیامبر گرامی اسلام(ص)

عید نوروز - هولی (عید هندو های) - گد فرائدی (عید مسیحیان) و ولادت با سعادت حضرت امام جعفر صادق(ع) مبارکباد

[ دوشنبه پنجم فروردین 1387 ] [ 12:8 ] [ دفتر شریعتکده ]

باسمه تعالی

پايگاه مؤسسه احياء ميراث علمي و فرهنگي شيعيان شبه قاره هند راه اندازي شد

به آدرس 

www.miraath.com

 ديدن فرماييد

[ دوشنبه بیست و نهم بهمن 1386 ] [ 19:7 ] [ دفتر شریعتکده ]
       محرم در هند

بزرگ‌ترین جمعیت تشیع در جهان در شبه‌ قاره هند و پاكستان است. شیعیان هند در ماه محرم، مراسم باعظمتی را برگزار می‌كنند. در این مراسم به سخنرانی و بیان وقایع كربلا و سینه‌زنی پرداخته می‌شود. آنان علم‌هایی كه معروف به بیرق حضرت ابوالفضل(ع) است در اماكن متبركه خود به نام «امام باره» نگهداری می‌كنند و در روز عاشورا، طی مراسمی دسته‌جمعی بیرون می‌آورند.

شور مصیبت امام حسین(ع) تاثیر فراوانی بر زنان آن دیار باقی می‌گذارد به طوری كه النگوهای خود را می‌شكنند، سر خود را شانه نمی‌كنند، جواهرات بر خویشتن نمی‌آویزند و از پوشیدنی‌هایی به رنگ روشن خودداری می‌كنند. در برخی از شهرهای هندوستان مثل شهر «لكنهو» بناهای مختلفی وجود دارد كه مربوط به پیشوایان شیعه به خصوص شهدای كربلاست و به شكل‌ها و اندازه‌های مختلف ساخته‌اند.
آنان در مراسم عزاداری با كوبیدن بر سینه‌هایشان و زدن زنجیرهای تیغ‌دار بر پشت و سینه‌های برهنه خود و عبور از روی زغال گداخته، مجالس عزا را برگزار می‌كنند. همچنین در خانه‌های شیعیان به تعداد افراد خانواده، ماكت‌هایی شبیه حرم مطهر ائمه اطهار وجود دارد و آنان با روشن كردن شمع یا عود در كنار آنها حماسه كربلا را در قلب‌هایشان زنده نگه می‌دارند. علاوه بر این در هر خانه‌ای فرش عزا گسترده می‌شود و میز و صندلی و تخت و مبلمان كنار می‌رود.


موضوعات مرتبط: هند را بهتر بشناسیم
[ یکشنبه سی ام دی 1386 ] [ 18:33 ] [ دفتر شریعتکده ]
السلام علیک یا ابا عبد الله الحسین(ع) و علی الارواح التی حلت بفنائک علیکم منی سلام الله ابدا ما بقیت و بقی اللیل و النهار

السلام علی الحسین و علی علی بن الحسین و علی اولاد الحسین و اصحاب الحسین

اعظم الله اجورنا و اجورکم بعزاء الحسین علیه السلام

[ دوشنبه بیست و چهارم دی 1386 ] [ 12:17 ] [ دفتر شریعتکده ]

باسم المولی

عید سعید غدیر روز اکمال دین اتمام نعمت تایید رسالت و

تکمیل ایمان بر همه عاشقان ولایت مبارک باد

 

[ پنجشنبه ششم دی 1386 ] [ 18:17 ] [ دفتر شریعتکده ]

 

عصمت پيامبر اعظم(صلى الله عليه وآله)

در نزد معاصرينش

  

نگارش

سيد سبط حيدر زيدی

حوزه علميه مشهد

9359750753-0098

www.zaidi.blogfa.com

alhaq110@yahoo.co.in

s_hzaidi@hotmail.com

 

  

فهرست مطالب

مقدمه:

مناسبت و انتخاب موضوع و اهميت آن :

عقيده عصمت و تاريخچه آن

عقيده عصمت از طرف شيعه يا عقيده الهي؟

اصل مطلب:

معني عصمت: درلغت و اصطلاح

عصمت علمى و عملى

عصمت نسبى و مطلق

حقيقت عصمت

دلايل عقلى عصمت

دلايل نقلىِ عصمت

عصمت پيامبراعظم(صلى الله عليه وآله) در قرآن و قرآن كريم بعنوان معاصر

عصمت پيامبراعظم(صلى الله عليه وآله) در نزد اهل بيت(عليه السلام)

حضرت اميرالمؤمنين علي(عليه السلام) وعصمت پيامبراعظم(صلى الله عليه وآله)

عصمت پيامبراعظم(صلى الله عليه وآله) در نزد اصحاب(رض)

گفتگو سعد بن معاذ در جنگ بدر

داستان ذو الشهادتين

ارزيابى صلح حديبيّه

ابوبكر اولين خليفه مسلمين در خطبه اعتراف حقيقت مي كند

سهو النبى

نتيجه بحث

منابع و مدارك

 

 

مقدمه

انتخاب موضوع و اهميت آن:

عصمت پيامبر اعظم(صلى الله عليه وآله) موضوعي است كه تا بحال بر آن هزار ها كتب ومقالات قلم فرسائي شده ولي موضوع ما فقط عصمت پيامبر اعظم(صلى الله عليه وآله) نيست بلكه عصمت آنحضرت در نزد معاصرينش يعني ما خواهيم ديد كه افرادي كه با آنحضرت زندگي مي كردند آن هم حضرت را بعنوان معصوم نگاه مي كردند و به عصمت آن حضرت عقيده داشتند ؟ البته هم عصر بودن و زندگي كردن بآن حضرت كافي نيست چون ما هم با اساتيد وبزرگان زندگي مي كنيم و احيانا در طول عمر از آنان هيچ گناه و خطائي نمي بينيم ولي معنايش اين نيست كه آنان معصوم اند بلكه مقصود ما از هم عصر بودن و زندگي كردن با آنحضرت همراه با اعتقاد معصوم بودنش مي باشد لذا در واقع بعد از تحليل و تجزيه اين موضوع نه فقط عصمت پيامبر اعظم(صلى الله عليه وآله) ثابت مي شود بلكه عصمت تمام انبياء و آئمه طاهرين عليهم السلام وعلاوه بر اين ، اين مطلب هم روشن مي شود كه اين عقيده از ايجادات و ابتكارات شيعه نيست بلكه يك عقيده مسلم الهي است.

عقيده عصمت و تاريخچه آن

«عهد قديم» در كتاب مقدّس، پر از سخنان ناروايى است كه به پيامبران الهى(عليهم السلام)نسبت داده اند. به همين دليل، در آيين يهود، عصمت پيامبران(عليهم السلام)مطرح نبوده است.

علماى مسيحيت، هر چند مسيح(عليه السلام) را از هر گناه و خطايى پيراسته مى شمارند، ولى اين اعتقادشان بدان دليل است كه او را خدا و يا يكى از خدايان سه گانه مى دانند. بنابراين، نظر مسيحيان نمى تواند مبدأ بحث عصمت درباره پيامبران باشد.يعني آئين هاي كه در عصر حاضر وجود دارند هيچ انساني را بعنوان معصوم نمي شناسند غيراز مذهب حقه شيعه اثني عشري.

عقيده عصمت از طرف شيعه يا عقيده الهي؟

برخى تحليلگران شرق شناس مانند دونالدسن مسيحى و يا گلدزيهر يهودى مى گويند: مسأله عصمت براى نخستين بار به وسيله متكلّمان شيعه مطرح شده است; زيرا آنان براى برتر نشان دادن پيشوايان خود، مسأله عصمت پيامبران را در اثبات عصمت امامان خود مطرح كرده اند تا از اين طريق بتوانند پيشوايان خود را معصوم معرفى كنند.1

وبرخى از نويسندگان مسلمان مانند احمد امين مصري مى خواهند اثبات كنند كه شيعه بسيارى از عقايد خود را در مسائل مربوط به عدل الهى و عصمت پيامبران(عليهم السلام) از گروه معتزله گرفته است، در حالى كه ريشه بسيارى از عقايد مشترك ميان اين دو گروه را سخنان على(عليه السلام)تشكيل مى دهد، بلكه ساير گروه ها و اشاعره نيز هر كدام به نوعى پايه هاى فكرى خود را از امام اولِ شيعيان گرفته اند.2

جواب واقعي و تفصيلي از اين تحليل ها و قلم فرسائي ها آئينده خواهد آمد انشاء الله ولي آنچكه بايد گفت: اين است كه در قرآن كريم، به حقيقت عصمت اشاره شده و اين صفت، هم در مورد ملائكه الهى(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ)3 و هم در مورد خودِ قرآن آمده است. (لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ)4 علاوه بر اين ها، آياتى از قرآن، دلالت بر عصمت انبيا(عليهم السلام) در ابعاد گوناگون دارد كه به برخى از آن ها در ادامه اشاره خواهد شد. لذا عقيده عصمت از ايجادات و ابتكارات شيعه نيست بلكه يك عقيده مسلم الهي است.

اصل مطلب

معني عصمت: درلغت و اصطلاح

لفظ «عصمت» با مشتقّاتش سيزده بار در قرآن وارد شده و اين لفظ از نظر ريشه لغوى،بيش از يك معنا نداردوآن«تمسّك و نگاه دارى» يا «منع و بازدارى» است.5 اين لغت در آيه 102 سوره آل عمران چنين آمده است: «اعتصِموا بِحبلِ اللّهِ جميعاً ولاتَفرّقوا»; به ريسمان الهى چنگ بزنيد و آن را نگاه داريد و متفرّق نشويد.

گاهى «عصمت» به چيزى كه جنبه محافظ دارد و انسان را از حوادثِ بد باز مى دارد، اطلاق مى شود و از اين نظر، بلندى هاى كوه را «عصمت» مى نامند و از اين رو، در لغت عرب، به ريسمانى كه بار به وسيله آن بسته مى شود «عِصام» مى گويند; زيرا بار به وسيله آن از افتادن و پراكندگى بازداشته مى شود.

در هر صورت، مقصود از اين لفظ در بحث عقايد، مصونيّتِ گروهى از بندگان صالح خدا از گناه و اشتباه است. متكلّم معروف شيعه،فاضل مقداد(رحمه الله)مى گويد: «عصمت لطفى است الهى نسبت به مكلّف،به گونه اى كه باوجودآن،انگيزه اى براى ترك طاعت و انجام معصيت وجود ندارد، البته همراه با قدرت و اختيار نسبت به آن ها.»6 سايرانديشمندان عدليه نيز عقيده اى نزديك به اين دارند.

اما اشاعره عصمت را به قدرت بر طاعت و عدم قدرت بر معصيت تعريف كرده اند يا اين كه گفته اند: عصمت آن است كه خداوند در محلّ آن ها گناهى خلق نكند.7 اين گونه تعريف ها، با توجّه به مبانى مخصوصِ ايشان است.

بعضى از دانشمندان «عصمت»در اصطلاح علم عقايدرا اين گونه بيان كرده اند: «عصمت ملكه اى نفسانى است كه فرد را از گناه و خطا منع مى كند.» اما اين كه بازدارنده او خدا باشد يا ملكه نفسانى خودش، تفاوتى ندارد; چرا كه اگر بازدارنده را هم ملكه نفسانى بدانيم، باز خداوند است كه به شخص، توفيق داده تا اين ملكه را كسب كند يا اين كه خودِ خداوند به معصوم، اين ملكه را بخشيده تا او را از ارتكاب گناه و يا حتى اشتباه حفظ نمايد; يعنى حافِظ حقيقى خداست، ولى وسيله اى براى حفظ قرار داده كه آن، «ملكه عصمت»است.پس درعين اين كه تمام كارها مستندبه خداست، معصوم به اختيار خودش تركِ گناه مى كند و مجبور بر آن نيست.

براى وضوح معني عصمت، بايد به چند مطلب توجه كرد:

يكم. منظور از معصوم بودن پيامبران يا امامان(عليهم السلام) تنها انجام ندادنِ گناه نيست; زيرا ممكن است يك فرد عادى نيز به دليل وجود بعضى شرايط، مرتكب گناهى نشود، اما داراى ملكه خويشتن دارى هم نباشد; مثلاً، شخصى كه پيش از بلوغ و تكليف از دنيا مى رود و خطايى از او سرنزده و يا شخصى كه در نقطه دورافتاده اى واقع شده و يا در حبس قرار دارد و شرايط دست رسى به گناه ندارد، ممكن است مرتكب گناه نشوند و يا دستِ كم، نسبت به بعضى گناهان پاك باشند، اما چنين افرادى را داراى ملكه عصمت نمى گويند. كسى كه در تمام عمر هرگز شراب نديده و نخورده، داراى ملكه پرهيز از شراب نيست، اما اگر ديد و امكان دست رسى داشت و يا نديد اما به حالتى بود كه نفس او نسبت به آشاميدنِ شراب بيمه بود، داراى ملكه عصمت است. همين سخن در مورد ملكه عدالت، شجاعت و سخاوت نيز صادق است. پس مقصود اين است كه شخصى، داراى ملكه نفسانى نيرومندى باشد كه در سخت ترين شرايط نيز او را از ارتكاب گناه بازدارد; ملكه اى كه از آگاهى كامل و پايدار به زشتى گناه و اراده قوى بر مهار تمايلات نفسانى حاصل مى گردد و چون چنين ملكه اى با عنايتِ خاص الهى تحقّق مى يابد، فاعليت آن به خداى متعال نسبت داده مى شود،وگرنه چنان نيست كه خداى متعال، انسانِ معصوم را به اجبار از گناه بازدارد و اختيار را از او سلب كند كه دراين صورت، اشكالِ تنافى بين عصمت و اختيار پيش مى آيد.

دوم. لازمه عصمتِ هر كس، ترك اعمالى است كه بر او حرام مى باشد; مانند ترك گناهانى كه در همه شريعت ها حرام بوده و نيز كارهايى كه در شريعت متبوع او در زمانِ ارتكاب، حرام است. بنابراين، عصمت يك پيامبر با انجام عملى كه در شريعت هاى قبل يا بعد از وى حرام بوده و در شريعت خود او حلال است، خدشه دار نمى گردد.

سوم. منظور از «گناه» در تعريف «عصمت»، كارى است كه در كتب فقهى «حرام» ناميده مى شود، همچنين ترك عملى كه در فقه، «واجب»شمرده مى شود. اماواژه«گناه» و معادل هاى آن مانند «ذنب» و «عصيان» كاربرد وسيع ترى دارد كه شامل «ترك اولى» و «مكروه» نيز مى شود و انجام دادن چنين اعمالى منافاتى با عصمت ندارد.8  البته عصمت مراتبي دارد و آن هاي كه بر انتهاي مرتبه عصمت فائزاند از آنها ترك اولي و مكروه هم سر نمي زند.

چهارم. عصمت از ديدگاه ما شيعيان، امرى است واقع شده. بنابراين، نوبت به بحث از امكان و عدم امكانِ وقوع آن نمى رسد; چرا كه بهترين دليل بر امكان چيزى، وقوعِ آن است. اما از نظر عقلى، مى توان گفت: در تك تك اعمالِ انسان، اين امكان وجود دارد كه دقت به كار برد و به خطا نرود; همان گونه كه بسيارى از اعمالِ ما چنين مى باشد. همچنين ممكن است با توجه به مفاسد و عواقب گناهان، از آن ها دورى كنيم; همان گونه كه در بسيارى از اوقات، مرتكب برخى از كارهاى حرام نمى شويم. پس وقتى امكان عصمت در كارى وجود داشت، در ديگر اعمال نيز وجود خواهد داشت و مى تواند همه اعمال شخص را در برگيرد. پس «عصمت» امرى است ممكن و محالى را نيز در پى ندارد.

عصمت علمى و عملى

عصمت هم در بعد علمى مطرح مى شود و هم در بعد عملى. در عمومِ انسان ها، عصمتِ علمى از عصمت عملى جداست; يعنى شخص، ممكن است گاهى درست تشخيص دهد و بداند، اما عمل نكند; همان گونه كه ممكن است شخصى خطاكند و درست نفهمد، اما در عمل، سالم و مصمّم و با همّت باشد. اما معصومين عليهم السلام هم درست مى فهميدند و هم به عمل خود درست عمل مى كردند.9

عصمت نسبى و مطلق

عصمت ممكن است در همه موارد و زمان ها باشدچنان كه در مورد انبيا(عليهم السلام) مطرح است و ممكن است در بعضى زمان ها و نسبت به بعضى گناهان باشد. مى توان گفت: مراتبى از عصمت را هر انسانى داراست. هر شخصى به هر حال، بعضى اعمال را انجام نمى دهد و يا فكر انجام آن را هم نمى كند. بدين سان، ممكن است شخصى در اثر قوّت علم و عمل، به جايى برسد كه به طور مطلق، معصوم شود. پس در جواب اين سؤال كه آيا عصمت مانند نبوّت و امامت است كه نتوان با رياضت به آن دست يافت، بايد گفت: خير، عصمت امرى است قابل اكتساب و اختيارى و به همين دليل، كمال اختيارى است و قابل پاداش. گناه كردن براى معصوم محال ذاتى و ممتنع نيست، ولى به دليل قوّت علم و تقواى او، عملاً واقع نمى شود. در حقيقت، اگر عصمت براى انبيا و ائمّه اطهار(عليهم السلام) ارزش و نشانه عظمت نبود، الگو بودن و راهنما بودن آن ها براى ما معنايى نداشت.

پس مى توان گفت: هر امام و پيامبرى معصوم است، اما هر معصومى لازم نيست امام و پيامبر باشد; همچنان كه ما شيعيان عصمت را در بالاترين درجه، براى حضرت فاطمه(عليها السلام) معتقديم و افرادى مثل حضرت زينب و حضرت عباس(عليهما السلام) نيز معصوم مي باشند و دليلى بر انحصار عصمت در پيامبران و ائمّه اطهار(عليهم السلام)وجود ندارد.

نكته اى كه ذكر آن در اين جا لازم مى نمايد اين كه سخن گذشته با مطالبى كه در كتاب هاى كلامى آمده و بعضى عصمت را موهبتى الهى دانسته اند نه يك امر اكتسابى10 منافات ندارد; زيرا آنچه بخشش الهى است عصمت كامل و منزّه بودن از گناه و خطا در سراسر عمر است از ابتداى طفوليت تا اواخر پيرى، اما آنچه قابل كسب است اين كه انسان پس از رسيدن به علم زياد و تقواى قوى، بتواند احتمال ارتكاب گناه و خطا را از بين برد. البته مي شود گفت عصمت يك امر اكتسابي است برائ همه انسان ها ولي برائ نمايندگان الهي با امر اكتسابي امر موهبتي هم است تا با مقصد بعثت سازگار باشد. و به اين رو آن عصمتي كه نمايندگان الهي دارند و امر موهبتي است به عصمت كبري و آن عصمتي كه امر اكتسابي است به عصمت صغري تعبير شده است.

حقيقت عصمت

عامل و رمزِ عصمت نسبت به گناه و خطا، عبارت است از:

تقوي

عصمت از گناه ناشى از درجه بالاى تقوا و پرهيزگارى است. عصمت مرتبه كاملِ عدالت و تقواست. اگر تقوا را يك نيروى درونى بدانيم كه انسان را از بسيارى از گناهان باز مى دارد، بايد عصمت را نيز يك نيروى باطنى بدانيم كه شخص را از ارتكاب گناه و حتى فكر آن به طور كلى باز مى دارد. از اين رو، بعضى از محقّقان در تعريف آن گفته اند: «عصمت قوّه اى است كه انسان را از ارتكاب گناه و انجام خطا باز مى دارد.»11

علم

بعضي از بزرگان مانند علاّمه طباطبائى(رحمه الله)، عصمت را نتيجه علم كامل به عواقب گناه مى دانند كه البته اين علم يكى از عواملِ دخيل در عصمت است.ايشان عقيده دارندكه هر علمى به لوازم گناه پديدآورنده مصونيت نيست، بلكه بايد واقع نمايى علم به قدرى قوى باشد كه آثار گناه در نظر فرد مجسّم گردد. در اين هنگام است كه صدور گناه از شخص به صورت يك محال عادى درمى آيد.12

در اين جا بايد دانست كه اولاً، علم همان گونه كه بازدارنده از گناه است، مانع خطا هم مى شود. ثانياً، دو عامل مذكور يا به تعبيرى دو نظر مختلف با هم منافات ندارند; چرا كه در حقيقت خودِ تقوا نيز زاييده علم است.

روح القدس

از برخى روايات استفاده مى شودكه عامل عصمت يك امر خارجى به نام «روح القدس» است. اين روايات، كه بعضى از آن ها در كتاب ارزشمند اصول كافى آمده، ظاهرشان حاكى از اين است كه «روح» ملكى نيرومندتر و بزرگ تر از جبرئيل است كه با رسول گرامى(صلى الله عليه وآله)بوده و پس از درگذشت ايشان، با امامان(عليهم السلام)مى باشد و درستى و استوارى آنان در گفتار و كردار، در پرتوِ وجودِ اين روح است.13

اين بيان در حالى است كه دسته اى ديگر از روايات مى گويند: «روح» از ذات معصوم جدا نيست، بلكه مرتبه اى از روحِ نبى است. امام باقر(عليه السلام)در كلامى به جابر مى فرمايند: «اى جابر، در پيامبران و جانشينان آن ها، پنج روح وجود دارد كه عبارتند از: روح قدس، روح ايمان، روح زندگى، روح قوّت، روح شهوت. در پرتو روح القدس، از آنچه ميان زمين و عرش رخ مى دهد، آگاه مى شوند و همه اين ارواح دچار خلل و آسيب مى شوند، جز روح القدس كه هرگز دچار اشتباه و لغزش نمى گردد.»14

حال، چه روح القدس را يك عامل خارجى بدانيم و چه يك عامل درونى، در هر صورت، وسيله اى است براى تحقق اراده اى كه خداى متعال نسبت به شخص معصوم دارد و همانگونه كه اراده الهى موجب جبر نيست زيرا از مجراى اراده فرد تحقق مى يابد تأييد روح القدس هم موجب جبر نخواهد بود.البته مخفي نماند كه اختلاف در عوامل هيچ لطمه اي بر موضوع عصمت وارد نمي كند چون اين عوامل را كاملا مي شود بطور احسن جمع نمود مثلا باين طريق كه تقوي بر علم موقوف است و بدون علم حاصل نمي شود لذا عامل اصلي علم از عاقبت است نه تقوي و در واقع فقط همان علم عامل اصلي است نه چيز ديگر و حتي مدارج و طبقه هاي عصمت بر طبق علم منقسم اند. روح القدس هم كه در روايات آمده يا تعبير از همان علم هست يا اگر ملكي باشد آنوقت مخصوص به معصومين منصوص من الله مي باشد.

پس از روشن شدن مقدمات بحث، چند نظريه درباره اين مسأله و سپس استدلال شيعه بر رأى خود ذكر مى شود:

ديدگاه هاى گوناگون در مسأله «عصمت نبى»

بعضى از فرقه هاى كوچك اسلام، (گروه ازارقه از فرقه خوارج) كفر را بر انبيا(عليهم السلام) جايز مى دانند15

گروه حشويه قايلند كه ارتكاب كبيره، هم قبل از بعثت و هم پس از آن بر انبيا(عليهم السلام)جايز است.16 البته اين گونه نظرها ضعيف و غيرقابل اعتناست.

بعضى از معتزله17 عقيده دارند كه ارتكاب گناه كبيره پيش از بعثت بر انبيا(عليهم السلام) جايز بود، ولى پس از بعثت جايز نيست.

 بعضى18 هم ارتكاب گناه كبيره را نه قبل از بعثت و نه بعد از آن بر انبيا(عليهم السلام) جايز نمى دانند، ولى ارتكاب گناهان صغيره اى را كه موجب تنفّر نباشد عيب نمى دانند.

اشاعره ارتكاب گناهان كبيره و صغيره هايى را كه نشانه پستى عامل آن باشد (مانند دزديدن يك لقمه غذا يا آفتابه)، پس از بعثت، عمداً يا سهواً، جايز نمى دانند و نيز گناه صغيره اى را كه نشانه پستى عامل آن نبوده ولى از روى عمد انجام شده است، جايز نمى دانند.19

شيعه اماميه، ارتكاب گناهان كبيره و صغيره، عمدى و سهوى را توسّط پيامبران(عليهم السلام)پيش از بعثت و پس از آن جايز نمى دانند.

پس ديدگاه هاى گوناگونى كه درباره عصمت انبيا(عليهم السلام) وجود دارد، در يك يا چند مرحله از مراحل ذيل خلاصه مى شود: عصمت در مقام تلقّى، پذيرش، حفظ و ابلاغ وحى و رسالت; عصمت از گناه; عصمت از خطا; عصمت از گناه كبيره; عصمت از گناه صغيره; عصمت ازگناه عمدى يا سهوى; عصمت از صغيره اى كه نشانگر پستى فاعل است; عصمتِ از صغيره اى كه حاكى از پستى فاعل نيست; عصمت از كفر، از دروغ يا ساير گناهان.

دلايل عقلى عصمت

با توجه به مراحل و ابعاد عصمت، اينك دلايل عصمت كامل انبيا(عليهم السلام)، بخش اصلى و عمده عصمت، كه حقّانيت پيامبران(عليهم السلام)و كتب آسمانى منوط به آن است، به وسيله عقل و سپس دايره وسيع تر آن به وسيله نقل20 بيان مى شود. در بحث ضرورت بعثت انبيا(عليهم السلام)، لزوم وحى به عنوان راه ديگرى براى دست يابى بشر به شناخت هاى لازم و جبرانِ نارسايى و نقص حس و عقل انسان به اثبات رسيده است، ولى با توجه به اين كه افراد عادىِ انسان، مستقيماً از اين وسيله شناخت بهره مند نمى شوند و استعداد و لياقتِ دريافت وحى الهى را ندارند و ناگزير پيام الهى بايد به وسيله افرادى برگزيده يعنى پيامبران(عليهم السلام)به ايشان ابلاغ شود، چه ضمانتى براىِ صحّت چنين پيامى وجود دارد؟ از كجا مى توان مطمئن شد كه شخصِ پيامبر وحى الهى را درست دريافت كرده و آن را درست به مردم رسانده است؟ همچنين اگر واسطه اى بين خدا و پيامبر وجود داشته، آيا او نيز رسالتِ خود را به طور صحيح انجام داده است؟

راه وحى در صورتى كارايى لازم را دارد كه از مرحله صدور از علم مطلق خداوند متعال تا مرحله وصول به مردم، از هرگونه تحريف و دستبرد عمدى و سهوى مصون باشد، وگرنه با وجودِ احتمال سهو و نسيان در واسطه يا وسايط يا تصرّف عمدى در مفاد آن، بابِ احتمالِ خطا و نادرستى در پيامى كه به مردم مى رسد، باز مى شود و موجب سلبِ اعتماد از آن و نيز پايمال شدن هدفِ رسالت و بعثت انبيا(عليهم السلام)كه رساندن بشر به كمال نهايى استمى شود. پس از چه راهى مى توان اطمينان يافت كه وحى الهى به طور صحيح، سالم و كامل به دست مردم مى رسد؟

روشن است هنگامى كه حقيقت وحى بر مردم مجهول بوده و استعدادِ دريافت و آگاهى از آن را نداشته باشند، راهى براى بررسى و مطابقتِ كار واسطه هاى الهى با آنچه دستور داده شده است، ندارند; و تنها در صورتى كه محتواى پيامى مخالفِ احكامِ يقينى و قطعى عقل باشد، خواهند فهميد كه خللى در آن وجود دارد. البته اين را هم فقط كسانى خواهند فهميد كه داراى عقل كامل ترى هستند; مثلاً، اگر كسى ادعا كند كه از طرف خدا به او وحى شده كه اجتماع نقيضين جايز يا لازم است يا تعدّد و تركيب و زوال در ذات الهى راه دارد، مى توان به كمكِ حكم يقينى عقل، بطلانِ اين مطالب و كذب ادعاى وى را اثبات كرد. اما دايره اين گونه قضايا بسيار محدود و نياز اصلى ما به وحى، بيش تر در مسائلى است كه عقل راهى براى اثبات يا نفى قطعى آن ها ندارد و نمى تواند با ارزيابى مفاد پيام، درستى و نادرستى آن را تشخيص دهد. در چنين مواردى، چه مى توان كرد؟

پاسخ: همان گونه كه عقل با توجه به حكمت الهى و غرضِ رساندن بشر به كمال، درمى يابد كه بايد راه ديگرى غير از حس و عقل براى شناخت حقايق و وظايف عملى وجود داشته باشد هر چند از حقيقت و كنه آن راه آگاه نباشدبه همين سان، درك مى كند كه مقتضاى حكمت الهى اين است كه پيام هاى او سالم و دست نخورده به دست مردم برسد، وگرنه نقضِ غرض خواهد شد و مقتضاى علمِ مطلق الهى اين است كه بداند پيام خود را از چه راهى و به وسيله چه كسانى مى فرستد كه سالم به بندگانش برسد و نيز لازمه قدرتِ مطلق الهى اين است كه بتواند واسطه هاى شايسته اى برگزيند و ايشان را از هجوم شياطين و نفس سركش و آفت غفلت و نسيان حفظ كند. پس مقتضاى علم، قدرت و حكمت الهى آن است كه پيام خود را سالم و دست نخورده به بندگانش برساند وبدين گونه، مصونيّت وحى با برهان عقلى اثبات مى گردد.

با اين بيان و استدلال، مصونيت فرشته يا فرشتگان وحى و نيز مصونيت پيامبران(عليهم السلام) در مقام دريافت و حفظ وحى و نيز عصمت آنان از خيانت عمدى يا سهو و نسيان در مقام ابلاغِ پيام الهى، به اثبات مى رسد.21

بر اساس بيان گذشته و با توجه به وظيفه و نقش عظيمى كه پيامبران در هدايت و تربيت مردم دارند و از سويى، در مسائل اجتماعى و روابط بين عالم و متعلّم و تربيت كننده و تربيت شونده، وثوق و اعتماد لازم است تا تبادل فكرى و تربيتى انجام گيرد و عوامل ايجادكننده تنفّر، انزجار و گمراه كردن عملىِ مردم نبايد در بين باشد وگرنه خلافِ حكمت و غرضِ الهى از بعثت است، بنابراين، همان گونه كه در كتاب هاى متعدّد عقايد نيز اشاره شده، غرضِ تعليم و تربيتِ مردم اعتماد آنان را اقتضا مى كند و اعتماد آنان عصمت انبيا(عليهم السلام) را اقتضا مى نمايد تا به اين وسيله، غرضِ از بعثت محقّق شود. با اين توضيح، مى توان پاك بودن نبى رااز هرگناه بزرگ وكوچك و خطايى كه در هدفِ بعثت خلل ايجاد مى كند و موجبِ عدمِ اعتماد و پذيرش مردم است يا تنفّر مردم از پيامبر را در پى دارد،اثبات كرد. بدين روى،اين بيان وجود خُلق هاى زننده و بيمارى هاى منزجركننده رانيز نفى مى كند. دروجود پيامبر، هيچ امرى كه مضرّ به رسالت اوست، نبايد وجود داشته باشد.

اما در اشتباهات كوچك پيامبر يا گناهان ديگرى كه در هدف رسالت خلل ايجاد نمى كند و موجب تنفّر مردم و بى اعتمادى آن ها نمى شود، بايد ديد به وسيله ادّله نقلى مى توان آن ها را نفى كرد يا نه، كه در هر صورت، ضررى به سير منطقىِ مباحث اصول عقايد نمى زند و ما براى اعتقاد به نبى و شريعت او، به بيش از اين مقدار كه ثابت شد، نياز نداريم.

در ادامه بحث عقلى، به ادلّه گوناگونى كه نويسندگان متعدّد در اين قسمت ذكر كرده اند، اشاره مى شود:

1. دليل وثوق و اعتماد: اين دليل برگرفته از كلام خواجه نصيرالدين طوسى(رحمه الله)است.22 خلاصه دليل اين است كه پيامبران(عليهم السلام)براى هدايت و تربيت مردم آمده اند و تا آن ها معصوم نباشند، اعتماد مردم به آن ها زمينه تبعيت را فراهم نمى سازد. پس پيامبران(عليهم السلام)بايد معصوم از گناه و خطا باشند.

2. دليل عصمت از راه تربيت: بر حسب اين بيان، نبى نه تنها با راه آشنا و راهنماست، بلكه به انسان كمك مى كند و او را به مقصود مى رساند. پيامبر آمده است تا «انسان كامل» سازد و او را پرورش دهد. در بُعد تربيتى، بيش از هر چيز، عملكرد و منِش مربّى مورد توجه است. پس نبى بايد معصوم باشد تا هدفِ تربيت، تزكيه و انسان سازى جامه عمل بپوشد و هرگونه خطايى از او مى تواند به همان اندازه در اين هدف، خلل ايجاد كند.23

3. دليل لطف: عصمت انبيا(عليهم السلام) لطف است; يعنى موجبِ نزديكى مردم به طاعات و پرهيز از محرّمات مى شود و پيامبر معصوم بسى بهتر و بيش تر از پيامبرِ غيرمعصوم موجبِ هدايتِ مردم مى شود و لطف بر خداوند واجب است; يعنى فراهم كردن هر چه بيش ترِ زمينه هاى هدايت مردم به سوى حق بر او لازم است. پس عصمت در انبيا(عليهم السلام) ضرورى است. و البته هر قدر دايره عصمت گسترده تر باشد، لطف نيز بيش تر خواهد بود. بنابراين، مقتضاى رحمت الهى عصمت كامل انبيا(عليهم السلام) است.24

دلايل نقلىِ عصمت

بعد از اينكه واضح شد كه عصمت يك امر امكاني بلكه وجودي است و از دلائل عقلي هم به اثبات رسيد حالا مي رويم به اصل مطلب كه افرادي كه با پيامبر اعظم اسلام(صلى الله عليه وآله) هم عصر بودند و با آنحضرت زندگي مي كردند و شبانه روز با او نشست و برخاست داشتند آن ها پيامبر اعظم اسلام(صلى الله عليه وآله) را چه طور يافتند ؟ و آيا آن ها هم پيامبر اعظم اسلام(صلى الله عليه وآله) را معصوم درك كردند و به اين مطلب عقيده هم داشتند چون اگر اين مطلب واضح و ثابت شود آن وقت نياز به هيچ دليلي نداريم چون معروف و مشهور است ادل الدليل وجود آن شئ است.

عصمت در قرآن و قرآن كريم بعنوان معاصر

قرآن كريم اگرچه براي هميشه است وبه وقت خاصي اختصاص ندارد ولي بحيثت نزول مي شود در اصطلاح معاصر پيامبر اطلاق شود.

در قرآن،آيات متعدّدى بر عصمت دلالت مى كند. دانشمندان اين آيات را بر اساس مراحل عصمت تقسيم كرده اند; بعضى مربوط به مرحله ابلاغ رسالت، بعضى ناظر به عصيان و برخى درباره اشتباه است. در ادامه، به چند نمونه از آيات در اين زمينه اشاره مى شود:

در آيات 82 و 83 سوره ص خداوند از قول شيطان مى فرمايد: «قَال فَبِعزّتّكَ لاُغويَّنهم اَجمعينَ اِلّا عبادَكَ مِنهم المُخلَصينَ»; گفت: خدايا، به عزّتت سوگند كه البته همه انسان ها را گمراه خواهم كرد، بدون استثنا، مگر بندگان خالص تو را.

براى روشن شدن استدلال، بايد مفهومِ واژه «مخلَص» و تفاوت آن با كلمه «مخلِص» بيان شود: «مخلِص» اسم فاعل از مصدر «اخلاص» و به معناى كسى يا چيزى است كه عمل و عقيده خويش را در راه ايمان به خداوند خالص كرده است. اما «مخلَص» اسم مفهوم از مصدرِ «اخلاص» و به معناى كسى يا چيزى است كه به وسيله ديگرى خالص گرديده است. بنابراين، «مخلَصين» كسانى هستند كه با عنايت و امداد الهى، سراپاى وجودشان براى خداوند و به وسيله او خالص گرديده و از اين رو، شيطان را هرگز در آن ها راهى نيست.25

تعبير «مخلَص» بيش از همه بر معصوم منطبق مى شود; چرا كه معصوم كسى است كه هيچ گاه عصيان خدا و اطاعت شيطان و هواى نفس نمى كند. اين تعبير اگرچه مختص انبيا(عليهم السلام) نيست، اما بى ترديد، مظهر اتمّ آن انبيا(عليهم السلام) هستند.

در آيه 42 سوره حجر، شبيه دو آيه مذكور آمده و سپس خداوند فرموده است: «اِنَّ عبادي ليسَ لكَ عليهم سلطانٌ»; اى شيطان، تو بر بندگان من تسلّطى ندارى.

از سوى ديگر، در سوره ص پيش از آيات مذكور، برخى از اين بندگان خالص را نام مى برد كه اين نشان دهنده آن است كه منظور از «عبادى» يا «عبادنا» چه كسانى هستند. اين آيات ابتدا سه نفر از پيامبران(عليهم السلام) را به عنوان خالص شده هاى خداوند و سپس سه نفر ديگر را جزو خوبان مى شمارد.

در آيه 24 سوره يوسف، همين تعبير «مخلَص» را در مورد حضرت يوسف(عليه السلام) و در آيه 51 سوره مريم در مورد حضرت موسى(عليه السلام)به كار مى برد. اين آيات شاهدِ بر آن است كه اين امتياز مختصّ افراد محدودى از انبيا(عليهم السلام) نيست، بلكه ويژگى مقام و لازمه منصب الهى ايشان است.

آيه يا آيات ديگرى كه دلالت بر اين موضوع دارد، مربوط به اطاعت از انبيا(عليهم السلام) است. قرآن در آيه 64 سوره نساء مى فرمايد: «و ما هيچ پيامبرى را نفرستاديم، مگر براى اين كه اطاعت شود به اذن خداوند.» با توجه به اين آيه شريفه و آيات ديگرى كه در مورد اطاعت از خدا و پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله) يا ساير انبيا(عليهم السلام) وارد شده و با توجه به اين كه انبيا(عليهم السلام) و پيامبر اسلام(صلى الله عليه وآله) الگوى مردم هستند و به اين موضوع در آيه 21 سوره احزاب درباره شخص نبى مكرّم اسلام تصريح شده است26 به اين نتيجه مى توان رسيد كه سخن و عمل پيامبران(عليهم السلام)در همه عرصه ها و به طور كلّى، واجب الاطاعة و يا قابل پيروى است و اين نكته مستلزم پاك بودن آن ها از گناه و خطاست.

توضيح استدلال اين كه آيات كريمه به طور مطلق، دستور به اطاعتِ از رسول مى دهند و وقتى اطاعت از كسى مقيّد به زمانى خاص و فعلى به خصوص نباشد، همه گفتارها و كردارهاى وى قابل پيروى بوده و اين نشانگر آن است كه پيامبر گناه يا خطا نمى كند; چرا كه در صورت گناه و خطا، طبق دستور الهى، اطاعت از قول و عمل او واجب است. از سوى ديگر، محال است كه در صورت گنه كار و خطاكار بودن پيامبر، اطاعت از او مورد امر الهى واقع شود. در نتيجه، اعمال پيامبر بايد مطابق دستورهاى الهى بوده تا هميشه قابل پيروى باشد. همين دليل در مورد تمام اعمالِ خلاف يا صحيح پيامبر در تنهايى نيز صادق است; زيرا به عنوان مثال، اگر كسى آن كار را از پيامبر ببيند، مى تواند به او تأسى كند و همان مشكل دوباره پيش مى آيد.

خلاصه آن كه آيات الهى پيامبران را كاملاً منزّه و معصوم و قابل اطاعت در همه ابعاد و عرصه هاى گفتار و كردار مى داند. همان گونه كه اشاره شد، برخى از آيات قرآن ناظر به عصمت انبيا(عليهم السلام) در مقام تلقّى، حفظ و ابلاغ رسالت است كه بخش عمده عصمت و بخش مربوط به هدايت ما انسان هايى كه توفيق معاشرت با آن ها را نداشته ايم نيز همين مرحله مى باشد; از جمله آيات شريفه 26-28 سوره جن كه مى فرمايد: «عالمُ الغيبِ فلا يُظهِر على غيبه اَحداً اِلّا مَن ارتضى مِن رسول فاِنّه يَسلكُ مِن بينِ يَديهِ و مِن خَلفِه رَصَداً لِيعلَم اَن قد اَبلغوا رسالاتِ ربِّهم و اَحاطَ بِما لَديهم و اَحصى كلَّ شىء عدداَ»; «او (خداوند) آگاه از غيب است; كسى را بر غيب خود مطّلع نمى سازد، مگر آن كه او را از ميان رسولان برگزيد. در اين صورت، خداوند محافظان و مراقبانى از پيش رو و پشت سر آن رسول قرار مى دهد تا بداند كه رسولان رسالت هاى پروردگار خود را به خوبى ابلاغ كرده اند و او بر آنچه نزد رسولان است احاطه پيدا كرده و آنچه كه آفريده به خوبى شمرده و بر آن احاطه دارد.»

فاعلِ «اِرتضى» و «يسلُك» خداوند است. جمله هاى «مِن بينِ يديه و مِن خَلفه»يعنى پيش رو و پشت سرمى رساند كه خداوند رسول خود را با گماردن مراقب هايى حفاظت مى كند. در تفسير اين جمله، دو احتمال وجود دارد:

1. اين عبارت كنايه ازاين است كه مراقب ها اطراف قلب پيامبر را گـرفته و از نفـوذ عوامل مخرّب جلـوگيرى مى كنند; نه فراموشى به آن راه پيدا مى كند و نه شياطين در آن تصرف مى نمايند.

2. ممكن است بگوييم كه پيامبر هنگام دريافت وحى، دو حالت دارد: از آن نظر كه متوجه مقام ربوبى است، حالت پيش رويى دارد و عبارت «مِن بين يديه» اشاره به آن است، ولى آن گاه كه وحى الهى را دريافت كرد و متوجه ابلاغ شد، جريان برعكس مى شود; رو به مردم و پشت به مقام اخذ وحى مى كند كه عبارت «مِن خَلفه» اشاره به اين زمان است. در هر حال، اين آيه حاكى از آن است كه وقتى خداوند، غيب خود را بر رسولان آشكار مى كند، فرشتگان را از هر طرف مأمور مى كند كه آنان را در اخذ وحى و حفظ و نگاه دارى و ابلاغ آن مراقبت كنند تا دچار اشتباه و لغزش و نيز گناهى نشوند. خلاصه اين كه انجامِ چنين رسالتى بدونِ عصمت پيامبران(صلى الله عليه وآله) در مقامِ تلقّى و ابلاغِ وحى ممكن نيست. پس آنچه رسولان به ما مى رسانند همان است كه خداوند فرموده و دست خوش تغييرى نشده است.

مؤيّد اين معنا آيات شريفه ديگرى است كه احتمال هرگونه تغيير يا كم و زياد كردن در فرمان هاى الهى را نفى مى كند. گرچه آيه خطاب به پيامبر خاص است، اما ملاك عام بوده، مطلب در مورد ساير انبيا(عليهم السلام) نيز صادق است.

در آيه 15 سوره يونس مى فرمايد: «هرگاه آيات روشنِ ما بر خلق تلاوت شود، منكرانِ معاد، كه به ديدار ما اميدوار نيستند، به رسول ما اعتراض كرده، مى گويند: (اگر تو رسولى) قرآنى غير از اين نيز بياور و يا همين را به قرآن ديگرى مبدّل ساز! در پاسخ آن ها بگو: من چنين اجازه و قدرتى ندارم كه از پيش خود آن را تبديل كنم; من جز آنچه را به من وحى شود تبعيت نمى كنم. من ترس آن دارم كه مرتكب عصيان در برابر پروردگار خويش شوم و در نتيجه، گرفتار عذاب سختِ روز بزرگ رستاخيز گردم.»

در آيات 44-47 سوره الحاقّة مسأله مزبور با تأكيد بيش ترى مطرح گرديده و آمده است: «اگر محمّد به دروغ سخنانى به ما نسبت مى داد، محقّقاً ما او را به قهر و انتقام مى گرفتيم و سپس رگِ وتين (رگ حيات) او را قطع مى كرديم و هيچ يك از شما بر دفاع و جانب دارى از او قادر نبوديد.»

با توجه به اين آيه از اين جا دو تا مطلب بدست مي آيند يكي اين كه پيامبر اعظم(صلى الله عليه وآله) داراي عصمت است چون رسالت الهي را كما حقه رسانيده و دوم اين كه در عصمت خويش مختار است چون خدا وند نفرموده است كه محمد نمي تواند همچه كاري بكند.

عصمت پيامبر اعظم(صلى الله عليه وآله) در نزد اهل بيت(ع)

و حال سيرى كوتاه در ميان رويداد هاي تاريخي و روايات اهل بيت(عليهم السلام) داشته باشيم.

حضرت امير المومنين علي عليه السلام

يكى از احاديث درباره عصمت پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله)به طور خاص ـ سخن روشن و صريح اميرمؤمنان(عليه السلام) در خطبه «قاصعه» است، در نهج البلاغه، مولا مى فرمايد: : «ولقد قرن الله به من لدن ان كان فطيما اعظم ملك من ملائكته يسلك به طريق المكارم و محاسن اخلاق العالم ليلا و نهاراً»  «خداوند از همان ابتداى طفوليّت و شيرخوارگى، بزرگ ترين ملك از ملايك خود را با پيامبر هم راه و قرين كرد تا شب و روز راه بزرگوارى ها و خوبى هاى اخلاق رابه اوبنمايد.»اين كلام مسأله عصمت پيامبر(صلى الله عليه وآله)را پيش از بلوغ و پس از آن در خلوت و جلوت شامل مى شود.

دليل ديگرى كه عام است و عصمت همه پيامبران را اثبات مى كند، سخن امام رضا(عليه السلام) در مناظره با مأمون عبّاسى است.

شيخ صدوق(رحمه الله) در عيون اخبار الرضا(عليه السلام) نقل مى كند كه در جلسه اى، مأمون از امام رضا(عليه السلام) پرسيد: اى پسر رسول خدا، آيا اين سخن شما نيست كه «اِنّ الانبياء معصومون؟» (به راستى، همه پيامبران معصومند.) حضرت در جواب فرمودند: «بلى، سخن ماست.» او سپس به دنبال آن، مواردى از شبهات نسبت به عصمت حضرات آدم، يونس، موسى و محمّد(عليهم السلام)پرسيد و امام(عليه السلام)رفع اشكال نمود و عصمت آنان را تثبيت كردند.27

امام رضا(عليه السلام)به مأمون مى نويسند: «از اصول دين اماميه اين است كه خداوند هرگز اطاعت كسى را كه باعث گمراهى و فريب مردم مى شود، واجب نمى كند و هرگز از ميان بندگان خويش، كسى را كه مى داند به او كفر مىورزد و سر تسليم فرود نمى آورد و به جاى آن، به عبادت شيطان مى پردازد، برنمى گزيند و براى انجام رسالت خويش انتخاب نمى كند.»28 و باتوجه به اين كه پيروى از گناه كار و خطاكاردر هر دو صورتموجب گم راهى، فريب و انحراف مى شود يا دست كم، احتمال گم راهى و ضلالت دارد، اين حديث شريف تصريح مى كندكه هيچ گاه خداونداطاعت ازچنين پيامبرانى را بر مردم واجب نمى كند. پس شرط رسالت، عصمت است.

از جمله مؤيّداتِ بحث، دقت در كلمه «حجّت» است. اين واژه در بيانات ائمّه اطهار(عليهم السلام) واردشده است. «حجّت» يعنى آنچه دليل است وبراساس آن مى توان احتجاج كرد و وسيله اى است كه طرفين بر اساس آن مى توانند همديگر را مؤاخذه و محكوم كنند. وقتى به كسى گفته مى شود: «حجّت خدا»،سخن و عمل او حجّت است; اگر مردم خلاف او قدم بردارند، از طرف او وخدا مؤاخذه مى شوند و اگر از او تبعيت كنند،كسى حقّ مؤاخذه آن ها را ندارد و مى توانند پاسخ گو باشند كه كار و سخن ما بر اساس حجّت بوده است.

همچنين در زيارت «جامعه كبيره» و برخى ديگر از زيارات، تعابير بلندى در مورد ائمّه اطهار(عليهم السلام) و عصمت آن ها آمده است، با توجه به اين كه ائمّه اطهار(عليهم السلام)، وارثان و جانشينان انبيا(عليهم السلام)هستند، به نظر مى رسد مى توان اين عصمت را به پيامبران(عليهم السلام)نيز تعميم داد. در بخشى از اين زيارت مى خوانيم: «سلام بر شما، اى حجّت هاى خدا بر اهل دنيا و آخرت، اى دلالت كنندگان بر رضاى الهى. شهادت مى دهم كه شما ائمّه هدايت شده و رشد يافته، كامل، معصوم و... هستيد. خدا به خلافت شما در زمين راضى شده و شما را معصوم و از لغزش ها پاك كرده و از فتنه ها و آسيب ها در امان داشته است هر كس به شما چنگ زند و از شما پيروى كند، به راه الهى چنگ زده است و... .»29

 

عصمت در نزد اصحاب(رض)

عنوان مقاله ما در واقع به همين نكته بود لذا بياييم و ببينيم كه اصحابي كه با پيامبر اعظم اسلام(صلى الله عليه وآله) زندگي مي كردند آيا آن هم به آنحضرت همين عقيده عصمت داشته آن را درك مي كردند ؟

در اين زمينه شواهد تاريخي خيلي زياد هست و بسياري از اصحاب سمعا و طاعتا در خدمت پيامبراعظم(صلى الله عليه وآله)  حضور داشتند و خود را به عنوان عبيد پيامبر معرفي مي نمودند واين كلمه عبيد براي همين نكته بود كه اعتقاد آنان به نسبت پيامبر اولويت ، صدق و عصمت بود.

وحالا چند مثال و شواهد تاريخي هم ملاحظه بفرماييد:

گفتگو سعد بن معاذ در جنگ بدر

پيش از جنگ بدر، پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله) با اصحاب خود به مشورت پرداخت. ابتدا دو تن از مهاجران سخنانى بر زبان راندند كه آزردگى خاطر رسول خدا(صلى الله عليه وآله) را در پى آورد. آنگاه مقداد و سعد بن معاذ لب به سخن گشودند و جملاتى به زبان آوردند كه بيانگر فرمانبردارى كامل آنان از پيامبر خدا بود و از اعتقاد به جدايى ناپذيرى نبوت و عصمت حكايت داشت. بخشى از سخنان سعد بن معاذ چنين است :

پدر و مادرم فداى تو باد اى رسول خدا! ما به تو ايمان آورديم و تصديقت نموديم و گواهى داديم كه آنچه آورده اى همه حق است و از جانب خدا. به هر چه مى خواهى فرمان بده; هر آنچه را دوست دارى از اموال ما بردار و هر اندازه كه مى خواهى باقى بگذار...سوگند به خدا كه اگر دستور دهى تا خويش را به دريا زنيم، سرپيچى نخواهيم كرد.30

داستان ذوالشهادتين

پيامبر گرامى اسلام(صلى الله عليه وآله) از سواء بن قيس اسبى را خريدارى نمود و پيش از دريافت آن، با انكار فروشنده روبرو گشت، در اين هنگام، خزيمة بن ثابت انصارى به نفع رسول خدا(صلى الله عليه وآله)گواهى داد و بر انجام چنين معامله اى تأكيد ورزيد. پس از آن، پيامبر(صلى الله عليه وآله) از خزيمه پرسيد: «چگونه بر معامله اى گواهى دادى كه شاهد رويداد آن نبودى؟» خزيمه پاسخ داد

يا رسول اللّه! انا اصدقك بخبر السماء و لا اصدقك بما تقول؟31 اى رسول خدا! من تو را در نقل اخبار آسمانى راستگو مى دانم، چگونه سخنان ديگرت را دروغ بشمارم؟

پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله) اين سخن را پسنديد و براى سپاسگذارى از معرفت والاى خزيمه، گواهى او را برابر با گواهى دو نفر قرار داد و از آن پس به «ذوالشهادتين» معروف گشت

ارزيابى صلح حديبيّه

در رويداد حديبيه، وقتى پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله) مصلحت مسلمانان را در برقرارى پيمان صلح ديد و به فرمان خداوند از در آشتى با مشركان درآمد، عمر بن خطاب، با چهره اى بر افروخته، ابابكر را اين چنين مورد خطاب قرار داد: «آيا او فرستاده خدا نيست؟ مگر نه اين است كه ما مسلمانيم و آنان مشرك؟ چرا بايد به چنين پستى و ذلّتى تن دهيم؟» ابابكر در پاسخ گفت

انه رسول اللّه(صلى الله عليه وآله) و ليس يعصى ربّه.32 يقيناً او رسول خدا است و هرگز فرمان خداوند را ناديده نمى گيرد

خشم عمر با اين سخنان فرو ننشست و او سرانجام همين پرسش ها را با خود پيامبر(صلى الله عليه وآله) نيز در ميان گذاشت و آن حضرت در پاسخ فرمود

انا عبدالله و رسوله، لن اخالف امره و لن يضيّعنى;33 من بنده خدا و فرستاده اويم. هيچگاه از فرمان او سرپيچى نكنم و او نيز هرگز مرا خوار نسازد

افزون بر سخنان پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله) و ابابكر كه به روشنى بيانگر عصمت رسول خدايند، اعتراض عمر نيز از جدايى ناپذيرى نبوت و عصمت حكايت دارد; زيرا از آنجا كه عمر چنين پيمانى را خطا مى دانست، اين پرسش را در انداخت كه اگر او رسول خدا است، چرا بايد به چنين ذلّتى تن دهد. در حالى كه اگر در نظر وى، نبوت و عصمت از يكديگر جدايى مى پذيرفتند، اين احتمال نيز مطرح مى گشت كه محمّد «ص» پيامبر خدا است، اما در اين تصميم به خطا رفته است يعني در اين مقام مي شود گفت كه عمر نسبت به نبوت پيامبر مشكوك شد ولي نسبت به عصمت نبي نه !!!

 

ابوبكر اولين خليفه مسلمين در خطبه اعتراف حقيقت مي كند

ابن حجر در كتاب الصواعق المحرقه در باب اول ، فصل اول در كيفيت خلافت ابي بكر نقل مي نمايد : و اخرج احمد انه بعد شهر نادي في الناس الصلوة جامعة و هي اول صلوة نادي لها بذالك ثم خطب فقال ايها الناس وددت ان هذا كفانيه غيري و لئن اخذتموني بسنة نبيكم ما اطيقها ان كان لمعصوما من الشيطان و ان كان لينزل عليه الوحي من السماء.

و في رواية لابن سعد اما بعد فاني قد وليت هذا الامر و انا له كاره ولله لوددت ان بعضكم كفانيه الا وانكم ان كلفتموني ان اعمل فيكم بمثل رسول الله صلي الله عليه وسلم لم اقم به كان رسول الله صلي الله عليه و سلم عبدا اكرمه الله بالوحي و عصمه به الا و انما انا بشر و لست بخير من احدكم فراعوني فاذا رأيتموني استقمت فاتبعوني و اذا رأيتموني زغت فقوموني و اعلموا ان لي شيطانا يعتريني فاذا رأيتموني غضبت فاجتنبوني لا اوثر في اشعاركم و ابشاركم.34

كه در هر دو روايت كلمه اي از ماده عصمت استفاده شده است و اين رواياتي اند كه ابن حجر در مقام استشهاد در كيفيت خلافت ابي بكر را آورده است يعني بنزد آن نياز به بررسي سند هم ندارد.

سهو النبى

در پايان مقال، نگاهى كوتاه به مسأله «سهو النبى»; بحثى كه از قديم مورد توجّه دانشمندان مسلمان بوده و آثار زيادى را به خود اختصاص داده است. منظور از اشتباه و سهو در اين جا، هم خطاى در تطبيق امور شرعى است مثل اين كه پيامبر در ركعات نماز سهو نمايد35 و هم خطاى در امور عادى و مسائل شخصىِ روزمرّه مثل اين كه پيامبر در مقدار بده كارى خود به كسى اشتباه كند. اشاعره و معتزله در اين زمينه، قايل به جواز و امكان هستند; چرا كه ارتكاب گناه صغيره را سهواً جايز مى دانند. پس به طريق اولى اشتباه را ممكن مى دانند. اما اكثريّت قريب به اتّفاق اماميه اشتباه پيامبران(عليهم السلام) را جايز نمى دانند.36

شيخ بهايى در جواب شخصى كه مى گفت: مرحوم ابن بابويه به جواز سهو النبى قايل شده، سخن جالبى دارد: «بلكه ابن بابويه اشتباه كرده است; چرا كه او نسبت به پيامبر اولى تر است كه اشتباه كند و احتمال خطاى او بيش تر است.»37 (اذا دار الامر بين سهو النبي و بين سهو الشيخ فالنسبة السهو الي الشيخ اولي) اما به هر روى، علماى متعدّدى مانند شيخ مفيد، شيخ طوسى، محقّق حلّى، علامه حلّى، خواجه نصيرالدين طوسى، شهيد اوّل، فاضل مقداد، شيخ حرّ عاملى و علاّمه مجلسى(رحمهم الله) به جايز نبودن سهو النبى تصريح نموده و در مورد علّت آن، به مخالفت جواز اشتباه با اعتمادى كه انسان ها بايد به پيامبر داشته باشند و زيرسؤال رفتنِ اعمال و اقوال انبيا(عليهم السلام) و همچنين ايجاد نفرتِ مردم و نيز مردود بودنِ روايات اندكى كه حاكى از خطاى پيامبر است،استناد نموده اند38

نتيجه بحث

وفي الختام از مجموع اين نوشتار برمى آيد كه پيامبر اعظم اسلام(صلى الله عليه وآله)  همانطوري كه در واقع و حقيقت معصوم بودند معاصرين آنحضرت هم كه بر آن ايمان كامل آورده بودند به اولويت و صدق و عصمت آن اعتقاد داشته اند و افرادي هم كه در بعض از موارد ايراد و انتقادي مي گرفته اند نشانگر نقص در ايمان آنان مي باشد لذا هيچ مورد انتقادي يا تخلفي از اصحاب كامل الايمان ديده نشده است پس پيامبر اعظم اسلام(صلى الله عليه وآله)  بلكه تمام پيامبران الهى وحجت هاي الهيه(عليهم السلام) به دلايل عقلى و نقلى، در مقام ابلاغ دستورات الهى و در مقام علم و عمل معصوم هستند و در عين داشتن اختيار، مؤيّد به تأييدات حضرت حق براى انجامِ وظيفه بزرگِ هدايتِ بشريت مى باشند.

 واگرچه بسيارى از آيات و روايات بر بخشى از عصمت نبى دلالت مى كند، اما با مراجعه به مجموعه آيات و روايات، اعتقادِ شيعه اماميه در زمينه عصمت كامل آنان تثبيت مى گردد. كما اينكه ظاهر بعضي از آيات و برخي روايات هم بر خلاف عصمت دلالت دارند ولي علماء و بزرگان ما در محل خودش روايات را مورد بررسي سند و متن قرار داده و آيات را بر طبق روايات معصومين(ع) تفسير صحيح نموده اند و حتي كتاب هاي مفصلي مانند تنزيه الانبياء و غيره به رشته تحرير در آورده اند. خدايا مارا بر عقيده خالص و حقه نگهدار. آمين

 

والسلام

سيد سبط حيدر زيدی

حوزه علميه مشهد الرضا

عليه وعلی آبائه الف التحية والثنا




 

 

 

 


منابع و مدارك:

1ـ دونالدسن،عقيدة الشيعة، ص 328 / گلدزهير، العقيدة و الشريعة، ص 180

2ـ عمرو بن بحرابى عثمان الجاحظ، رسائل، تحقيق عمر ابوالنصر، ص 228

3ـ تحريم: 6

4ـ فصلت: 42

5ـ ابوالحسين احمد بن فارس بن زكريا، مقاييس اللّغة، ج 4، ص 331

6ـ فاضل مقداد، ارشاد الطالبيين، ص 301

7ـ السيدالشريف على بن محمّد الجرجانى، شرح المواقف، ج 8، ص 280

8ـ محمدتقى مصباح، آموزش عقايد، تهران، مركز چاپ و نشر سازمان تبليغات اسلامى، 1372، درس 24

9ـ عبدالله جوادى آملى، تفسير موضوعى قرآن مجيد، ج 9، ص 5

10ـ ر. ك. به: جعفر سبحانى، منشور جاويد، قم، دفتر انتشارات اسلامى، 1374، ج 5، ص 21. شيخ مفيد، علاّمه حلّى، فاضل مقداد و برخى ديگر عصمت را موهبتى الهى دانسته اند.

11ـ12ـ محمدحسين طباطبائى، الميزان، ترجمه سيدمحمدباقر موسوى همدانى، قم، دفتر انتشارات اسلامى، ج 2، ص 142 به نقل از: منشور جاويد، ج 5، ص 12/ ج2، ص 82

13ـ محمد بن يعقوب كلينى،اصول كافى،ترجمه وشرح سيدجواد مصطفوى، تهران، دفتر نشر فرهنگ اهل بيت(عليهم السلام)، ج 1، ص 273، كتاب «الحجّة»

14ـ همان، ج 1، ص 272

15ـ گروه ازارقه از فرقه خوارج

16ـ گروه حشويه

17ـ ابوعلى جبّايى و پيروان او

18ـ قاضى عبدالجبّار و پيروان او. ر. ك. به: قاضى عبدالجبار المعتزلى، شرح الاصول الخمسة، ص 575573

19ـ فاضل قوشچى، شرح تجريد الاعتقاد، ص 464

20ـ نظير اين بيان را در مورد علم معصومان(عليهم السلام) داريم; يعنى بخشى از علم وسيعِ امام و نبى لازمه وظيفه الهى آن هاست و عقل نيز اين را تأييد مى كند، اما نقل علم گسترده ترى را اثبات مى كند. در زمينه علم امام، رجوع كنيد به: اصول كافى، ج 1، ص 372 به بعد.

21ـ ر. ك. به: آموزش عقايد، درس 24

22ـ ر. ك. به: علاّمه حلّى، كشف المراد فى شرح تجريد الاعتقاد، قم، مؤسسة النشر الاسلامى، 1407 ق.، المقصد الرابع، المسألة الثالثة.

23ـ راه اول و دوم در بيش تر منابع كلامى آمده است; از جمله ر. ك. به: آموزش عقايد، ناصر مكارم شيرازى، رهبران بزرگ، منشور جاويد.

24ـ ر. ك. به: عبدالرزاق فياض لاهيجى، گوهر مراد، تصحيح و تعليق على ربّانى گلپايگانى،تهران،سازمان چاپ وانتشاراتوزارت ارشاد،1372،ص379

25ـ البته خالص كردن الهى با توجه به قابليت وجودى افراد و ديگر شرايط است و در هر حال، به نحوى نيست كه موجب سلب اختيار نبى شود، وگرنه وجود جبر، تكليف و پاداش و ارزش ها جايى نخواهد داشت. در دعاى «ندبه» درباره اوليا و پيامبران الهى(عليهم السلام) از جمله حضرت آدم و موسى و عيسى(عليه السلام)مى خوانيم: «اولئكَ الّذينَ استخلَصتَهم لِنفسِك و دينكَ...»، آن اوليايى كه آن ها را خالص كرده اى براى خودت و دينت ...

26ـ «لقد كانَ لكم فى رسول اللّهِ اُسوةٌ حسنةٌ.»

27ـ شيخ صدوق، عيون اخبار الرّضا(عليه السلام)، باب 15، ص 155

28ـ ر. ك. به: محسن غرويان و ديگران، بحثى مبسوط در آموزش عقايد، قم، دارالعلم، 1371، ص 85 / محمدباقر مجلسى، بحارالانوار، بيروت، مؤسسة الوفاء، 1403 ق.، ج 11، ص 76

29ـ ر. ك. به: شيخ عباس قمى، مفاتيح الجنان، باب زيارات جامعه

30ـ مجمع الزوائد و منبع الفوائد; على بن ابى بكر الهيثمى، بيروت: دار الكتاب، الثانية، 1967 م

31ـ مصنفات الشيخ المفيد، ج 4، 5 و 6، قم: المؤتمر العالمى لالفية الشيخ المفيد، 1413 ق

32ـ معانى الاخبار; الشيخ الصدوق، تصحيح على الكبر الغفارى، قم: انتشارات اسلامى، 1361 ش

33ـ مفاهيم القران; جعفر السبحانى، بيروت: دار الاضواء، الثانية، 1406 ق

34- ابن حجر الهيثمي المكي ، الصواعق الحرقه ،الباب الاول، الفصل الاول في كيفت اثبات خلافته. ص9

35ـ منشأ اصلى اين بحث از آن جاست كه روايات محدودى نقل شده كه در كتب روايى اصل تسنّن و شيعه آمده; مانند اين كه پيامبر(صلى الله عليه وآله) نماز ظهر يا عصر را اشتباهاً دو ركعت خواند و سپس با تذكّر مأمومان، متوجّه شد و جبران كرد و مضامين ديگرى در اين باره.

36ـ37ـ مرحوم صدوق و استادش، محمد بن حسن بن وليد، سهو النبى(صلى الله عليه وآله)را جايز مى دانند. ر. ك. به: الالهيات، نگارش حسن بن محمد مكّى العاملى، قم،المركزالعالمى للدراسات الاسلامية،1411 ق.، ج2، ص191 / ج2، ص190

38ـ براى اطلاع بيش تر. ر. ك. به: كتبى كه در اين زمينه نوشته شده است; از جمله الالهيات، ج 2، ص 180196 / منشور جاويد، ج 6، ص 129165

 

 

[ چهارشنبه پنجم دی 1386 ] [ 9:52 ] [ دفتر شریعتکده ]
.: Weblog Themes By WeblogSkin :.
درباره شريعتكده

مدیریت محترم شریعتکده
حضرت حجت الاسلام و المسلمین استاد سید سبط حیدر زیدی
9359750753-0098 ایران
9358623022-0091 هندوستان
امکانات وب

آمار سایت

ایران رمان