ھمارا مقصد اصلاح امت اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر ھے۔ جیسا کہ ھم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں
لیکن یہ کام عصر حاضر میں چند طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ھے
طریقہ اول: یہ کہ سختی کی جائے اور جس کو بھی دیکھیں کہ خلاف شرع یا خلاف عرف کا کام انجام دے رھا ھے اس کو کھیں یہ حرام ھے شرک ھے آپ کافر ھو مشرک ھو وغیرہ۔
اس طریقہ میں چند خرابیاں ھیں
۱- یہ طریقہ قرآنی نھیں ہے اس لیے قرآن کا فرمان ہے {جادلھم بالتی ھی احسن} و { لست علیھم بمسیطر} وغیرہ۔
۲- معصومین(ع) کی سیرت کے خلاف ھے اس لیے کہ وہ بھت نرم طریقہ سے لوگوں کی ھدایت فرماتے تھے ۔
۳- اس طریقہ سے ممکن ھے وہ ضد پر اتر آئے اور اصلا کھنا نہ مانے ۔
۴- اس کے ساتھ اور بھی افراد ھوجائیں اور ایک نیا گروہ بن جائے۔
۵- دشمنوں کو موقعہ مل جائے اور وہ اختلاف و فرقہ سازی میں اپنا حربہ و کردار ادا کریں
۶- استعمار و سامراج اس کو غنیمت سمجھتے ھوئےان لوگوں کی پشت پناھی کرنے لگے اور نتیجہ میں شعیت اور کمزور ھوجائے ۔
7- ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر آج اس فعل کو بطور مطلق حرام کہہ کرتبلغ کی جائے تو مخالفین کہیں گے کہ بات ان کے آج سمجھ میں آئی ہے جب کہ ہم چودہ سو سال سے کہہ رہے ہیں کہ یہ فعل حرام ہے !
جبکہ بمارا آج نظریہ ہے وہی چودہ سوسال پہلے بھی تھا اس لیے کہ مذہب شیعہ، دین محمدی و صراط علوی ہے
دوسرا طریقہ :
نرمی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ جو کام آپ کر رھے ھیں یہ کیا ھے اس کی نوعیت کیا ھے اس کیفیت کیا ھے۔
یھی قرآنی روش ھے اور معصومین(ع) کی سیرت بھی یھی ھے
اسی میں اصلاح کے امکان بھی ھیں
تیسرا طریقہ :
ان ھی کے ساتھ ھوا جائے اور جو بھی جو کام انجام دے اس کی تائید کرتے ھوئے ھوا کے رخ کے ساتھ چلا جائے اور کسی کو کچھ نہ کھیں یا ھر شخص کی تائید کرتے رھیں۔
یہ سب سے خطرناک طریقہ ہے اور اس طرح کے لوگوں پر روایات میں لعنت آئی ھے کہ جو بدعت و حرام فعل پر راضی ھوں ۔
لھذا بھترین طریقہ دوسرا طریقہ ہے خیرالامور اوسطھا۔
مثلا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنا
یھاں پر سمجھایا جائے کہ یہ کیا ہے سجدے کی نوعیت و کیفیت کیا نہ کہ مؤمنین کو مشرک و کافر جیسے الفاظ سے نوازا جائے اس مذکورہ بالا خرابیاں پیدا ھوسکتی ھیں۔
لہذا نہ ان کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جائے کہ جو وبابی حضرات کرتے ہیں ۔
یعنی جب کسی شیعہ کو کسی معصوم کے روضے کی چوکھٹ پر سجدے کرتے دیکھیں تو
اولا ؛ حسن ظن رکھیں کہ یہ انشائ اللہ سجدہ شکر کرہا ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی شیعہ کسی بھی معصوم کو خدا نہیں مانتا لہذا یہ سجدہ عبادت و پرستش کے طور پر تو یقینا نہیں ہے تو پھر یا سجدہ شکر ہے کہ انشاء اللہ یہی ہے یا پھر سجدہ تعظیمی ہے کہ جو ہمارے مذہب میں کسی کے لیے بھی ہو حرام ہے ۔
ثانیا ؛ چونکہ واضح ہوگیا کہ سجدہ عبادت و پرستش کے لیے نہیں ہے تو یقینا سجدہ کرنے والا شخص نہ کافر ہے اور نہ مشرک بلکہ مسلمان ہے پس اگر یہ سجدہ شکر کا تھا تو ماجور ہے اس لیے کہ ایک مستحب کام انجام دیا ہے۔ اور اگر سجدہ تعظیمی تھا تو اس کو سمجھایا جائے اس لیے کہ وہ ایک فعل ناجائز کا مرتکب ہوا ہے ۔ لیکن کافر یا مشرک نہیں ہوا ۔
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا بھی یہی نظریہ ہے
اس لیے کہ کافر و مشرک کے مسلمان سے احکام جدا ہیں
گناہ انجام دینے اور کافر ومشرک ہونے میں بہت فرق ہے
گناہ ہر مسلمان سے ممکن ہے انجام پاجائے لیکن کفر و شرک کا مسئلہ طہارت و نجاست سے لیکر آخرت تک سے مربوط ہے اس لیے کہ گناہ گار مسلمان کی توبہ کے ساتھ بخشش ممکن ہے