مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم

مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم

بسم الله الرحمن الرحيم

امام حسين عليه السلام : ان الحياة عقيدة و جهاد.

در ايام بهار وخوش رنگ طبيعت مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم با حضور علماء فضلاء و دانشمندان و طلاب عزيز

برگزار مي گردد.

زمان: دو شنبه ۲۳/۱/۱۳۸۹ مصادف با ۲۷/ ربيع الثاني ۱۴۳۱هق.و ۱۲/۴/۲۰۱۰ م

ساعت : ۱۰ الي ۱۲ صبح

مكان : مشهد مقدس خيابان شيرازي ۱۷ . نمائندگی جامعۃ المصطفیۖ العالمیہ

از تمام علاقه مندان به ويژه حضراتي كه در مقاله نويسي با ما همكاري نموده اند دعوت بعمل مي آيد.

مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم

مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم

بسم الله الرحمن الرحيم

امام حسين عليه السلام : ان الحياة عقيدة و جهاد.

در ايام بهار وخوش رنگ طبيعت مراسم اختتاميه همايش ذبح عظيم با حضور علماء فضلاء و دانشمندان و طلاب عزيز

برگزار مي گردد.

زمان: دو شنبه ۲۳/۱/۱۳۸۹ مصادف با ۲۷/ ربيع الثاني ۱۴۳۱هق.و ۱۲/۴/۲۰۱۰ م

ساعت : ۱۰ الي ۱۲ صبح

مكان : مشهد مقدس خيابان شيرازي ۱۷ . نمائندگی جامعۃ المصطفیۖ العالمیہ

از تمام علاقه مندان به ويژه حضراتي كه در مقاله نويسي با ما همكاري نموده اند دعوت بعمل مي آيد.

نتیجه گفتگو

ھمارا مقصد اصلاح امت اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر ھے۔ جیسا کہ ھم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں

لیکن یہ کام عصر حاضر میں چند طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ھے

طریقہ اول: یہ کہ سختی کی جائے اور جس کو بھی دیکھیں کہ خلاف شرع یا خلاف عرف کا کام انجام دے رھا ھے اس کو کھیں یہ حرام ھے شرک ھے آپ کافر ھو مشرک ھو وغیرہ۔

اس طریقہ میں چند خرابیاں ھیں

۱- یہ طریقہ قرآنی نھیں ہے اس لیے قرآن کا فرمان ہے {جادلھم بالتی ھی احسن} و { لست علیھم بمسیطر} وغیرہ۔

۲- معصومین(ع) کی سیرت کے خلاف ھے اس لیے کہ وہ بھت نرم طریقہ سے لوگوں کی ھدایت فرماتے تھے ۔

۳- اس طریقہ سے ممکن ھے وہ ضد پر اتر آئے اور اصلا کھنا نہ مانے ۔

۴- اس کے ساتھ اور بھی افراد ھوجائیں اور ایک نیا گروہ بن جائے۔

۵- دشمنوں کو موقعہ مل جائے اور وہ اختلاف و فرقہ سازی میں اپنا حربہ و کردار ادا کریں

۶- استعمار و سامراج اس کو غنیمت سمجھتے ھوئےان لوگوں کی پشت پناھی کرنے لگے اور نتیجہ میں شعیت اور کمزور ھوجائے ۔

7-  ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر آج اس فعل کو بطور مطلق حرام کہہ کرتبلغ کی جائے تو مخالفین کہیں گے کہ بات ان کے آج سمجھ میں آئی ہے جب کہ ہم چودہ سو سال سے کہہ رہے ہیں کہ یہ فعل حرام ہے !

جبکہ بمارا آج نظریہ ہے وہی چودہ سوسال پہلے بھی تھا اس لیے کہ مذہب شیعہ، دین محمدی و صراط علوی ہے

 

دوسرا طریقہ :

نرمی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ جو کام آپ کر رھے ھیں یہ کیا ھے اس کی نوعیت کیا ھے اس کیفیت کیا ھے۔

یھی قرآنی روش ھے اور معصومین(ع) کی سیرت بھی یھی ھے

اسی میں اصلاح کے امکان بھی ھیں

تیسرا طریقہ :

ان ھی کے ساتھ ھوا جائے اور جو بھی جو کام انجام دے اس کی تائید کرتے ھوئے ھوا کے رخ کے ساتھ چلا جائے اور کسی کو کچھ نہ کھیں یا ھر شخص کی تائید کرتے رھیں۔

یہ سب سے خطرناک طریقہ ہے اور اس طرح کے لوگوں پر روایات میں لعنت آئی ھے کہ جو بدعت و حرام فعل پر راضی ھوں ۔

لھذا بھترین طریقہ دوسرا طریقہ ہے خیرالامور اوسطھا۔

مثلا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنا

یھاں پر سمجھایا جائے کہ یہ کیا ہے سجدے کی نوعیت و کیفیت کیا نہ کہ مؤمنین کو مشرک و کافر جیسے الفاظ سے نوازا جائے اس مذکورہ بالا خرابیاں پیدا ھوسکتی ھیں۔

لہذا نہ ان کے ساتھ وہ  برتاؤ کیا جائے کہ جو وبابی حضرات کرتے ہیں ۔

یعنی جب کسی شیعہ کو کسی معصوم کے روضے کی چوکھٹ پر سجدے کرتے دیکھیں تو

اولا ؛ حسن ظن رکھیں کہ یہ انشائ اللہ سجدہ شکر کرہا ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی شیعہ کسی بھی معصوم کو خدا نہیں مانتا لہذا یہ سجدہ عبادت و پرستش کے طور پر تو یقینا نہیں ہے تو پھر یا سجدہ شکر ہے کہ انشاء اللہ یہی ہے یا پھر سجدہ تعظیمی ہے کہ جو ہمارے مذہب میں کسی کے لیے بھی ہو حرام ہے ۔

ثانیا ؛ چونکہ واضح ہوگیا کہ سجدہ عبادت و پرستش کے لیے نہیں ہے تو یقینا سجدہ کرنے والا شخص نہ کافر ہے اور نہ مشرک بلکہ مسلمان ہے پس اگر یہ سجدہ شکر کا تھا تو ماجور ہے اس لیے کہ ایک مستحب کام انجام دیا ہے۔  اور اگر سجدہ تعظیمی تھا تو اس کو سمجھایا جائے اس لیے کہ وہ ایک فعل ناجائز کا مرتکب ہوا ہے ۔ لیکن کافر یا مشرک نہیں ہوا ۔

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا بھی یہی نظریہ ہے

اس لیے کہ کافر و مشرک کے مسلمان سے احکام جدا ہیں

گناہ انجام دینے اور کافر ومشرک ہونے میں بہت فرق ہے

گناہ ہر مسلمان سے ممکن ہے انجام پاجائے لیکن کفر و شرک کا مسئلہ طہارت و نجاست سے لیکر آخرت تک سے مربوط ہے اس لیے کہ گناہ گار مسلمان کی توبہ کے ساتھ بخشش ممکن ہے

عبادت یا تعظیم

عبادت یا تعظیم

سجدہ تعظیمی کے سلسلے میں ہم دو عظیم اور مایہ افتخار شخصیتوں کے نظریہ کو پیش کرچکے ہیں اور اسلام میں کسی بھی چیز کے اثبات کے لیے دو شاہد عادل کافی ہیں اگرچہ اور بھی اگر ضرورت ہوئی تو انشاء اللہ ديکر حضرات کے نظریے بھی پیش کریں گے ۔ اب گفتگو کو اختتام کی طرف لے جاتے ہوئے حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی عظیم کتاب کشف الاسرار سے اپنے نظریے کی تائید میں آپ کے نظریہ کو پیش کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نظریہ امام خمینی ہی والا نظریہ ہے ۔

کشف الاسرار صفحہ 23 عنوان

 {{ فرق میان عبادت و تواضع}}

فرق میان عبادت و تواضع: اینکہ روشن شد کہ مبارزہ قرآن و اسلام با چہ عقاید و پندارھائ باطلی بودہ با قائلین بخدایان و بت پرستیھا و ستارہ پرستیھا و صدھا پندارھای ناھنجار از این قبیل بودہ چنانچہ در یک سورہ کوچک جملہ مطلب را بکفار گوشزد کردہ در سورہ کافرون کہ می فرماید: قل یا ایھا الکافروں لا اعبد ماتعبدون ولا انتم عببدون ما اعبد تا اینکہ می فرماید لکم دینکم ولی دین بکفار مکہ بگو اے کافران من عبادت نمی کنم آنچہ کہ شما عبادت میں کنید و شما ھم کہ عبادت نمی کنید آنچہ را کہ من عبادت می کنم یعنی نہ من حاضرم بت پرستی را اختیار کنم و نہ شما خدا پرست می شوید پس شما بادین خود و من بادین خود ھستم تا خداي عالم جزائ ھر یک را بدھد۔

باید ما در اینجا فرق میان عبادت و تواضع را روشن کنیم تا معلوم شود یکی از این دو کفر و شرک است وقرآن و اسلام بآن جنگیدہ و دیگری از ایمان و خوبیھا است و قرآن و اسلام بآن امر کردہ۔

خوانندگان گرامى همه پارسى زبان و بسیارى از آنان با لغت عربى نیز آشنائى دارند، عبادت از عبودیت است یعنى اظهار بندگى کردن و آن به پارسى پرستش است و پرستش در پارسى و عبادت در عربى عبارت از آن است که کسى را به عنوان اینکه او خداست ستایش کنند، چه به عنوان خدائى بزرگ یا خدائى کوچک، چنانچه مشرکین چنین بودند.... و تواضع که در فارسى فروتنى است غیر آن است. ... شما و همه عقلاى عالم در شب و روز کم و بیش با چند تن از دوستان و بزرگان و محترمین در خیابانها و برزنها برخورد مى کنید و نسبت به آنها احترامات لایقه و اظهار کوچکى و تواضع و فروتنى در خور هر کس را بجا مى آورید، نه شما عابد او شدید و پرستش او کردید و نه او معبود و پرستیده شما شد، تواضع و فروتنى را عقلاء و دانشمندان هر ملت و مملکت یکى از بزرگترین کمالات انسانى مى دانند که هر کس بیشتر به آن متصف باشد مورد ستایش بیشتر آنهاست، در عین حال که عبادت غیر خدا را و پرستش دیگر موجودات را نکوهش مى کنند در تمام ملل دنیا براى پیشوایان دین و دنیا مراسم احترامات معموله برقرار است وتمام عائلہ بشری کم و بیش باحترام و تواضع و فروتنی از بزرگی دینی یا دنیائی قائلند پس باید گفت ھمہ بشر کافرند و مشرک و تا لغت تواضع و احترام را از قاموس عالم محو نکنند و تا ھمہ مردم در موقع ملاقات یا یک دیگر مثل حیوانات بی اعتنائی نکنند از شرک خارج نمی شوند و بتوحید نمی رسند آیا وھابیھا و پیروان آنھا کہ در ایران معدودی  بی ارج ھستند خود دو وقت برخورد باھمکیشان خود چطور سکوک می کنند ھیچ تواضع و احترام نمی کنند و چون حیوانات ملاقات یک دیگر را برگزار می کنند یا احترامات لائقہ و مرسومات انسانی را معمول می دارند در این صورت آیا عبادت از بشری مثل خود کردند و پرستش غیر خدا نمودند و مشرک شدند یا نہ اگر بناچاری بگویند عبادت غیر از فروتنی و توضع است فرق را بیان کنند تا رسوائی و خیانت واضح شود۔

 

اردو ترجمہ

{{عبادت اور تواضع میں فرق}}

عبادت اور تواضع میں فرق: یہ واضح ہو چکا ہے کہ قرآن اور اسلام کا مقابلہ کن باطل افکار وعقائد سے تھا کہ جو متعدد خدا کو مانتے اور بت پرست و ستارہ پرست اور اسی طرح کے سیکڑوں نا مناسب افکار تھے لہذا ایک چھوٹے سے سورہ میں خداوندعالم نے کفار سے صاف صاف مطلب بیان کردیا ، سورہ کافرون میں ارشاد فرمایا << قل یا ایھا الکافروں لا اعبد ماتعبدون ولا انتم عببدون ما اعبد تا اینکہ می فرماید لکم دینکم ولی دین>> اے رسول کافروں سے کہدیجیے کہ میں اس کی عبادت نہیں کرتا کہ جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرتے ہو کہ جس کی میں عبادت کرتا ہوں ، یعینی نہ میں حاضر ہوں کہ بت پرستی کروں اور تم خدا پرست ہوسکتے، پس تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر ہوں تا کہ خدا ہر ایک کو اس کی حزا دے سکے۔

ہم یہاں پر عبادت اور تواضع میں فرق کو واضح کریں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دومیں سے ایک کفر وشرک ہے اور قرآن و سلام نے اس سے چنگ کی ہے اور دوسرا ایمان اور اچھائیوں میں سے ہے اور قرآن و اسلام نے اس لیے حکم دیا ہے۔

قارئین محترم سب فارسی زبان اور ان میں سے اکثر و بیشتر عربی زبان سے آشنا ہیں ، عبادت ،عبودیت سے ہے، یعینی اظہار بندگی کرنا اور فارسی میں پرستش ہے (ہندی میں پوجنا) اور فارسی میں پرستش و عربی میں عبادت اس چیز کا نام ہے کہ کسی کو خدا مانتے ہوئے اس کی حمد و ثنا کرنا چاہے بڑا خدا یا چھوٹا خدا کہ جیسے مشرکین معتقد تھے ۔ اور تواضع کہ جو فارسی میں فروتنی ہے وہ اس کے علاوہ ہے {تواضع و فروتنی یعنی کسی کے سامنے اپنے آپ کو حقیر و چھوٹا سمجھنا انکساری وغیرہ}۔۔۔۔ آپ اور تمام دنیا کے عقلا ہر روز وشب کم سے کم کچھ نہ کچھ دوستوں بزرگوں اور محترم شخصیتوں سے سڑکوں و کوچوں میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کےساتھ لائق و رائج احترامات کے ساتھ ملتے اور تواضع و فروتنی اور ان کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا پیش کرتے ہیں ، تو اس کا م سے نہ آپ عابد ہوئے اور نہ وہ آپ کا معبود ۔ تواضع و فروتنی کو ہر قوم و ملک کے عقلا ء و اہل علم سب کے سب انسانی کمالات میں ایک عظیم کمال شمار کرتے ہیں ، اور جس کسی میں یہ کمال جتنا زیادہ پایا جاتا ہے وہ اتنا ہی محترم سمجھا جاتا ہے ،جب کہ خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کو برا سمجھا جاتاہے ، دنیا کی تمام قوموں میں اپنے دینی و دنیوی بزرگوں کے لیے احترام کا طریقہ مخصوص ہے ، اور تمام انسان تواضع و فروتنی کو دینی یا دنیوی بزرگی مانتے ہیں ، پس تمام انسانوں کو کافر و مشرک کہا جائے  اور جب دنیا کی ڈکشنری سے تواضع وفروتنی کا لفظ نکال نہ دیا جاۓ اور تمام انسان آپس میں ملاقات کے دوران حیوانوں کی طرح نہ ملنے لگیں شرک سے خارج نہیں ہوسکتے اور توحید تک نہیں پہنچ سکتے۔کیا وھابی اور ان کے ماننے والے کہ جو ایران میں بہت تھوڑے ہیں وہ آپس میں ملتے ہوئے کیسے ملاقات کرتے ہیں کیا کوئی احترام و تواضع نہیں کرتے اور کیا جانوروں کی طرح ملتے ہیں یا لائق و رائج احترامات سے ملاقات کرتے ہیں توکیا اس صورت میں اپنے جیسے انسان کی عبادت کے مرتکب ہوتے ہیں  اور غیر خدا کی عبادت کرتے ہیں اورمشرک ہوجاتے ہیں یا نہیں مگر یہ کہ مجبورا کہیں کہ عبادت ، تواضع وفروتنی سے جدا ہے اور ان دونوں میں فرق ہے تاکہ ان کی رسوائی و خیانت واضح ہوجائے۔

گواہ از قرآن دربارہ این سخن:

بزرگترین مظابر تواضع و بالاترین مراسم خضوع سجدہ است کہ ما برائ غیر خدا جائز نمی دانیم بواسطہ نھی الھی در شریعت اسلام ھمین سجدہ کہ از ھر احترامی برتر و بالا تراست اگربعنوان عبادت و پرستش نشد شرک نیست بلکہ گاھی اطاعت امر خدا است و واحب است در قرآن کریم مکرر در مکرر سجدہ ملائک را بآدم

گوشزدفرمودہ کہ یک نمونہ از آن یاد می کنیم۔

سورہ بقرہ آیت 34۔ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

چون گفتیم بہ ملائکہ کہ سجدہ کنید برائ آدم ھمہ سجدہ کردند جز ابلیس کہ ابا کرد وسرکشی نمود و او از کافران بود۔ اینان کہ می گویند تواضع برائ غیر خدا شرک است باید در این قضیہ طرفدار ابلیس شوند و ھمہ ملائکہ را کافر و مشرک بدانند جز ابلیس را ، وخدا را در این امر بخطا دانند و نکوھش کنند کہ چرا ملائکہ را بشرک دعوت کردہ و از ابلیس کہ موحد ومتقی بود نکوھش نمودہ،  شاید گفتہ شود سجدہ ملائکہ از آدم بامر خدا بود و شرک نبود و احترامات شما بامر خدا نیست و شرک است۔

پاسخ این گفتار آن است کہ اولا اگر سجدہ ملائکہ بعنوان خدائی و پرستش آدم بود شرک بودہ اگرچہ خدا بآن امر کند ۔ وخدا نیز ممکن نیست چنین امر کند زیرا کہ این دعوت بشرک است و مخالف عقل است و اگر بعنوان پرستش نباشد شرک نیست اگر چہ خدا نفرمودہ باشد ۔

و ثانیا تواضع و احترام از دانشمندان و بزرگان محتاج بامر کردن نیست بلکہ خود عقل کہ راھنمائ انسان است باین طور چیز ھا پی می برد، از این جھت ھیچ کس از عقلا دیندار دنیا برائ  احترامات مرسومہ منتظر بامر خدا نشدند۔ آری اگر خدا از این طور تواضعی نھی کرد باید اطاعت کرد گرچہ شرک نباشد چنانچہ ما سجدہ بغیر خدا را بعنوان احترام نیز جائز ندانیم و اگر کسی برائ بزرگی سجدہ کرد بعنوان احترام او را گنھکار شماریم و از اطاعت خدا بیرون دانیم گرچہ او را کافر و مشرک ندانیم۔

و ثالثا ما کہ از مومنین و پیغمبران و امامان کہ مثل آعلای ایمان و کمال انسانیتند احترام و تواضع می کنیم بامر خدا است چنانچہ در سورہ مائدہ آیت 54 وارد است

يا ايها الذين امنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتي الله بقوم يحبهم ويحبونه اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين

ذلت کہ بالا ترین مراتب تواضع و فروتنی است اوصاف کسانی است کہ خدا آنھا را دوست می دارد و آنھا خدا را دوست میں دارند، آنھا کسانی ھستند کہ برائ مومنین و ھم کیشان خود در نھایت فروتن و متواضعند و با اجانب و کفار با کمال عزت نفس و بزرگواری رفتار کنند۔

اس  بیان کے متعلق قرآن کریم سے گواہ

تواضع وخضوع کا سب سے بڑا نمونہ اور سب سے بلند رسم سجدہ ہے ، ہم غیر خدا کے لیے جائز نہیں جانتے چونکہ شریعت اسلام میں نہی وارد وہئی ہے ، لیکن یہی سجدہ کہ جو ھر احترام سے بالا وبرتر ہے اگربعنوان عبادت و پرستش نہ ہو تو شرک نہیں ہے ، بلکہ کبھی کبھی واجب اور اطاعت امر خدا ہے جیسے کہ قرآن کریم میں باربار آدم کے لیے ملائکہ کے سجدے کا ذکر آیا ہے کہ جس میں سے ایک نمونہ یہ ہے ۔

سورہ بقرہ آیت 34۔ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

جیسے ہی ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو فورا سجدے میں چلے گئے سوائے ابلیس کے کہ اس نے منع کیا اور تبکر کیا اور وہ کافروں میںسے تھا ۔

یہ کہ جو کہتے ہیں کہ غیر خدا کے لیے تعظیم و تواضع شرک ہے تو ان کو چاہیے کہ اس قضیہ میں ابلیس کے طرف دار ہوں اور تمام ملائکہ کو کافر و مشرک سمجھیں، اور خدا کو اس امر میں خطاوارسمجھیں کہ کیوں اس نے ملائکہ کو شرک کی دعوت دی ۔ شاید یہ کہا جائے کہ آدم کو ملائکہ کا سجدہ خدا کے حکم سے تھا لہذا شرک نہیں تھا اور آپ کے احترامات خدا کے حکم سے نہیں ہیں لہذا شرک ہیں ۔

اس گفتگو کا جواب یہ ہے کہ اولا اگر آدم کو ملائکہ کا سجدہ بعنوان خدائي اور پرستش عبادت کے لیے تھا تو شرک تھا چاہے خدا ہی نے اس کا حکم دیا ہو۔ اور خدا بھی ممکن نہیں ہے کہ اس طرح کا حکم دے چونکہ یہ شرک کی طرف دعوت ہے اور عقل کے خلاف ہے اور اگر پرستش و عبادت کی نیت سے نہ ہو تو شرک نہیں ہے چاہے خدا نے اس کا حکم بھی نہ دیا ہو۔

و ثانیا بزرگ و محترم حضرات کا احترام کرنا خداوندعالم کے حکم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود عقل کہ جو انسان کی راہنما ہے اس طرح کی چیزوں کو درک کرتی ہے اسی وجہ سے کوئی کبھی دنیا کا عاقل و دیندار رائج مرسومات و احترامات کے لیے خدا کے حکم کے انتظار میں نہیں بیٹھتا ۔ ہاں اگر نے اس طرح کے کاموں کو خدا نے منع کیا ہو تو اطاعت ضروری ہے ۔ چاہے شرک نہ بھی ہو لہذا ہم غیر خدا کے لیے احترام کی نیت سے بھی جائز نہیں جانتے۔ اور اگر کسی سجدہ تعظیمی کرتا ہے تو وہ گنہگار ہے لیکن وہ کافر یا مشرک نہیں ہے ۔

اور ثالثا لیکن ہم کہ جو مومنین و انبیاء اورآئمہ کہ جو انسانیت کے کمال اور ایمان کے بلند درجہ پر ہیں ان کا احترام و تعظیم کرتے ہیں یہ حکم خدا سے ہے۔ جیسا کہ سورہ مائدہ 54 میں وارد ہے: يا ايها الذين امنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتي الله بقوم يحبهم ويحبونه اذلة على المؤمنين اعزة على الكافرين>> ذلت کہ جو تواضع و فروتنی کے عظیم مرتبے میں سے ہے وہ ان لوگوں کی صفت ہے کہ خدا ان کو دوست رکھتا ہے اور وہ خدا کودوست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ مومنین کے ساتھ انتہائی تواضع وتعظیم کے ساتھ ملتے ہیں اور کافروں سے ملاقات کے وقت بہت ہی عزت نفس و بزرگواری سے ملتے ہیں ۔

گواہ دیگر از گفتہ خدا

اکنوں آیہء آز قرآن کریم و گفتہ خدائ عالم نشان میدھم کہ راہ سخن بکلی بستہ شود و راہ پس و پیش برائ یاوہ سرایان نباشد۔

«و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»: يوسف - 100،

این آیت دربارہ ملاقات یعقوب و اولادش از یوسف وارد شدہ می گوید و بلابرد پدر و مادر خود را بروی تخت ، وافتادند بروی زمین و سجدہ کردند برائ یوسف ، و او گفت: اے پدر این تعبیر خوابی است کہ پیش از این دیدم خدا او را درست قرار داد۔

اکنوں یا باید یعقوب پیغمبر و اولادش را مشرک بدانیم و خدا را کہ مشرکی را بپیغمبری برگزید بر خطا دانیم و نکوھش کنیم یا سجدہ کردن را احترام متعارف در آن زمان بدانیم کہ خدا از آن نھی نکردہ بودہ تا پاکان را پلیدی وناپاکی یاد نکردہ باشیم۔

خداوندعالم کے کلام سے دوسرا گواہ

اب قرآن کریم اورکلام الھی کی وہ آیت پیش کروں کہ جس سے اصلا بات ختم ہوجائے اور ان جھوٹے لوگوں کے لیے کوئی راہ فرار نہ رہے ۔

«و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»: يوسف - 100،

یہ آیت یعقوب اور اولاد یعقوب کی یوسف سے ملاقات کو بیان کررہی ہے << اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے تخت پر بلایا وہ لوگ یوسف کے سامنے سجدہ میں گرپڑے تب یوسف نے کہا بابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے کہ جو پہلے دیکھا تھا خداونداعالم نے اس کو سچ کردکھایا ۔

اب یا یعقوب نبی اور ان کی اولاد کو مشرک جانیں اور خداکہ جس نے مشرک کو پیغمبری عطا کی، غلطی پر مانیں ، یا تعظیمی سجدہ کرنا اس زمانے کا رائج احترام فرض کریں کہ خدا نے اس سے منع نہیں کیا تھا تاکہ نیک و پاک حضرات کو برائی سے یاد نہ کریں۔  

یک حکمیت از خوانندگان۔

اکنون حکمیت و داوری را از خوانندگان محترم تقاضا داریم کہ کدام یک را اختیار کنیم، خطا کاری خدا را کہ دعوت بسجدہ آدم کردہ و مشرکان را کہ ملائکہ اند مطیع خواندہ و ابلیس را کہ از زیر بار سجود کہ شرک است شانہ تھی کردہ ، توبیخ و تکفیر کردہ و از قرب خود دور کردہ و یعقوب مشرک را بپیغمبری برگزیدہ و مشرکان را کہ از مومنین تواضع کنند دوست خود شمردہ ثابت بدانیم، و نیز قائل بشرک ملائکہ و پیغمبران و تمام عقلاء عالم شویم و فقط در بین جمیع موجودات ابلیس را موحد بدانیم کہ فقط بخدا سجدہ کردہ و سراغ نداریم از کسی دیگر تواضع و احترام کردہ باشد،

قارئین محترم سے ایک فیصلہ

اب قارئین محترم سے ایک قضاوت و فیصلہ کے خواہاں ہیں کہ ہم کس راستہ کو اختیار کریں ، خداوندعالم کی خطاکاری کہ جس نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور ملائکہ کہ جو مشرک ہیں ان کو اپنا مطیع کہا اور ابلیس کہ جس نے اصلا شرک نہیں کیا اس کو خدا نے تنبیہ و تکفیر کی اور اپنی بارگاہ  سے دور کردیا ، یعقوب مشرک کو پیغمبری عطا کی اور وہ مشرک کہ جو مومنین کے ساتھ توا ضع وتعظیم کرتے ہیں ان کواپنا دوست کہا اس کو صحیح سمجھیں اور ملائکہ تمام پیغمبراور تمام عقلا عالم کو مشرک سمجھیں اور تمام مخلوقات میں صرف ابلیس کو موحد جانیں کہ جو صرف خدا کے سجدہ کا قائل ہے اور ہم کو نہیں معلوم کہ شیطان نے کسی کی تعظیم و تواضع کی ہو ۔