حضرت علی اکبر علیہ السلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت علی اکبر علیہ السلام

اسم مبارک: علی ، حضرت امام حسین کی اولاد میں سے آپ منجھلے علی ہیں کہ جن کو علی اوسط کہا جاتا تھا اس طرح کہ علی اکبر امام زین العابدین علیہ السلام اور علی اصغر ششماہے شیر خوار کا نام گرامی تھا۔ لیکن یوم عاشورا کے بعد سے یہ نام اپنی خصوصیت سے تبدیل ہوگئےچونکہ تین میں سے دو علی یوم طف شہید ہوگئے اس لیے ان ہی میں سے بڑے کو علی اکبر کا خطاب مل گیا وہ علی اوسط سے آج علی اکبر مشہور ہوئے ۔(چمنستان محمد پر خزاں)

تاریخ و مقام ولادت : اگر چہ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے لیکن کسی حد تک معتبر روایات کے مطابق آپ  11/ شعبان المعظم 42ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے  ۔

والدہ ماجدہ : آپ کی مادر گرامی ام لیلی بنت ابوقرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی تھیں (ارشاد شیخ مفید) جناب ام لیلی کے والد قبیلہ بنی ثقیف کی ایک بزرگ آدمی تھے ۔

القاب : صدیق ، مظلوم، نجم العالمین، زکی ، سید ، ولی اللہ ، شہید، شبیہ رسول۔

کنیت: ابو الحسن، ابن رسول۔

پرورش : شاہزادہ کی تربیت ان حضرات کے زیر سایہ ہوئی جو دین اسلام کے سچے فدائی تھے ، حقانیت و معرفت کے پتلے ، ایمان کے مجسمےاور مواسات و ہمدردی کے مرقع تھے ۔عدل و انصاف کے قالب ، شجاعت و دلیری کے محور، علم وحکمت کے خزانے اور خلوص و صداقت کے مرکز تھے ۔ ایسی ہستیوں  کے زیرسایہ پرورش پانے والا بچہ جن کمالات و علوم اور فضائل و اخلاق کا حامل ہوسکتاہے ، وہ ظاہر ہے ۔

حضرت امام حسین علی اکبر سے بہت محبت کرتے تھے ، صاحب ناسخ التواریخ نے لکھا ہے کہ طاقت نسان و لطف بیان ،صباحت رخسارو ملاحت دیدار،نیکوئی خلق اور شمائل میں حضرت علی اکبر علیہ السلام سے زیادہ زمین پر کوئی بھی ہمشبیہ رسول نہ تھا ۔

اخلاق و عادات : حضرت علی اکبر علیہ السلام اخلاق میں ظل رسول تھے ۔ آپ کی زندگی کا ہر شعبہ رسالت کے ایام کو یاد دلاتا تھا ، اس لیے امام حسین علیہ السلام نے جناب علی اکبر کو متعلق ارشاد فرمایا: اللھم اشھد علی ھولاء القوم فقد برزالیھم اشبہ الناس خلقا و منطقا برسولک، کنا اذا اشفقنا الی نبیک نظرنا الی وجھہ۔ میرے معبود شاہد رہنا اس قوم پر کہ ان کی طرف وہ جوان لڑنے جارہا ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت و سیرت و رفتار و گفتار میں تیرے رسول سے مشابہ ہے ، اور جب ہم تیرے رسول کی زیارت کے متمنی ہوتے تو اسی کا چہرہ دیکھتے تھے ۔

اس کلام سے ثابت ہورہا ہے کہ جیسی صورت و سیرت رسول خدا کی تھی وہی علی اکبر کی تھی ۔

علامہ ابن شہر آشوب حضرت علی اکبر علیہ السلام کے ذکر میں فرماتے ہیں : آپ اپنے پدر بزرگوار کے مطیع و فرمانبردار صاحبزادے تھے ،احکام شریعت سے کما حقہ واقف تھے ،آپ انتہائی شجاع و متقی اور خداپر توکل رکھنے والے تھے ۔

مہمان نوازی: عرب میں یہ رواج تھا کہ جس گھر میں آگ روشن دیکھتے اس کے یہاں مہمان ہوتے تھے ۔ جناب علی اکبر علیہ السلام بھی ایک بلند مقام پر آگ روشن کرتے تھے تاکہ فقراء و مساکین آئیں اور آپ کے مہمان ہوں ۔

دشمن کی نگاہ میں خصوصیات : ایک مرتبہ معاویہ نے اپنے خلوت کے دربار میں اپنے اہل بزم سے کہا کہ  تمہاری نظر میں آج مسند خلافت رسول کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ سب خوشامد خوروں نے دست بستہ عرض کی کہ ہرلحاظ سے ہم تو تجھ ہی کو مستحق خلافت جانتے ہیں ۔معاویہ نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے انصاف سے دیکھو تو تمام عرب میں علی بن الحسین سے زائد ہرگز اس مسند کے لیے کوئی اور مستحق نہیں کیونکہ ان کے جد رسول خدا ہیں ، بنی ہاشم کی شجاعت اور بنی ثقیف کا حسن ان کی ذات میں جمع ہیں اور سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر رسول کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے ۔

جس وقت جناب علی اکبر علیہ السلام میدان جنگ میں تشریف لے گئے تو عمر سعد نے عسکر بن سعد کو حکم دیا کہ اے عسکر بن سعد اس کا مقابلہ کرو تو عسکر نے کہا: کہ میں اس سے مقابلہ نہیں کرونگا  اس لیے کہ یہ شبیہ رسول ہیں ۔

سفر کربلا: حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کا سفر اختیار کیا اور آپ کا قافلہ مقام زبالہ پر پہنچا تو آپ کو غنودگی طاری ہوگئی اس وقت آپ نے کسی کی آواز سنی کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارہے ہو اور موت آپ کا تعاقب کررہی ہے کہ آپ کو فردوس بریں لے جائے ،جب آپ بیدار ہوئے تو زبان پر کلمہ انا للہ و انا الیہ راجعون جاری فرمایا کڑیل جوان بیٹا فورا سامنے آتا ہے اور دست بستہ عرض کرتا ہے بابا اس وقت اس کلمہ کے زبان پر جاری کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ امام حسین نے ارشاد فرمایا اے لخت جگر میں نے ابھی خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارہے ہو اور موت آپ کا تعاقب کررہی ہے کہ آپ کو فردوس بریں لے جائے۔

جناب علی اکبر عرض کرتے ہیں: اے بابا اللہ آپ کو تمام مصائب سے محفوظ رکھے کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ بیٹے کا یہ کلام سن کر امام فرماتے ہیں قسم بخدا ہم حق پر ہیں ۔ شاہزادہ علی اکبر اس جواب کو سن کر خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ اے بابا اب ہمیں کوئی پروہ نہیں کہ موت ہم پر آپڑے یا ہم موت پر جاپڑیں۔ (وقعات کربلا)

صبح عاشور: صابر و شاکر امام نے رفقائے باوفا اور اعزائے نامدار سمیت عبادت خدامیں رات گذاری یہاں تک روز عاشور کی سپیدی نمودار ہونے لگی انجم فلک اس منظر کی تاب نہ لاکر غروب ہونے لگے امام مع جانثاروں کے مصلوں سے تجدید تیمم کے لیے اٹھے ایک بار آپ نے اپنی قلیل سی فوج پر نظر ڈالی کڑیل جوان بیٹے پر نظر امامت جمی حکم دیا بیٹا اذان کہو ہمشکل پیغمبر گلدستہ اذان پر تشریف لے گئے شبیہ پیغمبر نے لحن رسول اللہ میں اللہ اکبر کہا ادھر سیدانیاں ہمہ تن گوش ہوگئیں، عالم امکان محو ہوگیا ، وحوش وطیور جھومنے لگے ، میراخیال ہے علی اکبر سے اذان کہلواکر دشمنوں پر اتمام حجت کرنا مقصود ہو اس لیے کل کو یہ کہہ سکیں کہ پہچانا نہیں دن بھر کا موقع ہے دنیا دیکھ کر ضرور کہے گی کہ اس جوان رعنا نے صبح کو رسول کی آواز یاد دلائی تھی ادھر اذان ختم ہوئی بیبیاں خیموں میں اور مرد امام کے پیچھے نماز صبح میں مشغول ہوگئے۔

اول قتیل : نماز صبح اور اس کی تعقیات سے فارغ ہوکر امام نے اپنی قلیل سی فوج کی طرف دیکھا اور دشمن کی فوج کی طرف سے تیروں کی بارش ہونی شروع ہوگئی امام نے اپنے لشکر کو مرتب کیا اس طرح کہ میمنہ کا سردار زہیر قین کو اور میسرہ کا سردار اپنے بچپن کے دوست حبیب ابن مظاہر کو اور علمدار لشکر حضرت ابوالفضل العباس کو قراردیا اور قلب لشکر میں جناب علی اکبر کوکھڑا کیا ۔ جنگ شروع ہوئی اور ایک ایک کرکے اصحاب امام شہید ہوتے رہے ۔یہاں تک کہ ظہر عاشورہ  آگئي اور اب اقرباء  کی باری آئی ۔

علامہ ابوالفرج اصفہانی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی اسناد سے لکھا ہے کہ شہید اول حضرت علی اکبر ہیں اور زیارت ناحیہ میں بھی امام آخر الزمان نے اول قتیل کہہ کر سلام کیا ہے : السلام علیک یا اول قتیل من نسل خیر سلیل من سلالۃ ابراہیم الخلیل، میرا سلام ہو اس شہید پر جو نسل ابراہیمی میں سب سے پہلے شہید ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ مظلوم کربلا نے سب سے پہلے اپنے ہی لخت جگر کو قربان کیا تاکہ دوسروں کے لیے حجت قرارپائے ۔ اگر چہ بیشتر کتابوں میں یہ ہے کہ حضرت عباس کی شہادت کے بعد جناب علی اکبر شہید ہو‏ئے ۔

مزار شریف: حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر شریف کے کنارے پائین پا آپ کی قبر مطہر ہے ۔

محرم الحرام

تعزيه داري