ولادت با سعادت حضرت امام علی رضاعلیه السلام مباکباد
بمناسبت ولادت با سعادت حضرت امام علی رضاعلیه السلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت اورعلماء اہل سنت
سید سبط حیدر زیدی
مقدمہ
زیارت ایک ایسی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جس کے اثبات کے لیے کسی بھی دلایل و شواہد کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ یہ ایک فطری امر ہے اور فطری امور کے اثبات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ بدیھی طور پر ثابت ہوتے ہیں اور چونکہ دین مبین اسلام بھی دین فطرت ہے لہذا فطری امور میں اسلام کھبی بھی فطرت کےخلاف بات نہیں کرسکتا پس اگر زیارت فطری عمل ہے تو یقینا اسلام کی نظر میں اگر زیارت واجب نہ سہی تو مستحب ضرور ہے لہذا اس کا شرک و بدعت سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے، لیکن ہاں اس کی کیفیت و کمیت میں ممکن ہے کچھ قیل و قال پائی جاتی ہو۔ لیکن مطلق زیارت عین فطرت انسانی ہے کہ جو عین توحید ہے اوراس کو ہرمذہب و فرقہ کے لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر انجام دیتے ہیں ۔
عربی زبان میں ایک مقولہ ہے" ادل الدلیل وجوہ " کسی بھی شئی کے وجود اور ثبوت پر سب سے بڑی دلیل اس شئی کا موجود ہونا ہے زیارت کے سلسلے میں بھی کچھ یہی کیفیت ہے اور اس کے اثبات میں عقلی و نقلی دلائل کے بجائے خود عظیم و بزرگ علماء اسلام کا عمل، حجج الہی کی زیارت اور ان کے قبور مطہرہ کی زیارت سے مشرف ہونا خود اس بات کے حد اقل استحباب پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔
لہذا ہم زیارت کے اثبات کے سلسلے میں کسی دلیل کو پیش کیے بغیر علماء اہل سنت کے بزرگ علماء کی سیرت کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں تاکہ اگر کسی کے ذہن میں کوئی خطور آئے اپنے بزرگوں کی سیرت کے پیش نظر رکھتے ہوئے ذہن سے ہر طرح کے خیالات کو دور کردے۔
البتہ چونکہ یہ شمارہ زمان و مکان کے اعتبار سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے وابستہ سے مکانی لحاظ یہ ہے کہ یہ آنحضرت کے روضہ مبارکہ کے بین الاقوامی ادارہ سے مربوط ہے اور زمانی لحاظ یہ ہے کہ اس کا افتتاح بھی 11/ذیقعدہ یعنی آپ ہی کی ولادت با سعادت کے مبارک روز ہوگا لہذا مناسب یہ سمجھا کہ صرف حضرت ہی کی قبر مطہر کی زیارت سے مشرف ہونے والے علماء اسلام کا تذکرہ کردیا جائے۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزندارجمند اور مذہب حقہ شیعہ اثنا عشری کے آٹھویں امام ہیں آپ ایک ایسی نورانی شخصیت ہیں کہ آپ کے علم ودانش اور معنویت کا نور درخشاں فقط مذہب شیعہ ہی کو منور کیے ہوئے نہیں ہے بلکہ آپ کے نور کی شعائیں تمام اسلامی مذاہب و فرق اہل سنت کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہیں ، اس طرح کہ وہ بھی اپ کی مدح و ستائش پر مجبورہیں حضرت امام علی رضا کے روضہ مبارکہ کی زیارت، اوراس کے متعلق پیغمبراکرمۖ و اہل بیت کی روایات میں تاکید ، خصوصااہل سنت کی کتابوں میں آپ کی قبر پاک کی زیارت کے سلسلے میں معصومین کی سفارشات ، آنحضرت کی بلندی مقام کی نشاندہی اور آپ کے پاک مرقد کی زیارت کے سنت ہونے کو روزروشن کی طرح واضح کرتی ہیں کہ جن میں سے بطور نمونہ چند روایات پیش خدمت ہیں۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت،معصومین کی نظر میںمنابع اہل سنت سے
پیغمبراکرمۖ کی روایات
ـ حاکم نیشاپوری شافعی اپنی سند کے ساتھ حضرت امام رضا سے روایت نقل کرتے ہیں :
'' روی عن الامام علیٍّ الرضا عن آبائہ عن النبیّ ۖ انہ قال : ستُدفن بضعة منّی بخراسان ، مازارَھا مکروب ِالّانَفَّسَ اللّہُ کُربتَہ ولا مُذنِب اِلّا غفرَ اللہُ ذنوبَہ ''(١)
حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمۖ نے فرمایا : عنقریب میرے بدن کا ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا ، جوکوئی مشکلوں میں گرفتار شخص اس کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کی مشکلوں کو برطرف فرمائے گا اور جو کوئی گنہگار اس کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخش دے گا ۔
ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق سے ،انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے، انہوںنے امیر المؤمنین سے اور آپ نے پیغمبر اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور انورۖ نے ارشاد فرمایا:
''ستُدفنُ بضعة منّی بخراسان ، لایزورُھا مؤمن اِلّا اوجبَ اللّہُ لہ الجنّةَ و حرَّم جسدَہ علی النّارِ''۔(٢)
عنقریب میرے بدن کا ایک ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا جومؤمن بھی اس کی زیارت کو جائے گا خداوندعالم اس پر جنت کو واجب کردے گا اور اس کے بدن پر آتش دوزخ کو حرام کردے گا۔
ـ عایشہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ۖنے فرمایا:
'' من زارَولَدی بطوس فَاِنّما حجّ مَرّة ، قالت مرة ؟ فقال مرّتَین ، قالت : مرّتَین؟ فقال : ثلاثَ مرّاتٍ۔ فسَکتَتْ عایشةُ ، فقا ل: ولو لَم تسکُتی لَبَلَغتُ اِلی سبعین''۔(٣)
جو شخص میرے بیٹے کی طوس میں زیارت کرے گا گویا اس نے ایک حج انجام دیا ، عایشہ نے کہا: ایک حج؟ پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا : دو حج ، عایشہ نے کہا دو حج؟ آپ ۖ نے فرمایا : تین حج ۔ عایشہ خاموش ہوگئیں ، رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا : اگر خاموش نہ ہوتیں تو میں ستر حج تک بیان کردیتا ۔
اس روایت میں اگر غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عایشہ کے لیے حضرت امام رضا کی شخصیت اور طوس کا علاقہ اتنا مانوس اورمشخص و واضح تھا کہ کلمہ ''ولدی'' و'' طوس'' کے معنی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا بلکہ آپ کی زیارت کے ثواب کے بارے میں تعجب کیا ۔(٤)
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
ـ حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام موسی کاظم کو فرماتے ہوے سنا :
'' من زار قبرَ ولَدی علیّ کان لہ عند اللہ سبعین حجّة ، ثم قال وَرُبّ حجّةٍ لاتُقبَل ۔ من زارَہ اَو باتَ عندَہ لیلة کان کمن زارَ اَھلَ السموات و اذا کان یومُ القیامةِ ، وجدَ معنا زوّار آئمّتِنا اھلَ البیتِ واَعلاھم درجة و اَقرَبَھم حیوة زوّارُ ولدِی علیٍّ ''۔(٥)
جو شخص بھی میرے بیٹے علی کی قبر کی زیارت کرے گا خداوندعالم اس کو ستر حج کا ثواب عطا کرے گا، پھر فرمایااور نہ معلوم کتنے حج ہیں کہ جو قبول حق بھی نہیں ہوتے ۔ جو شخص ان کی قبر کی زیارت کرے یا ایک رات ان کی قبر کے قریب گزارے وہ ایسے ہے گویا تمام اہل آسمان کی زیارت کی ہے اور جب قیامت کا دن برپا ہوگا ہم آئمہ اہل بیت کے زائرین کو دیکھیں گے کہ وہ ہمارے اطراف میںہیں لیکن میرے بیٹے علی کے زائر کا مرتبہ بلند تراور حیات معنوی کے لحا ظ سے نزدیک تر ہوگا ۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام محمد تقی نے فرمایا:
''من زارَقبرَ اَبی غَفرَ اللّہُ لہ ما تقدَّ مَ مِن ذنبِہِ و ما تأخَّرَ ، و اذا کان یومُ القیامةِ یُنصَبُ لہ منبر بحِذائِ منبرِ رسولِ اللہِ ۖ حتّی یَفرُغُ اللّہُ مِن حسابِ عبادِہِ''۔(٦)
جو شخص بھی میرے والد گرامی کی قبر اطہر کی زیارت کرے خداوندعالم اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دے گا اور جب قیامت کا دن طلوع ہوگا تو اس کا مقام رسول خدا ۖکے منبر کے سامنے ہوگا یہاںتک کہ خداوندعالم تمام اہل عالم کے حساب سے فارغ ہوجائے ۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام
ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنے اسناد کے ساتھ صقر بن دلف سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام علی نقی سے سنا کہ آپ نے فرمایا :
'' مَن کانَت لہ اِلی اللّہِ حاجَة فلیزُرْ قبرَ جدِّی الرِّضا بِطوس ، و ھو علَی غُسلٍ ولیُصلِّ عندَ رأسِہِ رکعتینِ و یسألِ اللہَ تعالی حاجتَہُ فی قُنُوتِہِ ، فاِنَّہ یُستَجابُ لہ ما لم یسألہ فی مأثمٍ اوقطیعةِرحمٍ، و اِنّ موضعَ قبرِہ لَبُقعةمن بُقاعِ الجنّةِ، لا یزورُھامؤمن اِلّااعتقَہُ اللّہُ من النّارِ و اَدخلَہُ الدّارِ''۔(٧)
جس شخص کو کوئی حاجت پیش آئے وہ طوس میں میرے جدبزرگوار حضرت امام رضا کی قبر کی زیارت کرے ، اس حال میں کہ غسل کئے ہوئے ہو ، آپ کے سرہانے دورکعت نماز بجالائے اور نماز کے قنوت میں پروردگار سے اپنی حاجت طلب کرے ۔وہ دعاؤں کے مستجاب ہونے کا مقام ہے بشرطیکہ اس کی دعا قطع رحم یا گناہ کے سلسلے میں نہ ہو،جس مکان میں امام رضا مدفون ہیں وہ جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے ۔اس مقام کی جو مؤمن بھی زیارت کرے گا خداوندعا لم اس کو جہنم سے آزاد کرے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام
۔ جوینی شافعی اپنی اسناد کے ساتھ فضا ل سے روایت نقل کرتے ہیں :
''سمعتُ علیَّ بن موسی الرضا علیہ التحیة والثناء ۔ و جائَہ رجل فقال لہ : یا بنَ رسولِ اللّہ رأیتُ رسولَ اللّہ فی المنامِ کاَنَّہ یقول لی : کیفَ اَنتم اذا دُفِنَ فی اَرضِکُم بَضعَتی و استَحفَظتُم ودِیعَتی و غُیِّبَ فی ثَراکُم لَحمی ۔ فقال لہ الرضا: اَنا المدفونُ فی اَرضِکُم واَنا بَضعَةُ نبِیِّکُم واَنا الوَدِیعَةُ و اللّحمُ ، مَن زارَنی وھو یعرِفُ ما اوجبَ اللّہُ مِن حقِّی و طاعَتِی ، فَاَنا وآبائی شفعاؤُہ یومَ القیامةِ ومَن کنَّا شفعائَہ نجا، ولوکانَ علیہ مثلُ وِزر الثَقلَین الجنِّ والِانسِ''۔(٨)
حضرت علی بن موسی الرضا علیہ التحیة و الثناء سے سنا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور امام سے عرض کی: اے فرزند رسول میں نے حالت خواب میں پیغمبراکرم ۖ کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں : تمہاری حالت کیا ہوگی جب میرے بدن کا ٹکڑا تمہاری سرزمین میں دفن ہوگا،میری امانت تمہارے سپردکی جائے گی اور تمہاری مٹی میںمیرے گوشت کاٹکڑاغائب ہوگا؟۔ امام رضا نے جواب دیا : میںوہی شخص ہوں کہ جو تمہاری سرزمین میں دفن ہوگا اور میں تمہارے رسول ۖ کے بدن کا ٹکڑا اور میں ہی وہ امانت ہوںکہ جو شخص بھی خدا کی طرف سے واجب کردہ میری اطاعت اور میرے حق کی معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا تو میں اور میرے آباء و اجداد روز قیامت اس شخص کی شفاعت کریں گے اور جس شخص کی ہم شفاعت کریں وہ یقینا نجات پائے گا چاہے اس کے گناہ جن انس کے گناہوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت امام رضا مذکورہ واقعہ کی تائید میں حضرت پیغمبراکرمۖ سے روایت نقل فرماتے ہیں :
''و لقَد حدَّثَنی اَبی ، عن جدِّی ، عن اَبِیہ ، عن آبائہ اَنَّ رسولَ اللہِ ۖ قال: من رآنی فی منامہ فقد رآنی ، فَاِنّ الشیطانَ لا یتَمثَّلُ فی صورتی ولا فی صورةِ واحدٍ من اَوصیائی ، اَن الرُّؤیا الصادِقةُ جزئ من سبعین جزأ مِنَ النَّبُوَّةِ ''۔(٩)
حضرت امام رضا نے اپنے اجداد طاہرین سے اور انہوں نے حضرت رسول اکرمۖ سے روایت نقل کی ہے کہ آپۖ فرماتے ہیں : جو کوئی بھی مجھے خواب میں دیکھے اس نے واقعاً مجھے خواب میں دیکھاہے چونکہ شیطان میری صورت میںاور میرے اوصیاء کی صورت میں نہیں آسکتا ، سچاخواب ،نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔
اس روایت کی بنیاد پر تمام وہ خواب کہ جو اس قسم کے ہوں یعنی رسول اکرمۖ یا آپۖ کے کسی جانشین کو دیکھا ہو وہ حجیت رکھتے ہیں ۔
ـ حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے حضرت امام علی بن موسی الرضا نے فرمایا :
'' اِنِّی مقتُول مسمُوم مدفُون باَرضِ غربَةٍ ، اَعلم ذالک بعھدٍ عَھِدَہُ ِالیَّ اَبی عن اَبیہِ عن آبائہِ عن علیِّ ابنِ اَبی طالبٍ عن رسولِ اللہِ ۖ، اَلافَمَن زارَنی فی غُربَتی کنتُ اَناوآبائی شفعاؤَہ یومَ القیامةِ،ومَن کنّا شفعاؤَہ نَجا و لوکانَ علَیہ مثلُ وِزرِ الثَقلَینِ''۔(١٠)
میں زہر سے مقتول اور سرزمین غربت کا مدفون ہوں ، میںاس عہد سے واقف ہوںکہ یہ مجھ سے میرے باپ نے اور ان سے ان کے آباء واجدادنے، ان سے علی ابن ابی طالب نے اور آپ سے رسول اکرمۖ نے عہد کیا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ جو شخص بھی عالم غربت میں میری زیارت کرے گا میں اور میرے آبائواجداد اس کے شفیع ہوں گے اور جس کے ہم شفیع ہوں اس کی نجات یقینی ہے ، چاہے اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کی برابر ہوں ۔
جوینی نے اس روایت کو بہت زیادہ تعجب کے ساتھ اس طرح یاد کیا ہے : ''کرامة یا لَھا من کرامةٍ باھرةٍ! و بشارة لشفاعةِ الذُنوبِ ماحیةٍ غافرةٍ ''۔(١١)
واہ ! کیا کرامت ہے ،نورانی کرامت اور بشارت ہے گناہوں کی بخشش کے لیے ۔
ـ حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ نقل کرتے ہیںکہ حضرت امام رضا نے فرمایا :
''من زارَنی علَی بُعد داری أتیتُہ یومَ القیامةِ فی ثلاثةِ مواطِنَ حتّی اُخَلِّصَہُ مِن اَھوالِھا : اذا تطایرَتِ الکُتُبُ یمیناً و شمالاً ، و عندَ الصراطِ و عندَ المیزانِ ''۔(١٢)
جو شخص عالم غربت میںمیری زیارت کے لیے آئے گا میں روزقیامت تین مقامات پر اس کی فریادرسی کو پہنچوں گا : اس وقت کہ جب نامہ اعمال داہنے و بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے ، پل صراط سے گذرتے وقت اور جب اعمال تولے جائیں گے۔
ـ اسی طرح حاکم نیشاپوری شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت امام رضا کے خاد م یاسر سے روایت نقل کی ہے، امام رضا نے فرمایا :
'' لاتَشُدُّ الرِّحالُ اِلی شیئٍ من القُبورِ اِلّا اِلَی قُبورِنا، ألا واَنّی مقتول بالسمِّ ظلماً و مدفون فی موضعِ غُربةٍ ، فَمَن شَدَّ رحلَہ اِلی زیارتی استُجِیبَ دعائَہ و غُفِرَذُنوبُہ ''۔(١٣)
ہم اہل بیت کی قبروں کی زیارت کے علاوہ کسی کی بھی قبر کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھنا صحیح نہیں ہے ، آگاہ ہوجاؤ کہ میں زہر سے قتل کیا جاؤں گا اور عالم غربت میں دفن کیا جاؤں گا ، پس جو بھی میری زیارت کے لیے رخت سفر باندھے گا اس کی دعا مستجاب ہوگی اور اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
ـ محمد خواجہ پارسای بخاری حنفی کہتے ہیںکہ جس وقت مامون عباسی نے دھمکی کے ساتھ امام رضا کو ولایت عہد ی کے قبول کرنے پر مجبور کیا تب امام رضا نے مامون سے مخاطب ہو کر فرمایا :'' واللّہِ ! لقد حدَّثَنی اَبی عن آبائہِ عن رسولِ اللہِ ۖ : اَنّی اُخرَجُ مِنَ الدنیا قبلَکَ مظلوماً ، تَبکی علیَّ ملائکةُ السمائِ والاَرضِ، و اُدفَنُ فی اَرضِ الغُربةِ ''۔(١٤)
خدا کی قسم ! میرے والد بزرگوار نے اپنے آباء و اجداد سے انہوں نے رسول خدا ۖسے نقل فرمایا ہے کہ میں تجھ سے پہلے اس دنیا سے مظلومیت کے عالم میں رخصت ہوجاؤں گا ، آسمان وزمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کناں ہوںگے اور سرزمین غربت میں دفن کیا جاؤں گا ۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت اورعلماء اہل سنت
حضرت امام علی رضا اپنی با برکت زندگی میں بہت زیادہ فضائل و کرامات رکھتے تھے لیکن یہ کرامات و برکات فقط آپ کی نورانی زندگی ہی سے مخصوص نہ تھیں بلکہ شہادت کے بعد بھی علماء اہل سنت کی تصریح کے مطابق حضرت امام رضا کی قبر مبارک اسی تیسری ، چوتھی صدی سے آج تک علماء اہل سنت کے توسل و زیارت کا مقام رہا ہے اورتمام لوگ اس روضہ مبارکہ سے شفا حاصل کرتے ہیں ، انہیں کے بیانات کے مطابق لوگوں کی زیارت و توسلات میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
لہذا یہاں پر آپ کی شہادت سے لیکر آج تک کے علماء اسلام کا آپ کی قبر مطہر کی زیارت کرنے کو بطور اختصار بیان کیا جارہا ہے ۔
چوتھی صدی ھجری قمری
ابوبکر بن خزیمة شافعی(٣١١ھ)اور ابوعلی ثقفی شافعی(٣٢٨ھ)
حاکم نیشاپور ی شافعی کا بیان ہے :
''سمعتُ محمّد بن المؤمّل بن حسن بن عیسی یقول : خرجنا مع اِمامِ اَھلِ الحدیثِ اَبی بکرِ بنِ خزیمة و عدیلِہ اَبی علی الثقفی مع جماعةٍ من مشایِخنا ، وھم اِذذاک متوافِرون اِلی زیارةِ قبرِ علیِّ بنِ موسی الرضا بطوسَ ، قال : فرأیتُ من تعظِیمِہ (ابن خزیمة ) لِتلک البُقعةِ و تواضعِہ لھا و تَضرُّعِہ عندَھا ما تَحیَّرنا ''۔(١٥)
حاکم کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن مؤمل سے سنا وہ کہتا ہے کہ ہم ایک روز اہل حدیث کے امام و رہبر ابوبکر بن خزیمہ و ابوعلی ثقفی اور دیگر اپنے اساتید و بزرگوں کے ہمراہ حضرت امام علی رضا کے مرقد مبارک پر زیارت کے لیے گئے ، وہ لوگ شہر طوس میں آپ کی زیارت کے لیے بہت زیادہ جاتے تھے ،محمد بن مؤمل کا بیان ہے کہ ابن خزیمہ کا حضرت رضا کی قبر مبارک پر گریہ و زاری اور توسل و احترام و تواضع اس قدر زیادہ تھا کہ ہم سب لوگ تعجب و حیرت میں پڑے ہوئے تھے۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز راوی کا یہ جملہ ہے کہ جو مذکورہ روایت کا تسلسل ہے لیکن افسوس کہ بہت سے مؤرخین و محدثین نے اس کو نقل نہیں کیا ، راوی کا بیان ہے :
''ذاک بمشھدٍ من عدَّةٍ من آلِ السلطانِ و آل شاذان ابنِ نعیم و آل الشنقشین وبحضرةِ جماعةٍ من العلویّةِ من اَھلِ نیسابور و ھراة و طوس و سرخس ، فدوَّنوا شمائلَ اَبی بکر محمّد بن اسحاق عند الزیارةِ و فرِحوا و تصدَّقوا شکراً للّہِ علی ما ظھرَ من اِمامِ العلمائِ عندَ ذالک الِامام و المشھدِ وقالواباَجمعِھم : لو لم یعلَم ھذا الِامامُ اَنَّہ سنة و فضیلة لما فعلَ ھذا ۔''(١٦)
راوی کہتا ہے کہ حضرت امام علی رضا کے مرقد مطہرپر ابن خزیمہ کا یہ گریہ و زاری اور احترام و تواضع اور تعظیم، سلطان کے خاندان کے حضور اور خاندان شاذان و خاندان شنقشین نیز نیشاپور ، ہرات و سرخس کے شیعوں و علویوں کے سامنے انجام پایا اور سب نے ابن خزیمہ کی یہ حرکات و سکنات کو جو انہوںنے حضرت امام رضا کے روضہ مبارکہ پر انجام دیں ،دیکھااور ثبت و ضبط کیا ۔ ابن خزیمہ کی اس روش اوراآنحضرت کی قبرمطہرکی زیارت سے تمام افراد بہت خوش ہوئے نیز امام العلماء کی اس روش پر خوشی اور شکر خدا میں صدقات دیئے اور سب نے بیک زبان یہ کہا کہ اگر یہ کام (اہل بیت کی قبروں کے سامنے گریہ و زاری، احترام و تواضع اور تعظیم) سنت نہ ہوتا اور فضیلت نہ رکھتا تو کبھی بھی ابن خزیمہ اس طرح انجام نہ دیتے۔
ابن حبان بستی شافعی(٣٥٤ھ)۔:
''علیّ بن موسی الرضا اَبو الحسن من سادات اَھلِ البیتِ و عقلائِھم و جُلَّةِ الھاشمیینَ و نُبلائِھم ، یجبُ اَن یُعتبرَ حدیثُہ اذا رُوِیَ عنہ ۔ ۔ ۔قد زرتُہ (قبرہ) مراراً کثیرة وما حَلَّت بی شدَّة فی وقتِ مَقامی بطوسَ فزرتُ قبرَ علیّ بن موسی الرضا ،صلوات اللّہ علی جدِّہ و علیہ ، و دعوتُ اللّہ اِزالتَھا عنِّی اِلّا استُجِیبَ لی ، زالَت عنِّی تلکَ الشدَّةُ و ھذا شی ٔ جرَّبتُہ مراراً فوجدتُہ کذالک ، اَماتَنا اللہُ علی محبَّةِ المصطفی و اَھلِ بیتِہ''۔(١٧)
حضرت ابوالحسن علی بن مو سی الرضا ، اہل بیت کے بزرگان وعقلاء اور ہاشمی خاندان کے بزرگوں اور شرفاء میں سے ہیں ، جب ان سے کوئی روایت نقل ہوتو اس پر اعتبار کرنا واجب ہے ۔ ۔ ۔ میںنے کئی مرتبہ ان کی قبر مطہر کی زیارت کی ہے ۔ اور شہر طوس میں میرے قیام کے دوران جب کبھی بھی مجھ پر کوئی مشکل پڑی تو میں نے حضرت علی بن موسی رضا ـ آپ اور آپ کے جد بزرگوار پر خدا کا درودو سلام ہو ـ کی قبر پاک کی زیارت کی اور خدا وندعالم کی بارگاہ میں اپنی مشکل کے حل کے لیے دعا مانگی تو میری دعا مستجاب ہوگئی اور وہ مشکل حل ہوگئی ،یہ تجربہ میں نے وہاں پر کئی مرتبہ کیا اور ہرمرتبہ ایسا ہی ہوا ۔ خداوندعالم ہمیں محبت رسولۖ وآل رسول ۖپر موت عطا کرے ۔
پانچویں صدی ھجری قمری
-محمد بن علی بن سہل شافعی(٤٠٥ھ)
حاکم رقمطراز ہیں :''سمعتُ اَبا الحسن محمّد بن علیّ بن سھل الفقیہ یقول: ما عرَضَ لی مُھِمّ من اَمرِ الدین والدنیا ، فقَصَدتُ قبرَ الرضا لتلکَ الحاجةِ ، ودعوتُ عندَ القبرِ اِلّا قُضِیَت لی تلکَ الحاجةُ ، وفرَّجَ اللہُ عنِّی ذالک المُھِمَّ ۔ ۔ ۔ وقد صارَت اِلیَّ ھذہِ العادةُ اَن اَخرُجَ اِلی ذالک المشہدِ فی جمیعِ ما یَعرُضُ لی ، فاِنَّہ عندی مُجرّب ''۔(١٨)
میں نے ابوالحسن محمد بن علی بن سہل فقیہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو جب کبھی بھی کوئی دینی یا دنیوی مشکل پیش آئی میں نے اس حاجت کی طلب کے لیے حضرت علی رضا کی قبر مطہرکا ارادہ کیا اور آپ کی قبر کے قریب جاکر دعا کی وہ حاجت برآئی اورخداوندعالم نے میری وہ مشکل آسان کردی ۔۔ ۔یہ میری عادت بن چکی تھی کہ میں ہر مشکل مسئلہ میں آپ کی زیارت کے لیے جاتا اور حاجت طلب کرتا اور یہ چیز میرے نزدیک تجربہ شدہ ہے ۔
-حاکم نیشاپوری شافعی(٤٠٥ھ)
''وقد عرَّفَنی اللّہُ من کراماتِ التُربةِ خیرَ کرامةٍ ، منھا : اَنّی کنتُ متقرساً لا اَتحرّکُ اِلّابجُھدٍ فخرجتُ وزرتُ و انصرفتُ اِلی نوقان بخُفَّین من کرابیسَ ، فاَصبحتُ من الغدِ بنَوقان و قد ذھبَ ذالک الوجعُ و انصرفتُ سالماً اِلی نیسابورَ''۔(١٩)
خداوندعالم نے مجھے اس تربت اقدس اور قبر مطہرکی کئی کرامات دکھائیںجن میں سے ایک یہ ہے کہ جب میں جوڑوں کی خشکی و درد میں مبتلا ہوا اور بڑی مشکل سے چلتا پھرتا تھا تو گھر سے باہر آیا اور حضرت کی قبرپاک کی زیارت کی اور ٹاٹ کی جوتیاں پہن کر پاپیادہ نوقان پہنچارات وہیں گذاری صبح نمودار ہوئی تو میرا تمام درد ختم ہوچکا تھا اور میں صحیح و تندرست نیشاپور واپس آیا ۔
حاکم نیشاپوری شافعی اپنے مذکوہ کلام کے ساتھ اہل سنت کے بزرگوں کے آنحضرت کے دربارمیں شفا پانے کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں اور ان کے اعترافات کا ذکر کرتے ہیںکہ جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کریں گے ۔
-ایک مصری مسافر بنام حمزہ :
حاکم نیشاپوری نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے :
''کنتُ بمَر وِ الرُّود ، فلیقتُ بھا رجلا ًمن اَھلِ مصرَ مُجتازاً اِسمُہ حمزةُ ، وقد ذکرَ اَنَّہ خرجَ من مصرَ زائر اً لمشھدِ الرضا بطوسَ ، و(ذکر ) اَنَّہ لمَّا دخلَ المشھدَ کان قُربَ غُروبِ الشمسِ فزارَ (الامام) وصلّی ولم یکن (فی) ذالک الیومِ زائر غیرُہ ، فلمّا صلّی العَتَمةَ اَرادَ خادمُ القبرِ اَن یُخرِجَہ (أ) و یُغلِقَ علیہ البابَ ، فسألَہ اَن یُغلِقَ علیہ البابَ و یدَعَہ فی المسجدِ لیُصلِّی فیہ ، فاِنّہ جائَ من بلَدٍ شاسِعٍ ، ولا یُخرِجَہ ، فاِنّہ لا حاجةَ لہ فی الخروجِ، فترکَہ وغَلَقَ علیہ البابَ ، فاِنَّہ کان یُصلِّی وحدَہُ اِلی اَن اَعیا، فجلسَ و وضعَ رأسَہُ علی رکبَتیہِ لیستریحَ ساعةً ، فلمّا رفعَ رأسَہ رأی فی الجدارِ مواجہَ وجھِہ رُقعَةً علیھا ھذانِ البیتان:
من سرَّہُ اَن یَری قبراً برؤیتِہ یُفرِّجُ اللّہُ عَمَّن زارَ(ہ) کُربَہ
فَلیأتِ ذاالقبرِ اِنّ اللّہَ اَسکَنَہ سُلالَةً من رسولِ اللّہِ مُنتَجَبَہ
قال: فقُمتُ و اَخذتُ فی الصلاةِ اِلی وَقتِ السحَرِ ، ثمَّ جَلَستُ کَجَلسَتی الاوُلی وَ وَضعتُ رأسی علی رکبَتیّ ، فلمّا رفعتُ رأسی لم أرَ علی الجدارِ شیأ ۔
و کان الذی رآ ہُ مکتوباً رَطباً ، کاَنَّہ کُتِبَ فی تلکَ الساعةِ ۔ قال فانفَلَقَ الصبحُ و فُتِحَ البابُ و خرجَ من ھناکَ ''۔(٢٠)
میں مرو رود میں تھا کہ حمزہ نامی ایک مصری مسافر سے ملاقا ت ہوئی اس نے کہا کہ وہ مصر سے حضرت امام رضا کی بارگاہ کی زیارت کے ارادے سے طوس میں آیا ہے اور کہا کہ جیسے ہی اس روضے میں وارد ہوا غروب آفتاب کا وقت قریب تھا ، حضرت کی قبر مطہر کی زیارت کی اور نماز پڑھی ، اس روز اس کے علاوہ کوئی اور زائر نہ تھا ، جب نماز عشاء سے فارغ ہوا تو خادم قبر نے چاہا کہ اس کو روضے سے باہر نکال دے اور دروازہ بند کردے اس نے خادم سے چاہا کہ اس کو روضے کے اندر ہی بند کردے اس کو باہر نہ نکالے چونکہ وہ دور سے آیا ہے اور اس کو باہرکوئی کام بھی نہیں ہے ، پس خادم نے اس کو وہیںچھوڑدیا اور روضے کو بند کرکے چلا گیا وہ تنہا مشغول نماز رہا یہاں تک کہ تھک گیا اور اپنے سر کو اپنے گھٹنوںپر رکھ کرآارم کرنے لگا ،جب سر کو اٹھا یا تو اپنے سامنے کی دیوار پر دیکھا جس پر مندرجہ ذیل دو شعر لکھے ہوئے تھے :
من سرّہُ اَن یری قبراً برؤیتِہ یُفرِّجُ اللہ عمَّن زارَ(ہ) کُربَہ
فلیأتِ ذاالقبرِ اِنّ اللّہَ اسکَنہ سُلالةً من رسولِ اللّہِ مُنتَجَبہ
(جو شخص اس قبر کی زیات کرنے سے خوشحال ہوتاہے خداوندعالم اس کی تمام پریشانیوں کو دور کردیتا ہے پس اس صاحب قبر کے پا س آئوکہ اس کو خداوندمتعال نے یہاں سکونت عطا کی ہے اور یہ اللہ کے رسول کا منتخب و سلالہ پاک ہے )۔
حمزہ مصری کا بیان ہے کہ میں کھڑا ہوا اور نماز میں مشغول ہوگیا یہاں تک کہ سحر ہوگئی اور میں پھر تھک گیا اپنے سر کو اپنے گھٹنوںپر رکھا اور بیٹھ گیا پھر جب میں نے اپنے سر کواٹھایا تو دیکھا کہ وہ تحریر شدہ اشعار دیوار پر نہیں ہیں۔جبکہ وہ تحریر تازہ روشنائی سے لکھی ہوئی تھی گویا کہ اسی وقت کسی نے تحریر کی ہے ۔ اس کا کہنا کہ صبح ہوئی دروازہ کھلا اور وہ باہر نکلا ۔
ـ محمد بن قاسم شافعی :
جوینی شافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن قاسم نیشاپور ی سے نقل کیا ہے:
''سمعتُ الشیخَ اَبا الحسنِ محمّد بن القاسم الفارسی بنیسابور قال: کنتُ (أنکِرُ ) علی من قصدَالمشھدَ بطوسَ للزیارةِ !واَصرَرتُ علی ھذا الاِنکارِ، فاتَّفقَ اَنِّی رأیتُ لیلةً ،فیمایَری النائمُ کاَنِّی بطوسَ فی المشھدِ (و) رأیتُ رسولَ اللّہَ قائماً ورا َٔصندوقِ القبرِ یصلِّی فسمعتُ ھاتفاً من فوق و (ھو) یُنشِدُ و یقول:
من سرّہُ اَن یری قبراً برؤیتِہ یُفرِّجُ اللہ عمَّن زارَ(ہ) کُربَہ
فلیأتِ ذاالقبرِ اِنّ اللّہَ اسکَنہ سُلالةً من رسولِ اللّہِ مُنتَجَبہ
وکان یشیرُ فی الخطابِ اِلی رسولِ اللّہِ قال : فاستیقَظتُ من نومی کاَنِّی غَریق فی العَرَقِ فنادیتُ غلامی یُسِرجُ دابَّتی فی الحالِ فَرکِبتُھا و قَصدتُ الزیارة و تَعَّودتُ فی کلِّ سنةٍ مرتینِ ، قلت: اَروی ھذہ الرؤیا و جمیعَ مرویّاتِ السلّارِ اَبی الحسن مکّی بن منصور بن علان الکرجی ، عن الشیخ محی الدین عبد المحی بن اَبی البرکات الحربی اِجازةً بروایتِہ عن الِامام مجد الدین یحی بن الربیع بن سلیمان بن حراز الواسطی اِجازةً عن اَبی زرعة طاھر بن محمّد بن طاھر بن علیّ المقدسی ، عنہ اِجازةً '' ۔(٢١)
محمد بن قاسم کاکہنا ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا کہ جو حضرت امام رضا کی زیارت کے قائل نہ تھے اور لوگوں کو آپ کی زیارت سے منع کرتا تھا ، ایک شب خواب دیکھا کہ میں مشہدمیں ہوںاور حضرت امام رضا کی قبر مطہر کے پاس حضرت پیغمبراکرمۖنماز میں مشغول ہیں اسی وقت اچانک ایک آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے :
جوشخص چاہتاہے کہ کسی قبر کو دیکھے اور اس کی زیارت کرے کہ خداوندعالم اس کی مشکلات کو برطرف کردے تو اس صاحب قبر کے پاس آے ، خداوندعالم نے اس کو یہ مقام عطا فرمایا ہے کہ یہ رسول خداۖکے سلالہ و ذریت اور منتخب افراد میں سے ہے۔ اس وقت پیغمبراکرم ۖکی طرف اشارہ تھا ۔
محمد بن قاسم کا یبان ہے کہ میں خواب سے اٹھا تو پسینے میں شرابور تھا میں نے اسی وقت اپنے غلام کو آواز دی اور کہا ابھی میری سواری کو آمادہ کرو ،میں سوار ہوا اور زیارت کو نکل پڑا ، اس کے بعد میں ہرسال دو مرتبہ حضرت کی زیارت کو آتا ہوں۔
میں نے اس خواب اور تمام مرسلا ت سلار ابی الحسن مکی بن منصور بن علان کرجی کو شیخ محی الدین عبد المحی بن ابی البرکات حربی کے ذریعے کہ جن کو اجازہ روایت حاصل ہے امام مجد الدین یحی بن ربیع بن سلیمان بن حزار واسطی سے اور خود ان کواجازہ حاصل ہے ابوزرعہ طاہر بن محمد بن طاہر بن علی مقدسی سے ، نقل کیا ہے۔
-فخر الدین ادیب جندی شافعی
جوینی شافعی کہتے ہیں :
''لقد اَنشدَنا الِامامُ الفاضلُ الحسَنُ الاَخلاقِ والشمائلِ فخرُالدین ھبةُ اللّہِ بن محمّد بن محمود الاَدیب الجندی رحمَہُ اللہُ تعالی ، لنفسہِ بالمَشھدِالمقدّسِ الرضوی علی مشرِّفہِ السلام فی زیارتِنا الاُولی لھا، جعلَھا اللّہُ مبرورةً وفی صحائفِ الَاعمال المقبولَةِ مسطورةً :
اَیا من مُناہ رضی ربَّہ تھیّأ وَ اِن مُنکِرُ الحُسنِ لامِ
فزُر مشھداً للامامِ الرضا علیّ بن موسی علیہ السلامِ''۔(٢٢)
ہمارے لیے فاضل ارجمند رہبر خوش اخلاق و خوب صورت و خوب سیرت فخر الدین ہبةاللہ بن محمد بن محمود ادیب جندی نے ـخداان پر رحمت نازل فرمائےـ ہماری مشہد مقدس رضوی ـاس صاحب قبر پردرود و سلام ہو- کی پہلی زیارت میںکہ خداوند اس کو نیک قرار دے اور اعمال مقبولہ میں سے شمار فرمائے ۔ اسطر ح شعرلکھے :
اے وہ شخص کہ جس کی آرزو خداوندعالم کی رضایت و خوشنودی ہے، آمادہ رہ، یہ واضح رہے کہ اچھائیوں کے منکر کی ملامت ہوتی ہے لہذا حضرت امام علی بن موسی الرضاکے روضہ مبارکہ کی زیارت کر۔
-ابونضر موذن نیشابوری شافعی :
جوینی شافعی نے ابونضر موذن نیشابورسے نقل کیا ہے :
''اَصابَتنی علّة شدیدة ثَقُلَ فیھا لسانی فلم اَقدِر منھا علی الکلامِ ،فَخطَرَ بِبالی زیارةَ الرضاعلیہ السلام و الدعا عندَہ و التوسّلَ بہِ اِلی اللّہِ تعالی ، لیُعافِینی ، فخَرجتُ زائراً وزرتُ الرضا و قُمتُ عندَ رأسہِ و صلَّیتُ رکعتینِ ، و کنتُ فی الدعا و التَّضرُّعِ مُستَشفِعاً صاحبَ القبرِ اِلی اللّہ عزّو جلّ ، اَن یُعافِینَی من علَّتی و یَحُلَّ عُقدَةَ لسانی اِذ ذھبَ بی النومُ فی سجودِی ، فرأیتُ فی منامی کاَنّ القبرَ قد انفرَجَ فخرجَ منہ رجل آدِمُ کَھل شدیدُ الاُدمَةِ فدنا منِّی فقال : یا اَباالنضر! قل ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' قال : فأومأتُ اِلیہ کیفَ اَقول ذالک و لسانی مُنغَلِق؟ فصاحَ علیّ صیحةً و قال : تُنکِرُ ِللہِ القدرةَ ؟ قل : ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' قال: فانطلَق لسانی فقلتُ: ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' و رجَعتُ اِلی منزِلی راجلاً و کنتُ اَقول : ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ'' ولم یَنغَلِق لسانی بعدَ ذالکَ ''۔(٢٣)
میں ایک بہت سخت بیماری میں مبتلا ہوا کہ جس کے اثر سے میری زبان بند ہوگئی اور گفتگو کرنے پر قادر نہ رہا ، میرے ذہن میں خیال آیا کہ حضرت امام رضا کی زیارت کو جاؤں اور آپ کی قبر کے پاس نماز پڑھ کر دعا کروں۔
حضرت کو وسیلہ قرار دوں کہ خداوندعالم مجھے اس بیماری سے نجات دے ، میں زیارت کی نیت سے نکلا اورحضرت کی زیارت سے مشرف ہوا آپ کے سرہانے کھڑے ہوکردو رکعت نماز پڑھی ، اسی دوران خداوندعالم سے گریہ زاری کی حالت میں صاحب قبر کا واسطہ دے کر دعا مانگتا رہا اور شفا طلب کرتا رہا کہ پروردگار مجھے اس بیماری سے شفا عطافرمائے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے کہ اچانک مجھے حالت سجدے میں نیند آگئی، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا چاند شق ہوا، اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت بزرگ برآمد ہوئے اور میرے قریب آکر کہا اے ابونضر کہو: ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں یہ کلمہ کیسے کہہ سکتاہوں میں گونگا ہوں بول نہیں سکتا وہ بزرگ سخت لہجے میںبولے کہ تم قدرت خدا سے انکار کر رہے ہو کہو ''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''اچانک میری زبان کھل گئی اور میں نے کہا''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''تب میں خداوندعالم کے شکرانے کے طور پر مشہد سے اپنے گھر نیشاپور تک پیدل آیا اور تمام راستے میری زبان پر یہی کلمہ تھا''لااِلہَ اِلّا اللّہُ''ور اس کے بعدکبھی بھی میری زبان بند نہ ہوئی ۔
ـ ایک نامعلوم شخص
حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ نقل کرتے ہیں :
''سمعتُ رجلا ًذھبَ عنی اسمُہ عندَ قبرِ الرضا (یقول : کنتُ) اُفکِّرُ فی شَرَفِ القبرِ و شَرَفِ من تَواری فیہ فتَخالَجَ فی قلبی الِانکارُ علی بعضِ من بھا فضرَبتُ بیدی الی المُصحفِ مُتفأِّلا ًا ، فخرجَت ھذہ الآیة(و یَستَنبِؤُنَکَ اَحق ھُوَ قُل ای وَ ربّی اِنَّہ لَحَق)(سورہ یونس(١٠)آیت ٥٣)حتّی ضرَبتُ ثلاثَ مرّاتٍ فخرجَ فی کلِّھا ھذہ الآیةُ''۔(٢٤ )
ایک مرد سے کہ جس کا نام میرے ذہن سے نکل گیا ہے سنا کہ جو قبر امام رضا کے نزدیک کھڑا ہوا کہہ رہا تھا کہ میں اس قبر اور صاحب قبرکی عظمت و شرافت و بزرگی کے بارے میں سوچتا تھا کہ میرے دل میں صاحب قبر کے متعلق کچھ چیزوں کے بارے میں شک و شبہ ہوا اور ان کا انکار کربیٹھا لہذا میں نے قرآن کریم سے تفأل و استخارہ کیا تو یہ آیت آئی کہ'' تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے تو کہدے کہ ہاں خدا کی قسم وہ حق ہے'' ۔
یہاں تک کہ میںنے تین مرتبہ قرآن سے فأل و استخارہ کیا ہر مرتبہ یہی آیت آئی ۔
ـ زید فارسی :
حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ زید فارسی سے نقل کرتے ہیں:
''کنتُ بمروِ الرُّودِ منقرساً مدّةَ سنتینِ لا اَقدِرُ اَن اقوَم قائماً و لا اَن اُصلِّی قائماً ، فأُریتُ فی المنامِ:ألا تَمرَّ بقبرِ الرضاوتَمسحَ رجلیکَ بہ و تدعواللّہَ تعالی عندَ القبرِحتّی یذھبَ ما بکَ ؟(قال)فأکتَریتُ(دابَّةً)و جئتُ اِلی طوسَ و مسحتُ رجلیَّ بالقبرِودعوتُ اللہَ عزّوجلّ فذھبَ عنِّی ذالکَ النقرسَ و الوجعَ فأنا ھاھنا منذُ سنتین و ما نقرستُ''۔(٢٥)
میں مرورود میں تھا کہ مرض نقرس (جوڑوں کے درد)میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ مجھ سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا اور کھڑے ہوکر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا کہ ایک شب مجھے خواب میں بشارت ہوئی کہ قبر امام رضا پر کیوں نہیں جاتا اور ان کی قبر سے اپنے آپ کو کیوں مس نہیں کرتا اور خدا سے آپ کی قبر مبارک کے پاس اور ان کو واسطہ قرار دے کرکیوں دعا نہیں کرتا تاکہ یہ مشکل حل اور مرض دور ہوجائے، پس میں نے ایک جانور سواری کے لیے کرائے پر لیا اور طوس پہنچا اپنے آپ کو حضرت کی قبر مطہر سے مس کیا اور خداوندعالم سے دعا مانگی تو مجھ سے وہ مرض نقرس (جوڑوں کا درد) ختم ہوگیا اور میں دو سال سے یہاں پر ہوں بالکل درد نہیں ہے۔
ـ حمویہ بن علی :
اسی طرح حاکم نیشاپوری شافعی اپنی اسناد کے ساتھ حمویہ بن علی سے نقل کرتے ہیں:
''کنتُ مع حَموَیہِ ببلخ فرکِبَ یوماً و اَنا معہ فبینا نحنُ فی سوقِ بلخ اِذ رأی حَموَیہ رجلا ً فوکّلَ بہِ و قال : احملُوہ اِلی البابِ ثمَ عندَ انصرافِہ اَمر باحضارِ حمارةٍ فارةٍ و سُفرَةٍ و جبنةٍ ومأ تی درھم ، فلمّا اُحضِرَ قال: ھاتوا الرجلَ، فجیَٔ بہ ، فلمّا وقفَ بین یدِیہ ، قال: قد صَفَعتَنی صَفعَةً واَنا اَقتصُّھا منکَ الیومَ ! (أ) تذکرُ الیومَ الذی زُرنا جمیعاً قبرَ الرضا فدعوتَ انتَ و قلت : اللھمّ! ارزقنی حماراً و ماتی درھم سُفرةً فیھا جِنبة و خُبزة ، وقلتُ اَنا اللھمّ! ارزقنی قیادةَ خراسانَ ، فصَفَعتَنی وقلت: لاتسأل ما لا یکونُ، فالآن قد بَلغنی اللّہُ عزّو جلّ ، مأمُولی و بلغَک مأمولکَ و الصَفعةُ لی علیکَ''۔(٢٦)
میں حمویہ کے ساتھ شہر بلخ میں تھا ، ایک روز ہم دونوں سوار ہوے اور بازار بلخ میں پہنچے ، حمویہ نے ایک شخص کو دیکھا اورحکم دیا کہ اس کو پکڑ لو اور دربار میں لے چلو، پھر دربار سے پلٹتے وقت حکم دیا کہ ایک اچھا گدھا، ایک روٹی اور پنیر کے ساتھ دسترخوان اور دوسو درھم لے کر آو ، جب یہ چیزیں مھیا ہوگئیں تو دستور دیا کہ اس شخص کو حاضر کرو ، جب اس شخص کو لایا گیا اور وہ سامنے کھڑا ہوا تو حمویہ نے اس سے کہا کہ تو نے ایک روز میرے ایک طمانچہ مارا تھا اور آج میں تجھ سے اس کا بدلا لوں گا ۔ کیا تجھے یاد ہے کہ ہم سب ایک ساتھ حضرت امام رضا کی زیارت کو گئے ہوئے تھے جب ہم نے زیارت کی تو تو نے خدا سے دعا کی کہ پروردگارا! مجھے ایک گدھا، دوسو درھم اورروٹی و پنیر کے ساتھ دسترخوان عطا فرما ، اور میں نے دعا کی ،پروردگارا ! مجھے خراسان کی حکومت نصیب فرما ۔ تونے میرے طمانچہ مارا اور کہا کہ جوکام نہیں ہوسکتا اس کی دعا نہ کرو، جبکہ اب خداوندعالم نے مجھے اس مقام پر پہنچادیا ہے اور تیرے لیے بھی تیری خواہش کو پورا کردیا ہے ،اب میرا ایک طمانچہ تیرے اوپر باقی ہے ۔
ـ ابو حسین بن ابی بکر شافعی :
حاکم نیشاپوری شافعی کہتے ہیں :
''سمعتُ اَبا الحسین بن اَبی بکرِ الفقیہ یقول: قد اَجابَ اللّہُ لی فی کلِّ دعوةٍ دعوتُہ بھا عند مشھدِ الرضا ، حتّی اِنِّی دعوتُ اللّہَ (ان یرزقَنی ولداً)فَرُزِقتُ ولداً بعدَ الاِیاسِ منہ ''۔(٢٧ )
ابوالحسین بن ابی بکر فقیہ سے میں نے سنا اس نے کہا ؛ میں نے خداوندعالم سے حضرت امام رضا کے جوار میں جو بھی دعا مانگی وہ مستجاب ہوئی یہاں تک کہ میں نے کافی مایوسی کے بعد خداوندعالم سے بیٹے کی دعا کی تو خداوندعالم نے وہ بھی مستجاب فرمائی اور مجھ کو نعمت فرزند سے سرفراز فرمایا ۔
آٹھوی صدی ہجری
ـ ذھبی شافعی (٧٤٨ھ)
وہ سلفی مذہب(وہابیت) پر اعتقاد رکھنے کے باوجود بھی حضرت اما م رضا کے روضہ مبارکہ کے زائرین کے بارے میں رقمطراز ہیں :
''و لعلیّ بن موسی مشھد بطوسَ یقصدونَہ بالزیارةِ''۔(٢٨)
حضرت امام علی بن موسی الرضا کی شہر طوس میں بارگاہ ہے کہ لوگ وہاں زیارت کے لیے جاتے ہیں ۔
''ولہ مشھد کبیر بطوسَ یزارُ''۔(٢٩)
شہر طوس میں آپ کی بہت بڑی آرامگاہ ہے کہ جس کی زیارت کی جاتی ہے ۔
حضرت امام موسی کاظم کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے جب امام رضا پر پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں :
''و لولدِہ علیّ بن موسی مشھد عظیم بطوسَ ''۔(٣٠)
اور آپ کے فرزند گرامی علی بن موسی کی شہر طوس میں عظیم بارگاہ ہے ۔
ـ صفدی شافعی (٧٦٤ھ):
وہ بھی مختصر اً لیکن جامع انداز میں یوں کہتے ہیں :
''۔ ۔ ۔ و دُفِنَ بطوس و قبرُہ مقصود بالزیارةِ ''۔(٣١)
اور آپ کوشہر طوس میں دفن کردیا گیااور آپ کی قبر کی زیارت کی جاتی ہے ۔
ـ محمد بن عبد اللہ ابن بطوطہ مراکشی (٧٧٩ھ) :
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ان کا بیان بھی یہی ہے کہ حضرت امام رضا کی قبر مطہر عامہ و خاصہ کے لیے زیارت گاہ ہے ۔(٣٢)
نویں صدی ہجری
ـ عطاء اللہ بن فضل اللہ شیرازی (٨٠٣ھ):
وہ حضرت امام رضا کی بارگاہ کو تمام زائرین کا ملجأ و مأوی جانتے ہیں چاہے وہ زائرین کسی بھی طبقہ و قوم وقبیلہ کے ہوں لہذا کہتے ہیں :
علی بن موسی الرضا لوگوں سے خود انہی کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے او رآپ گفتگو کرنے میں بہترین سخنور اور عقلمندترین فرد تھے اور سب کی زبانوں کو خود اہل زبان سے بہتر جانتے تھے ۔ ۔ ۔ مشہد مقدس اور آپ کا مرقد منور تمام طبقات اور پوری دنیا کے زائرین کا مرکز وملجأومأوی ہے ۔(٣٣)
دسویں صدی ہجری
ـ میرمحمد بن سید برہان الدین خواوند شاہ معروف بہ میر خواند شافعی (٩٠٣ھ) :
وہ بھی تعجب خیز عبارات میں تحریر کرتا ہے کہ حضرت امام رضا کی قبر پاک کے زائرین نہ فقط ایران بلکہ روم و ہندوستان اور دنیا کے گوشے گوشے سے آتے ہیں ۔ لہذا رقمطراز ہے :
ذکر احوال علی بن موسی الرضا رضی اللہ عنھما ۔ مشہد مقدس اور حضرت امام رضا (کہ جو بطور مطلق بغیر کسی قید کے امام ہیں )کا مرقد ،ایران کا مرکزاور اہل طریقت کے ہر چھوٹے وبڑے کی منزل مقصود ہے ، امت اسلامی کے تمام فرقے اور بنی آدم کے تمام طبقات پوری دنیا میں دور دراز سے جیسے روم ، ہندوستان اور ہر طرف سے ہر سال اپنے وطن سے ہجرت کرکے،دوستوں و عزیز واقارب کو چھوڑ کر آتے ہیں اور اپنی آبرومند پیشانی کو آپ کی چوکھٹ پر رکھتے ہیں اور زیارت کے مراسم و قبر کا طواف انجام دیتے ہیں ، اس عظیم نعمت الہی کو دنیا و آخرت کا سرمایہ جانتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن علی بن موسی الرضا کے مناقب و مآثر اور فضائل اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ بشری علم ان کا احاطہ کرسکے ، اس مقام پر چند سطروں میں ارباب سعادت کے عظیم رہبر کے خوارق العادة و عجیب و غریب واقعات میں سے کچھ کی طرف اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں ۔
پھر آپ کے مناقب و کرامات کو ذکر کرتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں کہ امام رضا سے بہت زیادہ واقعات منقول ہیں کہ جو آپ کی عظمت اور کرامات و مناقب کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں ۔(٣٤)
ـ فضل اللہ بن روزبہان خنجی اصفہانی حنفی (٩٢٧ھ):
وہ بھی عظیم عبارات اور بہت زیادہ احترام کے ساتھ حضرت امام رضا کے مرقد مطہر کی توصیف کرتے ہیں اور اس کے قیامت تک کے لیے '' کعبۂ آمال و تمام جاجتمندوں کے لیے ملجاء و مأوی''ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔لہذا کہتے ہیں :
زیارت قبرمکرم و مرقد معظم حضرت امام آئمة الھدی ، سلطان الانس و الجن ، امام علی بن موسی الرضا الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین الشہید بن علی المرتضی ـ صلواتُ اللّہ و سلامُہ علی سیدِنا محمّدٍ و آلہ الکرام ، سیما الآیة النظام ستّة آبائہ کلّھم افضلُ من یشربُ صوبَ الغمامِـ (درود و سلام ہو ہمارے سید و سردار حضرت محمد اور آپ کی آل پاک پر خصوصا ًامام رضا کے چھ آباء و اجداد پرجو کہ نظام کائنات کی نشانی ہیں اوروہ کائنا ت کی ہر شے سے افضل ہیں )
(آپ کی زیارت) آپ کے دوستوں کے لیے اکسیر اعظم اور دل وجان کی زندگی کی باعث ہے تمام عالم کی آپ کی بارگاہ میں رفت و آمد باعث برکت بلکہ صدق دل سے یوں کہا جائے کہ اشرف منازل ہے ، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ہر وقت تلاوت قرآن مجید ہوتی رہتی ہے لہذا کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کی عظیم ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے ، وہ عظیم مرقد کسی وقت بھی نیازمندوں کی عبادت و اطاعت سے خالی نہیں ہوتا اور اس طرح کیوں نہ ہو کہ وہ اس امام بر حق کی آرامگاہ ہے کہ جو علوم نبوی کا مظہر، مصطفوی صفات کا وارث ،امام برحق و راہنما ئے مطلق اور صاحب زمان امامت ، وارث نبوت اورمحکم و استوار حق و حقیقت ہے۔
ہزار دفتر اگر در مناقبش گویند
ھنوز رہ بہ کمال علی نشاید برد
(اگر آپ کے مناقب و فضائل میں ہزار دیوان بھی بھر جائیں تو بھی آپ کے کمال تک رسائی کے لیے کافی راہ باقی ہے )۔
میرا پہلے حضرت امام رضا کی زیارت کا قصد تھا تب یہ قصیدہ لکھا تھا کہ جس کے درج کرنے کے لیے یہ مقام مناسب ہے ۔
لہذا اس عبارت کے تسلسل میں ایک قصیدہ بعنوان '' قصیدہ در منقبت امام ثامن ، ولی ضامن ، امام ابوالحسن علی بن موسی الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ '' آپ کی مدح و ثناء میں تحریر کرتے ہیں ۔۔۔ ۔(٣٥)
دوسری جگہ پر کہتے ہیں :
''اللّھمَّ و صلِّ و سلِّم علی الِاما مِ الثامنِ ، السیدِ الحسنانِ ، السنَدِ البرھا نِ ، حجة اللّہِ علی الِانسِ و الجانِّ الذی ھو لجُندِ الَاولیائِ سلطان ، صاحبِ المروةِ و الجودِ والِاحسانِ ، المتلالئی فیہ اَنوارُ النّبی عندَ عینِ العَیانِ ، رافعِ معالمِ التوحیدِ و ناصبِ ألوُیةِ الِایمانِ ، الراقیِ علی درجاتِ العلمِ و العرفانِ ، صاحبِ منقَبَةِ قولہ صلّی اللہُ علیہِ وآلہِ وسلِمَ ستُدفَنُ بضعة منّی بارضِ خراسانَ ، المستَخرِجِ بالجَفرِ والجامعِ مایکونُ و ما کانَ المقُولِ فی شرفِ آبائہِ ستّة آبائہ کلّھِم افضلُ من شرِبَ صوبَ الغَمامِ ، المُقتدی برسولِ اللّہِ فی کلِّ حالٍ و فی کلِّ شأنٍ اَبی الحسنِ علیّ بن موسی الرضا ، الِامام القائمِ الثامنِ الشھیدِبِالسمِّ فی الغمِّ و البؤُسِ المدفونِ بمشھدِ طوس''۔ (٣٦)
پروردگارا ! درود و سلام بھیج آٹھویں امام پر کہ آنحضرت اہل نیک سیرت و نیک خصلت کے سید و سردار ہیں ، محکم دلیل وتمام جن و انس پراللہ کی حجت ہیں یہ اولیاالہٰی کے لشکر کے سلطان و بادشاہ ہیں ، صاحب جود و سخا ومروت و احسان ہیں، آپ کے وجود مبارک میں پیغمبراکرم ۖ کے انواربزرگوں کی آنکھوں کے حضور درخشندہ ہیں ، آپ پرچم توحید کو سربلند کرنے والے اور ایمان کے علم کو نصب کرنے والے ہیں ، آپ علم و عرفان کے بالاترین درجات میں سیر کرنے والے ہیں ، آپ حضرت رسول اکرم ۖ کی اس فرمائش کے مصداق ہیں : '' میرے بدن کا ٹکڑا خراسان کی سرزمین میں مدفون ہوگا ''آپ علم جفر و جامع کو ایجاد کرنے والے اور علم ماکان ومایکون(ماضی،حال و مستقبل کا علم) رکھنے والے ہیں ، آپ وہ ہیں کہ جن کے آباء و اجدا د کا شرف یہ ہے کہ آپ کے چھ آباء وہ ہیں کہ جو ہر اس چیزسے کہ جس نے آسمانی پانی نوش فرمایا،افضل ہیں (گویا نبیوں سے افضل ہیں)، آپ ہر حال ہر کام اور ہر امر میں رسول خدا ۖکی اقتداء کرنے والے ہیں آپ ابوالحسن علی بن موسی الرضا ، امام قائم ثامن ہیں، آپ کو زہردغا سے عالم غربت میں شہید کیا گیا اور شہر طوس میں دفن کیا گیا ۔
''اللھمَّ ارزقنا بلُطفِکَ و فَضلِکَ و کرمِکَ و امتِنانِکَ ، زیارةَ قبرہِ المقدسِ ومَرقدِہ المُؤنِس و اغفرلنا ذنوبَنا و اقض جمیعَ حاجاتِنا ببرکتِہ ۔ اللھمّ صلّی علی سیّدِنا محمّدٍ وآلِ سیّد نا محمّدٍ سیما الِامامِ المُجتَبی اَبی الحسنِ علیِّ بن موسی الرضا و سلّم تسلیما''۔ (٣٧)
پروردگارا ! اپنے لطف و کرم اور فضل واحسان کے ذریعے مجھے حضرت کے روضہ مبارک و مرقد منور کی زیارت کی توفیق عنایت فرما ، اور حضرت کی برکت کے صدقہ میں ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری تمام حاجات کو پورا فرما۔
پروردگارا! درود و سلام بھیج ہمارے سید و سردار محمد اور آپ کی آل پاک پر خصوصاً امام منتخب ابو الحسن علی بن موسی الرضا پر ۔
وہ حضرت امام رضا کی نورانی بارگاہ کے متعلق عجیب و غریب باتیں تحریر کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض کو ہم اشارة ً بیان کرتے ہیں ۔
۔ ۔ ۔ اور آنحضرت کو اس روضہ مقدسہ و مرقدمنورہ مشہد معطر میں دفن کردیا گیا اور وہ روضۂ بہشت ، کعبہ ٔ آمال اورروز قیامت تک تمام حاجتمندوں کا ملجاء و مأوی ہوگیا ۔ خداکا درود و سلام اور تحیت و رضوان ہو اس روضہ ٔ مقدسہ پر ، خداوندعالم نے ہمیں اس کی زیارت کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی عمارت کو انوار الہٰیہ اور انفاس قدسیہ سے منور فرمائے ۔ اس کمترین بندے فضل اللہ روزبہان امین کی یہی آرزو ہے ۔ الطاف الہٰی پر یقین ہے کہ اس فقیر حقیر کو آنحضرت کے مرقد مطہر و مشہد مقدس کی زیارت کی توفیق نصیب ہوگی اور اس کتاب '' وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم '' کی قرائت آنحضرت کے روضہ میں آپ کے محبوں و دوستوں کے حضور ہوگی ۔ اس حقیر و فقیر کا سینہ حضرت کی ولایت وتولا اور محبت و اخلاص اور استمداد سے سرشار ہے ، جب کبھی بھی کوئی واقعہ اس حقیر کو پیش آتا تو آنحضرت سے مدد طلب کرتا ،اور قلبی طور پر آنحضرت ہی سے نجات طلب کرتا اور ہر مصیبت و حادثہ میں آپ ہی کی روح مقدس سے ملتجی ہوتاہوں ۔
انہوںنے حضرت امام رضاعلیہ السلام کی مدح میں شعر بھی کہے ہیں :
سلام علی روضة للامام علی بن موسی علیہ السلام
سلام من العاشق المنتظر سلام من الوالہ المستہام
بر آن پیشوای کریم الشیم بر آن مقتدای رفیع المقام
از شھد شھادت حلاوت مذاق ز زھر عدودر جھان تلخ کام
زخلد برین مشھد ش روضہ ای خراسان از اوگوشہ دارالسلام
ازآن خوانمش جنت ہشتمین کہ شد منزل پاک ہشتم امام
محبان ز انگور پر زھر او فکندند می ھای خونین بہ جام
مرا چھرہ بنمود یک شب بہ خواب شد از شوق اوخواب بر من حرام
علی وار بر شیر مردی سوار
امین در رکابش کمینہ غلام(٣٨)
١٩ـ غیاث الدین بن ھمام الدین شافعی معروف بہ خواند میر (٩٤٢ھ) :
وہ حضرت اما م موسی کاظم کی اولاد کی تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
حضرت امام موسی کاظم کی اولاد میں سے سب سے افضل بلکہ اپنے زمانے میں سب سے اشرف وافضل علی بن موسی الرضا تھے ۔(٣٩)
عنوان '' ذکر امام ہشتم علی بن موسی الرضاسلام اللہ علیھما '' کے ذیل میں آنحضرت کے بارے میں ایک فصل بیان کرتے ہیں اور امام کے متعلق اس طرح تحریر کرتے ہیں: ''امام واجب الاحترام علی بن موسی الرضا ۔ ۔ ۔امام عالی مقام '' (٤٠)
اور اسی طرح مشہد الرضا کے متعلق کہتے ہیں :
اور اب آنحضرت کا روضہ منورہ اعیان و اشراف کا محل طواف ، تمام ممالک و شہروں، ہر زمانے کے چھوٹے بڑے، عام وخاص افراد کی آرزو ں کا قبلہ اور نصیبوں کا کعبہ بن چکا ہے۔
''سلام علی آلِ طاھا و یاسینَ سلام علی آلِ خیرِ النبیین
سلام علی روضةٍ حلَّ فیھا امام یباھی بہِ الملکُ والدین
و صلّی اللّہُ علی خیرِ خلقہِ محمّدٍ سیّدِ المرسلینَ و آلہِ الطیبینَ الطاھرین سیما الآئمّةِ المعصومینَ الھادین''۔ (
سلام ہو آل طاہا ویسین پر ، سلام ہو بہترین رسول کی آل پاک پر، سلام ہو اس باغ پر کہ جس میں وہ امام آرام فرما رہا ہے کہ جس پر دین و دنیا دونوں فخرکرتے ہیں ۔
خدایا درود و سلام بھیج اپنی مخلوق میں سے سب سے بہترین مخلوق تمام پیغمبروں کے سردارحضرت محمد اور ان کی آل پاک و پاکیزہ پر خصوصا ًہدایت کرنے والے آئمہ معصومین پر۔
عنوان '' گفتار دربیان فضائل و کمالات آن امام عالی مقام ، علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام '' کے ذیل میں ایک فصل بیان کی ہے کہ جس میں حضرت امام رضا کے متعلق تحریر کرتے ہیں :
سرزمین خراسان ، امام شہید ،طیب و طاہر علی بن موسی بن جعفر بن محمد باقر کا بیت الشرف ہے ۔ ۔ ۔آنحضرت کی جود و سخا ،بلند و بالا مقام اور عظمت و احترام کا مغرب سے مشرق تک اپنے پرائے سب کو اعتراف تھا اور ہے ۔
ہر چھوٹے بڑے بلکہ نوع انسانی کے تمام افراد نے آپ کے مناقب و کمالات اور اوصاف حمیدہ پر صحائف و کتب تحریر کی ہیں اور لکھ رہے ہیں لیکن جو کچھ بھی لکھاجائے اور تصور کیا جائے آپ اس سے کہیں بلند و بالا ہیں اور آپ کی امامت آپ کے آباء و اجداد کی نص کے مطابق معین و مقرر ہے۔
ازآن زمان کہ فلک شد بہ نور مھر منور
ندید دیدہ کس چون علی موسی جعفر
سپھر عز وجلالت محیط علم و فضیلت
امام مشرق و مغرب ملاذ آل پیمبر
حریم تربت او سجدہ گاہ خسرو انجم
غبار مقدم او توتیای دیدۂ اختر
وفور علم و علو مکان اوست بہ حدی
کہ شرح آن نتواند نمود کلک سخنور
قلم اگر ھمگی وصف ذات او بنویسد
حدیث او نشود در ھزار سال مکرر(٤١)
(وہ امام کہ جس کے نور سے آسمان منور و روشن ہوا، کسی نے بھی حضرت علی ابن موسی ابن جعفر جیسی عظیم شخصیت نہیں دیکھی،وہ عزت و جلالت کے آسمان ہیں اور علم و فضیلت ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے ،وہ آل رسولۖمیں سے ایک رکن ہیں اور مشرق و مغرب کے امام،ان کے حرم مطہر کی خاک چاند کی سجدہ گاہ ہے ، ان کے مبارک قدموںسے اٹھنے والی گرد و غبار ستاورں کی آنکھوں کا سرما ہے ، ان کے علم کی کثرت اورشأن و منزلت کی بلندی اس حد تک ہے کہ کوئی بھی سخنور آپ کی توصیف ا ور مدح و ثناء نہیں کرسکتا ، قلم اگر وہ تمام صفات لکھنے پر آئے تو ہزاروں سال اگر بار بار آتے رہیں پھر بھی تمام نہیں ہوسکتی ہیں) ۔
پھر آپ کے فضائل و کرامات بیان کیے ہیں ، اور اس کے بعد کہتے ہیں :
مخفی نہ رہے کہ کرامات و معجزات حضرت امام رضا بہت زیادہ ہیں اور آپ کے مشہد منور کی برکات اور آپ کے مرقد معطر کی فیوض و برکات اس قدر ہیں کہ اس حقیر کی زبان قاصر کے بس کی بات نہیں ہے کہ ان کی تفصیل بیان کی جائے لہذا مجبوراً اختصار سے کام لیا ہے ۔(٤٢)
گیارہویں صدی ہجری
ـ ابن عماد دمشقی حنبلی (١٠٨٩ھ)
''و لہ مشھد کبیر بطوس یُزارُ ''۔(٤٣)
آپ کی عظیم بارگاہ شہر طوس میں ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے ۔
چودھویں صدی ہجری
ـ قاضی بہجت آفندی شافعی (١٣٥٠ھ):
وہ بھی حضرت اما م رضا کی بارگاہ کو دنیائے اسلام کی عظیم ترین زیارتگاہ مانتے ہیں لہذا کہتے ہیں :
آنحضرت کا روضہ معلی شہر مشہد مقدس میں اسلام کی عظیم و بزرگ ترین زیارت گاہ ہے، سنہرا گنبد ہے کہ جس کی پوری دینا میں مثال و نظیر نہیں ہے ۔خدا وندعالم ان کی عزت وشرف کو اور زیادہ کرے ۔(٤٤)
منابع و مدارک
(١) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٠، ح ٤٦٧بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔ قندوزی حنفی : ینابیع المودة لذوی القربی ، ج٢، ص٣٤١۔
(٢) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٨٨، ح ٤٦٤بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٣) قندوزی حنفی : ینابیع المودة لذوی القربی ، ج٢، ص٣٤١۔
(٤) ممکن ہے کہ رسول اکرمۖ سے سوال کیا ہو لیکن روایت کا اگلا حصہ حذف ہوگیا ہے یا راوی نے ذکر نہیں کیاہے۔
(٥) (٦) (٧) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٤، ح ٤٧١۔ و ص ١٩٥، ح ٤٧٣۔ و ص ١٩٣، ح ٤٧٠ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔
(٨) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩١، ح ٤٦٨بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔ اور دیکھیےـ: خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨٦۔ خنجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص ٢٢٣۔
(٩) (١٠) (١١) (١٢) (١٣) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩١، ح ٤٦٨ ۔وص ١٩٢، ح ٤٦٩ ۔وص ١٩٥، ح ٤٧٢ ۔وص٢١٨، ح ٤٩٢ ۔
(١٤) قندوزی حنفی: ینابیع المودة لذوی القربی ، ج٣، ص١٦٧ بنقل از فصل الخطاب لوصل الاحباب ، خواجہ پارسای بخاری حنفی۔
(١٥) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٨، ح ٤٧٧بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(١٦) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٨، ح ٤٧٧ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(١٧) ابن حبان بستی شافعی : کتاب الثقات ،ج ٨، ص٤٥٧۔
(١٨) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٦ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(١٩) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٦ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٢٠) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٦، ح ٤٧٤ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٢١) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٧، ح ٤٧٥ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٢٢) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ١٩٨، ح ٤٧٦ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٢٣) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢١٧، ح ٤٩١ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٢٤) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢١٨، ح ٤٩٣ بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی
(٢٥) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢١٩، ح ٤٩٤بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔
(٢٦) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٥بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی ۔
(٢٧) جوینی شافعی : فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین والآئمة من ذریتھم، ج٢، ص ٢٢٠، ح ٤٩٨بنقل از تاریخ نیشاپور ،حاکم نیشاپوری شافعی۔
(٢٨) ذہبی شافعی : سیر اعلام النبلاء ، ج ٩ ، ص٣٩٣۔
(٢٩) ذہبی شافعی : العبرفی خبر من غبر،ج١، ص٢٦٦۔
(٣٠) ذہبی شافعی : سیر اعلام النبلاء ، ج ٩ ، ص٣٩٣۔
(٣١) صفدی شافعی : الوافی بالوفیات ، ج٢٢، ص٢٤٩۔
(٣٢) ابن بطوطہ مراکشی : تحفة النظار فی غرائب الامصار ، معروف بہ رحلة ابن بطوطہ ، ص٤٠١۔
(٣٣)عطاء اللہ بن فضل اللہ شیرازی: روضة الاحباب ،ج٤، ص٤٣۔ دیکھیے ـ: امیر احمد حسین بہادر خان ہندی حنفی : تاریخ الاحمدی ، ٣٦۔
(٣٤) خواند امیر شافعی : تاریخ روضة الصفا،ج٣، ص٤٦و٥٢۔
(٣٥) خنجی اصفہانی حنفی : مہمانامہ بخارا ، ص٣٣٦۔
(٣٦) خنجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص٢٢٣۔
(٣٧) خنجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص٢٢٣۔
(٣٨) نجی اصفہانی حنفی : وسیلة الخادم الی المخدوم در شرح صلوات چہادہ معصوم ، ص٢٤٣۔
(٣٩) خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨١۔
(٤٠) خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨٢۔
(٤١) خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٨٣۔
(٤٢) خواند امیر شافعی : تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر،ج٢، ص٩١۔
(٤٣) ابن عماد جنبلی : شذرات الذھب فی اخبار من ذھب ، ج٣، ص١٤۔
(٤٤) قاضی بہجت آفندی شافعی : تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمد، ص ١٥٨ـ١٥٩۔