شریعت کدہ اور عصرِ حاضر

مستقبل کے تعین کے لیے ضروری ہے کچھ سوالات اپنے آپ سے کیے جائیں اوران پر تدبر و تفکر کیا جائے۔ ملت تشیع نے اب تک علوم محمد و آل محمد کی ترویج اور ترقی کے لیے کتنا کام کیا ہے اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں تھیں ۔ ان سب باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے!
1۔کیا ہم نے حضرت امام زمانہ (عج) علیہ السلام کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں ؟

2۔کیا ہمارے علماء، واعظین اور ذاکرین خوشنودیٔ محمد و آل محمد ؑکے لیے سیرت چہاردہ معصومین کی ترویج کر رہے ہیں ؟

3۔کیا ہم نے اپنے گھروں کو اس قابل بنا لیا ہے کہ حجت خدا تشریف لا سکیں؟

4۔کیا ہمارے بچے قرآن مجید اور ابتدائی دینی معلومات مکتب تشیع سے لے رہے ہیں یا غیروں سے؟

5۔کیا ہماری زندگیا ں اقوال معصومین کا آئینہ ہیں ؟

6۔کیا ہماری تفاسیر، احادیث، فقہ اوراصول وغیرہ کی کتب کے تراجم آسان اردو زبان میں ہو چکے ہیں تاکہ عربی اور فارسی نہ جاننے والے مومنین و مومنات بھی ان سے استفادہ کر سکیں؟

7۔ کیا دشمنان آل محمد علمی میدان میں ہمارا مقابلہ کرنے سے خائف ہیں یا ہم ان کے تابع فرمان نظر آرہے ہیں؟

8۔کیا ہم زکوۃ اور خمس کی ادائیگی کر کے اپنے مال کو پاکیزہ بنا لیا ہے؟

10۔ ہم روزانہ چوبیس گھنٹوں میں تعلیمات چہاردہ معصومین کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں؟

11۔کیا حسینیت ؑ نے فلسفۂ موت و حیات کو ہم نے سمجھ لیا ہے؟

12۔کیا ہمارے دینی مدارس ملت جعفریہ کی مقامی مذہبی ضروریات پوری کر رہے ہیں اور مدارس کے روحانی اور پاکیزہ ماحول میں سے

13۔علوم محمد و آل محمد سے آراستہ ہو کر کتنے طلبہ و طالبات ہر سال فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ؟

14۔ملت جعفریہ میں اتحاد و یگانگت کے لیے کیا کیا گیا ہے یا تقسیم در تقسیم کا عمل ابھی بھی جاری ہے؟

اس طرح کے بہت سے سوالات ذہن کو پریشان کر تے ہیں۔بلاشبہ قوم میں تعمیری کام تو ہوا ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ہماری بنیادی دینی معلومات کا تو یہ حال ہے کہ اگر پوچھا جائے کتب اربعہ کے نام کیا ہیں ؟شاید اکثریت بتانے سے قاصر ہو! حد تو یہ ہے کہ جس قوم کے 98 فیصد بچے اور بچیاں قرآن مجید اور مسائل دینیہ کی بنیادی تعلیم مکتب تشیع کے علاوہ غیروں سے حاصل کر رہے ہوں اور اکابرین قوم توقع کریں گے کہ یہی نسل بڑی ہو کر ملت جعفریہ کی ترجمانی کرے گی ۔ خواب نہیں تو کیا ہے!

کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دینی تعلیم صرف عزادار کی ہی ذمہ داری ہے وہ اپنے بچوں کو پیٹ کاٹ کر منہ مانگی رقم ادا کر کےمعصومین کی مجالس و محافل پرستی کا شکار ہو جائے تو عوام کا کیا بنے گا۔

یعنی اگررہنما ہی مادیت پرستی کا شکار ہو جائے تو عوام کا کیا بنے گا۔

کیا ملت جعفریہ میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہونا چاہیے تھاجو خود بھی حضرت امام زمانہ کا منتظر بننے کے لیے کوشاں ہو اور ملت تشیع کے بچوں ،بچیوں اور مومنین و مومنات کو ان کے استقبال کے لیے تیار کرنا اپنا مقصد حیات سمجھے۔

الحمد للہ اس عظیم مقصد کے لیے شریعت کدہ کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔

قیام کا مقصد

1۔ہر گھر کی دہلیز تک علوم محمد ؐو آل محمدؑ پہنچانا خصوصاّ جوان نسل میں دینی آگاہی پیدا کرنا۔
2۔ وہ طالبات جو مڈل ، سے لے کر ،بی اے وغیرہ تک پاس کرنے کے بعد گھر میں فارغ ہیں انہیں گھر میں رہتے ہوئے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت مہیا کرنا ۔
3۔ وہ مومنین و مومنات جو مجلس پڑھنے کا شوق رکھتے ہوں انہیں ا س کے لیے مواقع فراہم کرنا ۔

4۔عزاداری حضرت امام حسین علیہ السلام کے عظیم معنوی سرمایہ سے اپنے عقیدہ، ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کرنا۔

5۔اتحاد بین المسلمین اور بین المذاہب مکالمہ سے دنیا میں امن و آشتی کے لئے کوشاں رہنا ۔

الغرض شریعت کدہ کی انتظامیہ خود بھی حضرت امام زمانہ کی منتظر بننے کی کوشاں ہے اور ملت تشیع کے بچوں ،بچیوں اور مومنین و مومنات کو ان کے استقبال کے لئے تیار کرنا اپنا مقصدحیات سمجھتی ہے ۔