ممدوح و مذموم شعرا

باسم رب الشعرا

(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )  سورہ شعراء کی آخری آیات

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدہی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

ان آیات میں قرآن کریم نے شعراء کے متعلق نظریہ الٰھی کو بیان فرمایا ہے لہذا شعراء کی دو قسمیں ہیں ایک شعراء مذموم ، دوسرے شعراء ممدوح ۔یعنی خداوندعالم کی نظر میں شعر وشاعری نہ بری شٔ ہے اور نہ اچھی شٔ بلکہ یہ ایک فن ہے کہ اس سے اگر اچھا استفادہ کیا جائے تو اچھی شٔ ہے اور اگر برے کام میں لایا جائے تو بری شٔ ہوگی۔لہذا دونوں طرح کے شعراء اور ان کی صفات بیان فرمائی ہیں۔

 مذموم شعرا

قرآن کریم نے ان مذکورہ آیات میں مذموم شعراء کی چند علامتیں اور صفات بیان کیے ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں :

٭  جھوٹ اور گناہ

(ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین۔ تنزل الشیاطین علی کل افاک اثیم) یہ آیات اسی سورہ شعراء کی مذکورہ بالا آیات سے پہلی آیتیں ہیں کہ جن میں خداوندعالم کفار و مشرکین عرب کے عقیدے کو بیان فرمارہا ہے کہ وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر شاعرپر شیطان سوار رہتاہے اور وہ اس پر اشعار القاء کرتا ہے لہذا ارشاد ہوا کہ ہم بتائیں کہ کن پر شیطان نازل ہوتا ہے شیاطین ہر جھوٹے اور گناہگار پر نازل ہوتے ہیں یعنی وہ شعراء کہ جو گناہگار ہیں شیاطین ان کی راہنمائی کرتے ہیںاور ایسے ہی شعراء شیاطین کے بہکاوے و گمراہی میں آتے ہیں ۔

٭٭گمرا ہ و گمراہ پروری

(والشعراء یتبعھم الغاوون) شعراء ایسے افرادہیں کہ جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل خیالات کوبھڑکاتی ہیں، اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے۔ یہی تصورات و تخیلات اگر شیطان کی جانب سے ہوںتو اور بھی زیادہ شہوت انگیز ہونگے،لہذا ایسے شعراء خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کے بھی گمراہ ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

٭٭٭بے ہدف سرگردانی

(الم تر انھم فی کل واد یھیمون) مذموم شعراء کی تیسری علامت وصفت یہ ہے کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں ہیں یہاں وادی خود اصطلاح شاعری ہے یعنی ہر میدان میں ہرزمین میں شعر کہنا کبھی اس کی ہجو تو کبھی اس کی تعریف و تمجید،گویا ہرجائی پن گمراہ شعراء کی صفت ہے ۔

٭٭٭٭قول وعمل میں فرق

 (وانھم یقولون مالا یفعلون) مذموم شعراء کی ایک اور صفت یہ ہے کہ ان کے اقوال ہمیشہ ان کے اعمال و افعال کے خلاف ہوتے ہیں یعنی وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں زبان پر نہیں لاتے ۔

ممدوح شعرا

قرآن کریم نے اس نظریہ کی رد میں کہ قرآن شعرنہیں ہے اور نہ ہی رسول اکرمۖ شاعر ہیں بہت زیادہ اصرار کیا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ قرآن کریم فن شاعری کا مخالف ہے اگرچہ قرآن کریم کے اصرار کی وجہ خود کفار و مشرکین ہیں کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رسولۖ شاعر اور قرآن کلام شاعر ہے لہذا قرآن اس مطلب کی رد و انکار میں مصر ہے جبکہ فن شاعری کا مخالف نہیں ہے بلکہ جہاںسورہ شعراء کی  مذکورہ آیات میں شعراء کی مذمت فرمائی ہے وہیں ممدوح و مطلوب شعراء کی مدح بھی کی ہے اور پھر ان کے مجبوب ہونے کی وجہ بھی موجود ہے  لہذا قرآن کریم نے کبھی شعرو شاعری کے کمالات کاانکار نہیں کیا  لیکن ہاں یہ کمالات اگر راہ حق کے لیے ہوں تو صحیح معنی میں کمالات ہیں ورنہ وسوسہ شیطانی کے علاوہ کچھ بھی ہیں ۔لہذا خداوندعالم کی جانب سے ممدوح شعراء کی صفات بیان ہوئی ہیں، لیکن مذموم شعراء کے اوصاف کی نفی کے ساتھ ساتھ چونکہ( تعرف الاشیاء باضدادھا)، لہذا ممدوح شعراء میں مذموم شعراء کی صفات جھوٹ و گنا ہ ، گمراہ و گمراہ پروری،قول وعمل میں فرق اور بے ہدف سرگردانی نہ ہوں ان کے علاوہ یہ صفات ہوں کہ جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ۔

٭ایمان

(الا الذین آمنوا) گمراہ اور مذموم شعراء کے اوصاف بیان کرنے کے بعد پھر فرماتا ہے سوائے ان شعراء کے کہ جوایمان لائے یعنی ایمان ممدوح شعراء کی پہلی صفت و علامت ہے اور واضح ہے کہ شاعر اگر ایماندار و مومن ہوا تو یقینا حق کہے گا اور کبھی زبان پر ناحق جاری نہیں کرسکتا ۔

٭٭عمل صالح

(و عملواالصالحات)مجبوب شعراء کی دوسری صفت یہ ہے کہ عمل صالح انجام دیتے ہیں اور ظاہر ہے یہ صفت خود اسم بامسمی کی حیثیت رکھتی ہے چونکہ اگر شاعراپنے کسی بھی شعر کے ذریعہ خلاف حق کام انجام دیے گا تو وہ عمل صالح نہیں کہلائے گا اور اس صفت کے حامل ہونے کے لیے ہمیشہ حق گوئی کو ساتھ رکھنا ہوگا ۔

٭٭٭کثرت سے ذکر الٰھی (ذاکرالٰھی ہونا )

(و ذکرو ا اللہ کثیرا )شاعر ہمیشہ ذکر الٰھی میں مشغول رہے، ممدوح شعراء کی دوسری صفت عمل صالح کے بعد اس صفت کا ذکر کرنا خود ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ ہے چونکہ ذکر الٰھی خود اعمال صالحہ میں سے ہے لیکن شاعر کے لیے ذکر الٰہی کے کثرت سے انجام دینے کو جداگانہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کی زبان کہ جو بہت عظیم آلہ ہے اس طرح کہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرکو مجاہد کی شمشیر سے تشبیہ دی گئی ہے اور علم معرفت کے میدان میں کہا گیا ہے کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔  شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھینچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔لہذا خداوندعالم نے اعمال صالحہ کے بعد خصوصا شائستہ شاعر کی علامت وصفت یہ قرار دی کہ ہمیشہ ذکرالٰھی میں مشغول رہے گویا ممدوح شاعر کی صفت یہ ہے کہ مدح و ثناء نعت ومنقبت اس کی طینت و طبیعت بن جائے ۔

٭٭٭٭مظلوم کی مدد

(وانتصروا من بعد ما ظلموا )اچھے شاعر کی چوتھی صفت یہ ہے کہ مظلوم کا مددگار ہو،اور ظاہر ہے کہ شاعر سے ایسی توقع کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شعر سے مظلوم کی مدد کرے چونکہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرمجاہد کی شمشیر کا مرتبہ رکھتے ہیں گویا نظرالٰہی میں مظلوم کے لیے نوحہ مرثیہ اور سوز و سلام کہنا ایک عظیم کمال و مقام کا حامل ہے۔

بہر حال یہ وہ صفا ت ہیں کہ جو خداوندعالم نے اپنے قرآن کریم میں ممدوح شعراء کے لیے بیان فرمائی ہیں کہ جن میں سے دو صفتیں شاعر کی ذاتی ہیں ایک ایمان اور دوسری عمل صالح لیکن باقی دوصفات یعنی کثرت سے ذکر الٰھی اور مظلوم کی مدد ،ان کا تعلق معاشرے سے ہے چو نکہ ایمان اور عمل صالح خاموشی سے بھی انجام دیے جاسکتے ہیں لیکن کثر ت سے ذکر الٰہی اور مظلوم کی مدد ،وہ بھی شاعر ی کے ذریعہ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم چاہتا ہے کہ شاعر معاشرے کے درمیان پرچمدار الٰہی کی حیثیت سے سامنے آئے

 اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کبھی ہچکچائے نہیں ۔اور پھر شاعرکا یہی کلام کہ جو حق کی حمایت میں ہوگا انسانی ہدایت کے لیے صحیفہ قرار پائے گا۔نیز یہ دوصفات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ حمد و ثناء ، نعت ومنقبت اور سوز و سلام ، نوحہ و مرثیہ ممدوح الٰہی ہیں اور یہ ممدوح شعراء کی علامت ہیں ۔یا پھر یوں کہا جائے کہ اس صنف شاعر کی تائید میں مذکورہ آیات نازل ہوئی ہیںلہٰذا انہیںاس صنف کے اثبات میں استدلال کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے ۔

اس بات کی تائید کے طور پر مذکورہ سورہ کی آخری آیت آخری حصہ(و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون) ملاحظہ فرمائیں،  یہ وہ ٹکڑاہے کہ دنیا ہر حظیب و ذاکر جب کبھی بھی اپنے بیان کو مصائب مظلوم کربلا بیان کرکے ختم کرتا ہے تو اس آیت کے اس حصے کی تلاوت کرتا ہے گویا اس آیت میں ظالمین کربلا سے انتقام کا تذکرہ ہے تو واضح ہے کہ جب یہاں ظالمین کربلا سے انتقام کا ذکر ہے تو اس سے ماقبل مظلوم کربلا کی حمایت کا ذکر ہوگا  لہذا یہ آیات ان ممدوح شعراء کی شان میں ہیں کہ جو اہل بیت علیہم السلام  کی ثناء و رثاء میں مصروف ہیں ۔

 

والسلام

 

سید سبط حیدر زیدی