مجلہ شمس الشموس شماره 1

مجلہ شمس الشموس

حضرت علی اکبر علیہ السلام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت علی اکبر علیہ السلام

اسم مبارک: علی ، حضرت امام حسین کی اولاد میں سے آپ منجھلے علی ہیں کہ جن کو علی اوسط کہا جاتا تھا اس طرح کہ علی اکبر امام زین العابدین علیہ السلام اور علی اصغر ششماہے شیر خوار کا نام گرامی تھا۔ لیکن یوم عاشورا کے بعد سے یہ نام اپنی خصوصیت سے تبدیل ہوگئےچونکہ تین میں سے دو علی یوم طف شہید ہوگئے اس لیے ان ہی میں سے بڑے کو علی اکبر کا خطاب مل گیا وہ علی اوسط سے آج علی اکبر مشہور ہوئے ۔(چمنستان محمد پر خزاں)

تاریخ و مقام ولادت : اگر چہ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے لیکن کسی حد تک معتبر روایات کے مطابق آپ  11/ شعبان المعظم 42ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے  ۔

والدہ ماجدہ : آپ کی مادر گرامی ام لیلی بنت ابوقرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی تھیں (ارشاد شیخ مفید) جناب ام لیلی کے والد قبیلہ بنی ثقیف کی ایک بزرگ آدمی تھے ۔

القاب : صدیق ، مظلوم، نجم العالمین، زکی ، سید ، ولی اللہ ، شہید، شبیہ رسول۔

کنیت: ابو الحسن، ابن رسول۔

پرورش : شاہزادہ کی تربیت ان حضرات کے زیر سایہ ہوئی جو دین اسلام کے سچے فدائی تھے ، حقانیت و معرفت کے پتلے ، ایمان کے مجسمےاور مواسات و ہمدردی کے مرقع تھے ۔عدل و انصاف کے قالب ، شجاعت و دلیری کے محور، علم وحکمت کے خزانے اور خلوص و صداقت کے مرکز تھے ۔ ایسی ہستیوں  کے زیرسایہ پرورش پانے والا بچہ جن کمالات و علوم اور فضائل و اخلاق کا حامل ہوسکتاہے ، وہ ظاہر ہے ۔

حضرت امام حسین علی اکبر سے بہت محبت کرتے تھے ، صاحب ناسخ التواریخ نے لکھا ہے کہ طاقت نسان و لطف بیان ،صباحت رخسارو ملاحت دیدار،نیکوئی خلق اور شمائل میں حضرت علی اکبر علیہ السلام سے زیادہ زمین پر کوئی بھی ہمشبیہ رسول نہ تھا ۔

اخلاق و عادات : حضرت علی اکبر علیہ السلام اخلاق میں ظل رسول تھے ۔ آپ کی زندگی کا ہر شعبہ رسالت کے ایام کو یاد دلاتا تھا ، اس لیے امام حسین علیہ السلام نے جناب علی اکبر کو متعلق ارشاد فرمایا: اللھم اشھد علی ھولاء القوم فقد برزالیھم اشبہ الناس خلقا و منطقا برسولک، کنا اذا اشفقنا الی نبیک نظرنا الی وجھہ۔ میرے معبود شاہد رہنا اس قوم پر کہ ان کی طرف وہ جوان لڑنے جارہا ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت و سیرت و رفتار و گفتار میں تیرے رسول سے مشابہ ہے ، اور جب ہم تیرے رسول کی زیارت کے متمنی ہوتے تو اسی کا چہرہ دیکھتے تھے ۔

اس کلام سے ثابت ہورہا ہے کہ جیسی صورت و سیرت رسول خدا کی تھی وہی علی اکبر کی تھی ۔

علامہ ابن شہر آشوب حضرت علی اکبر علیہ السلام کے ذکر میں فرماتے ہیں : آپ اپنے پدر بزرگوار کے مطیع و فرمانبردار صاحبزادے تھے ،احکام شریعت سے کما حقہ واقف تھے ،آپ انتہائی شجاع و متقی اور خداپر توکل رکھنے والے تھے ۔

مہمان نوازی: عرب میں یہ رواج تھا کہ جس گھر میں آگ روشن دیکھتے اس کے یہاں مہمان ہوتے تھے ۔ جناب علی اکبر علیہ السلام بھی ایک بلند مقام پر آگ روشن کرتے تھے تاکہ فقراء و مساکین آئیں اور آپ کے مہمان ہوں ۔

دشمن کی نگاہ میں خصوصیات : ایک مرتبہ معاویہ نے اپنے خلوت کے دربار میں اپنے اہل بزم سے کہا کہ  تمہاری نظر میں آج مسند خلافت رسول کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ سب خوشامد خوروں نے دست بستہ عرض کی کہ ہرلحاظ سے ہم تو تجھ ہی کو مستحق خلافت جانتے ہیں ۔معاویہ نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے انصاف سے دیکھو تو تمام عرب میں علی بن الحسین سے زائد ہرگز اس مسند کے لیے کوئی اور مستحق نہیں کیونکہ ان کے جد رسول خدا ہیں ، بنی ہاشم کی شجاعت اور بنی ثقیف کا حسن ان کی ذات میں جمع ہیں اور سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر رسول کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے ۔

جس وقت جناب علی اکبر علیہ السلام میدان جنگ میں تشریف لے گئے تو عمر سعد نے عسکر بن سعد کو حکم دیا کہ اے عسکر بن سعد اس کا مقابلہ کرو تو عسکر نے کہا: کہ میں اس سے مقابلہ نہیں کرونگا  اس لیے کہ یہ شبیہ رسول ہیں ۔

سفر کربلا: حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کا سفر اختیار کیا اور آپ کا قافلہ مقام زبالہ پر پہنچا تو آپ کو غنودگی طاری ہوگئی اس وقت آپ نے کسی کی آواز سنی کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارہے ہو اور موت آپ کا تعاقب کررہی ہے کہ آپ کو فردوس بریں لے جائے ،جب آپ بیدار ہوئے تو زبان پر کلمہ انا للہ و انا الیہ راجعون جاری فرمایا کڑیل جوان بیٹا فورا سامنے آتا ہے اور دست بستہ عرض کرتا ہے بابا اس وقت اس کلمہ کے زبان پر جاری کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ امام حسین نے ارشاد فرمایا اے لخت جگر میں نے ابھی خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارہے ہو اور موت آپ کا تعاقب کررہی ہے کہ آپ کو فردوس بریں لے جائے۔

جناب علی اکبر عرض کرتے ہیں: اے بابا اللہ آپ کو تمام مصائب سے محفوظ رکھے کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ بیٹے کا یہ کلام سن کر امام فرماتے ہیں قسم بخدا ہم حق پر ہیں ۔ شاہزادہ علی اکبر اس جواب کو سن کر خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ اے بابا اب ہمیں کوئی پروہ نہیں کہ موت ہم پر آپڑے یا ہم موت پر جاپڑیں۔ (وقعات کربلا)

صبح عاشور: صابر و شاکر امام نے رفقائے باوفا اور اعزائے نامدار سمیت عبادت خدامیں رات گذاری یہاں تک روز عاشور کی سپیدی نمودار ہونے لگی انجم فلک اس منظر کی تاب نہ لاکر غروب ہونے لگے امام مع جانثاروں کے مصلوں سے تجدید تیمم کے لیے اٹھے ایک بار آپ نے اپنی قلیل سی فوج پر نظر ڈالی کڑیل جوان بیٹے پر نظر امامت جمی حکم دیا بیٹا اذان کہو ہمشکل پیغمبر گلدستہ اذان پر تشریف لے گئے شبیہ پیغمبر نے لحن رسول اللہ میں اللہ اکبر کہا ادھر سیدانیاں ہمہ تن گوش ہوگئیں، عالم امکان محو ہوگیا ، وحوش وطیور جھومنے لگے ، میراخیال ہے علی اکبر سے اذان کہلواکر دشمنوں پر اتمام حجت کرنا مقصود ہو اس لیے کل کو یہ کہہ سکیں کہ پہچانا نہیں دن بھر کا موقع ہے دنیا دیکھ کر ضرور کہے گی کہ اس جوان رعنا نے صبح کو رسول کی آواز یاد دلائی تھی ادھر اذان ختم ہوئی بیبیاں خیموں میں اور مرد امام کے پیچھے نماز صبح میں مشغول ہوگئے۔

اول قتیل : نماز صبح اور اس کی تعقیات سے فارغ ہوکر امام نے اپنی قلیل سی فوج کی طرف دیکھا اور دشمن کی فوج کی طرف سے تیروں کی بارش ہونی شروع ہوگئی امام نے اپنے لشکر کو مرتب کیا اس طرح کہ میمنہ کا سردار زہیر قین کو اور میسرہ کا سردار اپنے بچپن کے دوست حبیب ابن مظاہر کو اور علمدار لشکر حضرت ابوالفضل العباس کو قراردیا اور قلب لشکر میں جناب علی اکبر کوکھڑا کیا ۔ جنگ شروع ہوئی اور ایک ایک کرکے اصحاب امام شہید ہوتے رہے ۔یہاں تک کہ ظہر عاشورہ  آگئي اور اب اقرباء  کی باری آئی ۔

علامہ ابوالفرج اصفہانی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی اسناد سے لکھا ہے کہ شہید اول حضرت علی اکبر ہیں اور زیارت ناحیہ میں بھی امام آخر الزمان نے اول قتیل کہہ کر سلام کیا ہے : السلام علیک یا اول قتیل من نسل خیر سلیل من سلالۃ ابراہیم الخلیل، میرا سلام ہو اس شہید پر جو نسل ابراہیمی میں سب سے پہلے شہید ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ مظلوم کربلا نے سب سے پہلے اپنے ہی لخت جگر کو قربان کیا تاکہ دوسروں کے لیے حجت قرارپائے ۔ اگر چہ بیشتر کتابوں میں یہ ہے کہ حضرت عباس کی شہادت کے بعد جناب علی اکبر شہید ہو‏ئے ۔

مزار شریف: حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر شریف کے کنارے پائین پا آپ کی قبر مطہر ہے ۔

كتاب سید سبط حیدر زیدی كتاب سال 90 شد

در چهارمين جشنواره انتخاب كتاب سال رضويچهارمين جشنواره انتخاب كتاب سال رضوي

كتاب استاد سید سبط حیدر زیدی كتاب سال90 شد

كتاب استاد سید سبط حیدر زیدی در چهارمين جشنواره كتاب سال رضوي بعنوان كتاب برترسال 90 در بخش ترجمه انتخاب و معرفي شد .
خبرنگار رضوی:
 در چهارمين جشنواره انتخاب كتاب سال رضوي، 188 نفر شركت كننده با 262 اثر داخلي و خارجي با موضوع امام رضا(ع) و خاندان آن حضرت شركت داشتند .
وي كتابهاي پذيرفته شده در جشنواره انتخاب كتاب سال رضوي را كتابهاي چاپ شده درسال 90 اعلام كرد و گفت : در جشنواره امسال شركت كننده هايي از كشورهاي تونس، لبنان، كويت، عربستان، تاجيكستان، ارمنستان، افغانستان، پاكستان و هند شركت داشتند.




کتاب اصلی: زیارت امام رضا از دیدگاه اهل سنت

مولف: شیخ محمد محسن طبسی

ترجمه: حضرت امام رضا علیه السلام اهل سنت کی نظر مین

مترجم: سید سبط حیدر زیدی

ناشر: بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی

ممدوح و مذموم شعرا

ممدوح و مذموم شعرا

باسم رب الشعرا

(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )  سورہ شعراء کی آخری آیات

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدہی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

ان آیات میں قرآن کریم نے شعراء کے متعلق نظریہ الٰھی کو بیان فرمایا ہے لہذا شعراء کی دو قسمیں ہیں ایک شعراء مذموم ، دوسرے شعراء ممدوح ۔یعنی خداوندعالم کی نظر میں شعر وشاعری نہ بری شٔ ہے اور نہ اچھی شٔ بلکہ یہ ایک فن ہے کہ اس سے اگر اچھا استفادہ کیا جائے تو اچھی شٔ ہے اور اگر برے کام میں لایا جائے تو بری شٔ ہوگی۔لہذا دونوں طرح کے شعراء اور ان کی صفات بیان فرمائی ہیں۔

 مذموم شعرا

قرآن کریم نے ان مذکورہ آیات میں مذموم شعراء کی چند علامتیں اور صفات بیان کیے ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں :

٭  جھوٹ اور گناہ

(ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین۔ تنزل الشیاطین علی کل افاک اثیم) یہ آیات اسی سورہ شعراء کی مذکورہ بالا آیات سے پہلی آیتیں ہیں کہ جن میں خداوندعالم کفار و مشرکین عرب کے عقیدے کو بیان فرمارہا ہے کہ وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر شاعرپر شیطان سوار رہتاہے اور وہ اس پر اشعار القاء کرتا ہے لہذا ارشاد ہوا کہ ہم بتائیں کہ کن پر شیطان نازل ہوتا ہے شیاطین ہر جھوٹے اور گناہگار پر نازل ہوتے ہیں یعنی وہ شعراء کہ جو گناہگار ہیں شیاطین ان کی راہنمائی کرتے ہیںاور ایسے ہی شعراء شیاطین کے بہکاوے و گمراہی میں آتے ہیں ۔

٭٭گمرا ہ و گمراہ پروری

(والشعراء یتبعھم الغاوون) شعراء ایسے افرادہیں کہ جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل خیالات کوبھڑکاتی ہیں، اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے۔ یہی تصورات و تخیلات اگر شیطان کی جانب سے ہوںتو اور بھی زیادہ شہوت انگیز ہونگے،لہذا ایسے شعراء خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کے بھی گمراہ ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

٭٭٭بے ہدف سرگردانی

(الم تر انھم فی کل واد یھیمون) مذموم شعراء کی تیسری علامت وصفت یہ ہے کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں ہیں یہاں وادی خود اصطلاح شاعری ہے یعنی ہر میدان میں ہرزمین میں شعر کہنا کبھی اس کی ہجو تو کبھی اس کی تعریف و تمجید،گویا ہرجائی پن گمراہ شعراء کی صفت ہے ۔

٭٭٭٭قول وعمل میں فرق

 (وانھم یقولون مالا یفعلون) مذموم شعراء کی ایک اور صفت یہ ہے کہ ان کے اقوال ہمیشہ ان کے اعمال و افعال کے خلاف ہوتے ہیں یعنی وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں زبان پر نہیں لاتے ۔

ممدوح شعرا

قرآن کریم نے اس نظریہ کی رد میں کہ قرآن شعرنہیں ہے اور نہ ہی رسول اکرمۖ شاعر ہیں بہت زیادہ اصرار کیا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ قرآن کریم فن شاعری کا مخالف ہے اگرچہ قرآن کریم کے اصرار کی وجہ خود کفار و مشرکین ہیں کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رسولۖ شاعر اور قرآن کلام شاعر ہے لہذا قرآن اس مطلب کی رد و انکار میں مصر ہے جبکہ فن شاعری کا مخالف نہیں ہے بلکہ جہاںسورہ شعراء کی  مذکورہ آیات میں شعراء کی مذمت فرمائی ہے وہیں ممدوح و مطلوب شعراء کی مدح بھی کی ہے اور پھر ان کے مجبوب ہونے کی وجہ بھی موجود ہے  لہذا قرآن کریم نے کبھی شعرو شاعری کے کمالات کاانکار نہیں کیا  لیکن ہاں یہ کمالات اگر راہ حق کے لیے ہوں تو صحیح معنی میں کمالات ہیں ورنہ وسوسہ شیطانی کے علاوہ کچھ بھی ہیں ۔لہذا خداوندعالم کی جانب سے ممدوح شعراء کی صفات بیان ہوئی ہیں، لیکن مذموم شعراء کے اوصاف کی نفی کے ساتھ ساتھ چونکہ( تعرف الاشیاء باضدادھا)، لہذا ممدوح شعراء میں مذموم شعراء کی صفات جھوٹ و گنا ہ ، گمراہ و گمراہ پروری،قول وعمل میں فرق اور بے ہدف سرگردانی نہ ہوں ان کے علاوہ یہ صفات ہوں کہ جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ۔

٭ایمان

(الا الذین آمنوا) گمراہ اور مذموم شعراء کے اوصاف بیان کرنے کے بعد پھر فرماتا ہے سوائے ان شعراء کے کہ جوایمان لائے یعنی ایمان ممدوح شعراء کی پہلی صفت و علامت ہے اور واضح ہے کہ شاعر اگر ایماندار و مومن ہوا تو یقینا حق کہے گا اور کبھی زبان پر ناحق جاری نہیں کرسکتا ۔

٭٭عمل صالح

(و عملواالصالحات)مجبوب شعراء کی دوسری صفت یہ ہے کہ عمل صالح انجام دیتے ہیں اور ظاہر ہے یہ صفت خود اسم بامسمی کی حیثیت رکھتی ہے چونکہ اگر شاعراپنے کسی بھی شعر کے ذریعہ خلاف حق کام انجام دیے گا تو وہ عمل صالح نہیں کہلائے گا اور اس صفت کے حامل ہونے کے لیے ہمیشہ حق گوئی کو ساتھ رکھنا ہوگا ۔

٭٭٭کثرت سے ذکر الٰھی (ذاکرالٰھی ہونا )

(و ذکرو ا اللہ کثیرا )شاعر ہمیشہ ذکر الٰھی میں مشغول رہے، ممدوح شعراء کی دوسری صفت عمل صالح کے بعد اس صفت کا ذکر کرنا خود ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ ہے چونکہ ذکر الٰھی خود اعمال صالحہ میں سے ہے لیکن شاعر کے لیے ذکر الٰہی کے کثرت سے انجام دینے کو جداگانہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کی زبان کہ جو بہت عظیم آلہ ہے اس طرح کہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرکو مجاہد کی شمشیر سے تشبیہ دی گئی ہے اور علم معرفت کے میدان میں کہا گیا ہے کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔  شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھینچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔لہذا خداوندعالم نے اعمال صالحہ کے بعد خصوصا شائستہ شاعر کی علامت وصفت یہ قرار دی کہ ہمیشہ ذکرالٰھی میں مشغول رہے گویا ممدوح شاعر کی صفت یہ ہے کہ مدح و ثناء نعت ومنقبت اس کی طینت و طبیعت بن جائے ۔

٭٭٭٭مظلوم کی مدد

(وانتصروا من بعد ما ظلموا )اچھے شاعر کی چوتھی صفت یہ ہے کہ مظلوم کا مددگار ہو،اور ظاہر ہے کہ شاعر سے ایسی توقع کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شعر سے مظلوم کی مدد کرے چونکہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرمجاہد کی شمشیر کا مرتبہ رکھتے ہیں گویا نظرالٰہی میں مظلوم کے لیے نوحہ مرثیہ اور سوز و سلام کہنا ایک عظیم کمال و مقام کا حامل ہے۔

بہر حال یہ وہ صفا ت ہیں کہ جو خداوندعالم نے اپنے قرآن کریم میں ممدوح شعراء کے لیے بیان فرمائی ہیں کہ جن میں سے دو صفتیں شاعر کی ذاتی ہیں ایک ایمان اور دوسری عمل صالح لیکن باقی دوصفات یعنی کثرت سے ذکر الٰھی اور مظلوم کی مدد ،ان کا تعلق معاشرے سے ہے چو نکہ ایمان اور عمل صالح خاموشی سے بھی انجام دیے جاسکتے ہیں لیکن کثر ت سے ذکر الٰہی اور مظلوم کی مدد ،وہ بھی شاعر ی کے ذریعہ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم چاہتا ہے کہ شاعر معاشرے کے درمیان پرچمدار الٰہی کی حیثیت سے سامنے آئے

 اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کبھی ہچکچائے نہیں ۔اور پھر شاعرکا یہی کلام کہ جو حق کی حمایت میں ہوگا انسانی ہدایت کے لیے صحیفہ قرار پائے گا۔نیز یہ دوصفات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ حمد و ثناء ، نعت ومنقبت اور سوز و سلام ، نوحہ و مرثیہ ممدوح الٰہی ہیں اور یہ ممدوح شعراء کی علامت ہیں ۔یا پھر یوں کہا جائے کہ اس صنف شاعر کی تائید میں مذکورہ آیات نازل ہوئی ہیںلہٰذا انہیںاس صنف کے اثبات میں استدلال کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے ۔

اس بات کی تائید کے طور پر مذکورہ سورہ کی آخری آیت آخری حصہ(و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون) ملاحظہ فرمائیں،  یہ وہ ٹکڑاہے کہ دنیا ہر حظیب و ذاکر جب کبھی بھی اپنے بیان کو مصائب مظلوم کربلا بیان کرکے ختم کرتا ہے تو اس آیت کے اس حصے کی تلاوت کرتا ہے گویا اس آیت میں ظالمین کربلا سے انتقام کا تذکرہ ہے تو واضح ہے کہ جب یہاں ظالمین کربلا سے انتقام کا ذکر ہے تو اس سے ماقبل مظلوم کربلا کی حمایت کا ذکر ہوگا  لہذا یہ آیات ان ممدوح شعراء کی شان میں ہیں کہ جو اہل بیت علیہم السلام  کی ثناء و رثاء میں مصروف ہیں ۔

 

والسلام

 

سید سبط حیدر زیدی

بسم الله الرحمن الرحيم

 

حضرت امام رضا عليه السلام

 حکومت وسياست

 

بقلم : سيد سبط حيدر زيدی

 

درطول زندگی حضرت امام رضا عليه السلام سياسی ترين حالات موقعی بوده است که مامون حاکم وقت آنحضرت را از مدينه طلبيد و خلافت را پيشنهاد کرد ولی چون از طرف امام رضا عليه السلام به انکار مواجه شد ولايتعهدی خويش را باجبار بآنحضرت واگذار نمود.[i]

ولی در اين قضيه مهم سياسی و تاريخی دو تا سوال مطرح می شود يکی مربوط به مامون ودومی متعلق به حضرت امام رضا عليه السلام می باشد.

مقاله ما در پی پاسخگوئ از اين سوال ها می پردازد.

سوال اول: برای مامون چه مشکلاتی در پيش بود و چه نيازی داشت که حضرت امام رضا عليه السلام را از مدينه طلبيد و ابتداء خلافت و آخرکار ولايتعهدی را با تهديد واگذار نمود؟!

سوال دوم: برای حضرت امام رضا چه مصلحتی در پيش بود که از مدينه تشريف آوردند و ولايتعهدی را قبول فرمودند؟!

 

پاسخ از سوال اول: ضرب المثل معروفی است بين عربها که منسوب است به هارون الرشيد پدر مامون که خطاب می کند به خود مامون ومی گويد يا بنيی ان الملک عقيم يعنی ملك فرزند نمی‏شناسد تا چه رسد به چيز ديگر.گفت:پسرك من!اگر تو كه فرزند من هستی با من بر سر خلافت به منازعه برخيزی،آن چيزی را كه چشمانت در او هست از روی تنت برمی‏دارم،يعنی سرت را از تنت جدا می‏كنم. و خود هم مأمون با برادرش امين در افتاد،اين دو برادر با هم جنگيدند و مأمون پيروز شد و برادرش را به بدترين وضع كشت.

حال اين خودش يك عجيبی است از عجايب تاريخ كه چگونه است كه چنين مأمونی حاضر می‏شود حضرت رضا را از مدينه احضار كند،دستور بدهد كه برويد او را بياوريد،بعد كه می‏آورند موضوع را به امام عرضه بدارد،ابتدا بگويد خلافت را از من بپذير  ،و در آخر راضی شود كه تو بايد ولايتعهد را از من بپذيری،و حتی كار به تهديد برسد،تهديدهای بسيار سخت.او در اين كار چه انگيزه‏ای داشته؟و چه جريانی در كار بوده است؟ تجزيه و تحليل كردن اين قضيه از نظر تاريخی خيلی ساده نيست.

مأمون را چه چيز وادار كرد كه اين موضوع ‏را مطرح كند؟آيا مأمون واقعا به اين فكر افتاده بود كه كار را به حضرت رضا واگذار كند كه اگر خودش مرد يا كشته شد خلافت به خاندان علوی و به حضرت رضا منتقل شود؟اگر چنين اعتقادی داشت آيا اين اعتقادش تا نهايت امر باقی ماند؟وپس چرا حضرت رضا را مسموم كرد؟.

علماء شيعه درباره انگيزه های مامون به چندين وجه واحتمالات پرداخته اند که ما مهم آن هارا متذکر می شويم.

 

الف.جلب نظر ايرانيان.

مامون به خاطر يك سياست ملكداری اين موضوع را در نظر گرفت. چون ايرانيها عموما تمايلی به تشيع و خاندان علی عليه السلام داشتند و از اول هم كه عليه عباسيها قيام كردند تحت عنوان«الرضا(يا الرضی)من آل محمد» و لهذا به حسب تاريخ نه به حسب حديث لقب«رضا»را مأمون به حضرت رضا داد،يعنی روزی كه حضرت را به ولايتعهد نصب كرد گفت كه بعد از اين ايشان را به لقب«الرضا»بخوانيد،می‏خواست آن خاطره ايرانيها را از حدود نود سال پيش كه تحت عنوان«الرضا من آل محمد»يا«الرضی من آل محمد»قيام كردند زنده كند كه ببينيد!من دارم خواسته هشتاد نود ساله شما را احياء می‏كنم،آن كسی كه شما می‏خواستيد من او را آوردم. پس يک هدف آرام كردن ايرانيها و جلب نظر آنها بود.

 

ب.فرو نشاندن قيامهای علويان

بعضی‏[برای اين سياست مأمون‏]علت ديگری گفته‏اند و آن فرو نشاندن قيامهای علويين است علويون خودشان يك موضوعی شده بودند،هر چند سال يك بار و گاهی هر سال از يك گوشه مملكت يك قيامی می‏شد كه در رأس آن يكی از علويون بود.مأمون برای اينكه علويين را راضی كند و آرام نگاه دارد و يا لا اقل در مقابل مردم خلع سلاح كرده باشد[دست به اين كار زد] .وقتی كه رأس علويون را بياورد در دستگاه خودش،قهرا آنها می‏گويند پس ما هم سهمی در اين خلافت داريم،حالا كه سهمی داريم برويم آنجا،كما اينكه مأمون خيلی از اينها را بخشيد با اينكه از نظر او جرمهای بزرگی مرتكب شده بودند،از جمله«زيد النار»برادر حضرت رضا را عفو كرد.با خود گفت بالاخره راضی‏شان كنم و جلوی قيامهای اينها را بگيرم.در واقع خواست يك سهم به علويين در خلافت بدهد كه آنها آرام شوند،و بعد هم مردم ديگر را از دور آنها متفرق كند،يعنی علويين را به اين وسيله خلع سلاح نمايد كه ديگر هر جا بخواهند بروند دعوت كنند كه ما می‏خواهيم عليه خليفه قيام كنيم،مردم بگويند شما كه الآن خودتان هم در خلافت سهيم هستيد،حضرت رضا كه الآن وليعهد است،پس شما عليه حضرت رضا می‏خواهيد قيام كنيد؟!

ج.خلع سلاح كردن حضرت رضا

احتمال ديگر در باب سياست مأمون، مسأله خلع سلاح كردن خود حضرت رضاست و اين در روايات ما هست كه حضرت رضا روزی به خود مأمون فرمود هدف تو اين است.می‏دانيد وقتی افرادی كه نقش منفی و نقش انتقاد را دارند،به يك دستگاه انتقاد می‏كنند،يك راه برای اينكه آنها را خلع سلاح كنند اين است كه به خودشان پست بدهند،بعد اوضاع و احوال هر چه كه باشد،وقتی كه مردم ناراضی باشند آنها ديگر نمی‏توانند از نارضايی مردم استفاده كنند و بر عكس،مردم ناراضی عليه خود آنها تحريك می‏شوند،مردمی كه هميشه می‏گويند خلافت حق آل علی است،اگر آنها خليفه شوند دنيا گلستان خواهد شد،عدالت اينچنين بر پا خواهد شد و از اين حرفها.مأمون خواست حضرت رضا را بياورد در منصب ولايتعهد تا بعد مردم بگويند:نه،اوضاع فرقی نكرد،چيزی نشد،و يا[آل علی عليه السلام را]متهم كند كه اينها تا دست خودشان كوتاه است اين حرفها را می‏زنند ولی وقتی كه دست خودشان هم رسيد ديگر ساكت می‏شوند و حرفی نمی‏زنند.

 

د.ايفاء نذر

اگرچه اين فرض خيلی بعيد نيست چون امثال شيخ مفيد و شيخ صدوق آن را قبول كرده‏اند اين است كه مأمون در ابتدای امر صميميت داشت ولی بعد پشيمان شد.در تاريخ هست و شيخ صدوق وشيخ مفيد هم نقل می‏كنند كه مأمون وقتی كه خودش اين پيشنهاد را كرد گفت:زمانی برادرم امين مرا احضار كرد(امين خليفه بود و مأمون با اينكه قسمتی از ملك به او واگذار شده بود وليعهد هم بود)من نرفتم و بعد لشكری فرستاد كه مرا دست بسته ببرند.از طرف ديگر در نواحی خراسان قيامهايی شده بود و من لشكر فرستادم،در آنجا شكست خوردند،در كجا چنين شد و شكست خورديم،و بعد ديدم روحيه سران سپاه من هم بسيار ضعيف است،برای من ديگر تقريبا جريان قطعی بود كه قدرت مقاومت با برادرم را ندارم و مرا خواهند گرفت،دست بسته تحويل او خواهند داد و سر نوشت بسيار شومی خواهم داشت.روزی بين خود و خدای خود توبه كردم {به آن كسی كه با او صحبت می‏كند اتاقی را نشان می‏دهد و می‏گويد} در همين اتاق دستور دادم كه آب آوردند،اولا بدن خودم را شستشو دادم،تطهير كردم،سپس دستور دادم لباسهای پاكيزه سفيد آوردند و در همين جا آنچه از قرآن حفظ بودم خواندم و چهار ركعت نماز بجا آوردم و بين خود و خدای خود عهد كردم(نذر كردم)كه اگر خداوند مرا حفظ و نگهداری كند و بر برادرم پيروز گرداند،خلافت را به كسانی بدهم كه حق آنهاست،و اين كار را با كمال خلوص قلب كردم.از آن به بعد احساس كردم كه گشايشی در كار من حاصل شد.بعد از آن در هيچ جبهه‏ای شكست نخوردم .در جبهه سيستان افرادی را فرستاده بودم،خبر پيروزی آنها آمد.بعد طاهر بن الحسين را فرستادم برای برادرم،او هم پيروز شد،مرتب پيروزی و پيروزی،و من چون از خدا اين استجابت دعا را ديدم می‏خواهم به نذری كه كردم و به عهدی كه كردم وفا كنم.

شيخ صدوق و ديگران قبول كرده‏اند،می‏گويند قضيه همين است،انگيزه مأمون فقط همين عهد و نذری بود كه در ابتدا با خدا كرده بود.

 پس مأمون از اول صميميت داشت ولی بعدها پشيمان شد،مثل همه اشخاص كه وقتی‏[دچار سختی می‏شوند تصميمی مبنی بر باز گشت به حق می‏گيرند اما وقتی رهايی می‏يابند تصميم خود را فراموش می‏كنند:] فاذا ركبوا فی الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلما نجيهم الی البر اذا هم يشركون ([ii]) .قرآن نقل می‏كند كه افرادی وقتی در چهار موجه دريا گرفتار می‏شوند خيلی خالص و مخلص می‏شوند،ولی هنگامی كه بيرون آمدند تدريجا فراموش می‏كنند.مأمون هم در آن چهار موجه گرفتار شده بود،اين نذر را كرد،اول هم تصميم گرفت به نذرش عمل كند ولی كم كم يادش رفت و درست از آن طرف برگشت.

بالاخره اين وجه هم اگر درست باشد دليلی برشيعه و مؤمن بودن مامون نمی شود.

 

ه.احتمالات ديگر

احتمالات ديگرهم نقل شده که مهمترين از آنها اين است که اصلا مأمون در اين قضيه اختياری نداشته،اين ابتكار از فضل بن سهل ذو الرياستين وزير مأمون بوده است. فضل بن سهل ذو الرياستين سرخسی بر مأمون تحميل كرده بود از باب اينكه وزير بسيار مقتدری بود و لشكريان مأمون كه اكثريت قريب به اتفاقشان ايرانی بودند تحت نظر اين وزير بودند و او هر نظری كه داشت می‏توانست تحميل كند او آمد به مأمون گفت:پدران تو با آل علی بد رفتار كردند،چنين كردند چنان كردند،حالا سزاوار است كه تو افضل آل علی را كه امروز علی بن موسی الرضا است بياوری و ولايتعهد را به او وا گذار كنی،و مأمون قلبا حاضر نبود امام چون فضل اين را خواسته بود چاره‏ای نديد.

باز بنا بر اين فرض كه ابتكار از فضل بود،فضل چرا اين كار را كرد؟آيا فضل شيعی بود؟روی اعتقاد به حضرت رضا اين كار را كرد؟يا نه،او روی عقايد مجوسی خود باقی بود،خواست عجالتا خلافت را از خاندان عباس بيرون بكشد،و اصلا می‏خواست با اساس خلافت بازی كند،و بنا بر اين با حضرت رضا هم خوب نبود و بد بود،و لهذا اگر نقشه‏های فضل عملی می‏شد خطرش بيشتر از خلافت خود مأمون بود چون مأمون بالاخره هر چه بود يك خليفه مسلمان بود ولی اينها شايد می‏خواستند اساسا ايران را از دنيای اسلام مجزا كنند و ببرند به سوی مجوسيت.

 

در تحليل اين قضيه هم نظر ها مختلف اند. 

نظر جرجی زيدان

جرجی زيدان يكی از كسانی است كه معتقد است ابتكار از فضل بن سهل بود،ولی همچنين معتقد است كه فضل بن سهل شيعی بود و حسن نيت داشت و می‏خواست واقعا خلافت را به خاندان علوی‏منتقل كند و ازروی اعتقاد به حضرت رضا چنين كاری را كرد.

ولی اگر اين فرض صحيح باشد بايد حضرت رضا با فضل بن سهل همكاری كند،به جهت اينكه وسيله كاملا آماده شده است كه خلافت به علويين منتقل شود،و حتی نبايد بگويد من قبول نمی‏كنم تا تهديد به قتلش كنند و بعد هم كه قبول كرد بگويد بايد جنبه تشريفاتی داشته باشد،من در كارها مداخله نمی‏كنم،بلكه بايد جدا قبول كند،در كارها هم مداخله نمايد و مأمون را عملا از خلافت خلع يد كند. البته اينجا يك اشكال هست و آن اين كه اگر فرض هم كنيم كه با همكاری حضرت رضا و فضل بن سهل می‏شد مأمون را از خلافت خلع كرد،چنين نبود كه ديگر اوضاع خلافت رو به راه باشد،چون خراسان جزئی از مملكت اسلامی بود،همين قدر كه به مرز ری می‏رسيديم،از آنجا به آن طرف،يعنی قسمت عراق كه قبلا دار الخلافه بود،و نيز حجاز و يمن و مصر و سوريه وضع ديگری داشت،آنها كه تابع تمايلات مردم ايران و مردم خراسان نبودند و بلكه تمايلاتی بر ضد اينها داشتند،يعنی اگر فرض هم می‏كرديم كه اين قضيه به همين شكل بود و عملی می‏شد،حضرت رضا در خراسان خليفه بود،بغداد در مقابلش محكم می‏ايستاد،همچنانكه تا خبر ولايتعهد حضرت رضا به بغداد رسيد و بنی العباس در بغداد فهميدند كه مأمون چنين كاری كرده است فورا نماينده مأمون را معزول كردند و با يكی از بنی العباس به نام ابراهيم بن شكله با اينكه صلاحيتی هم نداشت بيعت كردند و اعلام طغيان نمودند،گفتند ما هرگز زير بار علويين نمی‏رويم،اجداد ما صد سال است كه زحمت كشيده‏اند،جان كنده‏اند،حالا يكدفعه خلافت را تحويل علويين بدهيم؟!بغداد قيام می‏كرد و به دنبال آن خيلی جاهای ديگر نيز قيام می‏كردند.

ولی اين يك فرض است و تازه اصل فرض درست نيست،يعنی اين حرف قابل قبول نيست كه فضل بن سهل ذو الرياستين شيعی بود و روی اخلاص و ارادت به حضرت رضا چنين كاری كرد. با تواريخ تطبيق نمی‏كند.زيرا اگر فضل بن سهل آنچنان صميمی می‏بود و واقعا می‏خواست تشيع را بر تسنن پيروزی بدهد عكس العمل حضرت رضا در مقابل ولايتعهد اين جور نبود كه بود،و بلكه در روايات شيعه و در تواريخ شيعه حتی در روايات شيعه زياد آمده است كه حضرت رضا با فضل بن سهل سخت مخالف بود و بلكه بيشتر از آن كه با مأمون مخالف بود با فضل بن سهل مخالف بود، و در مواردی كه ميان فضل بن سهل و مأمون اختلاف پيش می‏آمد،حضرت طرف مأمون را می‏گرفت.در روايات ما هست كه فضل بن سهل و يك نفر ديگر به نام هشام بن ابراهيم آمدند نزد حضرت رضا و گفتند كه خلافت حق شماست،اينها همه‏شان غاصبند،شما موافقت كنيد،ما مأمون را به قتل می‏رسانيم و بعد شما رسما خليفه باشيد.حضرت به شدت اين دو نفر را طرد كرد.اينها بعد فهميدند كه اشتباه كرده‏اند،فورا رفتند نزد مأمون،گفتند:ما نزد علی بن موسی بوديم،خواستيم او را امتحان كنيم،اين مسأله را به او عرضه داشتيم تا ببينيم كه او نسبت به تو حسن نيت دارد يا نه.ديديم نه،حسن نيت دارد.به او گفتيم بيا با ما همكاری كن تا مأمون را بكشيم،او ما را طرد كرد.و بعد حضرت رضا در ملاقاتی كه با مأمون داشتند و مأمون هم سابقه ذهنی داشت قضيه را طرح كردند و فرمودند اينها آمدند و دروغ می‏گويند،جدی می‏گفتند،و بعد حضرت به مأمون فرمود كه از اينها احتياط كن.

مطابق اين روايات،علی بن موسی الرضا خطر فضل بن سهل را از خطر مأمون بالاتر و شديدتر می‏دانسته است.بنا بر اين فرض‏[كه ابتكار ولايتعهد از فضل بن سهل بوده است‏] (14) حضرت رضا اين ولايتعهدی را كه به دست اين مرد ابتكار شده است خطرناك می‏داند،می‏گويد نيت سوئی در كار است،اينها آمده‏اند مرا وسيله قرار دهند برای برگرداندن ايران از اسلام به مجوسی‏گری.  

پس نتيجة اولا اينكه ابتكار از او باشد محل ترديد است.ثانيا:به فرض اينكه ابتكار از او باشد،اينكه او احساسات شيعی داشته باشد سخت محل ترديد است.آنچه احتمال بيشتر قضيه است اين است كه فضل بن سهل كه تازه مسلمان شده بود می‏خواست به اين وسيله ايران را برگرداند به ايران قبل از اسلام، فكر كرد الآن ايرانيها قبول نمی‏كنند چون واقعا مسلمان و معتقد به اسلام هستند و همين قدر كه اسم مبارزه با اسلام در ميان بيايد با او مخالفت می‏كنند.با خود انديشيد كه كلك خليفه عباسی را به دست مردی كه خود او وجهه‏ای دارد بكند،حضرت رضا را عجالتا بياورد روی كار و بعد ايشان را از خارج دچار دشواريهای مخالفت بنی العباس كند،و از داخل هم خودش زمينه را فراهم نمايد برای برگرداندن ايران به دوره قبل از اسلام ودوره زردشتيگری .

پس اگر اين فرض درست باشد، همين طور كه قرائن هم نشان می‏دهد که فضل بن سهل سوء نيت داشته است،در اين صورت امام می‏بايست طرف مأمون را بگيرد. در اينجا وظيفه حضرت رضا همكاری با مأمون است برای قلع و قمع كردن خطر بزرگتر،يعنی خطر فضل بن سهل برای اسلام صد درجه بالاتر از خطر مأمون است برای اسلام،زيرا بالاخره مأمون هر چه هست يك خليفه مسلمان است.

تا اينجا نتيجه نهائی و پاسخ ازسوال اول اين شد که در اين کار ولايتعهدی نه مامون حسن نيت داشت و نه فضل بن سهل بلکه هر دو به سوئ نيت سياست خودشان را دنبال می کردند و هيچ کدام شيعه و محب اهل بيت عليهم السلام نبوده است ولی چون هر دوغرض مهمی داشته اند کار به ايجا کشيده شد که حضرت امام رضا عليه السلام را مجبور کنند از مدينه به مرو بياورند وبا مکر و حيله ایخود شان، آنحضرت را پوست و منصبی از حکومت بدهند و از وجود مقدس آن سوئ استفاده کنند.

 

 

 پاسخ ازسوال دوم: پاسخ از اين سوال بر سه محور مهم می گردد.

 

1 ـ دلايل پذيرش ولايتعهدی

امام رضا(ع) در قبول ولايتعهدی ناچار شد، زيرا در صورت امتناع نه تنها خود امام بلكه علويان نيز در مخاطره قرار می‏گرفتند. نياز امت اسلامی به وجود امام و علمای شيعه وجه ديگری برای قبول اين منصب بود. با پذيرش آن، علويان در حكومت سهم پيدا شد و زمينه حضور اهل بيت در صحنه سياست فراهم گرديد، هرچند كه ائمه هيچ‏گاه در مسأله رهبری امت تقيه نكردند. افشاگری امام رضا(ع) عليه مأمون مؤيد همين مطلب است.

 

2 ـ ترسيم اوضاع فرهنگی و اجتماعی جامعه آن روز

انحراف فرمانروايان، وجود علمای فرومايه و معتقدين به جبر كه تحريم قيام و انقلاب عليه ستمگران را از عقايد دينی می‏شمردند.

 

3 ـ موضع‏گيری‏های امام در برابر پذيرش ولايتعهدی

امام برای اينكه به بی‏رغبتی خود به ولايتعهدی و اجباری بودن آن صحه بگذارد به موضع‏گيری‏هايی پرداخت: هرگز در مدينه پيشنهاد آنان را نپذيرفت، با اينكه با خانواده دعوت شده بود، خود به تنهايی عازم خراسان شد، در مسير، با خواندن حديث سلسلة الذهب به مشكل اساسی مردم كه توحيد و ولايت است اهميت داد و اتصال به مبدأ اعلی را شرط رهبری امت دانست، همواره بر اين نكته تأكيد می‏نمود كه مأمون مرا به اجبار به ولايتعهدی برگزيده است، امام وانمود می‏كرد كه مأمون حق را به اهل آن واگذار كرده است و كار مهمی نكرده و حتی مأمون به حقانيت و اولويت اهل بيت اعتراف می‏كند كه مفاد دست خط امام بر سند ولايتعهدی كه می‏فرمايد اگر زنده باشم و حكومت در دستم قرار گيرد به مقتضای اطاعت خداوند عمل می‏كنم. شروط امام كه تنها مشاور باشد و عزل و نصبی نداشته باشد، نماز عيد فطر و رسوايی مأمون و آداب و معاشرت امام، دلايل روشنی است بر خنثی كردن نقشه‏ها و توطئه‏های مأمون از سوی آن حضرت .

پس از آنكه امام پيشنهاد خلافت را با توجه به جدی نبودن آن از سوی مأمون، پشت‏سر نهاد، خود را در برابر صحنه بازی ديگری يافت و آن اينكه مأمون به رغم امتناع امام از خلافت از پای ننشست و اين بار وليعهدی خويش را به وی پيشنهاد كرد. در اينجا نيز امام می‏دانست كه منظور مأمون، تأمين هدفهای شخصی است، لذا اين بار نيز امتناع ورزيد، ولی اصرار و تهديدهای مأمون چندان اوج گرفت كه امام بناچار با پيشنهاد او موافقت كرد.

 

دلايل امام برای پذيرفتن وليعهدی

امام رضا(ع) به اين حقيقت توجه داشت كه در صورت امتناع از پذيرش ولايت‏عهدی نه تنها جان خود، بلكه علويان و دوستدارانشان نيز در معرض خطر واقع می‏شوند. در اين حال اگر بر امام جايز بود كه در آن شرايط، جان خويشتن را به خطر بيفكند، ولی در مورد دوستداران و شيعان خود و يا ساير علويان هرگز به خود حق نمی‏داد كه جان آنان را نيز به مخاطره بيندازد، بنابراين ولايت عهدی را پذيرفتند.

افزون بر اين، بر امام لازم بود كه جان خويشتن و شيعيان و هواخواهان را از گزندها برهاند . زيرا امت اسلامی به وجود آنان و آگاهی بخشيدنشان نياز بسيار داشت. اينان بايد باقی می‏ماندند تا برای مردم چراغ راه و راهبر و مقتدا در حل مشكلات و هجوم شبهه‏ها باشند .

آری، مردم به وجود امام و دست پروردگان وی نياز بسيار داشتند، چه در آن زمان موج فكری و فرهنگی بيگانه‏ای بر همه جا چيره شده بود كه در قالب بحث‏های فلسفی و ترديد نسبت به مبادی خدا شناسی، با خود كفر و الحاد به ارمغان می‏آورد.

حال اگر او با رد قاطع و هميشگی وليعهدی، هم خود و هم پيروانش را به دست نابودی می‏سپرد، اين فداكاری كوچكترين تأثيری در مسير تلاش برای نيل به اين هدف مهم در بر نمی‏داشت.

علاوه بر اين، پذيرش مقام وليعهدی از سوی امام(ع) يك اعتراف ضمنی از سوی عباسيان را نشان می‏داد، داير بر اين مطلب كه علويان در حكومت سهم شايسته‏ای داشتند.

ديگر از دلايل قبول وليعهدی از سوی امام آن بود كه مردم اهلبيت را در صحنه سياست حاضر بيابند و آنان را به دست فراموشی نسپارند، و نيز گمان نكنند كه آنان همانگونه كه شايع شده بود، فقط علما و فقهايی هستند كه در عمل هرگز به كار ملت نمی‏آيند. شايد امام خود نيز به اين نكته اشاره می‏كرد هنگامی كه «ابن عرفه» از وی پرسيد:

«ای فرزند رسول خدا، به چه انگيزه‏ای وارد ماجرای وليعهدی شدی؟»

امام پاسخ داد: «به همان انگيزه‏ای كه جدم علی(ع)، را وادار به ورود در شورا نمود.» ([iii])

گذشته از همه اينها، امام در ايام وليعهدی خويش چهره واقعی مأمون را به همه شناساند و با افشا ساختن نيت و هدفهای وی در كارهايی كه انجام می‏داد، هرگونه شبهه و ترديدی را از نظر مردم برداشت.

 

آيا خود امام رغبتی به اين كار داشت؟

اينها كه گفتيم هرگز دليلی بر ميل باطنی امام برای پذيرفتن وليعهدی نمی‏باشد. بلكه همانگونه كه حوادث بعدی اثبات كرد، او می‏دانست كه هرگز از دسيسه‏های مأمون و دار و دسته‏اش در امان نخواهد گذاشت.

 

برنامه پيشگيری امام

اكنون كه امام رضا(ع) در پذيرفتن وليعهدی از خود اختياری ندارد، و نمی‏تواند اين مقام را وسيله رسيدن به هدفهای خويش قرار دهد، زيانهای گرانباری پيكر امت اسلامی را تهديد می‏كند و دينشان هم به خطر افتاده است، از سويی هم امام نمی‏تواند ساكت بنشيند و چهره موافق در برابر اقدامات دولتمردان نشان بدهد.. پس بايد در برابر مشكلاتی كه در آن زمان وجود دارد برنامه‏ای بريزد. اكنون درباره‏ای اين مشكلات سخن خواهيم گفت.

 

1 ـ انحراف فرمانروايان

كوچكترين مراجعه به تاريخ بر ما روشن می‏كند كه فرمانروايان آن ايام ـ چه عباسی و چه اموی ـ تا چه حد در زندگی، رفتار و اقداماتشان با مبانی دين اسلام تعارض و ستيز داشتند، همان اسلامی كه به نامش بر مردم حكم می‏راندند. مردم نيز به موجب «مردم بر دين ملوك خويشند» تحت تأثير قرار گرفته، اسلام را تقريبا همانگونه كه می‏فهميدند كه اجرايش را در متن زندگی خود مشاهده می‏كردند. پيامد اين اوضاع، انحراف روز افزون و گسترده از خط صحيح اسلام بود، كه ديگر مقابله با آن هرگز آسان نبود.

 

2 ـ علمای فرومايه و عقيده جبر.

گروهی خود فروخته كه فرمانروايان آنچنانی، «علما»يشان می‏خواندند، برای مساعدت ايشان مفاهيم و تعاليم اسلامی را به بازی می‏گرفتند تا بتوانند دين را طبق دلخواه حكمرانان استخدام كنند و خود نيز به پاس اين خدمتگذاری به نعمت و ثروتی برسند.

اين مزدوران حتی عقيده جبر را جزو عقايد اسلامی قرار دادند، عقيده فاسدی كه بی‏مايگی آن بر همگان روشن است. اين عقيده برای آن رواج داده شد كه حكمرانان بتوانند آسانتر به استثمار مردم بپردازند و هر كاری كه می‏كنند قضا و قدر الهی معرفی شود تا كسی به خود جرأت انكار آن را ندهد. در زمان امام (ع) از رواج اين عقيده فاسد يك قرن و نيم می‏گذشت، يعنی از آغاز خلافت معاويه تا زمان مأمون.

 

3 ـ فرومايگان و عقيده قيام بر ضد ستمگران.

همين عالمان خود فروخته بودند كه قيام بر ضد سلاطين جور را از گناهان بزرگ می‏شمردند و با همين دستاويز، برخی از علمای بزرگ اسلامی را بی‏آبرو ساخته بودند، آنان تحريم قيام و انقلاب را از عقايد دينی می‏شمردند. ([iv])

 

برنامه امام رضا(ع)

در آن فرصت كوتاهی كه نصيب امام (ع) شد و حكمرانان را سرگرم كارهای خويشتن يافت، وظيفه خود را برای آگاه كردن مردم ايفا نمود. اين فرصت همان فاصله زمانی بين در گذشت رشيد و قتل امين بود. ولی شايد بتوان گفت كه فرصت مزبور ـ البته به شكلی محدود ـ تا پايان عمر امام (در سال 203) نيز امتداد يافت. امام با شگرد ويژه خود نفوذ گسترده‏ای بين مردم پيدا كرد و حتی نوشته‏هايش را در شرق و غرب كشور اسلامی منتشر می‏كردند و خلاصه همه گروهها شيفته او گرديده بودند.

 

موضع گيری‏هايی كه مأمون انتظار نداشت

امام رضا(ع) مواضع گوناگونی برای رو به رو شدن با توطئه‏های مأمون اتخاذ می‏كرد كه مأمون آنها را قبلا به حساب نياورده بود.

 

نخستين موضع‏گيری

امام تا وقتی كه در مدينه بود از پذيرفتن پيشنهاد مأمون خودداری كرد و آنقدر سرسختی نشان داد تا بر همگان معلوم بدارد كه مأمون به هيچ قيمتی از او دست بردار نيست. حتی برخی از متون تاريخی به اين نكته اشاره كرده‏اند كه دعوت امام از مدينه به مرو با اختيار خود او صورت نگرفت وبا مشورت امام و با جلب نظر قبلی امام نبوده است.يك نفر ننوشته كه قبلا در مدينه مكاتبه يا مذاكره‏ای با امام شده بود كه شما را برای چه موضوعی می‏خواهيم و بعد هم امام به خاطر همان دعوتی كه از او شده بود و برای همين موضوع معين حركت كرد و آمد.مأمون امام را احضار كرد بدون اينكه اصلا موضوع روشن باشد.در مرو برای اولين بار موضوع را با امام در ميان گذاشت.نه تنها امام را،عده زيادی از آل ابی طالب را دستور داد از مدينه،تحت نظر و بدون اختيار خودشان حركت دادند[و به مرو]آوردند. حتی مسيری كه برای حضرت رضا انتخاب كرد يك مسير مشخصی بود كه حضرت از مراكز شيعه نشين عبور نكند،زيرا از خودشان می‏ترسيدند.دستور داد كه حضرت را از طريق كوفه نياورند،از طريق بصره و خوزستان و فارس بياورند به نيشابور.خط سير را مشخص كرده بود.كسانی هم كه مأمور اين كار بودند از افرادی بودند كه فوق العاده با حضرت رضا كينه و عداوت داشتند.

اتخاذ چنين موضع سرسختانه‏ای برای آن بود كه مأمون بداند كه امام دستخوش نيرنگ وی قرار نمی‏گيرد و بخوبی به توطئه‏ها و هدفهای پنهانيش آگاهی دارد... تازه با اين شيوه امام توانسته بود شك مردم را نيز پيرامون آن رويداد برانگيزد.

 

 موضع‏گيری دوم

      به رغم آنكه مأمون از امام خواسته بود كه از خانواده‏اش هر كه را می‏خواهد همراه خويش به مرو بياورد، ولی امام با خود هيچ كس حتی فرزندش جواد(ع) را هم نياورد. در حالی كه آن يك سفر كوتاه نبود، سفر مأموريتی بس بزرگ و طولانی بود كه بايد امام طبق گفته مأمون رهبری امت اسلامی را به دست بگيرد. امام حتی می‏دانست كه از آن سفر برايش بازگشتی وجود ندارد.

 

موضع گيری سوم

در ايستگاه نيشاور، امام با نماياندن چهره محبوب خود برای دهها و بلكه صدها هزار تن از مردم استقبال كننده، روايت زير را خواند: «كلمه توحيد (لا اله الا الله) دژ منست، پس هر كس به دژ من وارد شود از كيفرم مصون می‏ماند.»

در آن روز حدوط بيست هزار نفر اين حديث را به محض شنيدن از زبان امام نوشتند و اين رقم با توجه به كم بودن تعداد با سوادان در آن ايام بسيار اعجاب‏انگيز می‏نمايد.

جالب آنكه می‏بينيم امام در آن شرايط هرگز مسايل فرعی دين و زندگی مردم را عنوان نكرد، نه از نماز و روزه و از اين قبيل مطالب چيزی را گفتنی ديد و نه مردم را به زهد در دنيا و آخرت انديشی تشويق كرد، امام حتی از آن موقعيت شگرف برای تبليغ به نفع شخص خويش نيز سود نجست و با آنكه به يك سفر سياسی به مرو می‏رفت، هرگز مسايل سياسی يا شخصی خويش را با مردم در ميان ننهاد. به جای همه اينها، امام به عنوان رهبر حقيقی مردم توجه همگان را به مسأله ای معطوف نمود كه مهمترين مسأله زندگی حال و آينده‏شان به شمار می‏رفت.

آری، امام در آن شرايط حساس فقط بحث «توحيد» را پيش كشيد، چه توحيد پايه هر زندگی با فضيلتی است كه ملتها به كمك آن از هر نگون‏بختی و رنجی، رهايی می‏يابند. اگر انسان توحيد را در زندگی خويش گم كند، همه چيز را از كف باخته است.

 

رابطه مسأله ولايت با توحيد

پس از خواندن حديث توحيد، ناقه امام به راه افتاد، ولی هنوز ديدگان هزاران انسان شيفته به سوی او بود. همچنانكه مردم غرق در افكار خويش بودند و يا به حديث توحيد می‏انديشيدند، ناگهان ناقه ايستاد و امام سر از عماری بيرون آورد و كلمات جاويدان ديگری به زبان آورد، با صدای رسا گفت: «كلمه توحيد شرطی هم دارد، و آن شرط من هستم».

در اينجا امام يك مسأله بنيادی ديگری را عنوان كرد، يعنی مسأله «ولايت» كه همبستگی شديدی با توحيد دارد.

آری، اگر ملتی خواهان زندگی با فضيلتی است پيش از آنكه مسأله رهبری حكيمانه و دادگرانه برايش حل نشده باشد، هرگز امورش به سامان نخواهد رسيد. اگر مردم به ولايت نگروند، جهان صحنه تاخت و تاز ستمگران و طاغوتها خواهد بود كه برای خويشتن حق قانونگزاری ـ كه مختص خداست قايل شده و با اجرای احكامی غير از حكم خدا جهان را به وادی بدبختی، نكبت، شقاوت، سرگردانی و بطالت خواهند كشانيد.

اگر براستی رابطه ولايت با توحيد را درك كنيم، در خواهيم يافت كه گفته امام «و آن شرط، من هستم» با يك مسأله شخصی، آن هم به نفع خود او، سرو و كار نداشت، بلكه می‏خواست با اين بيان يك موضوع اساسی و كلی را خاطر نشان كند، لذا پيش از خواندن حديث مزبور، سلسله آن را هم ذكر می‏كند و به ما می‏فهماند كه اين حديث، كلام خداست كه از زبان پدرش و جدش و ديگر اجدادش تا رسول خدا شنيده شده است. چنين شيوه‏ای در نقل حديث، از امامان ما بسيار كم سابقه است، مگر در موارد بسيار نادری مانند اينجا كه امام می‏خواست مسأله «رهبری» امت» را به مبدأ اعلی و خدا پيوسته سازد.

رهبری امام از سوی خدا تعيين شده بود نه از سوی مأمون

امام در ايستگاه نيشابور از فرصت برای بيان اين حقيقت استفاده کرد و در برابر صدها هزار تن خويشتن را به حكم خدا، امام مسلمانان معرفی كرد.

بنابراين، بزرگترين هدف مأمون را با آگاهی بخشيدن به توده‏ها در هم كوبيد، چه او می‏خواست كه با كشاندن امام به مرو از وی اعتراف بگيرد كه آری، حكومت او و بنی عباس يك حكومت قانونی است.

 

موضع‏گيری چهارم

امام عليه السلام چون به مرو رسيد ماهها گذشت و او همچنان از موضع منفی با مأمون سخن می‏گفت، نه پيشنهاد خلافت و نه پيشنهاد وليعهدی، هيچكدام را نمی‏پذيرفت تا آنكه مأمون با تهديدهای مكرری به قصد جانش برخاست. يكدفعه هم گفت:چرا قبول نمی‏كنی (7) ؟!مگر جدت علی بن ابی طالب در شورا شركت نكرد؟!می‏خواست بگويد كه اين با سنت شما خاندان هم منافات ندارد،يعنی وقتی علی عليه السلام آمد در شورا شركت كرد و[در امر انتخاب خليفه‏]دخالت نمود معنايش اين بود كه عجالتا از حقی كه از جانب خدا برای خودش قائل بود صرف نظر كرد و تسليم اوضاع شد تا ببيند شرايط و اوضاع از نظر مردمی چطور است،كار به او واگذار می‏شود يا نه.پس اگر شورا خلافت را به پدرت علی می‏داد قبول می‏كرد،تو هم بايد قبول كنی.حضرت آخرش تحت عنوان تهديد به قتل كه اگر قبول نكند كشته می‏شود قبول كرد.ولی در اين تهديد واستدلال مامون خودش را بمنزله شوری عمر و حضرت امام رضا را بمنزله حضرت اميرالمومنين(ع) گذاشت الفضل ما شهدت به الاعداء.

امام با اين گونه موضع‏گيری زمينه را طوری چيد كه مأمون را روياروی حقيقت قرار دهد. امام فرمود: «می‏خواهم كاری كنم كه مردم نگويند علی بن موسی به دنيا چسبيده، بلكه اين دنياست كه از پی او روان شده». با اين شگرد به مأمون فهماند كه نيرنگش چندان موفقيت‏آميز نبوده و در آينده نيز بايد دست از توطئه و نقشه‏ريزی بردارد.

 

موضع‏گيری پنجم

امام رضا عليه السلام به اينها نيز بسنده نكرد، بلكه در هر فرصتی تأكيد می‏كرد كه مأمون او را به اجبار و باتهديد به قتل، به وليعهدی رسانده است.

افزون بر اين، مردم را گاه گاه از اين موضوع نيز آگاهی می‏داد كه مأمون به زودی دست به نيرنگ زده، پيمان خود را خواهد شكست. امام به صراحت می‏گفت كه به دست كسی جز مأمون كشته نخواهد شد و كسی جز مأمون او را مسموم نخواهد كرد. اين موضوع را حتی پيش روی مأمون هم گفته بود.

امام تنها به گفتار بسنده نمی‏كرد، بلكه رفتارش در طول مدت وليعهدی همه از عدم رضايت وی و مجبور بودنش حكايت می‏كرد.

موضع‏گيری ششم

امام عليه السلام از كوچكترين فرصتی كه به دست می‏آورد سود جسته اين معنا را به ديگران يادآوری می‏كرد كه مأمون در اعطای سمت وليعهدی كار مهمی نكرده جز آنكه در راه برگرداندن حق مسلم امام كه قبلا از دستش به غصب ربوده بود، گام برداشته است. بنابراين امام قانونی نبودن خلافت مأمون را پيوسته به مردم خاطر نشان می‏ساخت.

نخست در شيوه اخذ بيعت می‏بينيم كه امام جهل مأمون را نسبت به شيوه رسول خدا كه مدعی جانشينيش بود، بر ملا ساخت. مردم برای بيعت با امام آمده بودند كه امام دست خود را به گونه‏ای نگاه داشت كه پشت دست در برابر صورتش و روی دست رو به مردم قرار می‏گرفت. مأمون به وی گفت چرا دستت را برای بيعت پيش نمی‏آوری. امام فرمود: تو نمی‏دانی كه رسول خدا به همين شيوه از مردم بيعت می‏گرفت؟ ([v])

ديگر از نكات شايان توجه آنكه در مجلس بيعت، امام به جای ايراد سخنرانی طولانی، عبارات كوتاه زير را بر زبان جاری ساخت:

«ما بخاطر رسول خدا بر شما حقی داريم و شما نيز بخاطر او بر ما حقی داريد، يعنی هرگاه شما حق ما را پاييديد، بر ما نيز واجب می‏شود كه حق شما را منظور بداريم».

اين جملات ميان اهل تاريخ و سيره نويسان معروف است و غير از آن نيز چيزی از امام در آن مجلس نقل نكرده‏اند.

امام حتی از اينكه كوچكترين سپاسگزاری از مأمون كند خودداری كرد و اين خود موضع سرسختانه و قاطعی بود كه می‏خواست ماهيت بيعت را در ذهن مردم خوب جای دهد و در ضمن موقعيت خويش را نسبت به زمامداری در همان مجلس حساس بفهماند.

اعتراف مأمون به اولويت خاندان علی(ع)

روزی مأمون در مقام آن برآمد كه از امام اعتراف بگيرد به اينكه علويان و عباسيان در درجه خويشاوندی با پيامبر با هم يكسانند، تا به گمان خويش ثابت كند كه خلافتش و خلافت پيشينيانش همه بر حق بوده است.

مأمون وامام رضا عليه السلام باهم گردش می‏كردند. مأمون رو به او كرده گفت:

ـ ای ابو الحسن! من پيش خود انديشه‏ای دارم كه سرانجام به درست بودن آن پی‏برده‏ام. آن اينكه ما و شما در خويشاوندی با پيامبر يكسان هستيم و بنابراين، اختلاف شيعيان ما همه ناشی از تعصب و سبك‏انديشی است.

امام فرمود:

ـ اين سخن تو پاسخی دارد كه اگر بخواهی می‏گويم و گرنه سكوت بر می‏گزينم.

مأمون اصرار كرد كه نه، حتما نظر خود را بگوييم كه تو در اين باره چگونه می‏انديشی؟

امام از او پرسيد:

بگو ببينيم اگر هم اكنون خداوند پيامبرش محمد(ص) را بر ما ظاهر گرداند و او به خواستگاری دختر تو بيايد، آيا موافقت می‏كنی؟

مأمون پاسخ داد:

ـ سبحان الله چرا موافقت نكنم مگر كسی از رسول خدا روی بر می‏گرداند!

آنگاه بيدرنگ امام افزود:

ـ بسيار خوب، حالا بگو ببينم آيا رسول خدا می‏تواند از دختر من هم خواستگاری كند؟

مأمون در دريايی از سكوت فرو رفت و سپس بی‏اختيار چنين اعتراف كرد:

ـ آری به خدا سوگند كه شما در خويشاوندی به مراتب به او نزديكتريد تا ما ([vi]) .

موضع گيری هفتم

  طرز رفتار حضرت است بعد از مسأله ولايتعهدی.مخصوصا خطابه‏ای كه حضرت در مجلس مأمون در همان جلسه ولايتعهدی می‏خواند عجيب جالب است. حضرت با همين خطبه يك سطر و نيمیكه همه آن را نقل كرده‏اند وضع خودش را روشن كرد.خطبه‏ای می‏خواند.در آن خطبه نه اسمی از مأمون می‏برد و نه كوچكترين تشكری از او می‏كند.قاعده‏اش اين است كه اسمی از او ببرد و لا اقل يك تشكری بكند.

وبالاخره روزی را معين كردند و گفتند در آن روز مردم بايد بيايند با حضرت رضا بيعت كنند.مردم هم آمدند.مأمون برای حضرت رضا در كنار خودش محلی و مجلسی قرار داد و اول كسی را كه دستور داد بيايد با حضرت رضا بيعت كند پسر خودش عباس بن مأمون بود .دومين كسی كه آمد يكی از سادات علوی بود.بعد به همين ترتيب گفت يك عباسی و يك علوی بيايند بيعت كنند و به هر كدام از اينها هم جايزه فراوانی می‏داد و می‏رفتند.وقتی آمدند برای بيعت،حضرت دستش را به شكل خاصی رو به جمعيت گرفت.مأمون گفت:دستت را دراز كن تا بيعت كنند.فرمود:نه،جدم پيغمبر هم اين جور بيعت می‏كرد،دستش را اين جور می‏گرفت و مردم دستشان را می‏گذاشتند به دستش.بعد خطبا و شعرا،سخنرانان و شاعران اينها كه تابع اوضاع و احوال هستند آمدند و شروع كردند به خطابه خواندن،شعر گفتن،در مدح حضرت رضا سخن گفتن،در مدح مأمون سخن گفتن،و از اين دو نفر تمجيد كردن.بعد مأمون به حضرت رضا گفت:«قم فاخطب الناس و تكلم فيهم»برخيز خودت برای مردم سخنرانی كن.قطعا مأمون انتظار داشت كه حضرت در آنجا يك تأييدی از او و خلافتش بكنند.حضرت برخاست و در يك سطر و نيم فقط،صحبت كرد كه جملاتش در واقع ايراد به تمام كارهای آنها بود.مضمونش اين است:بعد از حمد الهی«ما(يعنی ما اهل بيت،ما ائمه)حقی داريم بر شما مردم به اينكه ولی امر شما باشيم:معنايش اين است كه اين حق اصلا مال ما هست و چيزی نيست كه مأمون بخواهد به ما واگذار كند.و شما در عهده ما حقی داريد.حق شما اين است كه ما شما را اداره كنيم.و هر گاه شما حق ما را به ما داديد يعنی هر وقت شما ما را به عنوان خليفه پذيرفتيد بر ما لازم می‏شود كه آن وظيفه خودمان را درباره شما انجام دهيم،و السلام» ([vii]) .دو كلمه:«ما حقی داريم و آن خلافت است،شما حقی داريد به عنوان مردمی كه خليفه بايد آنها را اداره كند،شما مردم بايد حق ما را به ما بدهيد،و اگر شما حق ما را به ما بدهيد ما هم در مقابل شما وظيفه‏ای داريم كه بايد انجام دهيم،و وظيفه خودمان را انجام می‏دهيم .»نه تشكری از مأمون و نه حرف ديگری،و بلكه مضمون بر خلاف روح جلسه ولايتعهدی است.ولی هيچ اثری در تائيدش ديده نشد.

موضع‏گيری هشتم

امام عليه السلام برای پذيرفتن مقام وليعهدی شروطی قايل شد كه طی آنها از مأمون چنين خواسته بود:

«امام هرگز كسی را بر مقامی نگمارد، و نه كسی را عزل و نه رسم و سنتی را نقض كند و نه چيزی از وضع خود را دگرگون سازد، و از دور مشاور در امر حكومت باشد. ([viii])

مأمون نيز به تمام اين شروط پاسخ مثبت داد، بنابراين می‏بينيم كه امام بر پاره‏ای از هدفهای مأمون خط بطلان می‏كشد، زيرا اتخاذ چنين موضع منفی دليل گويايی بود بر امور زير :

الف: متهم ساختن مأمون به برانگيختن شبهه‏ها وابهامهای بسياری در ذهن مردم.

ب: اعتراف نكردن به قانونی بودن سيستم حكومتی وی.

ج: سيستم موجود هرگز نظر امام را بعنوان يك نظام حكومتی تأمين نمی‏كرد.

د: مأمون بر خلاف نقشه‏هايی كه در سر پرورانده بود، ديگر با قبول اين شروط نمی‏توانست كارهايی را به دست امام انجام دهد.

ه: امام هرگز حاضر نبود تصميمهای قدرت حاكمه را عملی سازد.

و: نهايت پارسايی و زهد امام كه آن را با جعل اين شروط به همگان اثبات كرد. آنانكه امام را بخاطر پذيرفتن وليعهدی به دنيا دوستی متهم می‏كردند با توجه به اين شروط متقاعد گرديدند كه بالاتر از اين حد، درجه‏ای برای زهد قابل تصور نيست. امام با اينكار، نه تنها پيشنهاد خلافت و وليعهدی را رد كرد، بلكه پس از اجبار به پذيرفتن وليعهدی، با قبولاندن اين شروط به مأمون خود را عملا از صحنه سياست به دور نگاه داشت.

موضع‏گيری نهم

امام به مناسبت برگزاری دو نماز عيد موضعی اتخاذ كرد كه جالب توجه است. در يكی از آنها ماجرا چنين رخ داد:

مأمون از وی درخواست نمود كه با مردم نماز عيد بگذارد تا با ايراد سخنرانی وی آرامشی به قلبشان فرو آيد و با پی‏بردن به فضايل امام اطمينان عميقی نسبت به حكومت بيابند.

امام عليه السلام به مجرد دريافت اين پيام، شخصی را نزد مأمون روانه ساخت تا به او بگويد مگر يكی از شروط ما اين نبود كه من دخالتی در امر حكومت نداشته باشم، بنابر اين مرا از نماز معاف بدار. مأمون پاسخ داد كه من می‏خواهم امر وليعهدی در دل مردم و لشكريان، رسوخ يابد تا احساس اطمينان كرده، بدانند خدا چگونه ترا بدان برتری بخشيده.

امام رضا(ع) دوباره از مأمون خواست تا او را از آن نماز معاف بدارد وقتی اصرار مأمون را ديد، شرط كرد كه من به نماز آن چنان خواهم رفت كه رسول خدا(ص) و امير المؤمنين علی (ع) با مردم به نماز می‏رفتند.

مأمون پاسخ داد: هرگونه می‏خواهی برو!

از سوی ديگر، مأمون به فرماندهان و همه مردم دستور داد كه قبل از طلوع آفتاب بر در منزل امام اجتماع كنند. از اين رو، تمام كوچه‏ها و خيابانها مملو از جمعيت شد. از خرد و كلان، از كودك و پير، از زن و مرد، با اشتياق گرد آمدند و همه فرماندهان نيز سوار بر مركبهای خويش در اطراف خانه امام به انتظار طلوع آفتاب ايستادند.

همين كه آفتاب سر زد، امام عليه السلام از جا بر خاست، خود را شستشو داد و عمامه‏ای سفيد بر سر نهاد. آنگاه با معطر ساختن خويش با گامهايی استوار به راه افتاد. امام از كاركنان منزل خويش نيز خواسته بود كه همه همين گونه به راه بيفتند.

همه در حالی كه امام را حلقه وار در بر گرفته بودند، از منزل خارج شدند. امام سر به آسمان برداشت و با صدايی چنان نافذ چهار بار تكبير گفت كه گويی هوا و ديوارها تكبيرش را پاسخ می‏گفتند. فرماندهان ارتش ومردم بر در منزل منتظر ايستاده و خود را به بهترين وجهی آراسته بودند. امام با اطرافيانش پابرهنه از منزل خارج شد، لحظه‏ای بر در منزل توقف كرد و اين كلمات را بر زبان جاری ساخت: «الله اكبر، الله اكبر علی ما هدانا، الله اكبر علی ما رزقنا من بهيمة الانعام، و الحمد لله علی ما ابلانا».

امام عليه السلام اين جملات را با صدای بلند می‏خواند و مردم نيز همصدا با او تكبير می‏گفتند. شهر مرو يكپارچه غوغا شده بود و مردم تحت تأثير آن شرايط به گريه افتاده، شهر را زير پای خود به لرزه انداخته بودند.

چون فرماندهان ارتش و نظاميان با آن صحنه مواجه شدند، همه بی اختيار از مركبها به زير آمده، كفشهای خويش را هم از پايشان در آوردند.

امام به سوی نماز حركت كرد ولی هر ده قدمی كه به پيش می‏رفت، می‏ايستاد و چهار بار تكبير می‏گفت. گويی كه در و ديوار شهر و آسمان، همه پاسخش می‏گفتند.

گزارش اين صحنه‏های مهيج به گوش مأمون رسيد، وزيرش «فضل بن سهل» به او پند داد كه اگر امام به همين شيوه راه خود را تا جايگاه نماز ادامه دهد مردم چنان شيفته‏اش خواهند شد كه ديگر ما تأمين جانی نخواهيم داشت، بنابراين بهتر است او را از نيمه راه برگردانيم .

مأمون نيز همين گونه با امام رفتار كرد، يعنی او را از رسيدن به جايگاه نماز بازداشت و پيشنماز هميشگی را مأمور گزاردن نماز عيد نمود.

در آن روز وضع مردم بسيار آشفته شد و صفوفشان در نماز، ديگر به نظم نپيوست.

موضع‏گيری دهم

طرز رفتار و آداب معاشرت عمومی امام(ع) چه پيش از وليعهدی يا پس از آن به گونه‏ای بود كه پيوسته نقشه‏های مأمون را بر هم می‏زد. هرگز مردم نديدند كه امام عليه السلام تحت تأثير زرق و برق شؤون حكومتی قرار گرفته در نحوه سلوكش با مردم اندكی تغيير پديد آيد .

اين سخنان را از زبان ابراهيم بن عباس، منشی عباسيان بشنويد:

«هرگز كسی را با سخنش نيازرد، هرگز كلام كسی را نيمه كاره قطع نكرد و هيچ‏گاه در برآوردن نياز كسی به حد توانش كوتاهی نكرد. در برابر كسی كه پيشش می‏نشست هرگز پاهايش را دراز نمی‏كرد و از روی ادب حتی تكيه هم نمی‏داد. كسی از كاركنان و خدمتگزارانش هرگز از او ناسزا نمی‏شنيد ونه هرگز بوی زننده‏ای از بدن وی استشمام می‏شد. در خنديدن قهقه سر نمی‏داد و بر سر سفره‏اش خدمتگزاران و حتی دربانان می‏نشستند.

بی‏شك اينگونه صفات در محبوبيت امام عليه السلام نقش بزرگی ايفا می‏كرد، به طوری كه او را در نظر خاص و عام بعنوان شخصيتی پسنديده‏تر از هركس ديگر جلوه می‏داد.

امام عليه السلام مقام حكمرانی را هرگز بعنوان يك مزيت تلقی نمی‏كرد، بلكه آن را مسؤوليتی بزرگ می‏دانست.

مواضعی را كه ذكر كرديم، برای روشن شدن برنامه‏ای كه امام رضا(ع) برای خنثی كردن نقشه‏ها و توطئه‏های مأمون، در پيش گرفته بود، كافی است. از آن پس مأمون ديگر قادر نبود نقشی را كه می‏خواست از اوضاع جاری درذهن مردم، متصور سازد. برنامه امام برای شكست و ناكامی مأمون چنان كاری و موفق بود كه عاقبت مأمون به قصد مسموم کردن امام برخاست، تا مگر به اين وسيله خود را از چنگال ناملايماتی كه پيوسته برايش پيش می‏آمد، برهاند.

در نتيجه بعد از پاسخ های مذکور ومفصل اگر بعد هم در ذهن کسی سوالی ايجاد شود سوالی است که در زمان خود امام(ع) مطرح می شده امام(ع) باين گونه پاسخ می دادند فرمود:آيا پيغمبران شأنشان بالاتر است يا اوصياء پيغمبران؟گفتند:پيغمبران.فرمود:يك پادشاه مشرك بدتر است يا يك پادشاه مسلمان فاسق؟گفتند:پادشاه مشرك.فرمود:آن كسی كه همكاری را با تقاضا بكند بالاتر است يا كسی كه به زور به او تحميل كنند؟گفتند:آن كسی كه با تقاضا بكند.فرمود :يوسف صديق پيغمبر است،عزيز مصر كافر و مشرك بود،و يوسف خودش تقاضا كرد كه: اجعلنی علی خزائن الارض انی حفيظ عليم ([ix]) ،چون می‏خواست پستی را اشغال كند كه از آن پست حسن استفاده كند.تازه عزيز مصر كافر بود،مأمون مسلمان فاسقی است،يوسف پيغمبر بود،من وصی پيغمبر هستم،او پيشنهاد كرد و مرا مجبور كردند.

 

والسلام

سيد سبط حيدر زيدی

حوزه علميه مشهد الرضا

عليه وعلی آبائه الف التحية والثنا

 

* * *

 

مدارک و منابع .

 



[i] - اين مقاله، از قسمت‏هايى از كتاب گرانقدر «الحياة السياسيةللامام الرضا(ع)تأليف السيد جعفر مرتضی الحسينی العاملی» اخذ شده است .

[ii] -  سوره عنکبوت 65

[iii] -  مناقب آل ابى‏طالب، ج 4، ص 364 ـ معادن الحكمة، ص 192 و عيون اخبار الرضا، ج 2، ص 140 و بحار، ج 49، ص 140 و .141

 

[iv]  -  احمد بن حنبل در رساله «السنة» به اين موضوع تصريح كرده كه اين البته از عقايد اهل حديث و سنت است. ابو يعلى در طبقات الحنابلة، ج 1، ص 26 آن را نقل كرده و اشعرى نيز در مقالات الاسلاميين، ج 1، ص 232 و در الابانة، ص 9 بدان اشاره كرده است.

 

[v]   -  المناقب، ج 4، ص 369 و 364، و بحار، ج 49، ص 144 و علل الشرايع، مقاتل الطالبين، نور الابصار، نزهة الجليس و عيون اخبار الرضا.

[vi]  -  كنز الفوائد، كراجكى، ص 166 و الفصول المختارة من العيون و المحاسن، ص 15 و 16، بحار، ج 49، ص 188 و مسند الامام الرضا، ج 1، ص .100

[vii]  -  [در بحار الانوار،ج‏49/ص‏146 عبارت چنين است:لنا عليكم حق برسول الله صلى الله عليه و آله،و لكم علينا حق به،فاذا انتم اديتم الينا ذلك وجب علينا الحق لكم.]

[viii]  -  الفصول المهمة، ابن صباغ مالكى، ص 241، و نور الابصار، ص 43 به بعد و عيون اخبار الرضا، ج 1، ص 20 و ج 2 ص 183 و مناقب آل ابى طالب ج 4 ص 363 وعلل الشرايع ج 1 ص 238 واعلام الورى ص 230 و بحار، ج 49، ص 34 و 35 و صفحات ديگر و كشف الغمة، ج 3، ص 69 و ارشاد مفيد، ص 310 و امالى صدوق، ص 43 و اصول الكافى، ص 489 و روضة الواعظين، ج 1، ص 268 و 269 و معادن الحكمة، ص 180 و شرح ميمية ابى فراس، ص .165

 

[ix]  -  يوسف/ .55