همارا مقصد
ھمارا مقصد اصلاح امت اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر ھے۔
لیکن یہ کام عصر حاضر میں چند طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ھے
طریقہ اول: یہ کہ سختی کی جائے اور جس کو بھی دیکھیں کہ خلاف شرع یا خلاف عرف کا کام انجام دے رھا ھے اس کو کھیں یہ حرام ھے شرک ھے آپ کافر ھو مشرک ھو وغیرہ۔
اس طریقہ میں چند خرابیاں ھیں
۱- یہ طریقہ قرآنی نھیں ہے اس لیے قرآن کا فرمان ہے {جادلھم بالتی ھی احسن} و { لست علیھم بمسیطر} وغیرہ۔
۲- معصومین(ع) کی سیرت کے خلاف ھے اس لیے کہ وہ بھت نرم طریقہ سے لوگوں کی ھدایت فرماتے تھے ۔
۳- اس طریقہ سے ممکن ھے وہ ضد پر اتر آئے اور اصلا کھنا نہ مانے ۔
۴- اس کے ساتھ اور بھی افراد ھوجائیں اور ایک نیا گروہ بن جائے۔
۵- دشمنوں کو موقعہ مل جائے اور وہ اختلاف و فرقہ سازی میں اپنا حربہ و کردار ادا کریں
۶- استعمار و سامراج اس کو غنیمت سمجھتے ھوئےان لوگوں کی پشت پناھی کرنے لگے اور نتیجہ میں شعیت اور کمزور ھوجائے ۔
دوسرا طریقہ :
نرمی کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے کہ جو کام آپ کر رھے ھیں یہ کیا ھے اس کی نوعیت کیا ھے اس کیفیت کیا ھے۔
یھی قرآنی روش ھے اور معصومین(ع) کی سیرت بھی یھی ھے
اسی میں اصلاح کے امکان بھی ھیں
تیسرا طریقہ :
ان ھی کے ساتھ ھوا جائے اور جو بھی جو کام انجام دے اس کی تائید کرتے ھوئے ھوا کے رخ کے ساتھ چلا جائے اور کسی کو کچھ نہ کھیں یا ھر شخص کی تائید کرتے رھیں۔
یہ سب سے خطرناک طریقہ ہے اور اس طرح کے لوگوں پر روایات میں لعنت آئی ھے کہ جو بدعت و حرام فعل پر راضی ھوں ۔
لھذا بھترین طریقہ دوسرا طریقہ ہے خیرالامور اوسطھا۔
مثلا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنا
یھاں پر سمجھایا جائے کہ یہ کیا ہے سجدے کی نوعیت و کیفیت کیا نہ کہ مؤمنین کو مشرک و کافر جیسے الفاظ سے نوازا جائے اس مذکورہ بالا خرابیاں پیدا ھوسکتی ھیں۔
تحت اشراف دفتر