بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرنے والے شیعہ بھائیوں کے لیے ھمارے پیغام کا خلاصہ یہ تھا :

برادران ایمانی ان مقدس چوکھٹوں پر سجدہ کریں لیکن  اس معرفت کے ساتھ کہ یہ فعل کس لیے اور کیوں کررہے ہیں؟ سجدہ کی ماھیت و نوعیت کیا ہے ؟

اس لیے کہ سجدہ کی چند صورتیں پیش کی جاسکتی ہیں

۱- سجدہ تعبدی کہ جو کسی کی عبادت کے طور پر ہوتا ہے اور جس کے حضور سجدہ ہو اس کو اپنا معبود مان کر انجام دیا جاتا ہے یہ سجدہ ہمارے مذھب میں صرف خدا وندعالم کے لیے ہے اس کے علاوہ کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے  اگر غیر خدا کے لیے سجدہ تعبدی انجام دیا جائے تو شرک ہے۔

۲- سجدہ شکر ہے کہ جو کسی نعمت کے ملنے پر انجام دیا جاتا ہے اگر چہ یہ بھی در اصل خدا ہی کے لیے ہے لیکن کسی شی و نعمت کے ملنے پر انجام دیا جاتا ہے۔ یہ ایک اچھا فعل ہے اور اس کی بہت تاکید ہے کہ اس کو انجام دیا جائے ۔

۳- سجدہ تعظیمی یعنی کسی کے احترام و تعظیم اور اس کے سامنے توضع و انکساری میں سجدہ کیا جائے ۔ ظاہرا یہ سجدہ گذشتہ امتوں و شریعتوں میں تھا لیکن اسلام میں جائز نہیں ہے گذشتہ شریعتوں میں جیسے حضرت آدم کے لیے فرشتوں نے سجدہ کیا اور شاید حضرت یعقوب و آل یعقوب کا حضرت یوسف کے دربار میں بھی اگر سجدہ شکر نہ ہو تو سجدہ تعظیم ہے ۔

لہذا ہمارے دینی بھائی  حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ کرتے ہوئے اس معرفت کے ساتھ یہ فعل انجام دیں کہ خداوندا تیرا شکر ہے کہ تو نے یہ عظیم نعمت (زیارت) مجھ کو عطا فرمائی ۔

کہ جس کو مفاتیح الجنان میں شیخ عباس قمی نے آداب زیارت میں تحریر کیا ہے اور ہم نے بہت سے علماء و مراجع کو بھی یہ فعل انجام دیتے دیکھا ہے نیز امام خمینی نے اپنی کتاب کشف الاسرار میں وھابیوں کے اعتراضات کے جواب دیتے ھوئے مفصل گفتگو کی ہے ۔

لھذا خلاصہ یہ ہوا کہ اسلام میں کسی کے لیے بھی نہ سجدہ تعبدی جائز ہے اور نہ سجدہ تعظیمی بلکہ کسی احترام میں اتنا جھکنا کہ انسان رکوع کی حد تک چلا جائے یہ بھی جائز نہیں چہ جائے کہ سجدہ ۔ لھذا حضرات معصومین علیھم السلام کے روضوں کی چوکھٹوں پر سجدہ ، سجدہ شکر ہے

اب یہاں پر مؤمنین کے اذھان میں چند سوال پیدا ہو ئے

۱- سجدہ تعظیمی کا وجود کھاں ہے؟

۲- مفاتیح الجنان کے علاوہ کیا کسی اور کتاب میں بھی اس سجدہ شکر کا ذکر ہے؟

۳- امام خمینی کی کتاب کشف الاسرار میں کیا لکھا ہے ہمیں دکھائیں؟

ان باتوں کے مفصل جواب کے لیے ہم حاضر ہیں لیکن گذارش یہ ہے کہ ایک مرتبہ بھی ھماری مجالس کو غور سے سن لیا جائے تاکہ کوئی اور بھی سوال اگر ہو تو ہم اس کا بھی جواب دیں سکیں۔

اب یہاں پر مؤمنین کے ذھن میں چند