سوال اول

سجدہ تعظیمی کا وجود کھاں ہے؟

جواب :

یہ ایک عقلی مسئلہ ہے کہ کائنات میں غیر خدا کے سامنے جتنے بھی سر جھکتے اور سجدے ہوتے ہیں سب تعظیمی ہیں اس لیے خداوندعالم کے حضور سجدہ تعبدی و عبادت و پرستش کا سجدہ ہے اور اس کے علاوہ کسی کے سامنے بھی تعبدی و عبادت و پرستش کا سجدہ شرک ہے ۔ لہذا اس کے علاوہ جو بھی سجدہ ہے وہ تعظیمی ہے ہاں اس کا جائز ہونا یا نہ ہونا الگ مسئلہ ہے ۔ اسی تقسیم کو علماء اعلام نے بھی ذکر کیا ہے۔ مثلا:

علامہ محمد حسین طباطبائی نے اپنی عظیم تفسیر المیزان میں تحریر فرمایا ہے ؛

المیزان ج۱ آیہ ۳۴ سورہ بقرہ کے ذیل میں

{وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ }

و قوله تعالى: اسجدوا لآدم، يستفاد منه جواز السجود لغير الله في الجملة إذا كان تحية و تكرمة للغير و فيه خضوع لله تعالى بموافقة أمره، و نظيره قوله تعالى في قصة يوسف (عليه السلام) «و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»: يوسف - 100، و ملخص القول في ذلك أنك قد عرفت في سورة الفاتحة أن العبادة هي نصب العبد نفسه في مقام العبودية و إتيان ما يثبت و يستثبت به ذلك فالفعل العبادي يجب أن يكون فيه صلاحية إظهار مولوية المولى أو، عبدية العبد كالسجود و الركوع و القيام أمامه حينما يقعد، و المشي خلفه حينما يمشي و غير ذلك، و كلما زادت الصلاحية المزبورة ازدادت العبادة تعينا للعبودية، و أوضح الأفعال في الدلالة على عز المولوية و ذل العبودية السجدة، لما فيها من الخرور على الأرض، و وضع الجبهة عليها، و أما ما ربما ظنه بعض: من أن السجدة عبادة ذاتية، فليس بشيء، فإن الذاتي لا يختلف. و لا يتخلف و هذا الفعل يمكن أن يصدر بعينه من فاعله بداع غير داع التعظيم و العبادة كالسخرية و الاستهزاء فلا يكون عبادة مع اشتماله على جميع ما يشتمل عليه و هو عبادة نعم معنى العبادة أوضح في السجدة من غيرها، و إذا لم يكن عبادة ذاتية لم يكن لذاته مختصا بالله سبحانه، بناء على أن المعبود منحصر فيه تعالى، فلو كان هناك مانع لكان من جهة النهي الشرعي أو العقلي و الممنوع شرعا أو عقلا ليس إلا إعطاء الربوبية لغيره تعالى، و أما تحية الغير أو تكرمته من غير إعطاء الربوبية، بل لمجرد التعارف و التحية فحسب، فلا دليل على المنع من ذلك، لكن الذوق الديني المتخذ من الاستيناس بظواهره يقضي باختصاص هذا الفعل به تعالى، و المنع عن استعماله في غير مورده تعالى، و إن لم يقصد به إلا التحية و التكرمة فقط، و أما المنع عن كل ما فيه إظهار الإخلاص لله، بإبراز المحبة لصالحي عباده أو لقبور أوليائه أو آثارهم فمما لم يقم عليه دليل عقلي أو نقلي أصلا۔

ترجمہ:

اور خداوندعالم کا ارشاد گرامی {اسجدوا لآدم، } آدم کے لیے سجدہ کرو اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ سجدہ کسی حد تک غیر خدا کے لیے بھی کرنا جائز ہے جبکہ وہ اس غیر خدا کی تعظیم و تکریم کے لیے ہو اور اس میں خدا وندعالم کے امر کی موافقت کی وجہ سے اس کے حضور خصوع و حشوع ہے ۔ اسی کی مثال خداوندعالم کے کلام میں قصہ یوسف میں ہے کہ ارشاد ہوا «و رفع أبويه على العرش و خروا له سجدا قال: يا أبت هذا تأويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقا»:سورہ يوسف -آیت  100،

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے سورہ حمد کی تفسیر میں ملاحظہ فرمالیا ہوگا کہ بیشک عبادت اس چیز کا نام ہے کہ انسان اپنے آپ کو مقام عبادت میں پیش کرے اور عملا اپنی بندگی کو ثابت کرے اور یہی حالت ہمیشہ رکھے کہ وہ خداوندعالم کا بندہ ہے ۔

لہذا یہ  فعل عبادى ایسا ہونا چاہیے کہ جو  اظهار مولويت مولى، و يا عبديت عبد کی صلاحيت رکھتا ہو  مانند سجده و ركوع یا مولا کے حضور کھڑا ہونا یا اس کے پیچھے پیچھے چلنا وغیرہ، اور جس چیز میں بھی جتنی زیادہ صلاحیت ہوگی اتنی ہی زیادہ عبادت کھلائے گی، تمام اعمال میں سب سے زیادہ  عزت مولويت، و ذلت عبوديت، سجده میں ہے اس لیے انسان سجدہ کی حالت میں خاک میں اپنے آپ کو گرا دیتا ہے اور پیشانی کو خاک پر رکھتا ہے .

نیز بعض حضرات کا گمان یہ ہے کہ سجدہ بذاتہ عبادت ہے ایسا نہیں ہے اس لیے کہ کوئی شی اگر کسی کی ذاتی ہو تو اس سے بدلتی نہیں اور نہ اختلاف کرتی ہےجبکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سجدہ نہ یہ کہ عبادت کے لیے نہیں بلکہ تعظیم کے لیے بھی نہیں ہوتا بلکہ کسی کی مذاق اڑانے کے لیے  ہوتا ہے ۔ حالانکہ اس میں سجدہ کی تمام کیفیت موجود ہے پھر بھی عبادت نہیں ہے چونکہ معنی عبادت سجدے سے بالاتر ہیں ۔ اور جبکہ سجدہ بذاتہ عبادت نہیں ہے تو پھر خداوندعالم سے بھی مخصوص نہیں ہے اس لیے کہ اس سے صرف عبادت مخصوص ہے ۔ پس اگر سجدہ کرنے میں کوئی ممانعت پوتی تو یا شریعت کی طرف سے ہوتی یا عقل کی طرف سے اور شرعی یا عقلی ممانعت جبھی ہوتی ہے کہ جب کسی غیر خدا کو رب و معبود مانا جائے ۔ لیکن صرف کسی کے احترام و تعظیم میں، بغیر اس کے کہ اس کو رب و معبود تسلیم کریں تو کوئی حرج و ممانعت نہیں ہے اور کسی کو تعظیما سجدہ کرنے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔

ہاں ذوق دینی متدین مومنین میں یہ ہے کہ جو ظاہر عبارات دینی سے اتخاذ ہوتا ہے کہ اس طرح کے افعال کہ جو کسی حد تک عبادت سے مخصوص ہیں کسی غیر خدا کے لیے انجام نہ دیے جائیں بلکہ صرف خدا ہی کے لیے منحصر رہیں ۔ چاہے ان سے صرف تعظیم و احترام ہی کیوں نہ مقصود ہو ۔

لیکن ہر اس چیز کو انجام دینے سے منع کرنا کہ جو خدا وندعالم کے لیے مخصوص ہو کہ اس کا استعمال اللہ کے صالح بندوں کے لیے یا اولیاء الہی کی قبور و آثار کے مقابل احترام و تعظیم اور محبت میں نہ کیا جائے تو یہ وہ بات ہے کہ جس پر کوئی دلیل عقلی یا نقلی موجود نہیں ہے۔

یہ علامہ محمد حسین طباطبائی کا نظریہ ہے کہ معصومین علیہم السلام کے حرم مطہر میں سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے پر کوئی دلیل عقلی یہ نقلی موجود نہیں ہے ۔

جب کہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ قوم کو سمجھایا جائے کہ وہ کیا کررہے ہیں نہ ہی تبلیغ و ترویج ہو اور نہ ہی منع کیا جائے

 کیوں ؟  اس کا جواب آئندہ انشاء اللہ