سجدہ تعظیمی کے سلسلے میں دوسرا مدرک یہ ہے

تفیسر مجمع البیان مذہب شیعہ کی وہ عظیم تفسیر ہے کہ جس کو تمام مفسرین کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں اس کی عظمت کے قائل ہیں مرحوم طبرسی اپنی تفسیر مجمع البیان میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 34

{ وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ } کے ذیل میں فرماتے ہیں:

واختلف في سجود الملائكة لآدم على أي وجه كان: فالمروي عن أئمتنا عليهم السلام، أنه على وجه التكرمة لآدم، والتعظيم لشأنه، وتقديمه عليهم، وهو قول قتادة، وجماعة من أهل العلم، واختاره علي بن عيسى الرماني. ولهذا جعل أصحابنا، رضي الله عنهم، هذه الآية دلالة على أن الأنبياء أفضل من الملائكة، من حيث إنه أمرهم بالسجود لآدم، وذلك يقتضي تعظيمه وتفضيله عليهم. وإذا كان المفضول لا يجوز تقديمه على الفاضل علمنا أنه أفضل من الملائكة. وقال الجبائي، وأبو القاسم البلخي، وجماعة: إنه جعله قبلة لهم، فأمرهم بالسجود إلى قبلتهم، وفيه ضرب من التعظيم. وهذا غير صحيح، لأنه لو كان على هذا الوجه، لما امتنع إبليس من ذلك، ولما استعظمته الملائكة، وقد نطق القرآن بأن امتناع إبليس عن السجود إنما هو لاعتقاده تفضيله به، وتكرمته، مثل قوله (أرأيتك هذا الذي كرمت علي لئن أخرتن)، وقوله: (أنا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين). ولو لم يكن الأمر على هذا الوجه، لوجب أن يعلمه الله تعالى بأنه لم يأمره بالسجود على جهة تعظيمه وتفضيله عليه، وإنما أمره على الوجه الآخر الذي لا تفضيل فيه، ولم يجز إغفال ذلك، فإنه سبب معصية إبليس وضلالته. فلما لم يقع ذلك، علمنا أن الأمر بالسجود له لم يكن إلا على وجه التعظيم والتفضيل، والإكرام والتبجيل.

ترجمہ

ملائکہ کا حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے سلسلے میں اختلاف ہے کہ اس سجدہ کی وجہ کیا ہے اور کس بنیاد پر تھا ؟

پس ہمارے آئمہ طاہرین علیہم السلام سے مروی یہ ہے کہ یہ سجدہ حضرت آدم کے اکرام اور ان کی شان کی تعظیم اور ان کی افضلیت کے لیے تھا ۔ {فالمروي عن أئمتنا عليهم السلام، أنه على وجه التكرمة لآدم، والتعظيم لشأنه، وتقديمه عليهم،}

یہی قول قتادہ اور اہل علم کی ایک جماعت اور اسی قول کو علی بن عیسی رمانی نے بھی قبول کیا ہے ۔ اسی وجہ سے ہمارے علماء انبیاء کو ملائکہ پر افضلیت کے قائل ہیں اور اسی آیت کو دلیل بناتے ہیں کہ ملائکہ کو آدم کے لیے سجدہ کرنے کا حکم ملا کہ جو اس بات کا مقتضی ہے کہ وہ ملائکہ سے افضل بھی ہیں اور قابل تعظیم بھی ۔اور اگر افضل نہ ہوتے تو فاضل پر مفضول کو مقدم رکھنا جائز نہیں ہے لہذا واضح ہو کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں ۔

دوسرا نظریہ کہ جو جبائی اور ابو القاسم بلخی اور ایک جماعت نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ آدم کو ملائکہ کے لیے صرف قبلہ قرار دیا گیا تھا اور ملائکہ کو اپنے قبلہ کی طرف سجدہ کا حکم تھا ۔ اگرچہ یہ بھی ایک تعظیم ہی کی قسم ہے لیکن یہ نظریہ صحیح نہیں اس لیے کہ اگر یہ وجہ صحیح ہو تو ابلیس کے سجدہ کرنے سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے {وهذا غير صحيح، لأنه لو كان على هذا الوجه، لما امتنع إبليس من ذلك،}

جبکہ اس کے جواب سے بھی یہی ظاہر ہے کہ وہ خود آدم کو سجدہ کرنے کا مخالف تھا لہذا اس نے کہا کہ پروردگار تونے اس کو مٹی سے پیدا کیا جب کہ مجھکو آگ سے پیدا کیا ہے اور آگ مٹی سے بہتر ہے نیز آیت کا سیاق و سباق بھی یہی کہتا ہے کہ سجدہ آدم ہی کو تھا ان کی تعظیم و تکریم کے لیے نہ کہ وہ قبلہ ملائکہ تھے۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ابلیس کے منع کرنے پر خدا کوسمجھانا چاہیے تھا کہ میں آدم کو سجدہ نہیں کرارہا بلکہ ان کو صرف قبلہ قرار دیا ہے۔ ابلیس کو دھوکے میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا چونکہ یہی سجدہ نہ کرنا اس کی معصیت اور گمراہی کا سبب بنا ہے۔ تو جب خدا نے ابلیس کو نہیں سجھایا بلکہ اس کے سجدہ نہ کرنے پر اپنی بارگاہ سے نکال دیا تو معلوم ہوا کہ یہ سجدہ آدم کو ہی تھا ان کی تعظیم و تکریم اور افضلیت کے طور پر ۔

علمنا أن الأمر بالسجود له لم يكن إلا على وجه التعظيم والتفضيل، والإكرام والتبجيل.

گویا مرحوم طبرسی سجدہ تعظیمی کے معتقد ہیں اور قبلہ والے نظریے کے منکر بھی.

لیکن آج سجدہ تعظیمی کا کیا حکم ہے؟ اس کو ہم بیان بھی کرچکے ہیں اور تفصیلا آئندہ بھی بیان کریں گے انشاء اللہ